Ho Na Phir Pagli Novel by Memona Khursheed Ali Novel20833

Revenge Marriage | Wedding Night Divorce | Psychological Romance | Forced Marriage | Misunderstanding-Basedemotion | Strong Heroine | Emotional Drama

Short Description

ہو نہ پھر پاگلی میمونہ خورشید علی کا ایک سنسنی خیز اور جذباتی اردو ناول ہے جو ماہم جاہ اور وہاج حسن کے درمیان انتقام، فریب، نکاح، طلاق کے ڈرامے، بے اعتمادی اور ذہنی کشمکش سے بھرپور رشتے کی کہانی بیان کرتا ہے۔

Nikah ke chand ghanton baad Maaham Jah ko talaq ka yaqeen dila kar tamam saboot mita diye gaye. Ab us ka sach bhi jhoot samjha jayega. Parhiye Memona Khursheed Ali ka complete novel Ho Na Phir Pagli.

Ho Na Phir Pagli Novel by Memona Khursheed Ali Complete Urdu Novel

نکاح، انتقام اور مٹائے گئے ثبوتوں کے درمیان بے بسی سے لڑتی ایک خوددار لڑکی کی داستان۔

میں یہ نہیں سوچ سکتا تھا کہ تم جیسی لڑکی میری شریک سفر ہو گی۔ ذرا بتاؤ میرے آنے سے قبل ہی تم نے دلہن پے کا روپ سنگھار کیوں اتار دیا؟ کشش تو ان لڑکیوں کے لیے ہوتی ہے ناں، ان باتوں میں جو ان چھوئی ہوں۔ بولو جواب دو، ہے کوئی تمہارے پاس اس بات کا جواب؟” “ہاں ہے، اور وہ یہ کہ مجھے نہ آپ سے اور نہ آپ کی ذات سے کوئی دلچسپی تھی اور نہ ہی کوئی انسیت ہے۔ جب میرے دل میں آپ کے لیے کچھ بھی نہیں تو پھر کیوں میں اپنی کھوکھلی ذات آپ کے حوالے کروں؟ سمجھے آپ، میں محبت کا سنگم دل سے چاہتی ہوں، وجود سے نہیں۔ اور وہ یہ کہ تم جیسی عورت میری بیوی ہو۔ نہیں، دل نہیں مان رہا۔ بیوی تو بہت عظیم ہوتی ہے، تم جیسی تو مجھے بہت مل سکتی ہیں، پھر میں تمہیں کیوں بیوی بنا کر رکھوں؟ کیوں اپنی ہی نظروں میں گروں؟ اس لیے میں نے طلاق کے کاغذات نکاح سے پہلے ہی بنوا لیے تھے اور پھر فوراً بعد ہی تمہارے حق سے دستبردار ہو گیا۔” “کیا؟” وہ بس اتنا ہی کہہ سکی۔ وہ کیا کہہ رہے تھے، کیا یہ سچ تھا؟ وہ آنکھیں پھیلائے انہیں دیکھ رہی تھی۔ “یہ جو تم اتنی دیر سے خود کو بار بار میری بیوی کہہ رہی ہو، یہ تمہاری غلط فہمی ہے۔” “کیا مطلب ہے؟” اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ وہاج حسن دوسرے کمرے میں گئے، پھر تھوڑی دیر بعد پلٹے، ان کے ہاتھ میں ایک خاکی لفافہ تھا۔ “یہ طلاق نامہ ہے۔ شرعاً، قانوناً ہر لحاظ سے ہم دونوں ایک دوسرے کے لیے، ایک دوسرے پر حق ختم کر چکے ہیں۔ لیکن ایک چیز تم مجھ سے لینے کی حقدار ہو اور وہ ہے حق مہر۔ یہ لو اپنا حق مہر۔” انہوں نے دوسرا لفافہ بھی اس کے آگے پھینک دیا۔ کتنی ہی دیر وہ یوں ہی کھڑی رہی، جیسے یقین کرنے کی کوشش کر رہی ہو، اعصاب جیسے شل ہو گئے ہوں۔ لیکن پھر اسے جیسے یقین آ گیا۔ وہاج حسن جیسا خاندانی مرد یہ قدم اٹھائے گا، اسے امید نہ تھی، ہاں مگر یہ سب اگر اب نہ ہوتا تو کچھ روز بعد ہو جاتا۔ شاید اس کی طرف سے ہی خلع کی درخواست عدالت میں پہنچ جاتی۔ اتنا کم ظرف، بد مزاج، کند ذہن، اجڈ قسم کا مرد، کیسے گزارا ہوتا؟ زندگی انتہائی تلخ ہو جاتی، لیکن وہ جدا تو ہو جاتی۔ وہ ایک عزت دار خاندان کی عزت دار بیٹی تھی۔ کتنی بڑی قیامت تھی یہ اس کے لیے کہ شادی کی پہلی رات ہی طلاق یافتہ ہو گئی۔ ایک عورت کے لیے اس سے بڑا عذاب کیا ہو گا کہ اس کا شوہر اس پر بے بنیاد الزام لگا کر اس کے حق سے دستبردار ہو جائے۔ کتنی بے بس ہو جاتی ہے عورت اس لمحے، کوئی بھی تجویز نہیں اس قیامت کو روکنے کی، کوئی بھی سدباب نہیں، اتنا مضبوط رشتہ پل بھر میں تین لفظوں سے اس طرح ٹوٹ جاتا ہے جیسے کچا دھاگہ ٹوٹتا ہے۔ نکاح کے وقت جب تک دونوں فریقین کی طرف سے اقرار نہ ہو تو نکاح نہیں ہوتا، پھر طلاق کا حق صرف ایک ہی فریق کو کیوں؟ نکاح کے وقت عورت کی خاموشی بھی اقرار بن جاتی ہے اور طلاق کے وقت وہ جتنا بھی چیخ کر انکار کر دے، چھپ جائے، آنکھیں بند کر لے، تب بھی طلاق ہو جاتی ہے۔ کیسا رشتہ تھا یہ اور کیسا انصاف تھا! وہ جو اتنی تعلیم یافتہ تھی، دولت مند باپ کی بیٹی تھی، خود سر تھی، خود اعتماد تھی، بے باک تھی، وہ بھی کچھ نہ کر سکی اس لمحے، جو اتنی بے دردی سے رد کر دی گئی تھی۔ مرد کا ایک یہی تو اختیار عورت کے تمام حوصلے پست کر کے رکھ دیتا ہے اور پھر جو یہ اختیار استعمال کر لیں تو پھر کچھ باقی نہیں رہتا، نہ بلندی اور نہ پستی۔ اسے لگ رہا تھا جیسے اس کا وجود ریت کی مانند ہوا میں بکھر گیا ہے، وہ زمین پر بیٹھتی چلی گئی۔ وہ اپنا چہرہ ہاتھوں میں چھپا کر رو دی کہ آگے کیا ہو گا، وہ کہاں ہے، اسے کیا کرنا ہے، وہ سب کو کیا بتائے گی؟ اسے کچھ خبر نہ تھی۔ انہوں نے طلاق نامہ اس کے سامنے سے اٹھا لیا، پھر جیب سے لائٹر نکالا اور اسے چنگاری دکھا دی۔ وہ حیرت سے دیکھنے لگی۔ کاش کہ وہ سوچ سکتی کہ بعد میں کیا ہو گا، تو وہ یہ ثبوت جسے عورت چھپاتی ہے، یہ داغ جسے پیشانی پر لگوانا نہیں چاہتی، کبھی بھی جلنے نہ دیتی، یہ تذلیل کا داغ سنبھال کر رکھتی۔ لیکن شاید اس کے فرشتوں کو بھی خبر نہ تھی کہ آگے کیا ہو گا۔ وہ تو حواس میں تب آئی جب طلاق نامہ جل بجھ کر راکھ ہو گیا۔ انہوں نے اس کے ذرے سمیٹے، پانی کے بھرے ہوئے جگ میں ڈال دیے، سارا پانی سیاہ ہو گیا، اس کی تقدیر کی طرح۔ “اتنے بزدل ہو حسن جاہ کہ اپنے ہی فیصلے کو مٹا رہے ہو؟ سورج کے آگے ہتھیلی کر دینے سے اندھیرا نہیں ہو جاتا۔ شاید آپ نے سوچا نہیں۔ برملا کہیے کہ آپ نے مجھے طلاق دی ہے، ہچکچانے کی ضرورت کیا ہے۔” شکستہ سا لہجہ تھا اور انداز میں بے پناہ تھکن تھی۔ پھر درز دیدہ ہی نگاہوں سے دیکھ کر کہنے لگی، “اچھا کیا آپ نے یہ فیصلہ کر دیا۔ اگر یہ اب نہ ہوتا تو بعد میں ضرور ہو جاتا۔” یکا یک انداز اتنا مضبوط اور خود سر ہو گیا تھا کہ وہ دیکھتے رہ گئے۔ بڑی نفرت سے حق مہر کی رقم کا لفافہ اٹھایا اور ان کے منہ پر دے مارا۔ “یہ لیجیے، میں نے آپ کو خیرات دی۔ میں ان چند سکوں کی محتاج نہیں ہوں، سمجھے آپ۔ ہاں مگر جو آپ نے چار گھنٹے قبل اپنی عزت کا پرچم لگایا تھا، مجھے پاگل سے شادی کر کے، اس کے بارے میں نہیں سوچا کہ انجام کیا ہو گا؟” اتنی حقارت تھی اس کے انداز میں کہ مقابل ہرگز برداشت نہیں کر سکتا تھا۔ لیکن وہ سکون سے مسکرائے، ان کے چہرے پر، ان کی آنکھوں میں کیا تھا؟ وہ ٹھٹک گئی۔ وہ اب ہنسے جا رہے تھے، وہ جو کچھ تھی، نہیں سمجھنا چاہتی تھی، اس لیے ان کی دماغی حالت پر شبہ کرنے لگی۔ وہ بڑی فتح مندی سے اس کی طرف بڑھے اور اسے شانوں سے پکڑ لیا۔ وہ تیزی سے دو قدم پیچھے ہٹی۔ “دماغ خراب ہو گیا ہے آپ کا، آپ میرے لیے نامحرم ہیں!” وہ قطعی انداز میں نفرت سے بولی۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ پاگل ہو گئے ہیں۔ وہ لگ ہی نہیں رہے تھے کہ حسن جاہ ہیں۔ احساسات چہروں کو اتنا بدل دیتے ہیں، اس نے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ “میں تمہارے لیے نامحرم کیسے ہو گیا؟ ہمارا نکاح ہوا ہے، جان من! چار گھنٹے پہلے۔” “بکواس بند کریں، مجھے لگتا ہے آپ کا دماغ خراب ہو گیا ہے۔” وہ نفرت سے چلائی۔ “دماغ خراب؟ میرا؟ ہاہاہاہا! پاگل تو تم ہو ماہم جاہ، تم۔” اس نے غیر یقینی کیفیت میں انہیں دیکھا، یہ کیا ہو رہا تھا؟ اس کی سوچ جیسے مفلوج ہو کر رہ گئی تھی۔ “مجھے بلیک میل کر رہے ہیں آپ؟” وہ لہجے کی کپکپاہٹ دباتے ہوئے بولی. “یہی سمجھ لو۔” وہ سکون سے مسکرائے۔ “آپ جیسا کمینہ شخص میں نے زندگی بھر نہیں دیکھا۔” وہ نفرت سے پھنکاری اور باہر جانے لگی۔ “تو اب دیکھ لو، تم نے دیکھا ہی کیا ہے ماسوائے اس حسن کے۔” انہوں نے بڑھ کر اس کا ہاتھ پکڑا۔ یا وحشت، وہ چکرا کر رہ گئی۔ “شرم کیجئے، گھن آ رہی ہے مجھے آپ سے۔ مرد اتنا گر سکتا ہے، مت دکھائیے یہ روپ مجھے۔” وہ پیچھے ہٹی۔ “گری ہوئی عورتوں کے ساتھ گرے ہوئے مرد ہی ہوا کرتے ہیں۔” وہ سکون سے آگے بڑھے۔ “میں کہتی ہوں ایک قدم بھی آگے نہ بڑھانا، میں کہتی ہوں مجھے ہاتھ مت لگانا، میں شور مچا دوں گی۔” اس کے انداز میں تحکم تھا مگر آواز میں واضح لرزش موجود تھی، آنکھیں چوکنا تھیں مگر وحشت سے۔ “مچاؤ شور، سب جانتے ہیں تم ابنارمل ہو۔ امید ہے سب کو کہ اس قسم کی آوازیں کمرے سے باہر آئیں گی، اس لیے کوئی تمہاری مدد کے لیے نہیں آئے گا کیونکہ پاگل چیتے ہیں، چلاتے ہیں، ہنگامے کرتے ہیں۔” “میں پاگل نہیں ہوں۔” بے بسی سے اس کی آنکھوں سے آنسو آ گئے۔ “آپ نے مجھے طلاق دے دی ہے۔” آواز خوف سے پھٹی جا رہی تھی، سارا وجود پسینے سے شرابور ہو گیا۔ “کیا ثبوت ہے تمہارے پاس کہ میں نے تمہیں طلاق دی؟” اس نے چونک کر جگ کی طرف دیکھا، کاغذ کے ذرے پانی پر تیر رہے تھے۔ طلاق نامہ جلانے کی وجہ اس کی سمجھ میں اب آئی تھی، اس نے انگلی سے بدقت تمام جگ کی طرف اشارہ کیا۔ “یہ ثبوت ہے۔” وہ لاپرواہی سے ہنسے، پھر اسے بازو سے پکڑا، دوسرے ہاتھ سے جگ اٹھایا اور کھینچتے ہوئے باتھ روم میں لے گئے اور سارا پانی فلش میں انڈیل دیا، پھر تیزی سے باہر نکلے۔ “ہے کوئی ثبوت تمہارے پاس؟” انہوں نے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پوچھا۔ “خدا کے خوف سے ڈریے وہاج حسن، خدا کے قہر سے ڈریے۔ آپ خود تو جانتے ہیں کہ آپ نے کیا کیا ہے۔” بے بسی سے آنسو رواں تھے، ایسا خوف، ایسی کپکپی، ایسی گھبراہٹ اس سے پہلے کبھی محسوس نہ کی تھی۔ “میں اپنی جان دے دوں گی، شور مچا دوں گی، مجھے لاوارث اور بے بس مت سمجھنا۔ یہ جو فعل آپ نے کیا ہے اس کا گواہ میرا خدا ہے، میرا دل ہے۔ میں سب کو بتا دوں گی، اپنے پاپا کو بتا دوں گی۔ ایک عورت اس معاملے میں کبھی جھوٹ نہیں بولتی، میں اپنے پاپا کو سب سچ سچ بتا دوں گی۔ ہاں، میں نے ڈھونگ رچایا تھا، لیکن آپ نے جو کچھ میرے ساتھ کیا ہے وہ سچ ہے، وہ حقیقت ہے۔ میں عدالت میں لے جاؤں گی آپ کو، جیل کی سلاخوں کے پیچھے آپ خود اقرار کریں گے کہ آپ خود میرے حق سے دستبردار ہو چکے ہیں۔ میں معمولی لڑکی نہیں ہوں، بے بس و مجبور نہیں ہوں۔” وہ چہرہ ہاتھوں میں چھپا کر پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔ وہ اس کے قریب آئے، سختی سے اس کا چہرہ اوپر کیا۔ “تمہاری باتوں کا کون یقین کرے گا؟ جب تم اتنا بڑا ڈھونگ رچا سکتی ہو تو یہاں بھی جھوٹ بول سکتی ہو۔ خدا جانتا ہے، مگر خدا شہادت دینے کے لیے ولی تو نہیں بھیجے گا۔ لوگوں کو تم بتاؤ گی تو تم پر افسوس کریں گے، پیچھے بیٹھ کر ہنسیں گے۔ انہیں یقین ہے کہ تم پاگل ہو، اور یہ یقین تم نے خود دلایا ہے اور جب تک تم عدالت میں جاؤ گی کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہو گی۔ پھر عدالت ثبوت مانگے گی، ثبوت ہے نہیں، میں اگر جھوٹ پر قائم رہوں تو بھی فتح میری ہے کہ تمہاری دیوانگی کے سرٹیفکیٹ میرے پاس موجود ہیں۔ عدالت تو کیا، خاندان والے بھی اس بات کا یقین نہیں کریں گے کیونکہ میرا سابقہ کردار فرشتوں جیسا تھا اور ہے۔ ہاں البتہ تم سے سب کو ایسی احمقانہ گفتگو کی توقع یقیناً ہو گی۔” وہ یہ کہہ کر مسکرائے۔ “اور اگر میں سچ عیاں کر دوں؟” “پھر تو ماہم جاہ تم کہیں کی بھی نہیں رہو گی، حتیٰ کہ خود اپنی بھی نہیں۔” “کیوں کر رہے ہیں آپ ایسا؟” اس نے دونوں ہاتھ کانوں پر رکھ لیے، وہ مزید کچھ نہیں سننا چاہتی تھی، بے تحاشا رو رہی تھی۔ “اس لیے کہ تم جیسی عورتیں اس قابل نہیں ہوتیں کہ انہیں عزت دی جائے۔” وہ بے رحمی سے بولے۔ “نہیں۔ حسن جاہ، نہیں۔ میں زندگی میں اس سے قبل کبھی بے بس نہیں ہوئی۔ میں نے کسی کے آگے ہاتھ نہیں جوڑے۔ کبھی کسی کے پاؤں نہیں پکڑے۔ میں تم سے رحم کی بھیک مانگتی ہوں، مجھے معاف کر دیں۔ خدا کے واسطے، میں بہت بری تھی، آپ تو فرشتوں جیسے ہیں۔” لیکن اس کی تمام التجائیں، آہ و بکا، آنسو، سسکیاں سب بے سود تھیں کیونکہ اس وقت وہاں کوئی فرشتہ نہیں بلکہ شیطان تھا

نیچے دیے گئے 4 ڈاؤنلوڈ لنکس میں سے 3 لنکس پر اشتہار آ سکتا ہے، جبکہ 1 لنک اصل ڈاؤن لوڈ لنک ہے۔

ہماری درخواست ہے کہ کسی بھی لنک کو بند کیے بغیر تھوڑا صبر سے استعمال کریں۔

آپ کی یہی چھوٹی سی سپورٹ ہمیں مزید ناول آپ تک پہنچانے میں مدد دیتی ہے

1st Link

Download link

2nd Link

Download Link

3rd Link

Download Link

4th Link

Download Link

Complete Summary

ہو نہ پھر پاگلی ایک گہرا، جذباتی اور نفسیاتی رومانوی ناول ہے جس میں محبت کے بجائے انتقام، اعتماد کے بجائے دھوکا اور نکاح کے مقدس رشتے کے اندر چھپی ہوئی سازش کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔

کہانی کی مرکزی کردار ماہم جاہ ایک خوب صورت، تعلیم یافتہ، بااعتماد اور خوددار لڑکی ہے۔ وہ اپنے ماضی، اپنی ضد اور اپنے بعض فیصلوں کی وجہ سے لوگوں کے سامنے ایک ایسا تاثر قائم کر چکی ہوتی ہے جو بعد میں اسی کے خلاف سب سے مضبوط ہتھیار بن جاتا ہے۔ دوسری طرف وہاج حسن ایک باوقار، ذہین، خاندانی اور بظاہر مثالی مرد ہے، مگر اس کے اندر ماہم کے لیے شدید غصہ، بداعتمادی اور انتقام چھپا ہوا ہے۔

شادی کی پہلی ہی رات وہاج حسن ماہم کے سامنے طلاق نامہ اور حق مہر رکھ کر اسے یہ یقین دلاتا ہے کہ ان کا رشتہ ختم ہو چکا ہے۔ وہ ماہم کے کردار، اس کے ماضی اور اس کی ذات پر سخت الزامات لگاتا ہے۔ ماہم کے لیے یہ لمحہ صرف نکاح کے ٹوٹنے کا نہیں بلکہ اس کی عزت، شناخت اور اعتماد کے بکھر جانے کا لمحہ بن جاتا ہے۔

لیکن معاملہ اس وقت مزید خوفناک رخ اختیار کرتا ہے جب وہاج طلاق نامہ جلا کر تمام ثبوت مٹا دیتا ہے اور ماہم کو بتاتا ہے کہ قانونی اور معاشرتی طور پر کوئی بھی اس کی بات پر یقین نہیں کرے گا۔ ماہم کے ماضی میں رچائے گئے ڈرامے، اس کی ذہنی حالت سے متعلق بنائے گئے سرٹیفکیٹس اور وہاج کی مثالی شہرت اس کے لیے ایک ایسا جال بن جاتے ہیں جہاں سچ بولنے کے باوجود وہ جھوٹی ثابت ہو سکتی ہے۔

وہاج حسن اس کمزوری کو استعمال کر کے ماہم کو ذہنی دباؤ، خوف اور بے بسی میں مبتلا کرتا ہے۔ ماہم پہلی مرتبہ اپنی زندگی میں خود کو مکمل طور پر بے اختیار محسوس کرتی ہے۔ اس کا غرور، خود اعتمادی اور بے باکی ایک ایک کر کے ٹوٹنے لگتے ہیں، مگر اس کے باوجود اس کے اندر مزاحمت کی ایک چنگاری زندہ رہتی ہے۔

یہ ناول سوال اٹھاتا ہے کہ کیا ماہم واقعی وہی ہے جیسا وہاج اسے سمجھتا ہے؟ کیا وہاج کا انتقام جائز ہے یا وہ اپنی نفرت میں ظلم کی حدیں پار کر چکا ہے؟ کیا سچ کبھی سامنے آئے گا؟ اور کیا نفرت، دھوکے اور خوف سے شروع ہونے والا یہ رشتہ کبھی محبت، اعتماد اور معافی تک پہنچ سکے گا؟

ہو نہ پھر پاگلی انتقامی شادی، ذہنی اذیت، غلط فہمیوں، طاقت کے غلط استعمال، عورت کی بے بسی، خودداری اور پیچیدہ جذبات پر مبنی ایک سنسنی خیز داستان ہے جو قاری کو آغاز سے اختتام تک اپنی گرفت میں رکھتی ہے۔

Ho Na Phir Pagli, Ho Na Phir Pagli Novel, Ho Na Phir Pagli by Memona Khursheed Ali, Memona Khursheed Ali, Complete Urdu Novel, Revenge Marriage, Wedding Night Divorce, Psychological Romance, Forced Marriage, Emotional Abuse, Cruel Hero, Strong Heroine, Misunderstanding Based Novel, Marriage Drama, Suspense Romance, Pakistani Urdu Novel, Online Urdu Novel, Novelistan

#HoNaPhirPagli #MemonaKhursheedAli #UrduNovel #CompleteUrduNovel #RevengeMarriage #WeddingNightDivorce #PsychologicalRomance #StrongHeroine #EmotionalNovel #Novelistan

FAQ

Ho Na Phir Pagli kis qisam ka novel hai?

Yeh aik psychological, emotional aur revenge based Urdu novel hai jismein wedding night divorce, deception, forced marriage aur intense marital conflict ko markazi ahmiyat di gayi hai.

Ho Na Phir Pagli ki writer kaun hain?

Is novel ki writer Memona Khursheed Ali hain.

Kya Ho Na Phir Pagli complete novel hai?

Ji haan, yeh aik complete Urdu novel hai jise Novelistan website par online parha ja sakta hai.

Is novel ke main characters kaun hain?

Is kahani ke markazi kirdar Maaham Jah aur Wahaj Hassan hain.

Wahaj Hassan Maaham Jah se badla kyun leta hai?

Wahaj Hassan Maaham ke maazi, us ke rawaiye aur us se judi ghalat fehmiyon ki wajah se shadeed nafrat aur inteqam rakhta hai. Isi liye woh nikah ko bhi usay saza dene ke zariye ke taur par istemal karta hai.

Kya Wahaj Hassan Maaham ko talaq de deta hai?

Woh Maaham ko talaq nama dikhata hai aur use yaqeen dilata hai ke rishta khatam ho chuka hai, lekin baad mein saboot jala kar usay aik mushkil aur khaufnak surat-e-haal mein phansa deta hai.

Kya yeh revenge marriage based novel hai?

Ji haan, is novel ka bunyadi theme revenge marriage, emotional manipulation aur nikah ke rishtay mein paida hone wali zehni kashmakash hai.

Kya heroine strong character hai?

Ji haan, Maaham Jah aik taleem yafta, khud-dar aur bebaak larki hai, lekin Wahaj ki sazish use pehli martaba shadeed bebasi aur khauf ka samna karne par majboor kar deti hai.

Ho Na Phir Pagli online kahan parh sakte hain?

Aap Novelistan par Ho Na Phir Pagli complete Urdu novel online parh sakte hain.

 

Support Novelistan ❤️

Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.

EasyPaisa / JazzCash

0309 1256788

Account name: Safia Bano

Bank Transfer (UBL)

United Bank Limited

Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131

Name: Sadia Hassan

IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131

Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *