Maat by Nayab Jilani Novel20832
Maat by Nayab Jilani Novel20832
Betrayal Based | Divorce Based | Family Drama | Mental Health | Motherhood | Emotional Tragedy | Social Issues
Short Description
مات نایاب جیلانی کا ایک شدید جذباتی اور معاشرتی اردو ناول ہے جو غلام فاطمہ کی زندگی، جھوٹے الزامات، خاندانی ظلم، شوہر کی بے وفائی، طلاق، ذہنی ٹوٹ پھوٹ اور ماں سے اس کے بچوں کی جدائی کی دردناک داستان بیان کرتا ہے۔
Ghulam Fatima apni begunahi sabit karti reh gayi, magar us se us ka shohar, izzat, career aur bachay sab cheen liye gaye. Parhiye Nayab Jilani ka complete emotional Urdu novel Maat.

جھوٹے الزامات، طلاق اور بچوں کی جدائی سے بکھرتی ایک بے گناہ عورت کی دردناک داستان۔
“کہاں سے منہ کالا کر کے آ رہی ہے نامراد؟” “دادی، میں…” پہلی مرتبہ دادی کے سامنے اس کی آواز لڑکھڑائی تھی۔ “خبردار! مجھے دادی کہنا اپنی ناپاک زبان سے، غلیظ کمینی۔ کیسی دیدہ دلیری سے واپس آ گئی ہو۔ کہاں تھیں رات بھر؟ کس کے ساتھ رنگ رلیاں مناتی رہی ہو۔ ارے بلاؤ فون حیدر کو، بتاؤ اسے آ گئی تمہاری عزت دار بیوی رات نہ جانے کس کے پاس گزار کر۔ ساری رات فون کرتا رہا ہے بیچارا بچہ، قسمت پھوٹ گئی میرے حیدر کی۔ گندے خاندان سے تعلق تھا۔ جیسی دادی، ویسی ماں اور ویسی ہی بیٹی بھی۔ رضوان! تیری آنکھوں پر کیسی پٹی باندھی تھی اس جادوگرنی نے۔” دادی کا واویلا جاری تھا۔ نادیہ پھوپھو بھی خبر سن کر آ گئی تھیں۔ وہ بھی دادی کے ساتھ اسے لعن و طعن کرنے میں مصروف تھیں۔ “دفع ہو جا میری نظروں کے سامنے سے۔” دادی چلا چلا کر بول رہی تھیں۔ پھر حیدر کو فون کیا گیا۔ فاطمہ نے تڑپ کر انگارے چباتی دادی کی طرف دیکھا۔ معیز بھی قریب ہی بیٹھا تھا۔ اس کی آنکھوں میں بے بسی کے آنسو تھے۔ حیدر نے نہ جانے کیا کیا کہا۔ فاطمہ لرزتی، کانپتی اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔ لوگوں کے دہکائے باتوں کے جھرمٹ میں وہ ہر لمحہ جلتی رہی تھی۔ خاندان بھر میں اس کی غیر موجودگی کی خبر نشر کر دی گئی تھی۔ اسے خاندان والوں اور جانے والوں کی ہی نہیں، حیدر کی نظروں میں بھی گرا دیا گیا تھا۔ اسے اس بات پر افسوس نہیں تھا کہ فاروقی ہاؤس کی عورتوں نے اس کی کسی بات پر یقین نہیں کیا۔ اسے حیدر کے بدل جانے کا صدمہ تھا۔ اسے حیدر کی بے اعتنائی نے دکھ دیا تھا۔ اسے حیدر کی بے وفائی نے پاگل کر دیا تھا۔ وہ رو رو کر اسے اپنی بے گناہی کا یقین دلاتی رہی۔ اسے کشف کی نفرت کی داستان سنائی۔ اسے تڑپ تڑپ کر کشف کے پلان کے بارے میں بتایا، مگر وہ تو گویا کان بند کر چکا تھا۔ اس نے جو سننا تھا سن لیا تھا، اب تو صرف فیصلہ کرنا باقی تھا۔ حیدر نے بس اتنا کہا۔ “میں سب کو جھٹلاتا رہا تھا کہ تم ایسی نہیں ہو، دادی کو، پھوپھو کو، جی کہ کشف کی باتیں بھی مجھے فضول لگتی تھیں، مگر تم نے ثابت کر دیا ہے کہ تمہاری ماں بھاگ کر آئی تھی۔ تمہاری دادی بھی اور تم بھی۔ تم سے کس نیک نامی کی توقع کی جاتی۔ تم نے مجھے ہی میری نظروں میں گرا دیا ہے۔ میں خود کو اس وقت ذلتوں کے گڑھے میں گرا محسوس کر رہا ہوں۔ تھوکتے ہوں گے لوگ میرے انتخاب پر۔” فاطمہ ساکت سی اس کے لبوں سے نکلنے والے الفاظ کو سنتی رہی۔ حیدر ایسا ہرگز نہیں تھا۔ اک بے یقینی کی کیفیت تھی۔ گھر والوں کا رویہ پہلے کون سا بہتر تھا۔ اب تو بدتر ہو گیا تھا۔ دادی نے اسے اچھوت سمجھ کر پہلے گیسٹ روم اور پھر سرونٹ کوارٹر میں شفٹ ہونے کا حکم سنا دیا تھا۔ اس کے برتن الگ کر دیے گئے، اسے بچا کھچا کھانے کو ملتا رہا۔ وہ سب کی نفرتیں برداشت کرتی رہی۔ سب کی گالیاں، کوسنے سنتی رہی۔ اس پر بے حسی کی دبیز چادر آہستہ آہستہ طاری ہو رہی تھی۔ یہ بے حسی خود فراموشی کی پہلی سیڑھی تھی جس پر وہ قدم قدم، زینہ بہ زینہ چڑھ رہی تھی۔ جب بھی کبھی کشف سے سامنا ہوتا تو وہ بڑے تفخر سے اس کی لحظہ بہ لحظہ گرتی حالت پر مسرور ہوتی۔ سب کے مجبور کرنے پر اور تمام شواہد اکٹھے کر کے حیدر نے فیصلہ سنا دیا۔ سب گویا اس گھڑی کا انتظار کر رہے تھے۔ حیدر نے طلاق کے پیپرز بھجوا دیے تھے اور گویا سب ہی نے حیدر کے اس عمل کو سراہا، سوائے حرا کے۔ حرا نے فون کر کے نہ صرف ماں بلکہ نانی سے بھی خوب جھگڑا کیا تھا، حیدر سے بھی بات کی مگر سب بے کار گیا۔ دادی تو اب ایک لمحہ بھی فاطمہ کو گھر میں رکھنے کے لیے تیار نہیں تھیں۔ اس کی حالت بھی گویا مدہوشوں جیسی تھی۔ جہاں بیٹھتی، خاموشی سے بیٹھی رہتی، کبھی چھت کو گھورنے لگتی، کبھی سب کی طرف دیکھ کر ہنستی اور کبھی بے تحاشا رونے لگتی۔ دادی اس کی حالت دیکھ کر منہ ہی منہ میں بڑبڑاتیں۔ “ڈرامے ہیں سب، کچھ بھی نہیں اسے۔” پھر جب اسے دورے پڑنے لگے تو دادی گھبرا گئیں۔ “پاگل خانے یا ہسپتال؟” سب نے ہسپتال کا ارادہ کر لیا۔ دو مہینے کے مختصر عرصے میں اسے ہسپتال پہنچا دیا گیا تھا۔ اس کی حالت پہلے سے بھی مزید بگڑتی چلی گئی۔ ایک دن کشف نہ جانے کیا دیکھنے کے لیے ہسپتال آئی تھی۔ کافی دیر بیٹھی رہی اور زیرِ لب بڑبڑاتی رہی۔ “کہاں گئی تمہاری ذہانت، تمہارا کیریئر، تمہاری خوشیاں؟ تم نے وہ سب کچھ لے لیا جس پر میرا حق تھا۔ تم ڈاکٹر بننا چاہتی تھیں نا غلام فاطمہ؟ ذرا آئینے میں خود کو دیکھنا، یوں لگتا ہے کوئی شکستہ سی، ٹوٹی پھوٹی عمارت کھڑی ہے۔ میں ڈاکٹر نہیں بن سکی تو پھر تمہیں کیسے بننے دیتی۔ حیدر میرا نہیں ہو سکا تو تمہارا کیسے رہنے دیتی۔” فاطمہ مگر فکر اس کی صورت دیکھتی رہی اور پھر ہنستی چلی گئی۔ کشف نے تنفر سے اسے دیکھا اور پھر مزید بولی۔ “نئی کلام فاطمہ! ہار گئی ہو تم، میں ہاری، تم جیتیں۔” فاطمہ نے کھلکھلا کر ہنسا اور ایک مرتبہ پھر ہنسنے لگی۔ وقت تھوڑا سا مزید سرکا۔ اس نے ہسپتال میں ہی دو جڑواں بیٹوں کو جنم دیا۔ اس نے رحم نہیں کھایا، اس کے دونوں بیٹوں کو اپنی بانجھ بیٹی کی گود میں ڈال آئی۔ کبھی کبھی اس کی ذہنی رو درست سمت میں بننے لگتی تھی تو اچانک اسے اپنے نومولود بچوں کا خیال آ جاتا اور پھر اس کی چیخوں سے ہسپتال کے در و دیوار ہل جاتے۔ اس دن بھی عمر رسیدہ اس نرس کو دیکھ کر فاطمہ نے چلانا شروع کر دیا تھا۔ “میرے بچوں کو لا دو! کہاں چھوڑ آئی ہو میرے بچوں کو۔
نیچے دیے گئے 4 ڈاؤنلوڈ لنکس میں سے 3 لنکس پر اشتہار آ سکتا ہے، جبکہ 1 لنک اصل ڈاؤن لوڈ لنک ہے۔
ہماری درخواست ہے کہ کسی بھی لنک کو بند کیے بغیر تھوڑا صبر سے استعمال کریں۔
آپ کی یہی چھوٹی سی سپورٹ ہمیں مزید ناول آپ تک پہنچانے میں مدد دیتی ہے
1st Link
Download link
2nd Link
Download Link
3rd Link
Download Link
4th Link
Download Link
Complete Summary
مات ایک ایسی جذباتی، معاشرتی اور دل ہلا دینے والی کہانی ہے جس میں ایک بے گناہ عورت کو جھوٹے الزامات، خاندانی نفرت، شوہر کی بے اعتنائی اور اپنوں کی سازشوں کے باعث زندگی کی بدترین آزمائشوں سے گزرنا پڑتا ہے۔
کہانی کی مرکزی کردار غلام فاطمہ ایک ذہین، تعلیم یافتہ، خوددار اور مستقبل کے روشن خواب دیکھنے والی لڑکی ہے۔ وہ ڈاکٹر بننا چاہتی ہے اور اپنی زندگی عزت، محنت اور کامیابی کے ساتھ گزارنے کا ارادہ رکھتی ہے، مگر اس کے گرد موجود حسد، خاندانی تعصب اور دشمنی اس کی زندگی کو آہستہ آہستہ تباہی کی طرف دھکیل دیتے ہیں۔
فاطمہ کی زندگی کا سب سے بڑا سہارا اس کا شوہر حیدر ہوتا ہے، مگر ایک سازش کے نتیجے میں جب وہ ایک رات گھر سے غائب رہتی ہے تو پورا خاندان اس پر بدکرداری کا الزام لگا دیتا ہے۔ دادی، پھوپھو اور گھر کی دوسری عورتیں بغیر حقیقت جانے اسے ذلیل کرتی ہیں، جبکہ فاطمہ بار بار اپنی بے گناہی ثابت کرنے کی کوشش کرتی ہے۔
اسے امید ہوتی ہے کہ حیدر سب کے خلاف کھڑا ہو گا، مگر وہ بھی لوگوں کی باتوں، جھوٹے ثبوتوں اور خاندانی دباؤ کے سامنے ہار جاتا ہے۔ فاطمہ اسے کشف کی سازش، اپنی مجبوری اور حقیقت بتاتی رہتی ہے، مگر حیدر اس کی بات سننے کے بجائے اس کے خاندان اور ماضی کو نشانہ بناتا ہے۔ اس کی بے وفائی اور بداعتمادی فاطمہ کے وجود کو اندر سے توڑ دیتی ہے۔
گھر میں اس کے ساتھ اچھوتوں جیسا سلوک کیا جاتا ہے۔ اسے گیسٹ روم سے نکال کر سرونٹ کوارٹر میں بھیج دیا جاتا ہے، اس کے برتن الگ کر دیے جاتے ہیں اور اسے بچا کھچا کھانا دیا جاتا ہے۔ ہر روز سنائے جانے والے طعنے، گالیاں اور نفرتیں اس کی ذہنی حالت کو تباہ کرنے لگتی ہیں۔
آخرکار حیدر اسے طلاق کے کاغذات بھجوا دیتا ہے۔ طلاق، تنہائی، بدنامی اور اپنوں کے ظلم کے باعث فاطمہ ذہنی طور پر بکھر جاتی ہے۔ اس کی حالت اس قدر خراب ہو جاتی ہے کہ اسے ہسپتال منتقل کرنا پڑتا ہے۔ کشف، جس نے اس کی زندگی تباہ کرنے کی سازش کی تھی، اس کی شکست دیکھنے ہسپتال تک پہنچتی ہے اور اسے یاد دلاتی ہے کہ اس نے فاطمہ سے اس کا کیریئر، شوہر اور خوشیاں سب چھین لی ہیں۔
فاطمہ ہسپتال میں دو جڑواں بیٹوں کو جنم دیتی ہے، مگر ظلم یہاں بھی ختم نہیں ہوتا۔ اس کے دونوں بچوں کو اس کی مرضی کے بغیر ایک بانجھ عورت کی گود میں دے دیا جاتا ہے۔ جب بھی فاطمہ کے حواس کچھ دیر کے لیے بحال ہوتے ہیں، اسے اپنے بچوں کی یاد ستاتی ہے اور اس کی چیخیں ہسپتال کے در و دیوار ہلا دیتی ہیں۔
یہ ناول جھوٹے الزامات، شوہر کی بداعتمادی، خاندانی ظلم، ذہنی اذیت، طلاق، عورت کی بے بسی، حسد اور ماں کی ممتا جیسے حساس موضوعات کو انتہائی اثر انگیز انداز میں پیش کرتا ہے۔ کیا فاطمہ کبھی اپنے بچوں سے مل سکے گی؟ کیا حیدر کو حقیقت کا علم ہو گا؟ کیا کشف کی سازش بے نقاب ہو گی؟ اور اصل میں مات کس کی ہو گی؟ یہی سوال اس ناول کو ابتدا سے اختتام تک جذباتی اور سنسنی خیز بنائے رکھتے ہیں
Maat by Nayab Jilani, Nayab Jilani novels, complete Urdu novel, betrayal based Urdu novel, divorce Urdu novel, emotional family drama, mental health based novel, strong heroine Urdu novel
#Maat #NayabJilani #UrduNovel #CompleteUrduNovel #EmotionalNovel #DivorceNovel #FamilyDrama #MentalHealth #Motherhood #Novelistan
FAQ
Maat kis qisam ka novel hai?
Yeh aik emotional, tragic aur social Urdu novel hai jismein false allegations, divorce, family cruelty, mental health aur motherhood ko markazi ahmiyat di gayi hai.
Maat ki writer kaun hain?
Is novel ki writer Nayab Jilani hain.
Kya Maat complete novel hai?
Ji haan, yeh aik complete Urdu novel hai jise Novelistan website par online parha ja sakta hai.
Is novel ki main heroine kaun hai?
Is kahani ki markazi kirdar Ghulam Fatima hai, jo aik taleem yafta, khud-dar aur masoom larki hai, lekin aik sazish us ki poori zindagi tabah kar deti hai.
Maat novel mein villain kaun hai?
Kashaf kahani mein aham manfi kirdar ada karti hai. Woh hasad aur dushmani ki wajah se Fatima ki shadi, career aur zindagi ko tabah karne ki sazish karti hai.
Kya Haider Fatima ko talaq de deta hai?
Ji haan, Haider family pressure, jhoote saboot aur ghalat fehmiyon ki wajah se Fatima ko talaq ke papers bhej deta hai.
Kya Maat mental health based novel hai?
Ji haan, musalsal emotional abuse, divorce, badnami aur family cruelty ki wajah se Fatima ki zehni sehat shadeed mutasir hoti hai aur use hospital mein dakhil karwana padta hai.
Kya Fatima ke bachay us se juda kar diye jate hain?
Ji haan, hospital mein jarrwan beton ki paidaish ke baad us ke bachay us ki marzi ke baghair aik aur aurat ki god mein de diye jate hain.
Maat online kahan parh sakte hain?
Aap Novelistan par Maat complete Urdu novel online parh sakte hain.
Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕