Revenge Based Novels
Tu Rooh Hai Meri by Nisha Umar Novel20879
"مجھے سلطان درانی کی بیٹی علیزے درانی ونی میں چاہیے۔"
یہ ایک جملہ تھا، مگر اس نے پوری محفل کو سناٹے میں ڈبو دیا۔ اپنے بھائی کی جان بچانے کے لیے علیزے نے خاموشی سے اس شخص کے نام کا جوڑا پہن لیا جس سے وہ نفرت کرتی تھی۔ مگر وہ نہیں جانتی تھی کہ یہ نکاح صرف ایک رسم نہیں، بلکہ انتقام کی ایسی داستان کا آغاز ہے جہاں ہر دن اس کے صبر، خودداری اور محبت کا امتحان لیا جائے گا۔ دوسری طرف اصال حیدر خان سمجھتا تھا کہ وہ صرف بدلہ لے رہا ہے، لیکن اسے خبر نہ تھی کہ جس لڑکی کو وہ اپنی شکست سمجھتا ہے، وہی ایک دن اس کے دل پر حکومت کرنے والی ہے۔
Kashtiyan Jala Di Hain by Samra Bukhari Novel20868
فطینہ نے ہمیشہ دوسروں کو اپنے حق کے لیے کھڑے ہونے کا حوصلہ دیا، مگر ایک دن اسی کی قیمت اسے اپنی پوری زندگی سے چکانی پڑی۔ ایک لڑکی کی خودکشی کا الزام اس پر ڈال دیا گیا، اور محبت کے نام پر اس کے گرد انتقام کا ایسا جال بچھایا گیا جسے وہ پہچان نہ سکی۔
جس شخص کو اس نے اپنا شریکِ سفر سمجھا، اس نے محبت، نکاح اور آنے والے بچے کی خوشی تک کو اپنے بدلے کا ہتھیار بنا لیا۔ حقیقت سامنے آئی تو وہ حاملہ فطینہ کو تنہا چھوڑ کر چلا گیا، اور وہ اپنے بچے، خوابوں اور زندگی کے کئی قیمتی سال کھو بیٹھی۔
برسوں بعد وہی شخص اس کے سامنے ٹوٹا ہوا لوٹا۔ کیا فطینہ اس انسان کو معاف کر سکے گی جس نے اس کی پوری زندگی انتقام کی آگ میں جلا دی؟
Judai Hath Malti Hai Novel by Farhat Zafar Novel20865
وردہ نے بچپن ہی سے اپنے والد کے بغیر زندگی گزاری۔ اس کی دنیا صرف اپنی ماں تک محدود تھی، جبکہ اس کی خاموش محبت اپنے پھپھو زاد عفان گارویزی کے لیے وقت کے ساتھ ایک مضبوط رشتے میں بدل گئی۔
مگر عفان کے والد کی پرانی دشمنی نے دونوں کی محبت کو قبول نہ کیا۔ انہوں نے وردہ کے خاندان کا کاروبار ہتھیا لیا، اس کی کردار کشی کی اور حالات ایسے بنا دیے کہ وردہ اپنی ماں کے ساتھ پاکستان چھوڑنے پر مجبور ہو گئی۔
برسوں بعد جب وردہ واپس لوٹتی ہے تو پرانی دشمنیاں، ادھورے رشتے اور چھپے ہوئے راز ایک بار پھر سامنے آ کھڑے ہوتے ہیں۔ اب یہ واپسی صرف ماضی سے ملاقات نہیں، بلکہ محبت، انتقام اور قسمت کے ایک نئے امتحان کی شروعات بن جاتی ہے۔
Be Zuban Qurbani By MK Khan Novel20862
"وہ صرف کاغذ پر نہیں تھا، لالا... وہ میرے احساسوں میں تھا۔ کچھ لوگ صرف کہانیوں میں نہیں رہتے، دل میں بھی جگہ بنا لیتے ہیں۔" سروین کی یہ بات سن کر سنان بھی چند لمحوں کے لیے خاموش ہو گیا، مگر اگلے ہی لمحے اس نے ہنستے ہوئے کہا، "کل سے ناول پڑھنے سے پہلے وصیت لکھ دینا!" دونوں بہن بھائی کی یہی محبت اور ہلکی پھلکی نوک جھونک اس منظر کو یادگار بنا دیتی ہے۔
Chalo Kuch Diye Jalaye by Durre Saman Saleem Novel20846
آذان شاہ کے ساتھ نکاح عینا کی مرضی سے نہیں بلکہ حالات کی مجبوری بن چکا تھا۔ رخصتی کے وقت وہ اپنے والد جمال دین کی بے بسی، مامی کی خاموش آنکھوں اور اپنے بکھرتے خوابوں کو دل میں دفن کیے اس گھر سے روانہ ہوئی جہاں اس نے صرف محبت ہی مانگی تھی۔ آذان اسے اپنے گھر لے آیا، مگر عینا کے دل میں اس کے لیے صرف نفرت تھی۔ کمرے میں آذان نے نرمی سے بات کرنے کی کوشش کی تو عینا نے فوراً اس کا ہاتھ جھٹک دیا اور قریب رکھا کرسٹل کا گلدان اٹھا لیا۔
"خبردار! مجھے ہاتھ مت لگانا۔ اگر تم میرے قریب آئے تو میں کچھ کر بیٹھوں گی۔ تم نے مجھے زندہ رہتے مار دیا ہے آذان شاہ۔ تم سمجھتے ہو مجھے رسوا کر کے مجھے حاصل کر لیا؟ نہیں، تم مجھے پا کر بھی کبھی نہیں پا سکو گے۔ تم نے میری ہر خوشی چھین لی، اب تم بھی زندگی بھر خوشی کو ترسو گے۔ مجھے تم سے ہمیشہ نفرت تھی، ہے اور رہے گی۔"
آذان حیرت اور بے بسی سے اسے دیکھتا رہ گیا۔ وہ جانتا تھا کہ عینا کے دل میں اس کے لیے صرف غلط فہمیاں اور نفرت بھری ہوئی ہیں، مگر وہ یہ بھی جانتا تھا کہ ایک دن سچ ضرور سامنے آئے گا۔
Hum Haar Gaye By Fozia Akbar Sana Novel20845
شادی کی پہلی رات درِ نجف نے سوچا تھا کہ شاید اب اس کی مشکلات ختم ہو جائیں گی، مگر شہیم احمد نے اسے زندگی کا سب سے بڑا صدمہ دیا۔ اس نے صاف لفظوں میں کہہ دیا کہ یہ شادی صرف اس کی جان بچانے کے لیے کی گئی ہے، وہ اسے کبھی دل سے قبول نہیں کرے گا اور جیسے ہی حالات معمول پر آئیں گے وہ اس سے علیحدہ ہو جائے گا۔ درِ نجف خاموشی سے اس کی ہر تلخ بات سنتی رہی، مگر جب شہیم نے نفرت کی انتہا کرتے ہوئے اس کے چہرے پر جوتوں کی سیاہ پالش مل دی تو اس کی عزتِ نفس بری طرح مجروح ہو گئی۔ وہ پہلی بار ٹوٹنے کے بجائے اس کے سامنے کھڑی ہوئی اور احتجاج کیا، مگر جواب میں اسے بے رحمانہ تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔ یہی لمحہ اس کہانی کا سب سے دردناک موڑ بن جاتا ہے، جہاں ایک بے گناہ لڑکی کی آزمائش اور ایک سخت دل مرد کی نفرت اپنے عروج پر پہنچ جاتی ہے۔
Ho Na Phir Pagli Novel by Memona Khursheed Ali Novel20833
ہو نہ پھر پاگلی ماہم جاہ کی اس لرزا دینے والی رات کی داستان ہے جب نکاح کے چند گھنٹوں بعد ہی وہاج حسن اسے طلاق نامہ دکھا کر اس کے وجود، عزت اور مستقبل کو ایک لمحے میں بکھیر دیتا ہے۔ ماہم ابھی اس صدمے سے سنبھل بھی نہیں پاتی کہ وہاج تمام ثبوت جلا کر اسے ایک ایسے جال میں قید کر دیتا ہے جہاں اس کا سچ بھی جھوٹ اور اس کی فریاد بھی دیوانگی سمجھی جا سکتی ہے۔
اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے اس کے پاس نہ کوئی گواہ ہے، نہ ثبوت، جبکہ وہاج کی مثالی شہرت اور ماہم کے ماضی سے جڑی غلطیاں اس کے خلاف کھڑی ہیں۔ کیا ماہم اس ذہنی اور جذباتی قید سے نکل پائے گی؟ کیا وہاج کا انتقام کبھی ختم ہو گا، یا یہ رشتہ دونوں کو محبت سے پہلے تباہی کی آخری حد تک لے جائے گا؟
Zindagi Dhoop Tum Ghana Saya by Hina Malik Novel20829
زندگی دھوپ تم گھنا سایہ ماہا کی اس معصوم محبت کی کہانی ہے جہاں وہ اپنے استاد زعیم حسن کو اپنی زندگی کا واحد انتخاب سمجھ کر پہلی مرتبہ اپنی ماں کے سامنے کھڑی ہو جاتی ہے۔ اسے یقین ہے کہ زعیم اس کی محبت، تحفظ اور مستقبل ہے، مگر وہ اس حقیقت سے بے خبر ہے کہ اس رشتے کی بنیاد محبت سے زیادہ ماضی کے ایک انتقام پر رکھی گئی ہے۔
جب زعیم حسن رمنا درانی کے سامنے آتا ہے تو برسوں پرانا راز اور تلخ ماضی دونوں کے درمیان کھڑا ہو جاتا ہے۔ زعیم ماہا کو اتفاقاً نہیں ملا بلکہ وہ جانتا تھا کہ وہ اسی عورت کی بیٹی ہے جس نے کبھی اس کی محبت، عزت اور خودداری کو بے رحمی سے کچل دیا تھا۔ کیا ماہا اس انتقامی کھیل میں صرف ایک مہرہ بن کر رہ جائے گی، یا اس کی سچی محبت زعیم کے دل سے نفرت اور انتقام کا زہر نکال دے گی؟
Mohabbat To Samundar Hai by Najma Jabeen Novel20828
محبت تو سمندر ہے روشنہ جہانگیر اور اسجد کے درمیان ایک ایسے رشتے کی کہانی ہے جس کی بنیاد محبت کے بجائے جبر، خاندانی دشمنی اور انتقام پر رکھی گئی ہے۔ روشنہ اس نکاح کو دل سے قبول نہیں کرتی، جبکہ اسجد نکاح نامے کو اپنی ملکیت اور اختیار کا ثبوت سمجھتا ہے۔
روشنہ اپنی آزادی، عزت اور مرضی کے لیے اسجد کے سامنے ڈٹ جاتی ہے اور اسے صاف بتا دیتی ہے کہ طاقت کے زور پر اس کے وجود کو تو قید کیا جا سکتا ہے، مگر دل کو نہیں۔ مگر یہی بے خوفی، خودداری اور مضبوطی اسجد کے اندر وہ جذبات جگانے لگتی ہے جنہیں وہ خود بھی سمجھ نہیں پاتا۔
کیا اسجد اپنی انا اور انتقام سے نکل کر روشنہ کا اعتماد حاصل کر سکے گا؟ کیا روشنہ اس شخص کو معاف کر پائے گی جس نے اسے جبر کے رشتے میں باندھا؟ اور کیا نفرت کی گہرائیوں میں چھپی محبت کبھی سمندر بن کر دونوں کے دلوں کو ملا سکے گی؟
Lady Killer By Sam Asif Novel20818
"میں لیڈی کلر بن گئی ہوں... اب میں کسی کے سامنے صرف اس کی موت بن کر آتی ہوں۔"
جس باپ نے اسے بیچ دیا تھا، آج وہی اپنی جان کی بھیک مانگ رہا تھا، مگر پریزے کے دل میں صرف انتقام باقی تھا۔
برسوں کے زخموں کا حساب ایک ایک نشان سے لیا گیا، اور باپ کو اپنی ہر بےرحمی کی قیمت ادا کرنی پڑی۔