Teri Deed (تیری دید) Urdu novel cover
504.6kViews
#988Ranking
CompleteStory status
NOVELISTAN · URDU NOVELS

Teri Deed Novel21051 — Novelistan

By Sheeza Khan

Rate this novel

علمہ نے اپنی ازدواجی زندگی میں بہت کچھ برداشت کیا تھا، مگر ایک صبح شہناز بیگم کے مسلسل طعنوں نے اس کا ضبط توڑ دیا۔ رات بھر جسمانی تکلیف میں مبتلا رہنے کے بعد وہ دیر سے اٹھی تو ساس نے اسے سخت باتیں سنائیں۔ علمہ نے اپنی صفائی پیش کی، لیکن معاملہ جہانزیب تک پہنچ گیا۔ اس نے سب کے سامنے اپنی بیوی کو حکم دیا کہ وہ اس کی ماں سے معافی مانگے، ورنہ اس کی زندگی سے نکل جائے۔ علمہ نے بے بسی میں ہاتھ جوڑ کر معافی مانگ لی، مگر اس کے دل میں کچھ ٹوٹ گیا تھا۔ بعد میں جب جہانزیب کو علمہ کا خط ملا تو اس میں اپنے بچے کا ذکر اور شوہر کے لیے ایک تکلیف دہ پیغام موجود تھا۔

Sneak

" معافی مانگو میری ماں سے ورنہ دفع ہو جاؤ میری زندگی سے۔۔۔ " بھری محفل میں جہانزیب کی گرج پر علمہ کا چہرہ احساس ذلت سے سرخ ہوا۔ رات جہانزیب کی جنونی قربت نے اسے اسقدر بے حال کیا کہ وہ صبح تک برف کی ٹکور سے خود کو سہلاتی رہی۔ صبح لیٹ اٹھنے پر شہناز بیگم نے اس پر طعنوں کی برسات کر
دی تو وہ بھی اپنا ضبط کھو بیٹھی۔ " مجھے معاف کر دیں آنٹی۔" وہ اپنی انا پر پاؤں رکھتے پتھر دل شہناز بیگم کے آگے ہاتھ جوڑ گئی۔اسکے اس انداز پر جہانزیب کا غصہ جھاگ کی طرح بیٹھ گیا مگر رات لمس کی تڑپ میں اسکی آنکھ کھلی تو علمیہ کمرے سے غائب تھی۔" آپ نے اپنی ماں کو خوش کرنے کیلئے اپنے بچے کی ماں کو دھتکارا۔ آپ میرے بچے کے باپ کہلانے لائق نہیں۔" وہ اسکا خط پڑھتے۔۔۔۔۔

 "معافی مانگو میری ماں سے ورنہ دفع ہو جاؤ میری زندگی سے۔۔۔" بھری محفل میں جہانزیب کی گرجتی ہوئی آواز نے پورے کمرے کی فضا منجمد کر دی تھی۔ چند لمحے پہلے تک جہاں لوگوں کی سرگوشیاں سنائی دے رہی تھیں وہاں اب ایسی خاموشی اتر آئی تھی جیسے کسی نے سب کی زبانیں بند کر دی ہوں۔ جہانزیب کی سرخ آنکھیں علمہ کے چہرے پر جمی ہوئی تھیں۔ اس کے چہرے پر غصے کی شدت صاف دکھائی دے رہی تھی۔ جبڑے بھنچے ہوئے تھے۔ ہاتھ کی مٹھیاں سختی سے بند تھیں۔ پیشانی پر ابھری ہوئی رگیں اس کے اندر بھڑکتے طوفان کی گواہی دے رہی تھیں۔۔۔۔۔

علمہ نے نظریں جھکا لیں۔ اس کا چہرہ احساس ذلت
سے سرخ ہو چکا تھا۔ آنکھوں میں نمی تیرنے لگی تھی۔ دل اس شدت سے دھڑک رہا تھا جیسے پسلیوں سے باہر آجائے گا۔ سامنے بیٹھی شہناز بیگم کے چہرے پر فتح کا اطمینان تھا۔ وہ اپنی بہو کو اسی حالت میں دیکھ کر بھی مطمئن دکھائی دے رہی تھیں۔ جہانزیب نے ایک قدم آگے بڑھایا۔ "معافی مانگو" علمہ کے لب کانپے۔ " میں نے جان بوجھ کر کچھ نہیں کیا۔۔۔" یہ جواب جہانزیب کے غصے میں مزید آگ بھر گیا۔ میں نے تم سے صفائی نہیں مانگی۔ میں نے تمہیں حکم دیا ہے۔ میری ماں سے معافی مانگو۔۔" کمرے میں موجود لوگوں نے نظریں چرالیں۔۔۔۔

 کسی میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ جہانزیب کے سامنے علمہ کے حق میں ایک لفظ بول سکے۔ جہانزیب اپنی انا کے لیے مشہور تھا۔ اس کے نزدیک اپنی بات سے پیچھے ہٹنا شکست کے برابر تھا۔ گھر کے بڑے بھی اس کے غصے سے محتاط رہتے تھے۔ علمہ تو پھر اس کی بیوی تھی۔ وہ خاموش کھڑی رہی۔ جہانزیب نے سرد لہجے میں کہا۔ " اگر آج تم نے میری ماں سے معافی نہیں مانگی تو تمہیں میری زندگی سے نکلنے میں ایک لمحہ بھی نہیں لگے گا۔" یہ جملہ علمہ کے دل میں تیر کی طرح اترا۔ وہ چند لمحے جہانزیب کو دیکھتی رہی۔ اس شخص کو جس کے نام کے ساتھ اس کی پوری زندگی بندھی ہوئی تھی۔۔۔۔

 اس شخص کو جس کے لیے اس نے اپنی مرضی چھوڑ دی تھی۔ اپنے خواب چھوڑ دیے تھے۔ اپنی خوشیاں چھوڑ دی
تھیں۔ آج وہی شخص اسے سب کے سامنے اپنی زندگی سے نکل جانے کا حکم دے رہا تھا۔ علمہ نے آہستہ سے پلکیں جھکا لیں۔ وہ شہناز بیگم کے سامنے جاکر کھڑی ہوگئی۔ "معاف کر دیں آنٹی۔" اس کی آواز بہت مدھم تھی۔ شہناز بیگم نے کوئی جواب نہیں دیا۔ علمہ نے اپنے ہاتھ جوڑ دیے۔ " مجھ سے غلطی ہوگئی۔ آپ مجھے معاف کر دیں۔۔۔" اس لمحے جہانزیب کی آنکھوں میں ایک عجیب سی کیفیت ابھری۔ غصہ جیسے اچانک کم ہو گیا تھا۔۔۔

 علمہ کی جھکی ہوئی گردن دیکھ کر اس کے اندر کہیں کچھ ہلا تھا۔ وہ اپنی بیوی کو کمزور دیکھنا پسند نہیں کرتا تھا۔ اسے اپنی بات منوانا پسند تھا۔ علمہ کا یوں اس کے سامنے ٹوٹ جانا اسے ایک عجیب سی تھکن تھی آنکھوں میں نیند نہیں تھی۔ کئی مرتبہ اسے اپنے آپ کو برف کی ٹکور کرنی پڑی نہیں تو اس سے چلا بھی نہیں جا رہا تھا۔ اس نے کئی مرتبہ کروٹ بدلی تھی۔۔۔ 

ہر بار درد کی ایک نئی لہر جسم میں دوڑ جاتی تھی۔ صبح دیر سے آنکھ کھلی۔ شہناز بیگم پہلے ہی اس کے
کمرے کے دروازے پر کھڑی تھیں۔ " یہ گھر تمہارے میکے کا گھر نہیں ہے علمہ۔ یہاں اپنی مرضی سے سونے کے اوقات مقرر نہیں ہوتے۔" علمہ نے تھکی ہوئی آنکھوں سے انہیں دیکھا۔ " آنٹی طبیعت بہت خراب تھی۔" " طبیعت خراب تھی یا رات دیر تک اپنے شوہر کو مصروف رکھا تھا۔" یہ جملہ علمہ کے دل پر چابک بن کر لگا۔ وہ خاموش رہی۔ شہناز بیگم کا لہجہ مزید سخت ہو گیا۔ " تمہیں اس گھر میں رہنے کا طریقہ سیکھنا ہوگا۔ صرف جہانزیب کی بیوی بن جانے سے کوئی اس گھر کی ملکہ نہیں بن جاتا۔" علمہ نے اپنے ہونٹ بھینچ لیے۔۔۔۔۔

 اس کے اندر کئی دنوں سے جمع خاموشی آج بغاوت پر اتر آئی۔ " میں نے کبھی خود کو اس گھر کی ملکہ نہیں سمجھا۔" شہناز بیگم چونک گئیں۔ علمہ کی آواز لرز رہی تھی۔ " میں نے ہمیشہ آپ کی عزت کی ہے۔ ہر بات برداشت کی ہے۔ ہر طعنہ خاموشی سے سنا ہے۔ ہر بار خود کو
قصور وار سمجھا ہے آج بھی میں معافی مانگ رہی ہوں۔" اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ مگر ہر بار صرف اس لیے جھکنا کہ سامنے والا طاقتور ہے یہ بھی انصاف نہیں ہے شہناز بیگم کا چہرہ سخت ہوگیا۔۔۔

" تم مجھ سے زبان چلا رہی ہو۔۔۔" علمہ نے آنکھیں بند کر لیں اسی لمحے اسے اندازہ ہو گیا کہ اس نے کیا کہہ دیا ہے۔ شہناز بیگم نے فوراً جہانزیب کو آواز دی۔ جہانزیب چند لمحوں بعد کمرے میں داخل ہوا۔ اس نے علمہ کو دیکھا۔ پھر اپنی ماں کو دیکھا۔ شہناز بیگم نے آنسو بھری آواز میں سب کچھ اپنے انداز میں بیان کر دیا۔

Download Novel PDF

Download Link 1 — MediaFireDownload Link 2 — Google Drive

Read Novel Online

Join WhatsApp Channel

Description — Urdu

**تیری دید از شیزہ خان** ایک جذباتی، ازدواجی رشتوں اور خاندانی تنازعات پر مبنی اردو ناول ہے، جس میں ایک بیوی کی خاموش قربانیاں، شوہر کی انا اور ساس کے سخت رویے کے باعث پیدا ہونے والی تلخیوں کو پیش کیا گیا ہے۔ یہ کہانی علمہ اور جہانزیب کی ہے، جن کے رشتے میں محبت اور قربت کے ساتھ بے اعتباری، تحکم اور دل آزاری بھی موجود ہے۔

علمہ ایک ایسی عورت تھی جس نے اپنی ازدواجی زندگی کو برقرار رکھنے کے لیے کئی مرتبہ اپنی خواہشات اور خوشیوں کو پسِ پشت ڈالا تھا۔ وہ اپنے شوہر جہانزیب اور اس کے خاندان کے ساتھ زندگی گزار رہی تھی، مگر اس گھر میں اسے بار بار اپنی عزتِ نفس اور برداشت کا امتحان دینا پڑتا تھا۔

جہانزیب ایک سخت مزاج اور انا پرست شخص تھا۔ اسے اپنی بات منوانے کی عادت تھی اور گھر کے دوسرے افراد بھی اس کے غصے سے محتاط رہتے تھے۔ اس کی والدہ شہناز بیگم کا رویہ بھی علمہ کے ساتھ نرم نہیں تھا۔

علمہ اپنی ساس کی باتیں اور طعنے برداشت کرتی رہی، لیکن ایک صبح اس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔

گزشتہ رات جہانزیب کی شدید جسمانی قربت کے بعد علمہ کی طبیعت بہت خراب تھی۔ اسے اتنی تکلیف محسوس ہو رہی تھی کہ وہ بار بار برف کی ٹکور کرتی رہی۔ جسمانی درد اور تھکن کے باعث وہ رات بھر مناسب آرام بھی نہیں کر سکی تھی۔

صبح جب اس کی آنکھ دیر سے کھلی تو شہناز بیگم اس کے کمرے کے دروازے پر موجود تھیں۔

انہوں نے علمہ کو دیر سے اٹھنے پر طعنے دینا شروع کر دیے اور کہا کہ یہ اس کا میکہ نہیں جہاں وہ اپنی مرضی سے سونے اور جاگنے کے اوقات طے کرے۔

علمہ نے انہیں بتایا کہ اس کی طبیعت خراب تھی، لیکن شہناز بیگم نے اس کی تکلیف سمجھنے کے بجائے اس کی ازدواجی زندگی کے متعلق بھی طنزیہ بات کی۔

یہ الفاظ علمہ کے لیے بہت تکلیف دہ تھے۔

وہ پہلے ہی جسمانی درد اور تھکن میں مبتلا تھی، جبکہ اس کی ساس کے جملے اس کی ذہنی پریشانی میں اضافہ کر رہے تھے۔

شہناز بیگم نے اسے یاد دلایا کہ صرف جہانزیب کی بیوی بن جانے سے وہ اس گھر کی ملکہ نہیں بن سکتی۔

علمہ نے اس بار خاموش رہنے کے بجائے جواب دیا کہ اس نے کبھی خود کو گھر کی ملکہ نہیں سمجھا۔

اس نے اپنی ساس کو بتایا کہ وہ ہمیشہ ان کی عزت کرتی رہی ہے، ان کے طعنے برداشت کرتی رہی ہے اور کئی مرتبہ اپنی غلطی نہ ہونے کے باوجود خود کو قصوروار سمجھتی رہی ہے۔

علمہ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔

اس نے کہا کہ صرف اس لیے ہر بار جھک جانا کہ سامنے والا زیادہ طاقتور ہے، انصاف نہیں۔

شہناز بیگم کو علمہ کا یہ جواب پسند نہ آیا۔

انہوں نے فوراً اسے زبان چلانے کا الزام دیا اور جہانزیب کو آواز دے کر بلا لیا۔

جہانزیب کمرے میں آیا تو شہناز بیگم نے سارا واقعہ اپنے انداز میں بیان کر دیا۔

کہانی کے ابتدائی منظر میں اس جھگڑے کا ایک انتہائی تکلیف دہ نتیجہ سامنے آتا ہے۔

جہانزیب بھری محفل میں علمہ پر غصہ کرتا ہے اور اسے حکم دیتا ہے کہ وہ اس کی والدہ سے معافی مانگے۔

اس کا لہجہ اتنا سخت ہوتا ہے کہ کمرے میں موجود دوسرے لوگ بھی خاموش ہو جاتے ہیں۔

علمہ اپنی صفائی دینے کی کوشش کرتی ہے، لیکن جہانزیب اسے بات مکمل کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔

وہ واضح الفاظ میں کہتا ہے کہ اگر علمہ نے اس کی ماں سے معافی نہ مانگی تو وہ اس کی زندگی سے نکل جائے۔

یہ دھمکی علمہ کے دل کو شدید ٹھیس پہنچاتی ہے۔

وہ اس شخص کو دیکھتی رہ جاتی ہے جس کے ساتھ اس نے اپنی زندگی وابستہ کی تھی اور جس کے لیے اپنی کئی خواہشات قربان کی تھیں۔

اب وہی شخص اسے سب کے سامنے ذلیل کر رہا تھا۔

علمہ اپنی عزتِ نفس کو مجروح ہوتے محسوس کرتی ہے، لیکن حالات کے دباؤ میں شہناز بیگم کے سامنے جا کر ہاتھ جوڑ دیتی ہے۔

وہ مدھم آواز میں معافی مانگتی ہے۔

شہناز بیگم خاموش رہتی ہیں، جبکہ جہانزیب اپنی بیوی کو اس طرح جھکتے دیکھ کر کچھ لمحوں کے لیے مختلف کیفیت محسوس کرتا ہے۔

اس کا غصہ کم ہونے لگتا ہے، مگر علمہ کے دل پر لگنے والی چوٹ ختم نہیں ہوتی۔

کہانی کے ابتدائی حصے میں آگے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ایک رات جہانزیب کی آنکھ کھلتی ہے تو علمہ کمرے میں موجود نہیں ہوتی۔

اسے علمہ کا ایک خط ملتا ہے۔

خط میں علمہ اسے یاد دلاتی ہے کہ اس نے اپنی ماں کو خوش کرنے کے لیے اپنے بچے کی ماں کو دھتکار دیا۔

وہ جہانزیب سے کہتی ہے کہ وہ اس کے بچے کا باپ کہلانے کے لائق نہیں۔

یہ الفاظ اس بات کا اشارہ دیتے ہیں کہ علمہ کے دل میں جمع ہونے والا دکھ اب ایک بڑے فیصلے میں تبدیل ہو چکا ہے۔

اس نے اپنی تکلیف کو خاموشی سے برداشت کرتے رہنے کے بجائے گھر چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔

لیکن علمہ کہاں گئی، اس کی موجودہ حالت کیا ہے اور جہانزیب اس خط کو پڑھنے کے بعد کیا قدم اٹھائے گا، یہ ابھی سامنے نہیں آیا۔

کیا جہانزیب کو اپنی بیوی کی بے عزتی اور اس کی تکلیف کا احساس ہوگا؟

کیا شہناز بیگم اپنے رویے پر غور کریں گی؟

اور کیا علمہ اپنے لیے ایک ایسی زندگی کا انتخاب کر سکے گی جہاں اس کی عزت اور مرضی کو اہمیت دی جائے؟

**تیری دید** ایک ایسی عورت کی کہانی ہے جو ازدواجی رشتے میں اپنی عزتِ نفس، جسمانی تکلیف اور جذباتی ضرورتوں کو نظرانداز ہوتے دیکھتی ہے، یہاں تک کہ حالات اسے ایک مشکل فیصلہ کرنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔

Summary — Urdu

**تیری دید** علمہ اور جہانزیب کی ازدواجی زندگی پر مبنی ایک جذباتی اردو ناول ہے، جس میں شوہر کی انا، ساس کے طعنے اور بیوی کی عزتِ نفس کے درمیان پیدا ہونے والے تنازعات کو دکھایا گیا ہے۔

علمہ اپنے شوہر جہانزیب اور ساس شہناز بیگم کے ساتھ زندگی گزار رہی ہوتی ہے۔ وہ گھر میں سکون برقرار رکھنے کے لیے کئی باتیں برداشت کرتی ہے، مگر اسے مسلسل سخت رویوں کا سامنا رہتا ہے۔

ایک رات جہانزیب کی شدید جسمانی قربت کے بعد علمہ کی طبیعت خراب ہو جاتی ہے۔ وہ درد اور تھکن کے باعث رات بھر مناسب آرام نہیں کر پاتی اور اپنی تکلیف کم کرنے کے لیے برف کی ٹکور کرتی رہتی ہے۔

صبح دیر سے اٹھنے پر شہناز بیگم اسے طعنے دیتی ہیں۔

علمہ اپنی طبیعت خراب ہونے کی وضاحت کرتی ہے، لیکن اس کی ساس اس کی بات سمجھنے کے بجائے مزید سخت جملے کہتی ہیں۔

علمہ اس بار جواب دیتی ہے کہ وہ ہمیشہ ان کی عزت کرتی رہی ہے، مگر ہر مرتبہ صرف طاقتور شخص کے سامنے جھک جانا انصاف نہیں۔

شہناز بیگم ناراض ہو کر جہانزیب کو بلا لیتی ہیں اور واقعہ اپنے انداز میں بیان کرتی ہیں۔

ابتدائی منظر میں جہانزیب سب کے سامنے علمہ کو حکم دیتا ہے کہ وہ اس کی ماں سے معافی مانگے، ورنہ اس کی زندگی سے نکل جائے۔

علمہ شدید ذلت محسوس کرتی ہے، مگر دباؤ میں شہناز بیگم کے سامنے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگ لیتی ہے۔

جہانزیب کا غصہ کم ہو جاتا ہے، لیکن علمہ کے دل کو پہنچنے والی تکلیف برقرار رہتی ہے۔

بعد میں ایک رات جہانزیب کی آنکھ کھلتی ہے تو علمہ کمرے سے غائب ہوتی ہے۔

وہ اس کا چھوڑا ہوا خط پڑھتا ہے، جس میں علمہ اپنے بچے کا ذکر کرتے ہوئے اسے اپنی ماں کی خاطر بیوی کو دھتکارنے کا ذمہ دار ٹھہراتی ہے۔

علمہ کہاں گئی ہے اور جہانزیب اس خط کے بعد کیا کرے گا، یہ ابھی معلوم نہیں۔

کیا جہانزیب کو اپنی غلطی کا احساس ہوگا؟ کیا علمہ اپنے لیے باعزت زندگی کا راستہ تلاش کر سکے گی؟ اور کیا ان کے رشتے میں پیدا ہونے والی دوری کبھی ختم ہو سکے گی؟

Related Keywords

Teri Deed (تیری دید) Novel, Teri Deed (تیری دید) Urdu Novel, Teri Deed (تیری دید) PDF

Support Novelistan ❤️

Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.

EasyPaisa / JazzCash

0309 1256788

Account name: Safia Bano

Bank Transfer (UBL)

United Bank Limited

Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131

Name: Sadia Hassan

IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131

Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕

Frequently asked questions

Who wrote Teri Deed Novel21051 — Novelistan?

Teri Deed Novel21051 — Novelistan is written by Sheeza Khan.

Is Teri Deed Novel21051 — Novelistan complete or ongoing?

The recorded status of this novel is Complete.

What categories is this novel listed under?

This novel is listed under After Marriage and Complete Urdu Novel.

Where can I read Teri Deed Novel21051 — Novelistan?

The reading content is available in the Read online section of this page.

Share this Novel

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *