Teri Bahoon Main By Muskan Novel21019
Teri Bahoon Main By Muskan Novel21019
Romantic | Contract Marriage | Rude Hero | Rich Hero Poor Heroine | After Marriage | Pregnancy | Businessman Hero | Emotional | Family Drama | Marriage Deal | Regret | Possessive Hero | Husband Wife

Teri Bahoon Main By Muskan aik emotional contract marriage, rude hero aur rich hero poor heroine based romantic Urdu novel hai.
” شروع کے تین سال میں اگر تم نے مجھے تین لڑکے پیدا کر کے نہیں دیے تو میں تمہیں طلاق دے دوں گا۔” میرب اس سفاک کی باتیں سنتے کانپی تھی۔ ” م۔۔ مجھے سب قبول ہے بس میری ماں کا علاج کروادیں۔۔۔۔” وہ حسام وجدان کے آگے گڑ گڑائی تھی۔ ” ٹھیک ہے کل تیار رہنا نکاح کر کے تمہیں فلیٹ پر لے کے جاؤں گا۔۔۔۔” میرب کا ساتواں مہینہ چل رہا تھا۔ سیڑھیوں سے گرنے کی وجہ سے اسے ایمر جنسی میں ہاسپٹل لے گئے۔ ” سوری سر آپ کی وائف کے پرانے الٹراساؤنڈ رپورٹس میں ایک ہی بچہ آیا تھا ابھی پتہ چلا ہے کہ ان کے پیٹ میں تین بچے ہیں لیکن ام میچیور ڈلیوری کی وجہ سے ہم کسی ایک کی جان ہی بچا سکتے ہیں۔ ان پیپرز پہ سائن کر دیں۔” آپریشن ٹھیٹڑ کے باہر حسام بے جان کھڑا تھا۔ اچانک میرب کی ایک خوفناک چیخ نکلی اور تین بچوں کے رونے کی آواز کانوں سے ٹکرائی۔۔
۔ پورے ہسپتال میں سکوت کا عالم تھا گھڑی کی سوئی کی ٹک ٹک حسام کے دماغ میں کسی ہتھوڑے کی طرح بج رہی تھی وہ خاموش تھا مگر ہسپتال کے کمرے کے باہر ایک نوجوان شخص عجیب بےبسی کا شکار تھا۔ حسام وجدان جس کے ایک اشارے پر شہر کی بڑی بڑی ڈیلز طے پا جاتی تھیں، جو اپنی ضدی اور سفاک طبیعت کے لیے مشہور تھا بہت سی کمپنیاں جو حسام سے ڈیل کرنے کو ترستی لیکن سب جانتے تھے کہ حسام سے جو ایک مرتبہ ڈیل کر لیتا پھر وہ پیچھے نہیں ہٹ سکتا تھا۔۔۔کیونکہ پھر پیچھے ہٹنے والے کو وہ تباہ و برباد کر دیتا تھا پورا شہر اس کی دہشت میں تھا ہر کوئی اس کا نام سنتے ہی تھر تھر کانپنے لگتا وہ جہاں قدم رکھتا وہاں پر جیسے ایک نئی دنیا آباد ہو جاتی ہر کوئی سہم کراس کی طرف دیکھتا اور آج وہ خود کسی لڑکی کے لیے بے چین ہو رہا تھا پریشان ہو رہا تھا جیسے اس کا کچھ رک سا گیا تھا۔
آج ہسپتال کی ٹھنڈی دیوار سے ٹیک لگائے بے جان سا کھڑا تھا۔ اس کے ہاتھوں میں ڈاکٹر کی دی ہوئی وہ فائل تھی جس پر اس کے دستخط میرب یا اس کے بچوں کی زندگی اور موت کا فیصلہ کر سکتے تھے۔” شروع کے تین سال میں اگر تم نے مجھے تین لڑکے پیدا کر کے نہیں دیے تو میں تمہیں طلاق دے دوں گا!۔۔۔ ” اس کے اپنے ہی کہے ہوئے الفاظ اس کے کانوں میں ہتھوڑے کی طرح بج رہے رہے تھے۔ کیا اس کے الفاظ اس کے سامنے آ رہے تھے اس کی آنکھوں میں آنسو تھے تبھی اسے میرب کے آنسو یاد آئے اس دن میرب کے آنسو، اس کا خوف سے کانپتا وجود، اس کی گڑ گڑاہٹ… “مم۔ مجھے سب قبول ہے بس میری ماں کا علاج کروا دیں… ” حسام نے اس کی بےبسی کا بھر پور فائدہ اٹھایا تھا اور اس وقت اسے اس پر ترس بھی نہ آیا اسے اس بات کا اندازہ ہی نہ ہوا کہ وہ کتنی بڑی غلطی کرنے جا رہا ہے۔۔۔۔
یقینا اس کے بعد اسے اپنی غلطی پر پچھتاوا ہونا تھا کیونکہ وقت ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہتا جو شخص اڑنے کی کوشش کرتا ہے پھر وقت اسے گرا بھی دیتا ہے اور اوندھے منہ گراتا ہے کہ انسان نہ سیدھا ہونے کے قابل رہتا ہے اور نہ ہی گرے رہنے کے اور پھر وہ وقت آیا جہاں پہلے وہ میرب پر قابض تھا لیکن آج، جب وہ خود اس موڑ پر کھڑا تھا جہاں اس کی ضد پوری ہو رہی تھی مگر آج نہ تو وہ مغرور تھا اور نہ ہی بادشاہ وہ تو بس بے بسی سے کھڑا تھا۔۔۔۔تین بچے! تو اس کے اندر کا غرور چور چور ہو رہا تھا۔”سر فائل پر سائن کر دیں، وقت بہت کم ہے!” ڈاکٹر نے مضطرب ہو کر حسام کے شانے کو ہلایا۔ ” ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا، بچوں کی سانسیں اکھررہی ہیں اور میرب بی بی کا بلڈ پریشر خطرناک حد تک گر چکا ہے۔ پیشنٹ کی جان بھی خطرے میں ہے!” حسام نے کپکپاتے ہاتھوں سے پین اٹھایا۔ اس کی آنکھوں کے سامنے میرب کا وہ معصوم چہرہ گھوم گیا جو پچھلے سات مہینوں سے خاموشی سے اس کے ہر حکم کی تعمیل کر رہا تھا۔ وہ فلیٹ کی تنہائی میں گھٹتی رہی، اس کے تلخ رویے سہتی رہی، لیکن اس نے کبھی شکایت نہیں کی تھی۔ ” میں…” حسام کی آواز حلق میں اٹک گئی۔ ” میں میرب کو نہیں کھو سکتا۔ مجھے میری بیوی چاہیے! ڈاکٹر، مجھے میرب زندہ چاہیے، سن رہے ہیں آپ؟”ڈاکٹر نے جلدی سے فائل اس کے ہاتھ سے جھپٹی اور آپریشن تھیڑ کا بھاری دروازہ بند ہوگیا۔
وقت جیسے تھم گیا تھا۔ ہسپتال کی راہداری میں لگی گھڑی کی ٹک ٹک حسام کے دل کی دھڑکنوں سے مقابلہ کر رہی تھی۔ حسام نے اپنے چہرے کو دونوں ہاتھوں میں چھپا لیا۔۔۔۔ آج اسے پہلی بار احساس ہوا تھا کہ میرب اس کے لیے صرف ایک معاہدہ نہیں تھی، وہ خاموشی سے اس کی زندگی کے تانے بانے میں بن چکی تھی۔ اس کا صبح کا چائے کا کپ، اس کے کپڑے سنبھالنا، اس کے ڈر کر پیچھے ہٹنا۔۔۔۔۔حسام کے پیچے بھاگنا دل میں ایک عجیب سا درد اٹھا۔ “یا اللہ۔۔۔۔۔” حسام نے اپنی زندگی میں شاید پہلی بار اتنی عاجزی سے ہاتھ اٹھائے تھے۔ ” میں نے اس پر ظلم کیا۔ میں نے اس کی مجبوری کا فائدہ اٹھایا۔ مجھے معاف کر دے… میری میرب کو بچا لے۔۔۔۔ ” ابھی وہ دعا مانگ ہی رہا تھا کہاچانک آپریشن تھیٹر کے اندر سے میرب کی ایک خوفناک چیخ ابھری! حسام کا دل سینے سے نکل کر حلق میں آگیا۔ اس نے جلدی سے آگے بڑھ کر دروازے کا شیشہ دیکھا۔ اندر افرا تفری مچی ہوئی تھی۔ اور پھر… ایک کے بعد ایک، لیکن تین بچوں کے رونے کی آوازیں آنے لگیں
نیچے دیے گئے 4 ڈاؤنلوڈ لنکس میں سے 3 لنکس پر اشتہار آ سکتا ہے، جبکہ 1 لنک اصل ڈاؤن لوڈ لنک ہے۔
ہماری درخواست ہے کہ کسی بھی لنک کو بند کیے بغیر تھوڑا صبر سے استعمال کریں۔
آپ کی یہی چھوٹی سی سپورٹ ہمیں مزید ناول آپ تک پہنچانے میں مدد دیتی ہے
1st Link
2nd Link
3rd Link
4th Link
Skip to PDF contentSummary
تیری بانہوں میں از مسکان ایک جذباتی رومانوی ناول ہے جس کی کہانی میرب اور ایک سخت دل، ضدی اور بااثر بزنس مین حسام وجدان کے گرد گھومتی ہے۔ میرب اپنی ماں کے علاج کے لیے ایسے حالات میں پھنس جاتی ہے جہاں اسے حسام کی ایک سخت شرط قبول کرنا پڑتی ہے۔
حسام اس کی مجبوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے شادی کے ابتدائی تین برسوں میں تین بیٹوں کی خواہش اس کے سامنے شرط کی صورت میں رکھ دیتا ہے۔ اپنی ماں کی زندگی بچانے کے لیے بےبس میرب اس رشتے کو قبول کر لیتی ہے۔ نکاح کے بعد وہ حسام کے فلیٹ میں آ جاتی ہے، جہاں اس کی زندگی محبت سے زیادہ خاموشی، خوف اور حسام کے تلخ رویّے کے درمیان گزرتی ہے۔
وقت گزرتا ہے اور میرب حاملہ ہو جاتی ہے، مگر حمل کے ساتویں مہینے میں سیڑھیوں سے گرنے کا ایک حادثہ اسے ہسپتال پہنچا دیتا ہے۔ وہاں حسام کے سامنے ایک ایسی حقیقت آتی ہے جو اس کے غرور اور برسوں سے قائم سخت مزاجی کو ایک لمحے میں ہلا کر رکھ دیتی ہے۔
پرانے الٹراساؤنڈ میں ایک بچے کی موجودگی سامنے آئی تھی، مگر ہسپتال میں معلوم ہوتا ہے کہ میرب کے پیٹ میں تین بچے ہیں۔ قبل از وقت زچگی اور میرب کی بگڑتی حالت کے باعث صورتحال انتہائی خطرناک ہو جاتی ہے۔
یہی وہ لمحہ ہے جب حسام کو پہلی بار احساس ہوتا ہے کہ جس لڑکی کو اس نے کبھی ایک معاہدے اور اپنی خواہشات تک محدود رکھا تھا، وہ خاموشی سے اس کی زندگی کا اہم حصہ بن چکی ہے۔ اب اس کے سامنے اپنی ضد نہیں بلکہ میرب کی زندگی سب سے زیادہ اہم ہے۔
Synopsis
تیری بانہوں میں از مسکان میرب کی کہانی ہے، جو اپنی بیمار ماں کے علاج کے لیے حسام وجدان کی سخت شرائط پر اس سے شادی کرنے پر مجبور ہو جاتی ہے۔ حسام ایک دولت مند، بااثر اور سفاک مزاج بزنس مین ہے جس کے لیے اپنی بات منوانا معمول کی بات ہے۔
میرب کی مجبوری اسے حسام کے ساتھ ایسے ازدواجی رشتے میں لے آتی ہے جس کی بنیاد محبت کے بجائے ضرورت اور شرط پر رکھی گئی تھی۔ وہ حسام کے سخت رویّے کو خاموشی سے برداشت کرتی رہتی ہے، یہاں تک کہ وقت دونوں کی زندگی کو ایک ایسے مقام پر لے آتا ہے جہاں حسام کے اپنے فیصلے اور رویّے اس کے سامنے سوال بن کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔
حمل کے ساتویں مہینے میں پیش آنے والا حادثہ اور میرب کی تشویشناک حالت حسام کو پہلی بار اپنی بےبسی کا احساس دلاتی ہے۔ جس شخص کے سامنے بڑے بڑے لوگ جھک جاتے تھے، وہ ہسپتال کی ایک راہداری میں اپنی بیوی کی زندگی کے لیے دعا کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔
Teri Bahoon Main By Muskan, Teri Bahoon Main Novel By Muskan, Teri Bahoon Main Novel21019, Teri Bahoon Main Urdu Novel, Muskan Novels, Meerab And Hissam Wajdan Novel, Hissam Wajdan Novel, Contract Marriage Urdu Novel, Marriage Deal Urdu Novel, Rude Hero Urdu Novel, Ruthless Hero Urdu Novel, Rich Hero Poor Heroine Urdu Novel, Businessman Hero Urdu Novel, Pregnancy Based Urdu Novel, Triplets Urdu Novel, After Marriage Urdu Novel, Husband Wife Urdu Novel, Possessive Hero Urdu Novel, Emotional Romantic Urdu Novel, Regret Based Urdu Novel, Family Drama Urdu Novel, Pakistani Romantic Novel, Complete Urdu Novel, Read Urdu Novels Online
#TeriBahoonMain #Muskan #Novel21019 #ContractMarriage #RudeHero #RichHeroPoorHeroine #BusinessmanHero #AfterMarriage #PregnancyNovel #PossessiveHero #HusbandWife #EmotionalNovel #RomanticUrduNovel #UrduNovel #Novelistan
Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕