Aroos-e-Naashenaas Novel21049 — Novelistan
Aroos-e-Naashenaas Novel21049 — Novelistan
By Novelistan
شادی کے دن ایہام ملک کی دنیا اس وقت بکھر گئی جب اس کے منگیتر عامر فیروز نے اس سے محبت کا انکار کرتے ہوئے اس کی چچازاد بہن بسمہ کا انتخاب کر لیا۔ ایہام کے لیے یہ دھوکا صرف دل ٹوٹنے کا سبب نہیں تھا بلکہ اس کی کروڑوں کی جائیداد بھی خطرے میں پڑ چکی تھی۔ والد کی وصیت کے مطابق اسے اپنی بیسویں سالگرہ پر شادی کرنا ضروری تھا اور اب اس کے پاس صرف ایک گھنٹہ باقی تھا۔ اسی دوران ایک زخمی نوجوان ویٹر بینکوئٹ میں داخل ہوا۔ ایہام نے بے بسی سے اس سے شادی کی درخواست کی اور بدلے میں دولت اور گھر دینے کی پیشکش کر دی۔ مگر وہ نہیں جانتی تھی کہ جسے وہ معمولی ویٹر سمجھ رہی ہے، وہ ایک ایسا خطرناک مافیا باس ہے جس کی اصل شناخت آج تک خفیہ اداروں کے لیے معمہ بنی ہوئی ہے۔ آخر یہ پراسرار اجنبی اس کی درخواست پر کیا فیصلہ کرے گا؟
Sneak
" پلیز میری ہیلپ کرو مجھ سے شادی کر لو۔ " ابھی وہ اس دلہن کو دیکھ ہی رہا تھا کہ اس کے قریب آ کر کہنے پر وہ چونک گیا۔ گن پر اس کی گرفت ڈھیلی پڑی۔ " یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں میں ایک ویٹر ہوں میم۔" مقابل نے کہا۔ " مجھے اس سب سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ تم کون ہو۔ مجھ سے شادی کر لو اس کے بدلے تمہیں جو چاہیے میں تمہیں دوں گی۔ پیسہ، گھر، جو تم کہو گے ۔ آج اگر میری شادی نہیں ہوئی تو میں اپنا سب کچھ کھو دوں گی۔ " وہ التجاء کرنے لگی جس پر مقابل گہری نظروں سے اس معصوم سی لڑکی کو دیکھے گیا۔ وہ معصوم جانتی ہی نہیں تھی کہ جسے وہ معمولی سا ویٹر سمجھ کر شادی کے لیے پیسے آفر کر رہی ہے وہ ملک کا انتہائی ظالم اور خطرناک ترین مافیا باس تھا۔ جسے پورے ملک کی آرمی اور مختلف ایجنسیاں آج تک ڈھونڈنے میں ناکام ٹھہری تھیں۔۔۔ "یہ تم کیا کہہ رہے ہو تم میرے ساتھ ایسا کیسے کر سکتے ہو آج ہماری شادی ہے تم نے کہا تھا تم ہمیشہ میرا ساتھ دو گے پھر مجھے ایسے وقت میں اکیلا کیسے چھوڑ سکتے ہو تم تو محبت کرتے ہو نا مجھ سے" ایہام نے روہانسے انداز میں کہا جس پر مقابل استہزاءیہ انداز میں قہقہہ لگا اٹھا۔ "محبت اور وہ بھی تم سے۔۔۔۔۔۔میں تمہارے ساتھ صرف تمہارے پیسے کی وجہ سے تھا تم کبھی میری محبت نہیں تھی تم سے شادی کرنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا " عامر فیروز کے الفاظ اس حسین ترین دلہن کا دل ریزہ ریزہ کر گئے تھے۔ " ٹھیک ہے میں نے مان لیا تم محبت نہیں کرتے مجھ سے میرے پیسوں کے لیے میرے ساتھ تھے تو انہی پیسوں کی خاطر مجھ سے شادی کر لو پلیز مجھے چھوڑ کر مت جاؤ تم جانتے ہو یہ شادی میرے لیے کتنی ضروری ہے میں برباد ہو جاؤ گی تم بے شک شوہر ہونے کا کوئی حق ادا مت کرنا میں کبھی تمہیں پابند نہیں کروں گی۔۔۔۔۔میں تمہیں وہ سب دوں گی جو تم چاہتے ہو تمہیں جتنا پیسہ چاہیے میں تمہیں دوں گی لیکن پلیز مجھ سے شادی کر لو " دلہن بنی ایہام ملک اپنے آنسوؤں پر قابو پاتی بے بسی سے التجاء کرنے لگی۔ جس پر مقابل کھڑا نوجوان مغرور انداز میں ہنسا تھا۔ " سوری بے بی لیکن اب مجھے تمہاری مزید ضرورت نہیں رہی میرے پاس تم سے کہیں زیادہ خوبصورت اور امیر لڑکی موجود ہے اس لیے تم سے شادی کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا " اس شخص کی گھٹیا بات پر وہ بے یقینی سے اسے لگی۔ تبھی انتہائی بولڈ میکسی زیب تن کیے ایہام کی کزن بسمہ ملک پورے حق کے ساتھ اس کے دولہے کے پہلو میں آ کر کھڑی ہوتی عامر کا بازو تھام گئی۔ ایہام بے یقینی سے اپنی چچازاد کزن کو اپنے دولہے کے پہلو میں کھڑا دیکھ رہی تھی۔ " ہیلو کزن آج تمہاری شادی تھی تو سوچا آج ہی تمہیں یہ سرپرائز دینا چاہیے تو کیسا لگا تمہیں میرا سرپرائز۔۔۔۔۔ تم نے سوچ بھی کیسے لیا عامر فیروز جیسا ہینڈسم لڑکا تم جیسی بورنگ لڑکی میں انٹرسٹڈ ہو سکتا ہے، وہ بس تمہیں استعمال کر رہا تھا اور تم اتنی بے وقوف ہو کہ اتنے سالوں تک اس کی جھوٹی محبت پر یقین کرتی رہی، میں نے اپنی زندگی میں تم جیسی بیوقوف لڑکی آج تک نہیں دیکھی" وہ استہزاءیہ انداز میں اس کا مذاق اڑاتے ہوئے ہنسنے لگی۔ "تم دونوں۔۔۔۔۔۔ کب سے " وہ ٹوٹے پھوٹے انداز میں بمشکل بول پائی وہ جاننا چاہتی تھی کہ جس شخص کو ٹوٹ کر چاہا وہ آخر کب سے اسے دھوکا دے رہا تھا ۔ "تمہارے گھر میں جب میں پہلی بار بسمہ سے ملا تب ہی وہ مجھے پسند آ گئی تمہارے ساتھ تو محبت کا ناٹک بس تمہارے ڈیڈ کے احسانوں اور تمہارے پیسوں کی خاطر کرنا پڑا ورنہ میری محبت صرف و صرف بسمہ ہے" عامر انتہائی ڈھٹائی اور بے شرمی سے کہ رہا تھا اور ایہام کو لگ رہا تھا کسی نے بھرے مجمعے میں اس کی محبت کا جنازہ نکالا ہو۔ وہ اب کی بار خاموشی سے اس گھٹیا شخص کو دیکھنے لگی۔ ان کے ارد گرد کھڑے کچھ لوگ افسوس سے اسے دیکھ رہے تھے اور کچھ بسمہ کے ساتھ مل کر اس کا مذاق اڑا رہے تھے۔ اس کی زندگی چند لمحوں میں پوری دنیا کے سامنے صرف ایک تماشہ بن کر رہ گئی تھی۔ کوئی ہمدردی بھری نظروں سے اور کوئی تمسخر بھری نظروں سے اسے دیکھتے بینکوئٹ سے نکلتا چلا گیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے بینکوئٹ خالی ہو چکا تھا۔ "ویٹ کرو ڈیئر کزن کچھ ہی وقت کی بات ہے اس کے بعد تم سڑک پر آ جاؤ گی میں دیکھنا چاہتی ہوں کہ جب تمہارا غرور چور چور ہوگا اور جب تم بھکارن بن کر سڑک پر پڑی ہوگی تب کیسی لگوں گی " بسمہ زہر خند انداز میں کہتے ہوئے عامر کے ساتھ وہاں سے نکلتی چلی گئی۔ وہ دھندلی ہوتی آنکھوں سے عامر کو بسمہ کے ساتھ جاتا ہوا دیکھ رہی تھی۔ لیکن لبوں سے ایک لفظ نہ کہا نہ ہی اسے روکنے کی کوشش کی وہ شخص اس کی زندگی کا سیاہ ترین باب تھا ۔ اس کی محبت تو اسی لمحے مر گئی تھی جب اس کے دھوکے کا علم ہوا اب اس کا دل بالکل خالی تھا ۔ اس کی آنکھوں سے آنسو ٹوٹ کر بکھرے تھے۔ وہ ایہام ملک تھی۔ سمیر ملک کی اکلوتی بیٹی اور ان کی کروڑوں کی جائیداد کی اکلوتی وارث۔۔۔۔۔۔۔ اس کے والد کا کچھ سال پہلے انتقال ہو گیا تھا۔لیکن ان کی وصیت کے مطابق اسے اپنی بیسویں سالگرہ پر ہر صورت شادی کرنی تھی۔ ورنہ اس کی تمام جائیداد۔۔۔۔۔۔ بزنس و بینک بیلنس ٹرسٹ میں چلا جاتا۔ اس کے ڈیڈ کو ہمیشہ سے لگتا تھا کہ وہ اپنی زندگی کو بالکل سیریس نہیں لیتی۔ اس لیے انہوں نے یہ وصیت لکھوائی تھی۔ عامر فیروز سمیر ملک کے دوست کا بیٹا تھا جس کے والد کے جانے کے بعد سمیر ملک نے ہی اسے سپورٹ کیا تھا اور یہی نہیں اپنی اکلوتی لاڈلی بیٹی کی منگنی بھی اس سے سے کروائی۔ لیکن افسوس جو لڑکا انہوں نے اپنی بیٹی کے لیے منتخب کیا تھا وہ آج اسے بھری محفل میں اکیلا چھوڑ گیا تھا۔ ایہام کے پاس تو کوئی دوسرا اپشن ہی نہیں تھا کیونکہ وہ ہمیشہ سے عامر کے ساتھ وفادار رہی تھی۔ کتنے ہی لڑکے اسے اپروج کرنے کی کوشش کرتے لیکن وہ کبھی کسی کو منہ نہیں لگاتی تھی۔ اس کے نزدیک وہ صرف اور صرف عامر فیروز کی امانت تھی اور اس شخص نے اس کی محبتوں کا یہ صلہ دیا تھا اس نے اسے کہیں کا نہیں چھوڑا تھا اس کے پاس صرف اور صرف ایک گھنٹہ بچا تھا ایک گھنٹے بعد اسے اپنا میرج سرٹیفکیٹ بورڈ آف ڈائریکٹرز کے سامنے پیش کرنا تھا۔ ورنہ وہ اپنا سب کچھ کھو بیٹھتی لیکن اس ایک گھنٹے میں وہ لڑکا کہاں سے لاتی کس سے شادی کرتی۔ وہ وہیں زمین پر بیٹھتی اپنا چہرہ دونوں ہاتھوں میں چھپائے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ وہ ابھی رو ہی رہی تھی جب اس خالی بینکوئٹ کا داخلی دروازہ ایک زوردار آواز کے ساتھ کھلا۔ ہال کے بیچوں بیچ بیٹھی ایہام نے جھٹکے سے سر اٹھایا ایک ویٹر انتہائی زخمی حالت میں لڑکھڑاتا ہوا اندر داخل ہوا۔ دونوں کی نظریں ایک لمحے کے لیے ملی تھی ایہام تیزی سے اپنی جگہ سے اٹھ کر اس کی جانب بڑھی جبکہ مقابل کا ہاتھ بے اختیار اپنی پشت پر گیا تھا۔ شرٹ کے اندر چھپی گن پر اس نوجوان کی گرفت مضبوط ہوئی تھی۔ " پلیز میری ہیلپ کرو مجھ سے شادی کر لو" ابھی وہ اس دلہن کو دیکھ ہی رہا تھا کہ اس کے قریب آ کر کہنے پر وہ چونک گیا۔ گن پر اس کی گرفت ڈھیلی پڑی تھی۔ " یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں میں ایک ویٹر ہوں میم" مقابل نے سامنے کھڑی لڑکی کو یاد دلانا چاہا۔ "مجھے اس سب سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ تم کون ہو تم بس پلیز مجھ سے شادی کر لو اس کے بدلے تمہیں جو چاہیے میں تمہیں دوں گی پیسہ۔۔۔۔۔ گھر جو تم کہو گے تمہیں ملے گا، تمہیں یہ ویٹر کی جاب نہیں کرنی پڑے گی آج اگر میری شادی نہیں ہوئی تو میں اپنا سب کچھ کھو دوں گی پلیز میری مدد کرو " وہ حسین دلہن روتے ہوئے التجاء کرنے لگی جس پر مقابل پرسوچ گہری نظروں سے اس معصوم سی لڑکی کا آنسوؤں سے تر چہرہ دیکھے گیا۔ وہ لڑکی جانتی ہی نہ تھی کہ جسے وہ معمولی سا ویٹر سمجھ کر شادی کے لیے پیسے آفر کر رہی ہے وہ ملک کا انتہائی ظالم اور خطرناک ترین مافیا باس تھا ۔ جسے پورے ملک کی آرمی اور مختلف ایجنسیاں آج تک ڈھونڈنے میں ناکام ٹھہری تھیں۔۔۔
Download Novel PDF
Read Novel Online
Description — Urdu
**عروسِ ناشناس** ایک ایسی لڑکی کی کہانی ہے جس کی زندگی کا سب سے خوشگوار دن اچانک اس کی زندگی کا سب سے بڑا امتحان بن گیا۔
ایہام ملک ایک نہایت خوبصورت، معصوم اور دولت مند لڑکی تھی۔ وہ اپنے مرحوم والد سمیر ملک کی اکلوتی بیٹی اور ان کی کروڑوں کی جائیداد کی واحد وارث تھی۔
اس کی زندگی میں دولت، آسائشوں اور محبت کی کوئی کمی نہیں تھی۔ وہ برسوں سے عامر فیروز سے محبت کرتی تھی اور اسے اپنا ہونے والا شوہر سمجھتی تھی۔
عامر اس کے والد کے دوست کا بیٹا تھا۔ سمیر ملک نے نہ صرف اس کی مدد کی تھی بلکہ اپنی اکلوتی بیٹی کا رشتہ بھی اسی کے ساتھ طے کر دیا تھا۔
ایہام نے ہمیشہ اس رشتے کو پوری وفاداری سے نبھایا تھا۔
لیکن شادی کے دن اس کی دنیا اس وقت بکھر گئی جب عامر فیروز نے سب کے سامنے اعتراف کر لیا کہ اس نے ایہام سے کبھی محبت نہیں کی تھی۔
وہ صرف اس کی دولت کی خاطر اس کے ساتھ تھا۔
اس سے بھی بڑا صدمہ ایہام کو تب پہنچا جب اس کی اپنی چچازاد بہن بسمہ ملک عامر کے ساتھ آ کھڑی ہوئی۔
دونوں نے نہ صرف اپنے تعلق کا اعتراف کیا بلکہ ایہام کی محبت اور بھروسے کا مذاق بھی اڑایا۔
ایہام کے لیے یہ صدمہ ناقابلِ برداشت تھا۔
جس شخص کے ساتھ اس نے اپنی پوری زندگی گزارنے کے خواب دیکھے تھے، وہی اسے شادی کے دن بھری محفل میں تنہا چھوڑ گیا تھا۔
مگر اس کے سامنے صرف محبت میں ناکامی کا مسئلہ نہیں تھا۔
اس کے والد کی وصیت کے مطابق ایہام کو اپنی بیسویں سالگرہ پر ہر صورت شادی کرنا تھی۔ اگر وہ ایسا نہ کرتی تو اس کی تمام جائیداد، کاروبار اور بینک بیلنس ایک ٹرسٹ کے حوالے ہو جاتا۔
ایہام کے پاس اپنی شادی کا سرٹیفکیٹ بورڈ آف ڈائریکٹرز کے سامنے پیش کرنے کے لیے صرف ایک گھنٹہ باقی تھا۔
اس مختصر وقت میں اسے کوئی ایسا شخص چاہیے تھا جو اس سے شادی کرنے کے لیے تیار ہو جائے۔
وہ خالی بینکوئٹ میں بے بسی سے رو رہی تھی کہ اچانک دروازہ کھلا۔
ایک نوجوان ویٹر زخمی حالت میں لڑکھڑاتا ہوا اندر داخل ہوا۔
ایہام نے اسے دیکھا تو جیسے امید کی ایک آخری کرن دکھائی دی۔
وہ فوراً اس کے قریب پہنچی اور اس سے شادی کرنے کی درخواست کر ڈالی۔
نوجوان اس کی بات سن کر حیران رہ گیا۔
اس نے ایہام کو بتایا کہ وہ محض ایک ویٹر ہے، لیکن ایہام کو اس کی حیثیت، دولت یا پیشے سے کوئی غرض نہیں تھی۔
وہ اسے شادی کے بدلے گھر، پیسہ اور ہر وہ سہولت دینے کے لیے تیار تھی جو وہ مانگتا۔
اسے صرف اپنی زندگی اور اپنے والد کی چھوڑی ہوئی میراث کو بچانا تھا۔
مگر ایہام ایک بہت بڑی حقیقت سے بے خبر تھی۔
جس زخمی نوجوان کو وہ معمولی ویٹر سمجھ رہی تھی، وہ دراصل ملک کا انتہائی خطرناک اور بے رحم مافیا باس تھا۔
ایک ایسا شخص جس کی تلاش میں ملک کی فوج اور مختلف خفیہ ادارے بھی کامیاب نہیں ہو سکے تھے۔
وہ نوجوان اپنی اصل شناخت چھپائے ہوئے تھا اور اس کی پشت پر ایک پستول بھی موجود تھا۔
ایہام کی اچانک شادی کی درخواست نے اسے بھی حیران کر دیا تھا۔
وہ خاموشی سے اس معصوم دلہن کو دیکھ رہا تھا، جو اس کی حقیقت جانے بغیر اپنی زندگی کا سب سے بڑا فیصلہ اس کے سامنے رکھ چکی تھی۔
آخر وہ خطرناک شخص ایہام کی درخواست پر کیا فیصلہ کرے گا؟
کیا ایہام اپنی جائیداد بچانے کے لیے وقت پر شادی کر پائے گی؟
اور جب اسے اس اجنبی نوجوان کی اصل شناخت معلوم ہوگی تو اس کی زندگی میں کیا طوفان آئے گا؟
**عروسِ ناشناس** دھوکے، مجبوری، پوشیدہ شناخت اور ایک غیرمتوقع رشتے کے آغاز پر مبنی رومانی اور سنسنی خیز کہانی ہے۔
Summary — Urdu
**عروسِ ناشناس** ایہام ملک کی کہانی ہے، جو اپنے مرحوم والد کی کروڑوں کی جائیداد کی اکلوتی وارث ہے۔
اس کے والد کی وصیت کے مطابق اسے اپنی بیسویں سالگرہ پر شادی کرنا ضروری ہے، ورنہ تمام جائیداد اور کاروبار ٹرسٹ کے حوالے ہو جائے گا۔
ایہام کی شادی عامر فیروز سے طے ہوتی ہے، جس سے وہ برسوں سے محبت کرتی ہے۔
لیکن شادی کے دن عامر اسے سب کے سامنے دھوکا دے دیتا ہے اور اعتراف کرتا ہے کہ وہ صرف اس کی دولت کی خاطر اس کے ساتھ تھا۔
ایہام کو اس وقت مزید صدمہ پہنچتا ہے جب اسے معلوم ہوتا ہے کہ عامر اس کی چچازاد بہن بسمہ ملک سے محبت کرتا ہے۔
دونوں اسے تنہا چھوڑ کر چلے جاتے ہیں۔
ایہام کے پاس اپنی جائیداد بچانے کے لیے صرف ایک گھنٹہ رہ جاتا ہے، کیونکہ اسے شادی کا سرٹیفکیٹ بورڈ آف ڈائریکٹرز کے سامنے پیش کرنا ہے۔
اسی دوران ایک زخمی نوجوان ویٹر بینکوئٹ میں داخل ہوتا ہے۔
ایہام اسے دیکھتے ہی شادی کی درخواست کرتی ہے اور بدلے میں دولت، گھر اور ہر سہولت دینے کی پیشکش کرتی ہے۔
لیکن اسے معلوم نہیں کہ وہ نوجوان کوئی معمولی ویٹر نہیں بلکہ ایک انتہائی خطرناک مافیا باس ہے، جس کی اصل شناخت ملک کے خفیہ اداروں سے بھی پوشیدہ ہے۔
ایک مجبور دلہن اور ایک پراسرار اجنبی کی یہ ملاقات کس نئے رشتے کی بنیاد بنے گی؟
کیا وہ اجنبی ایہام کی مدد کرے گا یا اس کی زندگی مزید مشکلات میں گھر جائے گی؟
Related Keywords
Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕
Frequently asked questions
Who wrote Aroos-e-Naashenaas Novel21049 — Novelistan?
Aroos-e-Naashenaas Novel21049 — Novelistan is written by Novelistan.
What categories is this novel listed under?
This novel is listed under Complete Urdu Novel and Contract marriage.
Where can I read Aroos-e-Naashenaas Novel21049 — Novelistan?
The reading content is available in the Read online section of this page.