Hamain Mar Gai Teri Berukhi By Hamda Novel21009
Romantic Drama | Emotional Fiction | Second Marriage | Family Drama | Heartbreak | Husband-Wife Conflict | Forced Marriage | Self-Respect | Revenge & Redemption
Description
Hamain Mar Gai Teri Berukhi by Hamda is an intense emotional story about love, betrayal, family pressure, and the pain of being rejected by the person you love the most. Sonia’s happy married life takes a heartbreaking turn when her husband Kashan decides to marry again because of the family’s desire for an heir. Her world shatters as she faces humiliation, loneliness, and the bitter reality of a love that could not survive society’s expectations. The story follows Sonia’s emotional journey through heartbreak, motherhood, struggle, and self-respect.

” کاشان آپ کتنے بدل گئے ہیں۔ کمرے میں آتے ہی سو جاتے ہیں۔ پہلے تو پوری رات مجھے سونے نہیں دیتے تھے۔۔۔۔” سونیا کی آنکھوں کی سرخی بتارہی تھی وہ بے تحاشہ روئی ہے۔ ” میں نے دوسرا نکاح کر لیا ہے سونی۔ تم جانتی ہو حویلی میں سب کو وارث چاہئے اور تم بانجھ ہو۔” اسکے الفاظ تیر کی طرح سونیا کے دل کو لگے۔”ٹھیک ہے کاشان۔۔ آج کے بعد آپ میری شکل نہیں دیکھیں گے۔” اگلی رات سونیا نے خاموشی سے حویلی چھوڑ دی مگر جلد ہی اسے معلوم ہوا کہ وہ پریگننٹ ہے تو اس نے ایک کلینک میں صفائی کی نوکری شروع کر دی۔ اسکی ڈلیوری وہیں ہوئی۔ “سونیا بیٹی۔۔ تم اکیلی اس بچے کو کیسے پالو گی؟ میرے پاس ایک بے اولاد امیر زادہ ہے، حلالی بچے کے عوض پچاس لاکھ دینے کو تیار ہے۔۔”
گاڑی کہ ہارن کی آواز آئی تو وہ لپسٹک ڈریسنگ ٹیبل پر رکھ کر جلدی سے دروازے تک آئی۔۔ یہ کاشان کی گاڑی کا ہارن تھا اسے پتہ تھا گاڑی گیراج میں کھڑی کرتے ہی وہ سیدھا اوپر کمرے میں آئے گا سونیا کہ لبوں پر بڑی شرمیلی سے مسکراہٹ بکھر گئی دروازے کے پاس جھجکتے ہوئے کھڑے ہوکر اس نے ایک نظر اپنے آپ کو دیکھا آج اس نے برسوں بعد اپنے آپ کو کاشان کے لیے کسی دلہن کی طرح تیار کیا تھا پچھلی کئی راتوں سے وہ محسوس کر رہی تھی وہ دیر سے گھر آتا تھا اور اکثر تو آتا بھی نہ تھا جتنا فاصلہ اس کے اور کاشان کے رشتے میں آگیا تھا۔۔۔۔۔۔
سونیا کو اس فاصلے کو ختم کرنا ہی تھا کیونکہ کاشان صرف اس کا شوہر نہیں تھا اس شخص سے سونیا نے ٹوٹ کر محبت کی تھی سیڑھیوں پر قدموں کی چاپ سنائی دی تو سونیا جلدی سے دروازہ کھول کر باہر نکل آئی اس نے سرخ رنگ کا خوبصورت کام والا ڈریس پہن رکھا تھا لمبے براؤن رنگ میں خوبصورتی سے ڈائی کیے گئے بال اس نے کرلز ڈال کر پشت پر کھلے چھوڑ رکھے تھے نفیس سا میک اپ کیے دونوں کلائیوں میں کانچ کی سرخ چوڑیاں پہنے وہ لب کچلتی کاشان کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
آج وہ جلدی واپس آگیا تھا ایک ایک قدم سیڑھی پر چڑھتے وہ اوپر اسی کی طرف آرہا تھا سونیا کا دل زور سے دھڑکا۔ کاشان نے وہ کپڑے نہیں پہن رکھے تھے جو صبح آفس جاتے وقت وہ پہن کر گیا تھا بلکہ وہ وائٹ کلر کے کرتا شلوار میں نک سک سے تیار بہت ہینڈ سم لگ رہا تھا ۔سونیا بے قابو ہوتی دھڑکنوں کے ساتھ سیڑھیوں کے پاس کھڑی اسے دیکھتی رہی۔ ” اوپر کہاں جا رہے ہو کاشان میری بات سنو فورا۔۔ ” آئینہ بیگم کی کرخت آواز پر جہاں کاشان کے قدم رکے وہیں سونیا بھی گھبرا کر تیر کی طرح پلٹی تھی۔۔۔۔
ایک لمحے کی تاخیر کیے بغیر اس نے اپنے کمرے کا دروازہ کھولا اور چھپاک سے اندر چلی گئی اس کا دل یکبارگی تیزی سے دھڑک اٹھا تھا ہاتھ پیروں میں لرزش اتر آئی تھی آئینہ بیگم کی آواز اسے یوں ہی خوف میں مبتلا کر دیتی تھی اماں تو اس وقت دوائی کھا کے جاتی ہیں وہ اس وقت جاگ کیوں رہی ہیں؟؟؟ سونیا نے بے بسی سے لب کچلے گھڑی میں رات کے ساڑھے گیارہ بج رہے تھے کاشان اوپر نہیں آیا تھا وہ سیڑھیوں سے ہی پلٹ گیا سونیا کے دل کی حالت غیر ہونے لگی کیا کہیں گی اماں اسے؟؟؟ پھر سے وہی ساری باتیں بچہ نہیں ہو رہا۔۔۔۔
” حویلی میں سب کو وارث چاہیے کاشان اس گھر کا اکلوتا بیٹا ہے اور میں۔ میں بانجھ ہوں دو آنسو سونیا کی آنکھ سے نکل کر گال ڈبو گئے جنہیں اس نے بےدردی سے رگڑدیا اور اٹھ کر شیشے کے سامنے جا کھڑی ہوئی اس کا چمکتا دمکتا حسن ویسا ہی تھا جیسا آج سے تین برس پہلے کاشان سے نکاح کے وقت تھا یک لخت دروازہ کھلا لاک گھومنے کی آواز آئی تو سونیا کے چہرے پر سرخی بکھرگئی کاشان آخر کار کمرے میں آہی گیا تھا وہ تیزی سے دروازے کے نزدیک آئی مگر اندر داخل ہونے والا کاشان نہیں بلکہ آئینہ بیگم تھی۔۔۔
خلاف توقع وہ مسکرا رہی تھیں ” یہاں کیوں کھڑی ہو سونیا تمہیں تو اس وقت نیچے آنا چاہیے گھر کی بڑی بہو ہونے کے ناطے استقبال کرنے والوں میں تم بھی تو شامل ہو۔۔۔ ” آئینہ بیگم نے اسے مخاطب کیا سونیا نے حیرت سے انہیں دیکھا۔ “کیسا استقبال اماں جان؟؟؟میں تو اپنے سارے کام ختم کر کے ہی کمرے میں آئی ہوں کیا کچھ رہ گیا؟؟؟ ” اس نے ڈرتے ڈرتے پوچھا آئینہ بیگم کے لبوں پر بڑی بھرپور مسکراہٹ پھیلی۔۔ ” ہاں رہ گیا ہے نا ایک بہت اہم کام تمہیں بہت پہلے کر لینا چاہیے تھا پر تم نے نہیں کیا چلو آؤ میں تمہیں کسی سے ملواتی ہوں۔۔۔ ” انہوں نے آگے بڑھ کے سونیا کا بازو تھام لیا وہ شش و پنج میں رہ گئی۔۔۔۔
آئینہ بیگم دن دہاڑے اس کی بے عزتی کرنے سے نہیں گھبراتی تھی تو اب رات کے اس پہر کیا کرنے لگی تھی؟؟؟ آئینہ بیگم اسے ساتھ لیے سیڑھیاں اتر کے نیچے چلی آئی سونیا نے بے بسی سے دائیں بائیں دیکھا کاشان کہیں دکھائی نہیں دے رہا تھا آئینہ بیگم اسے ساتھ لیے اپنے کمرے کے برابر والے کمرے میں رکی۔ ” دروازہ کھولو اندر جاؤ۔۔۔” انہوں نے گویا سونیا کو چیلنج کیا وہ سمجھی نہ سمجھی کہ عالم میں دروازه کھول کر اندر داخل ہوئی مگر جیسے کسی نے اس کے قدموں تلے سے زمین کھینچ لی ہو وہ کاشان تھا اس کا شوہر کاشان لیکن اس وقت وہ اکیلا نہیں تھا کمرے میں بیڈ پر وہ کسی کے ساتھ بیٹھا تھا سونیا نے بے اختیار اپنا سر جھٹکا جو کچھ وہ دیکھ رہی تھی کہیں خواب تو نہیں تھا مگر وہ حقیقت تھی؟؟؟
کا شان ملک کے ساتھ بیڈ پر کوئی لڑکی بیٹھی تھی سرخ رنگ کا لہنگا پہنے نئی نویلی دلہن والی مسکراہٹ چہرے پہ سجائے وہ دلہن ہی تو تھی سونیا نے گھبرا کر چوکھٹ کو تھاما۔۔ ” یہ یہ سب کیا ہے کون ہے یہ لڑکی آپ یہاں کیوں بیٹھے ہیں اس کے ساتھ کاشان؟؟؟ ” اس نے خوف سے لرزتے ہوئے سوال کیا تھا کاشان نے گہری سانس لی بیڈ کے اطراف میں لگی خوبصورت پھولوں کی لڑیوں کو ہٹاتا ہوا وہ بیڈ سے نیچے اترا۔۔۔ ” دیکھو سونیا پینک مت کرو مجھے تمہیں پہلے بتا دینا چاہیے تھا لیکن تمہارا دل ٹوٹ جاتا میں نے نکاح کر لیا ہے۔۔۔ ” سونیا کو لگا اس کے کانوں میں کسی نے پگھلا ہوا سیسا انڈیل دیا ہے وہ بے اختیار لڑکھڑائی کاشان گھبرا کر اس تک آیا تھا۔۔۔۔
” سونیا کیا ہو گیا ہے تمہیں خود کو سنبھالو یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ میں خود بھی مجبور ہوں اماں کو وارث چاہیے اور تم ۔۔” اس نے اپنا جملہ ادھورا چھوڑ دیا سونیا نے آنسوؤں سے لبریز آنکھیں اٹھا کر اسے دیکھا۔۔ ” میں کیا بانجھ ہوں؟؟ پچھلے تین سالوں میں آپ کو اولاد نہیں دے سکی اسی لیے آج آپ نے میری جگہ کسی اور کو دے دی۔۔۔۔” آنسو لگاتار سونیا کی آنکھوں سے بہنے لگ اسے یقین نہ آیا سامنے کھڑا شخص وہی ہے جس سے وہ ٹوٹ کر محبت کرتی تھی اور جس نے اسے ہمیشہ خوش رکھنے کے دعوے کیے تھے۔۔۔۔۔
” اچھا اب بس بھی کرو میرے بیٹے کی آج خوشیوں بھری رات ہے اپنے دل کو بڑا کرو جب تم اسے اولاد نہیں دے سکی تو میں نے اس کا دوسرا نکاح کروا دیا اپنی بھانجی کے ساتھ یوں بھی مرد کو چار شادیوں کی اجازت ہے تم کون ہوتی ہو اسلام کو غلط ثابت کرنے والی؟؟، ” آئینہ بیگم نے ایک دفعہ پھر جھپٹ سے اس کا بازو تھاما سونیا نے لب کچل کر اپنے سسکی کو روکا آئینہ بیگم نے اسے واپس کمرے سے نکالا اور سیڑھیوں سے ہوتی ہوئی اس کے کمرے میں لے آئیں۔۔۔
” تم ارام کرو اب نیچے مت جانا آج کی رات ان دونوں کو ڈسٹرب مت کرو یہ ان دونوں کی شادی کی پہلی رات ہے۔۔۔۔ تمہیں جتنا بھی غم منانا ہے یہاں بیٹھ کر مناتی رہو کیوں کہ تمہیں سوگ منانے کے علاوہ آتا ہی کیا ہے؟؟ ” آئینہ بیگم کے لہجے میں تنز اور حقارت تھی سونیا نے بے بسی سے اپنی پلکیں میچ لی اس کی ساس اس سے نفرت کرتی تھی کیونکہ ملک کاشان نے سونیا سے تین برس پہلے اپنی مرضی سے شادی کی تھی محبت کی شادی سونیا نے ایک سسکی لی۔۔۔ یہ کیسی محبت تھی جو صرف اولاد نہ ہونے کی وجہ سے ختم ہوگئی اس کی ٹانگیں شل ہونے لگی تقریبا دس منٹ گزرے تھے جب کمرے کا لاک آہستگی سے گھوما اور ملک کاشان کمرے میں داخل ہوا۔۔۔۔۔
نیچے دیے گئے 4 ڈاؤنلوڈ لنکس میں سے 3 لنکس پر اشتہار آ سکتا ہے، جبکہ 1 لنک اصل ڈاؤن لوڈ لنک ہے۔
ہماری درخواست ہے کہ کسی بھی لنک کو بند کیے بغیر تھوڑا صبر سے استعمال کریں۔
آپ کی یہی چھوٹی سی سپورٹ ہمیں مزید ناول آپ تک پہنچانے میں مدد دیتی ہے
1st Link
2nd Link
3rd Link
4th Link
Summary
Sonia deeply loves her husband Kashan and believes their relationship is built on true love. After three years of marriage without children, however, family pressure begins to destroy their relationship. Kashan secretly marries another woman, leaving Sonia devastated and humiliated. Soon after leaving the haveli, Sonia discovers that she is pregnant and begins working at a clinic to support herself. Her life takes another difficult turn when circumstances force her to make painful decisions about her child. The story explores Sonia’s struggle to rebuild her life after betrayal and the consequences of Kashan’s choices, while revealing whether love, regret, and fate can ever bring them back together.
Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain,
to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕
Views: 334