Junon E Raqasam By Anushy Ahmed Novel21005

Romantic Drama | Enemies to Lovers | Forced Marriage | Revenge | Hate to Love | Possessive Hero | Family Feud | Emotional Romance

Description

A dark and intense romantic drama built around love, revenge, family rivalry, and a complicated marital relationship. The story follows two people caught between deep resentment and unresolved feelings, where painful memories and family conflicts make their relationship even more complicated.

تم بہت خوبصورت ہو مگر ہو تو دشمن۔۔ دشمن کو گھر میں پناہ دی ہے اس کا مطلب یہ نہیں تم اپنے زلیل خاندان کی یادیں اٹھا کر میرے گھر میں لے آؤ عترت شاہ میر ” حداد پل میں سارا خمار بھولائے عترت کے چہرے پر دبی آواز میں غرایا عترت کی سانس تو پہلے ہی اس باڈی بلڈر کی باہوں میں نیم تھیں اور اس کی غراہٹ پر عترت نے پھٹی پھٹی آنکھوں سے حداد کو دیکھتے بچی ہوئی سانسیں بھی روکیں سے دو اپنے خاندان کی بے عربی پر عترت کی آنکھوں آنسو گالوں پر بہے۔
یہ آنسو بچا کر رکھو ابھی تو صرف تذلیل کی ہے تمہارے ذلیل خاندان کی بہت جلد تمہارے خاندان کے ہر فرد کے چہرے سے مسکراہٹ چھین لو گا جس طرح تم لوگوں نے پانچ سالوں سے ہمیں مسکرانے نہیں دیا میں تم لوگوں پر خوشیاں حرام کر دو گا اور وہ تمہارا حرام خور ثوبان بھائی۔۔۔ “حداد اب کی دفعہ بے حد غصے سے عترت کے بالوں کو گدی سے جکڑتے ہوئے دھاڑا عترت کو اپنی ٹانگوں پر کھڑا رہنا مشکل لگا عترت کب کی زمین بوس ہو

جاتی اگر حداد کا ایک بازوں اس کے پورے وجود کو تھامے ہوئے نا ہوتا عترت کے ہونٹ کپکپائے وہ نا اپنے خاندان کی تزلیل برداشت کر سکتی تھی اور نا ہی اس شخص کا غصہ اس لیے اب اپنی پوری قوت سے حداد کے سینے پر دھکا دیتی مزاحمت کرتی لمبی سانس کھینچ گئی حداد اس کی مزاحمت ہاتھوں سے ھورے پر اپنے گیا۔ الفاظ ادھورے چھوڑ
“میرا خاندان نا ذلیل ہے نا میرا بھائی حرام۔۔ آپ کو شرم۔۔ نہیں آتی گالی نا دیتے ہوئے۔۔ دور بیٹے مجھ سے ” عترت لمبی لمبی سانس کھینچتی سرخ ناک کے ساتھ حداد پر اپنی باریک آواز سے غرائی حداد نے اپنی بیوی کی اتنے سالوں بعد آواز سنتے وہ بھی اپنے دشمنوں کے حق میں ، حداد غصے سے مزید پاگل ہو تا عترت کا جبڑہ دبوچ گیا۔
” دوبارہ مجھ پر غرانے کی کو کوشش کی تو ابھی بس ٹریلر ہی دیکھایا ہے فلم دیکھانے میں مجھے کوئی قباحت نہیں ہو گی ” حداد نے عترت کو وارننگ دی، عترت کو سیدھا کرتے حداد نے پیچھے کی جانب قدم لیے اور داؤد خاندان کے

چمکتے فریم کو بنا موڑے انگلیوں سے تھامتے اسے بائیں جانب دیوار پر اتنی نرمی سے پہنکا کہ عترت کو محسوس ہوا جیسے وہ گلاب پھینک رہا ہے مگر اس نرمی میں بھی اتنی شدت تھی کہ وہ فریم دیوار سے ٹکرایا دیوار سے ٹکرانے کی وجہ سے فریم سے تصویر نکل کر عترت کے پیروں سے کچھ آگے آن گری اور فریم کا شیشہ کرچی کرچی ہوتا موتیوں کی طرح زمین پر بکھر گیا ، عترت نے تکلیف کی انتہا محسوس کرتے حداد کو آنسو بہاتی نظروں سے دیکھا عترت نے لیک کر تصویر اٹھانی چاہیے حداد نے عترت کی کلائی تھامے اسے روکا اور اس کوشش میں وہ تصویر حداد کے بوٹوں کی زینت بن چکی تھی عترت کی نظر اب بھی اس تصویر پر محسوس کرتے حداد کو اپنے جسم میں انگارے پھوٹتے محسوس
از پر سہمی ہوئی
ہوئے۔
” لوک ایٹمی ” حداد دھاڑ دھاڑا عترت نے حداد کی گرجدار آواز پر آنکھوں سے حداد کو دیکھا۔

” تم صرف اس چیز کو چھوو گی جسے میں چھونے کا کہو گا۔۔ سمجھی عترت شاہ میر ” حداد عترت کی سہمی ہوئی ہیرنی جیسی نگاہیں دیکھتا مسکراہٹ سجائے گویا ہوا عترت جو سہمی ہوئی نگاہوں سے حداد کو دیکھ رہی تھی اس کی مسکراہٹ دیکھتی جیسے مخمور ہوئی وہ پانچ سال تک اس ظالم انسان کی جدائی میں بیواؤں کی طرحزندگی گزار کر لوٹی تھی ان پانچ سالوں میں ایک بار بھی اس نے داؤد خاندان واپس لوٹنے کا نہیں سوچا تھا نا ہی وہاں کے کسی فرد سے رابطہ کیا تھا صرف اس ظالم شخص کے لیے جس نے آج اسے ایک نہیں کئی دفعہ عترت حداد کفیر کے بجائے عترت شاہ میر کہ کر بلایا تھا ۔ نے جیسے اسے یک دم گھیر لیا۔ کے اعصاب تنے دکھ غصہ بے بی

کس حق سے حق جتا رہے ہیں مجھ پر ؟؟ عترت شاہ میر سے کیا تعلق رکھتے ہیں آپ ؟؟ ” عترت ہزیانی انداز میں بولی حداد کی مسکراہٹ پل میں سمٹی۔
” میں تمہارا کیا لگتا ہوں یہ میں تمہارے وجود پر خود کو ثبت کرتے اچھے سے باور کروا سکتا ہوں میرے سامنے زبان چلانے کی ضرورت نہیں ” حداد نے عترت کے بالوں کو مٹھی میں جکڑتے گرجدار آواز میں کہا۔
کس حق سے ؟؟ ہاں کس حق سے کون ہیں آپ میرے ؟؟” عترت سر میں اٹھتی ٹھیسے اگنور کرتی بے بسی سے بولی شاید یہ ستم گر اب اس کے نام سے خود کا نام جوڑ دے جسے سننے کے لیے عترت بے چین ہو رہی تھی۔
میں وہ ہوں جو تمہاری کوکھ میں اپنے خون کو پلنے پر مجبور کر سکتا ہوں
۔۔ میں وہ ہوں جو تمہارے خوبصورت جسم پر اپنے شدتوں کے نشان چھوڑ سکتا ہوں۔۔ میں وہ ہوں جو تمہیں ابھی بوکھلانے پر مجبور کر سکتا ہوں ” حداد
عترت کے الفاظ پر سیخ پا ہوتا بولا وہ سمجھ رہا تھا وہ کیا سننا چاہتی ہے۔

……………………….

نیچے دیے گئے 4 ڈاؤنلوڈ لنکس میں سے 3 لنکس پر اشتہار آ سکتا ہے، جبکہ 1 لنک اصل ڈاؤن لوڈ لنک ہے۔

ہماری درخواست ہے کہ کسی بھی لنک کو بند کیے بغیر تھوڑا صبر سے استعمال کریں۔

آپ کی یہی چھوٹی سی سپورٹ ہمیں مزید ناول آپ تک پہنچانے میں مدد دیتی ہے

1st Link

Download link

2nd Link

Download Link

3rd Link

Download Link

4th Link

Download Link

Summary

Junoon E Raqasam follows Atrat and Hadad, whose relationship is deeply affected by a bitter family feud and years of separation. Hadad carries intense anger and resentment toward Atrat’s family, while Atrat struggles to defend her family and cope with the harsh treatment she receives from him. After five years apart, their reunion brings old emotions, anger, possessiveness, and unresolved love back to the surface. As revenge and family conflicts continue to stand between them, both must confront the complicated bond that still connects them. The story combines intense romance, emotional confrontations, family rivalry, revenge, and the difficult journey from hatred toward love.

Support Novelistan ❤️

Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.

EasyPaisa / JazzCash

0309 1256788

Account name: Safia Bano

Bank Transfer (UBL)

United Bank Limited

Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131

Name: Sadia Hassan

IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131

Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕

Share this Novel

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *