Dill Reza Reza By Saloni Novel20995

Romantic Drama | Secret Marriage | Office Romance | Second Marriage | Pregnancy | Rich Hero | Poor Heroine | Emotional Conflict | Family Drama

Short Description

Aaliya, a financially struggling young woman, gets a job at a prestigious company owned by Shahveer Khanzaada. What she does not know is that her new boss is already married—and his growing attraction toward her will lead to a secret marriage that changes both their lives. When an unexpected pregnancy enters the picture, love, loyalty, and family relationships are put to the ultimate test.

” شاہویر سر! یہ آفس ہے، کچھ تو خیال کریں! ” جیا گڑگڑائی تھی۔ ” اپنی منکوحہ سے دنیا کے کسی بھی کونے، کسی بھی جگہ میں اپنا حق وصول کر سکتا ہوں! ” وہ اس کی گہرائیوں میں اترتا مخمور ہوا! ” شاہویر سر، کوئی آجائے گا، کسی کو ہمارے نکاح کے بارے میں معلوم نہیں!” جیا بری طرح خوفزدہ تھی۔ کچھ مہینے پہلے وہ اپنی گھریلو مجبوریوں کی وجہ سے شاہویر خانزادہ کے آفس میں نوکری کرنے آئی تھی، لیکن اس کا چاند جیسا چہرہ اور حسن و دلکشی سے بھرپور سراپا شاہویر کو عاشق کر گیا! باوجود اس کے کہ وہ پہلے سے شادی شدہ تھا، اس نے جیا سے خفیہ نکاح کر لیا۔۔۔ وہ ہر جگہ اس پر اپنی بے تابیاں لٹاتا، پر جیا کے ہوش اڑ گئے جب وہ پریگننٹ ہوئی! ” کیا ضرورت ہے اپنا گھر خراب کرنے کی؟؟” شاہویر خانزادہ کی بات پر وہ ناراض ہوتی ہمیشہ کے لیے۔۔۔۔۔۔۔

وہ تیز دھوپ میں کھڑی اندر جانے کاانتظار کر رہی تھی، اس کی گوری رنگت جھلس رہی تھی اور چہرے کی سفیدی سرخی میں بدل گئی تھی۔ تقریباً آدھے گھنٹے بعد چوکیدار نے اسے اندر جانے کا کہا تو اس نے خدا کا شکر ادا کرتے قدم آگے بڑھائے تھے۔ پر جیسے ہی انٹرویو کے لیے آفس والے روم میں قدم رکھا تو تیز ٹھنڈی ہوا کے جھونکے نے اس کا استقبال کیا تھا، چہرے پر تازگی چھاگئی۔ انٹرویو لیتا شاہویر خانزادہ اس لڑکی کو دیکھ کر چونک گیا۔۔۔۔ انٹرویو لیتا شاہویر خانزادہ اس لڑکی کو دیکھ کر چونک کیا تھا، پرانے بوسیدہ کپڑے تھے لیکن حسن ایسے چھلک رہا تھا جیسے کسی گدڑی میں لعل چھپا ہو۔ وہ اسے دیکھتا کا دیکھتا رہ گیا۔ انٹرویو لینے والے دو لوگ اور بھی موجود تھے جو کے مینیجر اور ڈائریکٹر تھے، یہ بہت بڑی پوسٹ تھی۔ تنخواہ بھی اچھی خاصی تھی، اس لیے کئی امیدوار آس لگا کر یہاں انٹرویو دینے آئے تھے، ان میں جیا احمد بھی شامل تھی۔ جیا گھبراتی ہوئی ان کے سامنے بیٹھ گئی۔۔۔۔

لیکن زیادہ گھبراہٹ اسے شاہویر کی نظروں سے ہو رہی تھی جو مسلسل اسے دیکھے جا رہا تھا، وہ دل میں سوچنے لگی کہ ” یہ تو بہت ہی چھچھورا ٹائپ انسان ہے، نظریں ہٹانے کا نام ہی نہیں لے رہا۔” وہ اچھی طرح اپنے حسن کی دلکشی سے واقف تھی، یہ خوبصورتی اسے اپنی امی سے ورثے میں ملی تھی۔ غریب گھرانوں میں بھلا کہاں خوبصورتی کی قدر ہوتی ہے، تبھی تو وہ سڑکوں پر دھکے کھاتی خوار پھر رہی تھی۔ وہ کسی بھی میک اپ سے بے نیاز تھی، اسے در حقیقت کسی میک اپ کی ضرورت بھی نہیں تھی۔۔۔ اب سامنے بیٹھے دونوں شخص اس سے سوال جواب کر رہے تھے، تبھی مینجر کہنے لگا: ” دیکھیں محترمہ ! لگتا ہے کہ آپ اخبار میں اشتہار دیکھ کر نوکری کا انٹرویو دینے چلی آئی ہیں، لیکن آپ نے یہ پڑھنے کی زحمت نہیں کی کہ اس جاب کے لیے ماسٹرز ڈگری ہولڈر کی ضرورت ہے، گریجویشن نہیں، آپ کی اس معمولی سی تعلیم پر ہم اتنی بڑی پوسٹ آپ کو نہیں دے سکتے۔۔۔”

مینیجر کی بات سن کر تو جیا کے چہرے پر مایوسی چھا گئی۔۔۔ تبھی وہ کپکپاتے لہجے میں کہنے لگی ” اوہ۔ آئی ایم سوری سر دراصل مجھے نوکری کی بہت سخت ضرورت تھی اسی لیے میں اپنی قسمت آزمانے چلی آئی۔۔۔” ایک دم ہی اس کی آنکھوں میں نمی بھر آئی تھی، تبھی وہ اپنی فائل سمیٹتی ہوئی اٹھنے لگی، لیکن اچانک شاہویر خانزادہ نے ہاتھ اٹھا کر مینیجر اور ڈائریکٹر کی طرف دیکھا تھا ” اگر انہیں اس نوکری کی ضرورت ہے تو انہیں ہی اپاسٹ کر لیں۔۔۔” شاہویر خانزادہ اس کمپنی کا باس تھا اور باس کے سامنے بولنے کی نہ مینیجر کی ہمت تھی اور نہ ہی ڈائریکٹر کی، اس لیے انہوں نے خاموشی اختیار کی اور پھر مینیجر مسکراتے ہوئے کہنے لگا۔۔”مبارک ہو مس جیا احمد! آپ کو یہ نوکری مل گئی ہے۔ انہوں نے اسے اسی وقت خوشخبری سنا دی تھی۔۔۔”حج۔ جی۔۔۔ سر! مم۔۔۔ میں سمجھی نہیں! ” خوشی کے مارے اس سے بولا بھی نہیں جا رہا تھا، تبھی مینیجر مسکراتے ہوئے کہنے لگا ” دراصل یہ ہمارے اونر ہیں، اس کمپنی کے مالک، انہوں نے آپ کو سلیکٹ کر لیا ہے اس جاب کے لیے۔۔۔۔”

جیا کو تو یقین ہی نہیں آرہا تھا، لیکن ایک بات تھی کہ اس کا اپنا دل دھڑک رہا تھا، مسلسل شاہویر خانزادہ کی نگاہیں وہ اپنے وجود پر محسوس کر رہی تھی۔ شاید وہ اس میں دلچسپی لے رہا تھا یا کوئی اور بات تھی۔۔۔ اسے سمجھ نہیں آئی لیکن اتنا یقین ہو گیا تھا کہ شاہویر خانزادہ نے کسی خاص مقصد کے لیے اسے یہاں جاب دی ہے۔ ” تھینک یو سر! تھینک یو سو مچھ! “وہ اس کی ممنون تھی شاہویر خانزادہ نے دلچسپ مسکراہٹ سے اثبات میں سر ہلا تھا۔ یہ لڑکی اس کے دل کی دھڑکنوں کے تار چھیڑ گئی تھی، ” بہت جلد تم سے دوبارہ ملاقات ہوگی بیوٹی فل گرل” وہ دل ہی دل میں کہتا فائل پر جھک گیا تھا۔ ” شاہویر بیٹا! بہت لیٹ آنے لگے ہو۔۔۔۔” اس نے اماں جان کو اپنے انتظار میں جاگتا دیکھا تو پریشان ہو گیا۔۔۔ یعنی آج بھی اسکی بیوی گھر سے باہر تھی۔۔۔

 

نیچے دیے گئے 4 ڈاؤنلوڈ لنکس میں سے 3 لنکس پر اشتہار آ سکتا ہے، جبکہ 1 لنک اصل ڈاؤن لوڈ لنک ہے۔

ہماری درخواست ہے کہ کسی بھی لنک کو بند کیے بغیر تھوڑا صبر سے استعمال کریں۔

آپ کی یہی چھوٹی سی سپورٹ ہمیں مزید ناول آپ تک پہنچانے میں مدد دیتی ہے

1st Link

Download link

2nd Link

Download Link

3rd Link

Download Link

4th Link

Download Link

Summary

Jiya Ahmed comes from a humble background and desperately needs a job to support herself and her family. Despite lacking the required qualifications, she is unexpectedly selected by Shahveer Khanzaada, the powerful owner of the company, who is immediately captivated by her beauty and innocence.

As Jiya begins working at the company, Shahveer’s interest in her grows stronger. Despite already being married, he secretly marries Jiya, keeping their relationship hidden from everyone. Jiya finds herself caught between her feelings for Shahveer and the guilt of becoming part of a complicated marriage.

Their secret relationship takes an unexpected turn when Jiya discovers that she is pregnant. Shahveer is then forced to confront the consequences of his choices, while Jiya must decide whether to protect her love or

Support Novelistan ❤️

Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.

EasyPaisa / JazzCash

0309 1256788

Account name: Safia Bano

Bank Transfer (UBL)

United Bank Limited

Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131

Name: Sadia Hassan

IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131

Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕

Share this Novel

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *