Manzilen Lapata Novel21057 Urdu novel cover
949.9kViews
#121Ranking
CompleteStory status
NOVELISTAN · URDU NOVELS

Manzilen Lapata Novel21057 — Novelistan

By Samreen Sheikh

Rate this novel

میر زاویار جواد سائیں کا نکاح حانم سے خاندان کے دباؤ میں کروایا جا رہا تھا۔ دادا سائیں نے اسے جائیداد سے عاق کرنے کی دھمکی دی تھی، جبکہ حانم اس رشتے سے خوش اور مطمئن تھی۔ نکاح مکمل ہوتے ہی میر حاکم سائیں نے اپنے پوتے کو مبارک باد دی، لیکن زاویار نے اچانک مائک سنبھال کر سب کے سامنے اپنی بغاوت کا اعلان کر دیا۔ اس نے بتایا کہ اسے زبردستی نکاح پر مجبور کیا گیا ہے اور پھر حانم کو طلاق دینے کا اعلان کر دیا۔ زنان خانے میں بیٹھی حانم تک جب یہ الفاظ پہنچے تو اس کی خوشی صدمے میں بدل گئی اور وہ بے ہوش ہو گئی۔

Sneak

قبول ہے !!!!
مائک سے اس کی گھمبیر آواز گونجی 
جو زنان خانے تک بھی پہنچی تھی
تیسری دفعہ" قبول ہے" کہتے ہی میر حاکم سائیں نے اپنے پوتے کو گلے لگایا 
نکاح بہت بہت مبارک ہو میر زاویار جواد سائیں 
میر حاکم سائیں کے چہرے کی چمک اس بات کی گواہ تھی کہ وہ کتنا خوش ہیں اس نکاح پر 
مگر ان کے چہرے کی چمک سے کہیں زیادہ چمک میر زاویار کی آنکھوں میں تھی 
مگر یہ چمک نکاح کی تو نہیں لگی تھی 
یہ چمک عجیب سی تھی 
باغی سی!!!!
اپنے وجیہہ چہرے پر جاندار مسکراہٹ کے ساتھ اس نے دوبارہ مائک پکڑا 
میں میر زاویار سائیں، میر حاکم سائیں کا پوتا اس خاندان کا پہلا چشم و چراغ ،،،،
اس گاؤں کا ہونے والا سردار ،،،،
اس کی آواز جو ہی گونجی مردان خانے میں خاموشی چھاہ گئی
میر حاکم سائیں نے فخر سے اپنے پوتے کا تحمکانہ انداز دیکھا 
جس کا نکاح ۔۔۔۔۔۔۔
آنکھوں کی چمک کچھ اور واضح ہوئی تھی میر حاکم سائیں کو کچھ غلط ہونے کا احساس شدت سے ہوا
جس کے دادا نے جائیداد سے عاق کرنے کی دھمکی پر اپنی پینڈو پوتی سے میرا زبردستی نکاح کردیا مگر ۔۔۔۔
میں بھی انہی کا پوتا ہوں 
میں میر زاویار سائیں اپنے پورے ہوش وحواس میں اپنی چند سیکنڈ پہلے کی دلہن کو طلاق دیتا ہوں 
زاویار
ثمینہ جواد حاکم چیخی۔۔۔
میں حانم کو 
طلاق دیتا ہوں
طلاق دیتا ہوں 
دادا سائیں ادھر ہی موجود ہوں میں اب میرا دوبارہ نکاح کروا کر دیکھائیں 
ہونٹوں پر دل جلانے والی مسکراہٹ لیے وہ بھرے مجمعے میں ان سے مخاطب ہوا جن کے کندھے کبھی جھکے نہیں تھے
آپ شاہد بھول گئے تھے میں کون ہوں ؟؟؟
تمسخر اڑایا لہجہ

________
کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے؟؟؟؟
مولوی صاحب کی آواز پر اس نے گھونگھٹ کی آڑ میں چونک کر اپنے دائیں کندھے پر موجود ہاتھ کو دیکھا 
وہ ہاتھ اس کی ماں کا تھا جو اسے تسلی دینے کے لیے رکھا گیا تھا  بے شک نکاح اس کی مرضی سے ہورہا تھا وہ خوش تھی بلکہ یہ کہنا مناسب تھا کہ مطمئن تھی 
مگر جو بھی ہو ان لمحات میں ایموشنل ہونا فطری بات تھی 
ق۔قبول ہے 
ایک آنسو اس کی نرم و ملائم گال سے پھسل کر تھوڑی سے ہوتے نکاح کے کاغذات پر گڑا
اس کے کندھے پر اس کی ماں کی گرفت بھی مضبوط ہوئی
یقیناً وہ بھی رو رہی ہوں گی 
مگر ان کے آنسو بھی خوشی کے ہوگے اپنی بیٹی کے فرض سے سبکدوش ہونے کی خوشی !!!!
لڑکی کی طرف سے نکاح مکمل ہوتے ہی اس کی ماں نے اسے گلے لگایا 
ابھی اس کی کزنز اسے مبارک باد دیتیں باہر سے اس کی آتی آواز پر کمرے میں سانپ سونگھ گیا 
اور پھر اسے ہر چیز چکراتی نظر آئی 

اپنے کانوں میں اپنی دوستوں رشتے داروں کی بہت پہلے کہی گئی آواز سنائیں دیں

کتنے خوش نصیب ہیں ادا سائیں ان کی شادی تم
 سے ہورہی ہے ۔۔۔۔۔
میرا زاوی خوش نصیب ہے اس کی قسمت میں 
تم ہو ۔۔۔۔۔۔
یاری لالہ اور تمہاری جوری پرفیکٹ ہے ۔۔۔۔۔
تم جیسی نڈر اور بہادر ہی ہمارے شیر پوتے کے 
لیے صحیح ہے ۔۔۔۔۔۔
پھر دماغ اور آنکھیں اندھیرے میں کھو گئی

چھوٹی بی بی بے ہوش ہوگئی نورا کی آواز مردان خانے تک گونجی

Download Novel PDF

Download Link 1 — MediaFireDownload Link 2 — Google Drive

Read Novel Online

Join WhatsApp Channel

Description — Urdu

**منزلیں لاپتا از ثمرین شیخ** ایک جذباتی اور خاندانی روایات پر مبنی اردو ناول ہے، جس میں زبردستی کے نکاح، سرداری خاندان کی انا اور رشتوں پر مسلط کیے گئے فیصلوں کو موضوع بنایا گیا ہے۔ کہانی کا مرکزی کردار میر زاویار جواد سائیں ایک بااثر خاندان کا وارث ہے، جبکہ حانم ایک ایسی لڑکی ہے جس کی زندگی کا خوشگوار لمحہ اچانک شدید صدمے میں بدل جاتا ہے۔

میر حاکم سائیں اپنے خاندان کے بزرگ اور بااختیار شخصیت ہیں۔ وہ اپنے پوتے میر زاویار جواد سائیں کا نکاح اپنی پوتی حانم سے کروانا چاہتے ہیں۔ زاویار اس فیصلے سے خوش نہیں، لیکن دادا سائیں اسے جائیداد سے عاق کرنے کی دھمکی دے کر نکاح پر مجبور کرتے ہیں۔ خاندان کے سامنے وہ نکاح قبول کر لیتا ہے، مگر اس کے دل میں اس فیصلے کے خلاف شدید بغاوت موجود ہوتی ہے۔

دوسری طرف حانم اس نکاح سے مطمئن اور خوش ہوتی ہے۔ اسے اپنے خاندان اور رشتے داروں کی وہ باتیں یاد آتی ہیں جن میں زاویار اور اس کی جوڑی کو بہترین قرار دیا جاتا تھا۔ نکاح کے وقت اس کی والدہ اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے تسلی دیتی ہیں۔ حانم جذباتی کیفیت میں نکاح قبول کرتی ہے اور اس کی آنکھ سے ایک آنسو نکاح کے کاغذات پر گرتا ہے۔

لیکن مردان خانے میں صورتحال بالکل مختلف ہوتی ہے۔ میر زاویار نکاح کے الفاظ ادا کرنے کے بعد اپنے دادا سے مبارک باد وصول کرتا ہے۔ میر حاکم سائیں اپنے پوتے کو دیکھ کر خوش ہوتے ہیں اور اس کے انداز پر فخر محسوس کرتے ہیں، مگر اگلے ہی لمحے زاویار مائک سنبھال کر سب کے سامنے بولنا شروع کر دیتا ہے۔

وہ اپنا تعارف خاندان کے پہلے چشم و چراغ اور گاؤں کے ہونے والے سردار کے طور پر کرواتا ہے۔ پھر سب کے سامنے اعلان کرتا ہے کہ اس کے دادا نے جائیداد سے محروم کرنے کی دھمکی دے کر اس کا نکاح زبردستی کروایا ہے۔ اس کے لہجے میں غصہ، ضد اور بغاوت نمایاں ہوتی ہے۔

اس کے بعد زاویار ایک ایسا قدم اٹھاتا ہے جس کی کسی کو توقع نہیں ہوتی۔ وہ نکاح کے فوراً بعد حانم کو طلاق دینے کا اعلان کر دیتا ہے اور اپنے دادا کو دوبارہ اس کا نکاح کروا کر دکھانے کا چیلنج دیتا ہے۔ اس کی والدہ ثمینہ جواد حاکم اسے روکنے کے لیے چیختی ہیں، مگر زاویار اپنی بات جاری رکھتا ہے۔

میر حاکم سائیں، جو چند لمحے پہلے اپنے پوتے کے نکاح پر خوش تھے، اس کے اس رویے سے شدید صدمے میں آ جاتے ہیں۔ زاویار کی بغاوت صرف ان کے فیصلے کے خلاف نہیں ہوتی بلکہ پورے خاندان کے سامنے ان کے اختیار کو بھی چیلنج کرتی ہے۔

زنان خانے میں بیٹھی حانم تک بھی زاویار کی آواز پہنچتی ہے۔ وہ ابھی اپنی والدہ اور رشتے داروں کے ساتھ نکاح کی خوشی محسوس کر رہی ہوتی ہے کہ باہر سے آنے والے الفاظ اس کی دنیا بدل دیتے ہیں۔ اسے وہ تمام باتیں یاد آتی ہیں جن میں اس کی اور زاویار کی جوڑی کی تعریف کی گئی تھی۔

حانم کے لیے یہ صدمہ ناقابلِ برداشت ثابت ہوتا ہے۔ اس کے سامنے ہر چیز گھومنے لگتی ہے اور وہ بے ہوش ہو جاتی ہے۔ نورا کی آواز مردان خانے تک پہنچتی ہے کہ چھوٹی بی بی بے ہوش ہو گئی ہیں۔

**منزلیں لاپتا** ایک ایسی کہانی ہے جس میں خاندانی اختیار، مردانہ انا اور زبردستی کے فیصلوں کے نتائج ایک بے قصور لڑکی کی زندگی پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ کیا میر زاویار اپنے فیصلے کے نتائج کو سمجھ سکے گا؟ حانم اس ذلت اور صدمے کے بعد اپنی زندگی کیسے سنبھالے گی؟ اور کیا خاندان کے اندر پیدا ہونے والی اس کشیدگی کا کوئی حل نکل سکے گا؟ ان سوالات کے جواب کہانی کے آئندہ واقعات میں سامنے آئیں گے۔

Summary — Urdu

**منزلیں لاپتا** میر زاویار جواد سائیں اور حانم کی کہانی ہے، جس میں خاندانی دباؤ کے تحت ہونے والا نکاح چند لمحوں میں ایک بڑے سانحے میں بدل جاتا ہے۔

میر زاویار ایک بااثر سرداری خاندان کا وارث اور گاؤں کا ہونے والا سردار ہے۔ اس کے دادا میر حاکم سائیں چاہتے ہیں کہ وہ اپنی پوتی حانم سے شادی کرے۔ زاویار اس رشتے پر راضی نہیں ہوتا، لیکن دادا اسے جائیداد سے عاق کرنے کی دھمکی دیتے ہیں، جس کے باعث وہ نکاح قبول کر لیتا ہے۔

دوسری طرف حانم اس نکاح سے خوش اور مطمئن ہوتی ہے۔ وہ اپنے خاندان کی دعاؤں اور رشتے داروں کی مبارک باد کے درمیان جذباتی انداز میں نکاح قبول کرتی ہے۔ اسے اندازہ نہیں ہوتا کہ مردان خانے میں زاویار کیا فیصلہ کرنے والا ہے۔

نکاح مکمل ہونے پر میر حاکم سائیں خوشی سے اپنے پوتے کو گلے لگاتے ہیں، مگر زاویار مائک سنبھال کر سب کے سامنے اعلان کرتا ہے کہ اس کا نکاح زبردستی کروایا گیا ہے۔

اس کے بعد وہ حانم کو طلاق دینے کا اعلان کرتا ہے اور اپنے دادا کو چیلنج کرتا ہے کہ اب اس کا دوبارہ نکاح کروا کر دکھائیں۔ زاویار کی والدہ اسے روکنے کی کوشش کرتی ہیں، مگر وہ اپنی بغاوت سے پیچھے نہیں ہٹتا۔

حانم تک یہ الفاظ پہنچتے ہیں تو اس کی خوشی شدید صدمے میں بدل جاتی ہے۔ وہ اپنی زندگی کے اس غیرمتوقع موڑ کو برداشت نہیں کر پاتی اور بے ہوش ہو جاتی ہے۔

کیا زاویار کو اپنے فیصلے کے اثرات کا احساس ہوگا؟ کیا حانم اپنے ساتھ ہونے والی بے عزتی کے بعد دوبارہ زندگی میں آگے بڑھ سکے گی؟ اور کیا خاندان کے یہ ٹوٹتے ہوئے رشتے کبھی سنبھل پائیں گے؟

Related Keywords

Manzilen Lapata Novel21057 Novel, Manzilen Lapata Novel21057 Urdu Novel, Manzilen Lapata Novel21057 PDF

Support Novelistan ❤️

Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.

EasyPaisa / JazzCash

0309 1256788

Account name: Safia Bano

Bank Transfer (UBL)

United Bank Limited

Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131

Name: Sadia Hassan

IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131

Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕

Frequently asked questions

Who wrote Manzilen Lapata Novel21057 — Novelistan?

Manzilen Lapata Novel21057 — Novelistan is written by Samreen Sheikh.

Is Manzilen Lapata Novel21057 — Novelistan complete or ongoing?

The recorded status of this novel is Complete.

What categories is this novel listed under?

This novel is listed under Complete Urdu Novel and Forced Marriage Based.

Where can I read Manzilen Lapata Novel21057 — Novelistan?

The reading content is available in the Read online section of this page.

Share this Novel

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *