Mera Ishq Ho Tum Novel21052 —Novelistan
Mera Ishq Ho Tum Novel21052 —Novelistan
By Wahiba Fatima
وانیہ ایک یتیم لڑکی تھی جو اپنے تایا کے گھر رہتی تھی۔ ایک رات سائرہ نے اس پر حسین خانزادہ کے کمرے میں ہونے کا جھوٹا الزام لگا دیا۔ وانیہ روتے ہوئے اپنی بے گناہی ثابت کرتی رہی، مگر کسی نے اس کی بات نہ سنی۔ تایا نے فیصلہ سنا دیا کہ صبح اس کا نکاح حسین سے کر کے اسے گھر سے نکال دیا جائے گا۔ حسین خاموش رہا، لیکن رات کو اپنے دوست سے نکاح کے انتظامات کروانے لگا۔ اگلی صبح دونوں کا نکاح ہو گیا۔ سب اسے ایک عام کرایہ دار سمجھ رہے تھے، مگر رخصتی کے وقت عالیشان گاڑیوں کی قطار گھر کے باہر پہنچ گئی۔ حسین نے وانیہ کی توہین کرنے والوں کو سختی سے روک دیا۔
Sneak
" منحوس لڑکی اپنے گناہ کا الزام میرے سر ڈال رہی ہو۔ " سائرہ نے نفرت سے کہتے اسے دھکا دیا۔ جبکہ حسین خانزادہ سرخ نگاہوں سے سائرہ کو گھور کر رہ گیا۔ جس نے جان بوجھ کر الزام لگایا تھا تاکہ دونوں پر الزام لگا کر حسین سے اپنا رشتہ ختم کر سکے۔" تت۔۔تایا یہ سب جھوٹ ہے ۔ " وہ یتیم روتے ہوئے سب کو اپنی بے گناہی کا یقین دلا رہی تھی۔ " بس بہت ہوگیا ۔ بس بہت ہوا۔ اس گند کی پوٹلی کو آج ہی اس کے عاشق کے ساتھ نکاح کر کے نکالو۔ " تایا دھاڑے تھے۔ فیصلہ ہوتے ہی اناً فاناً دونوں کا نکاح ہوا اس دوران حسین لب بھینچے ضبط کئیے بیٹھا تھا مگر سب کی آنکھیں پھیلی جب رخصتی کے وقت عالیشان گاڑیوں کے لمبی قطار ان کے گیٹ پر رکی۔ تائی جو وانیہ کو دھکے دے کر نکال رہی تھیں حسین کی دھاڑ پر رک گئیں۔ " خبردار جو کسی نے اسے ہاتھ بھی لگایا۔ " سائرہ کو لگا اس پر آسمان ٹوٹ پڑا ہے ۔ کیونکہ جس شخص کو غریب سمجھ کر اس نے یہ کھیل رچایا تھا وہ تو بہت بڑا۔۔۔۔۔ امی ابو یہ دیکھیں یہ رات کے اس وقت اوپر حسین کے کمرے میں تھی میں نے دروازہ بجایا تو دونوں باہر نکل آئے۔یہ سنتے ہی وانیا اور حسین حیرانی سے اسے دیکھنے لگے تھے۔ تایا کا چہرہ غصے سے لال ہو چکا تھا ان کی آنکھیں انگارے کی طرح دہک رہی تھیں انہوں نے غصے سے کانپتے ہوئے ہاتھ سے وانیا کی طرف اشارہ کیا اور دھاڑ کر بولے کہ وانیا تم اس وقت رات کے اس پہر میں اوپر والے پورشن میں کیا کر رہی ہو اور وہ بھی اس لڑکے کے کمرے کے اندر۔ وانیا کا رنگ خوف سے زرد پڑ گیا اس کے ہاتھ پیر کانپنے لگے تھے۔ اس نے روتے ہوئے ہاتھ جوڑ دیے اور لرزتی ہوئی آواز میں کہا کہ تایا خدا کے لیے میری بات سنیں میں تو نیچے اپنے کمرے میں تھی میں تو یہاں اوپر آواز سن کر آئی تھی۔ مجھے تو خود سمجھ نہیں آ رہی کہ یہ سب کیا ہو رہا ہے۔ سائرہ نے فوراََ درمیان میں آ کر مگرمچھ کے آنسو بہاتے ہوئے ڈرامائی لہجے میں کہا کہ جھوٹ بول رہی ہے یہ۔ میں نے خود اپنی آنکھوں سے اسے اوپر آتے ہوئے دیکھا ہے، میں تو بس پانی لینے آئی تھی تو دیکھا کہ یہ چپکے سے اوپر آ رہی تھی۔ تایا کا ضبط کا پیمانہ لبریز ہو چکا تھا انہوں نے ایک قدم آگے بڑھایا اور وانیا کے قریب جا کر گرجتے ہوئے کہا کہ بس اب ایک لفظ بھی اور نہیں۔ میں نے ہمیشہ تمھیں اپنی بیٹی سمجھ کر پالا تھا لیکن تم نے آج اس گھر کی عزت کو خاک میں ملا دیا ہے رات کے اس وقت ایک غیر مرد کے کمرے میں تمھارا کیا کام تھا۔ تائی نے بھی غصے سے منہ بناتے ہوئے کہا کہ ہمیں تو پہلے ہی شک تھا کہ یہ لڑکی آوارہ ہے، آج اس نے ہماری ناک کٹوا دی ہے ۔ حسین کے چہرے پر نہ کوئی گھبراہٹ تھی اور نہ ہی کوئی پریشانی، اس کی سرد اور پتھر جیسی نگاہیں سب پر پڑ رہی تھیں تایا نے حسین کو دیکھ کر اور زیادہ طیش میں آ کر کہا کہ تم بتاؤ حسین۔ یہ لڑکی تمہارے کمرے میں کیا کر رہی تھی۔ تم نے اسے اندر کیوں آنے دیا۔ لیکن حسین نے ایک عجیب سی خاموشی اختیار کر لی اس نے نہ تو وانیا کی حمایت میں ایک لفظ کہا اور نہ ہی اس الزام کو جھٹلایا وہ بس اپنے ہاتھ باندھ کر خاموش کھڑا رہا اس کی یہ پراسرار خاموشی وانیا کے لیے کسی کاری ضرب سے کم نہیں تھی وانیا نے ٹوٹے ہوئے دل اور بھیگی ہوئی آنکھوں سے حسین کی طرف دیکھا اس کی امید کی آخری کرن بھی اسی خاموشی میں ڈوب گئی کہ جس انسان کے لیے وہ آج اس الزام کا شکار ہوئی ہے وہی انسان اس کے حق میں ایک لفظ بولنے کو بھی تیار نہیں ہے ۔ وانیا نے پھر سے سائرہ کے بارے میں کچھ کہنا چاہا تو سائرہ نے اسے روک دیا۔ منحوس لڑکی اپنے گناہ کا الزام میرے سر کیوں ڈال رہی ہو۔ تایا نے غصے سے اپنا سر پکڑ لیا اور فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ اس بے شرم لڑکی نے آج ہمارے خاندان کا سر جھکا دیا ہے اب اس کا اس گھر میں ایک لمحہ بھی رہنا حرام ہے، صبح سورج نکلنے سے پہلے اس کا نکاح اس کے عاشق کے ساتھ کر کے اس گھر سے ہمیشہ کے لیے رخصت کر دیا جائے گا تاکہ ہماری جان اس گند سے چھوٹ سکے۔ سائرہ کے دل میں یہ سن کر خوشی کی ایک لہر دوڑ گئی کہ اس کا پلان سو فیصد کامیاب ہو چکا تھا اور وہ بغیر کسی تکليف کے اپنے راستے کے اس کانٹے کو ہٹا چکی تھی جبکہ وانیا وہیں فرش پر بیٹھ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی اس کا پورا وجود اس ظلم کے آگے ٹوٹ چکا تھا اور پورا کمرہ اس کے بے گناہ آنسوؤں سے گونج رہا تھا لیکن وہاں موجود کسی بھی شخص کے دل میں اس کے لیے ذرا برابر بھی رحم نہیں تھا۔ان سب کے جانے کے بعد رات کے اس آخری پہر میں حسین اپنے کمرے میں اکیلا کھڑکی کے پاس کھڑا تھا اس نے اپنا فون نکالا اور اپنے دوست کا نمبر ملایا دوسری طرف سے فوراً فون اٹھا تو حسین نے سنجیدہ اور دھیمی آواز میں کہا کہ یار وہ وقت آ گیا ہے جو ہم نے سوچا تھا اب مزید انتظار نہیں ہو سکتا تم جلدی سے شہر کے بہترین مولوی صاحب اور نکاح کا سارا انتظام کرواؤ ، دوست نے حیرت سے پوچھا کہ اتنی جلدی کیا ہے کیا سب کچھ پلان کے مطابق چل رہا ہے، حسین نے ایک گہری سانس لی اور کہا کہ پلان سے بڑھ کر ہو رہا ہے بس تم صبح صبح وقت پر پہنچ جانا اور کسی چیز کی کمی نہیں ہونی چاہیے، فون بند کر کے حسین نے خود کو شیشے میں دیکھا تو چہرے پر ایک مسکراہٹ تھی۔ اگلی صبح سورج نکلنے کے ساتھ ہی گھر کا ماحول انتہائی کشیدہ اور ہنگامہ خیز تھا ڈرائینگ روم میں مولوی صاحب اور دو گواہ آ کر بیٹھ چکے تھے تایا کے چہرے پر غصے کی لکیریں ابھی تک واضح تھیں جبکہ سائرہ کے چہرے پر ایک اندرونی خوشی اور اطمینان تھا کہ اس کا راستہ صاف ہو چکا تھا وانیا کو زبردستی اس کے کمرے سے باہر لایا گیا اس کا پورا چہرہ رات بھر رونے کی وجہ سے سوج چکا تھا اس کی آنکھوں میں ایک شدید بے بسی اور غصہ تھا کہ کسی نے اس کی ایک بات نہیں سنی اور اسے بغیر کسی قصور کے اس گناہ کی سزا دی جا رہی ہے جو اس نے کیا ہی نہیں تھا تایا نے حقارت سے وانیا کی طرف دیکھتے ہوئے کہا کہ اب زیادہ ڈرامے کرنے کی ضرورت نہیں ہے شکر کرو کہ ہم نے تمہاری عزت رکھ لی ورنہ اس محلے میں تمہیں منہ دکھانے کے لائق نہ چھوڑتا، مولوی صاحب نے آگے بڑھ کر نکاح کے کاغذات اٹھائے اور وانیا سے پوچھا کہ کیا آپ کو اس نکاح پر رضامندی ہے، وانیا نے ایک لمحے کے لیے اپنی سرخ اور بھیگی ہوئی آنکھیں اٹھا کر سامنے کھڑے حسین کو دیکھا حسین کی آنکھوں میں ایک ایسی گہری خاموشی اور پراسرار چمک تھی..جسے پڑھنا ناممکن تھا وانیا کو دل ہی دل میں شدید غصہ اور حیرت ہو رہی تھی کہ یہ لڑکا جو کل رات تک ایک عام کرایہ دار لگ رہا تھا آج اتنی خاموشی سے یہ سب کیسے ہونے دے رہا ہے کیا اسے ذرا بھی احساس نہیں ہے کہ وہ کس دلدل میں دھنس رہا ہے لیکن اپنے اوپر لگی اس تہمت اور تایا کے سخت تنے ہوئے چہرے کو دیکھ کر اس نے کانپتے ہوئے لہجے میں بس اتنا ہی کہا کہ جو آپ لوگوں کی مرضی ہے پھر نکاح کے الفاظ دہرائے گئے اور وانیا کا نکاح حسین خانزادہ کے نام پر پڑھا دیا گیا نکاح کی کارروائی مکمل ہونے کے بعد تایا نے حسین کو دیکھا اور سرد لہجے میں کہا کہ چلو اب یہ فتنہ تمہارے نام ہو گیا ہے اسے اپنے ساتھ لے جاؤ کیونکہ ہم اس منحوس لڑکی کو اب اس گھر میں ایک لمحہ بھی برداشت نہیں کر سکتے،اور تمھیں بھی۔ لیکن حسین نے اپنا سر ہلایا اور ایک بہت پرسکون اور حتمی لہجے میں کہا کہ نہیں۔۔۔۔۔
Download Novel PDF
Read Novel Online
Description — Urdu
**میرا عشق ہو تم از واہبہ فاطمہ** ایک جذباتی، جبری نکاح، خاندانی سازش اور پوشیدہ شناخت پر مبنی اردو ناول ہے۔ یہ کہانی ایک یتیم لڑکی وانیہ کی ہے، جس کی بے گناہی کو نظرانداز کر کے اس پر ایسا الزام لگایا جاتا ہے جو اس کی زندگی بدل دیتا ہے۔ دوسری طرف حسین خانزادہ کی پراسرار خاموشی اور اس کی اصل حیثیت کئی سوالات کو جنم دیتی ہے۔
وانیہ ایک یتیم لڑکی تھی جو اپنے تایا اور تائی کے گھر رہتی تھی۔ والدین کے سائے سے محروم ہونے کے بعد یہی گھر اس کی پناہ گاہ تھا، مگر ایک رات اس کے ساتھ ایسا واقعہ پیش آیا جس نے اس کی عزت اور مستقبل دونوں کو خطرے میں ڈال دیا۔
سائرہ نے اپنے گھر والوں کے سامنے الزام لگایا کہ اس نے وانیہ کو رات کے وقت حسین خانزادہ کے کمرے میں دیکھا ہے۔ اس کے مطابق وہ دروازے پر پہنچی تو دونوں کمرے سے باہر نکلے تھے۔
وانیہ یہ الزام سن کر حیران رہ گئی۔ وہ بار بار سمجھانے لگی کہ وہ اپنے کمرے میں تھی اور اوپر سے آواز آنے پر وہاں پہنچی تھی۔ اسے خود معلوم نہیں تھا کہ اچانک یہ صورتحال کیسے پیدا ہو گئی۔
لیکن سائرہ اپنی بات پر قائم رہی۔
وہ جان بوجھ کر وانیہ کو اس معاملے میں پھنسا رہی تھی۔ اس کا مقصد حسین خانزادہ سے اپنا رشتہ ختم کرنا تھا، کیونکہ وہ حسین کو ایک عام اور غریب شخص سمجھتی تھی۔
سائرہ نے وانیہ پر الزام لگایا تو تایا شدید غصے میں آ گئے۔ انہوں نے وانیہ کی وضاحت سننے کے بجائے اسے خاندان کی بدنامی کا ذمہ دار ٹھہرا دیا۔ تائی نے بھی اس کی حمایت کرنے کے بجائے اس کی کردار کشی کی۔
وانیہ ہاتھ جوڑ کر اپنی بے گناہی ثابت کرنے کی کوشش کرتی رہی، مگر کسی نے اس کی بات پر یقین نہ کیا۔
اس سارے معاملے میں سب سے حیران کن رویہ حسین خانزادہ کا تھا۔
وہ خاموشی سے کھڑا سب کچھ سنتا رہا۔ اس کے چہرے پر نہ گھبراہٹ تھی اور نہ پریشانی۔ تایا نے اس سے بھی پوچھا کہ وانیہ اس کے کمرے میں کیا کر رہی تھی، لیکن حسین نے کوئی وضاحت پیش نہیں کی۔
اس کی خاموشی وانیہ کے لیے مزید تکلیف دہ تھی۔
وہ امید کر رہی تھی کہ حسین کم از کم اس کے خلاف لگائے گئے الزام کی حقیقت بیان کرے گا، مگر اس نے کچھ نہ کہا۔
آخرکار تایا نے فیصلہ سنا دیا کہ صبح ہونے سے پہلے وانیہ کا نکاح حسین خانزادہ سے کر دیا جائے گا اور پھر اسے ہمیشہ کے لیے گھر سے رخصت کر دیا جائے گا۔
وانیہ کے لیے یہ فیصلہ ایک اور صدمہ تھا۔
وہ پہلے ہی جھوٹے الزام سے ٹوٹ چکی تھی اور اب اس کی زندگی کا اتنا بڑا فیصلہ بھی اس کی مرضی کے بغیر کیا جا رہا تھا۔
دوسری طرف سائرہ خوش تھی کہ اس کا منصوبہ کامیاب ہو گیا ہے۔
لیکن حسین خانزادہ کے ذہن میں کیا چل رہا تھا، اس کا اندازہ کسی کو نہیں تھا۔
رات کے آخری پہر حسین اپنے کمرے میں کھڑکی کے پاس کھڑا تھا۔ اس نے اپنے ایک دوست کو فون کیا اور کہا کہ اب وہ وقت آ گیا ہے جس کا وہ انتظار کر رہے تھے۔
اس نے دوست کو شہر کے بہترین نکاح خواں اور نکاح کے تمام انتظامات کرنے کی ہدایت دی۔
دوست نے پوچھا کہ کیا سب کچھ منصوبے کے مطابق چل رہا ہے۔
حسین نے جواب دیا کہ معاملات منصوبے سے بھی آگے بڑھ رہے ہیں اور صبح کسی چیز کی کمی نہیں ہونی چاہیے۔
فون بند کرنے کے بعد حسین کے چہرے پر مسکراہٹ ابھری۔
اس گفتگو سے اندازہ ہوتا تھا کہ حسین اس صورتحال کے لیے کسی حد تک پہلے سے تیار تھا، مگر اس کے اصل ارادے ابھی واضح نہیں تھے۔
اگلی صبح گھر میں نکاح کی تیاریاں مکمل ہو چکی تھیں۔
مولوی صاحب اور گواہ موجود تھے۔ تایا کے چہرے پر غصہ برقرار تھا، جبکہ سائرہ مطمئن دکھائی دے رہی تھی۔
وانیہ کو زبردستی اس کے کمرے سے باہر لایا گیا۔
رات بھر رونے کی وجہ سے اس کی آنکھیں سوج چکی تھیں۔ وہ اب بھی اپنے اوپر لگائے گئے الزام اور گھر والوں کے رویے سے شدید دکھی تھی۔
جب مولوی صاحب نے اس سے نکاح کے لیے رضامندی پوچھی تو اس نے حسین کی طرف دیکھا۔
حسین کی آنکھوں میں ایک عجیب خاموشی اور پراسرار چمک تھی۔
وانیہ نہیں سمجھ پا رہی تھی کہ وہ اس سارے معاملے میں اتنا پرسکون کیوں ہے۔
اسے حسین ایک عام کرایہ دار معلوم ہوتا تھا اور وہ حیران تھی کہ وہ بغیر کسی احتجاج کے اس نکاح کے لیے کیسے تیار ہو گیا ہے۔
خاندانی دباؤ اور بے بسی کے عالم میں وانیہ نے کہا کہ جو گھر والوں کی مرضی ہے۔
اس کے بعد اس کا نکاح حسین خانزادہ سے پڑھا دیا گیا۔
نکاح مکمل ہونے پر تایا نے حسین کو حکم دیا کہ وہ وانیہ کو اپنے ساتھ لے جائے، کیونکہ اب وہ دونوں کو اس گھر میں برداشت نہیں کرنا چاہتے تھے۔
لیکن حسین نے نہایت پرسکون اور حتمی انداز میں انکار کر دیا۔
کہانی کے ابتدائی منظر میں یہ بھی سامنے آتا ہے کہ رخصتی کے وقت گھر کے باہر عالیشان گاڑیوں کی ایک لمبی قطار آ کر رکتی ہے۔
یہ منظر سب کے لیے حیران کن ہوتا ہے۔
جس حسین خانزادہ کو سائرہ غریب سمجھ رہی تھی، اس کی اصل حیثیت توقعات سے کہیں مختلف معلوم ہونے لگتی ہے۔
جب تائی وانیہ کو دھکے دے کر گھر سے نکالنے کی کوشش کرتی ہیں تو حسین سختی سے انہیں روک دیتا ہے اور خبردار کرتا ہے کہ کوئی وانیہ کو ہاتھ نہ لگائے۔
اس کی آواز اور انداز سب کو چونکا دیتے ہیں۔
کیا حسین خانزادہ پہلے سے کسی منصوبے پر عمل کر رہا تھا؟
اس نے وانیہ کے خلاف الزام لگنے پر خاموشی کیوں اختیار کی؟
اس کی اصل حیثیت کیا ہے؟
اور جب سائرہ کو حسین کی حقیقت معلوم ہوگی تو اس کا ردعمل کیا ہوگا؟
**میرا عشق ہو تم** ایک بے گناہ یتیم لڑکی، خاندانی سازش، دباؤ میں ہونے والے نکاح اور ایک پراسرار مرد کی پوشیدہ حیثیت کے گرد گھومتی کہانی ہے۔
Summary — Urdu
**میرا عشق ہو تم** وانیہ اور حسین خانزادہ کی کہانی ہے، جن کا نکاح ایک جھوٹے الزام اور خاندانی دباؤ کے نتیجے میں ہوتا ہے۔
وانیہ ایک یتیم لڑکی ہے جو اپنے تایا اور تائی کے گھر رہتی ہے۔ ایک رات سائرہ اس پر الزام لگاتی ہے کہ وہ حسین خانزادہ کے کمرے میں موجود تھی۔
وانیہ اس الزام کو جھٹلاتی ہے اور بتاتی ہے کہ وہ صرف آواز سن کر اوپر آئی تھی، مگر گھر والے اس کی بات سننے کو تیار نہیں ہوتے۔
سائرہ نے یہ سازش جان بوجھ کر کی ہوتی ہے تاکہ حسین سے اپنا رشتہ ختم کر سکے۔ وہ حسین کو ایک غریب اور عام شخص سمجھتی ہے۔
تایا غصے میں فیصلہ سناتے ہیں کہ وانیہ کا نکاح حسین سے کر کے اسے گھر سے نکال دیا جائے گا۔
وانیہ اپنی بے گناہی ثابت کرنے کی کوشش کرتی رہتی ہے، لیکن حسین بھی خاموش کھڑا رہتا ہے۔
اس کی خاموشی وانیہ کو مزید دکھی کر دیتی ہے۔
اسی رات حسین اپنے دوست کو فون کر کے نکاح کے انتظامات کرنے کی ہدایت دیتا ہے۔ اس کی گفتگو سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کسی پہلے سے طے شدہ منصوبے کے مطابق آگے بڑھ رہا ہے۔
اگلی صبح وانیہ کو زبردستی نکاح کے لیے لایا جاتا ہے۔
وہ شدید دباؤ اور بے بسی میں گھر والوں کی مرضی کے مطابق جواب دیتی ہے اور اس کا نکاح حسین خانزادہ سے ہو جاتا ہے۔
نکاح کے بعد تایا دونوں کو گھر سے جانے کا حکم دیتے ہیں، مگر حسین پرسکون انداز میں انکار کر دیتا ہے۔
ابتدائی منظر میں رخصتی کے وقت عالیشان گاڑیوں کی قطار گھر کے باہر پہنچتی دکھائی گئی ہے، جس سے حسین کی اصل حیثیت کے بارے میں سوالات پیدا ہوتے ہیں۔
جب تائی وانیہ کو دھکا دیتی ہیں تو حسین سخت لہجے میں انہیں روک دیتا ہے۔
کیا حسین کی خاموشی کسی بڑے منصوبے کا حصہ تھی؟
کیا وانیہ کو اس کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کا انصاف مل سکے گا؟
اور سائرہ کی سازش کا انجام کیا ہوگا؟
Related Keywords
Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕
Frequently asked questions
Who wrote Mera Ishq Ho Tum Novel21052 —Novelistan?
Mera Ishq Ho Tum Novel21052 —Novelistan is written by Wahiba Fatima.
Is Mera Ishq Ho Tum Novel21052 —Novelistan complete or ongoing?
The recorded status of this novel is Complete.
What categories is this novel listed under?
This novel is listed under Complete Urdu Novel and Emotional Drama.
Where can I read Mera Ishq Ho Tum Novel21052 —Novelistan?
The reading content is available in the Read online section of this page.