Galey Milta Hai Khwab Koi By Mehwish Iftikhar Nove20913

Enemies to Lovers | Emotional Romance | Strong Hero | Strong Heroine | Family Drama | Social Romantic | Suspense | Power Couple | Emotional Love Story | Forced Attraction

گلے ملتا ہے خواب کوئی محبت، انا، طاقت اور قسمت کے غیر متوقع کھیل کی ایک دلکش داستان ہے۔ علینہ اپنی عزتِ نفس اور اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کرتی، جبکہ علی شیر باران اپنی شخصیت اور اثرورسوخ کے بل پر ہر ناممکن چیز کو ممکن سمجھتا ہے۔ پہلی ہی گفتگو دونوں کے درمیان فاصلے پیدا کر دیتی ہے، مگر قسمت انہیں بار بار ایک دوسرے کے سامنے لا کھڑا کرتی ہے۔ وقت کے ساتھ جذبات بدلتے ہیں، راز سامنے آتے ہیں اور دونوں کو ایسے فیصلوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو ان کی پوری زندگی بدل دیتے ہیں۔

Galey Milta Hai Khwab Koi By Mehwish Iftikhar Urdu Novel Cover | Emotional Romantic Novel

Galey Milta Hai Khwab Koi by Mehwish Iftikhar is an emotional Urdu novel featuring a powerful hero, emotional romance, suspense, family drama, and unforgettable love.

اول تو میں یہ مان ہی نہیں سکتا کہ آپ نے مجھے نہیں پہچانا۔ لیکن پھر بھی اگر آپ انجان بننے پہ تلی ہوئی ہیں تو کوئی بات نہیں، علی شیر باران بات کر رہا ہوں۔” وہ محظوظ سے لہجے میں بولا تو اس درجہ گھمنڈ علینہ کی پیشانی شکن آلود کر گیا۔ “آپ کو یہ خوش فہمی کیوں ہے کہ کوئی آپ کو بھلا نہیں سکتا؟” وہ چاہ کر بھی اپنے لہجے میں در آنے والی تلخی کو چھپا نہ سکی۔ مگر دوسری جانب بھی شاید بلا کا خود پسند شخص تھا۔ جب ہی وہ اس کی بات کا برا مانے بغیر انتہائی سکون سے گویا ہوا تھا: “اس لیے کہ علی شیر باران کو بھلانا اتنا آسان نہیں۔” “اور اگر میں یہ کہوں کہ میں کسی علی شیر باران کو نہیں جانتی تو؟” وہ دو بدو بولی تھی۔ “تو میں یہ کہوں گا کہ جھوٹ آپ جیسی صوم و صلوٰۃ کی پابند لڑکی پہ جچتا نہیں ہے۔” وہ اس کی بات سے لطف اندوز ہوتے ہوئے مزے سے بولا تو دوسری طرف اس کی توقع کے عین مطابق چند پل کے لیے خاموشی چھا گئی۔ “ڈر گئی ہیں یا یہ سوچ رہی ہیں کہ میں آپ کے بارے میں یہ سب کیسے جانتا ہوں؟” اس نے مسکرا کر سوال کیا تو علینہ اس کے درست اندازوں پہ کھولتی غصے سے بولی: “نہ تو میں ڈری ہوں اور نہ ہی حیران ہوں، بلکہ میں یہ سوچ رہی ہوں کہ آپ جیسے ڈھیٹ انسان سے اپنا پیچھا کیسے چھڑاؤں؟” “وہ آپ کہتی ہیں تو مان لیتا ہوں۔ ورنہ مجھے یقین ہے کہ آپ یہ نہیں سوچ رہی تھیں۔” وہ ایک بار پھر اس کی بات کا برا مانے بغیر نارمل لہجے میں بولا۔ “دیکھیں علی شیر صاحب! میں غیر مردوں سے باتیں یا ان سے دوستی کرنے والی لڑکی نہیں ہوں۔ اس لیے پلیز میری آپ سے ریکویسٹ ہے کہ آپ مجھے پریشان مت کریں۔” گہری سانس لیتے ہوئے اس نے قصداً نرمی سے کہا۔ “میں اس حقیقت سے بخوبی واقف ہوں کہ آپ کوئی عام لڑکی نہیں ہیں علینہ! جب ہی تو میں نے زندگی میں پہلی بار کسی کی جانب خود پیش رفت کی ہے۔” وہ اس کی استدعا کو نظر انداز کیے بنا ہچکچاہٹ کے اپنا مدعا واضح الفاظ میں بیان کرتا ہوا بولا تو علینہ کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ “آپ ہوتے کون ہیں میری طرف پیش رفت کرنے والے؟ اور کیا سوچ کر آپ نے مجھے اتنے زعم سے یہ اطلاع دی ہے؟ آپ کوئی اونچی چیز ہوں گے تو اپنے گھر میں! میں آپ جیسے کرپٹ لوگوں سے بات کرنا بھی اپنی توہین سمجھتی ہوں۔ دوبارہ مجھے فون کرنے کی غلطی مت کیجیے گا۔” اس کی آواز بے اختیار ہی اونچی ہو گئی تھی۔ “اور دوبارہ آپ بھی مجھ سے اس لہجے میں بات کرنے کی غلطی مت کیجیے گا!” وہ یکلخت انتہائی سرد لہجے میں بولا تو علینہ کی شعلے برساتی زبان تالو سے لگ گئی۔ اس کی حیثیت اور اس کی طاقت کا احساس بڑی شدت سے علینہ کے اندر جاگ کر اسے خوفزدہ کر گیا۔ “علی شیر باران کو آرڈر دینے والا ابھی اس دنیا میں پیدا نہیں ہوا! اس لیے آئندہ مجھ سے بات کرتے ہوئے اپنے لب و لہجے کا خیال رکھیے گا۔” انتہائی کرو فر سے بولتا ہوا وہ نئے سرے سے علینہ کے غصے کو ہوا دے گیا تھا۔ وہ شخص خود کو سمجھ کیا رہا تھا؟ جل کر سوچتے ہوئے اس نے بے اختیار دانت پیسے۔ “میں آپ سے دوبارہ بات کروں گی تو کسی چیز کا خیال رکھوں گی ناں!” “چلیں دیکھیں گے۔” استہزائیہ انداز میں کہتے ہوئے اس نے جیسے کان پہ سے مکھی اڑائی تھی۔ “ویسے آج آپ آف وائٹ ڈریس میں کافی اچھی لگ رہی تھیں۔ یہ رنگ آپ پہ خاصا جچ رہا تھا، اس لیے عموماً یہی پہنا کریں۔” نرم لہجے میں اس کی سماعتوں پر بم گراتا وہ فون بند کر گیا تھا اور پیچھے وہ پھٹی پھٹی آنکھوں اور سنسناتے دماغ کے ساتھ کتنی ہی دیر اپنی جگہ سے ہلنے کے قابل نہ رہی تھی۔

نیچے دیے گئے 4 ڈاؤنلوڈ لنکس میں سے 3 لنکس پر اشتہار آ سکتا ہے، جبکہ 1 لنک اصل ڈاؤن لوڈ لنک ہے۔

ہماری درخواست ہے کہ کسی بھی لنک کو بند کیے بغیر تھوڑا صبر سے استعمال کریں۔

آپ کی یہی چھوٹی سی سپورٹ ہمیں مزید ناول آپ تک پہنچانے میں مدد دیتی ہے

1st Link

Download link

2nd Link

Download Link

3rd Link

Download Link

4th Link

Download Link

گلے ملتا ہے خواب کوئی از مہوش افتخار ایک منفرد، سسپنس سے بھرپور اور جذباتی اردو ناول ہے، جس میں ایک طاقتور اور خوداعتماد ہیرو، باوقار اور اصول پسند ہیروئن، خاندانی معاملات، انا، محبت، غلط فہمیاں اور جذباتی کشمکش کو نہایت خوبصورتی سے پیش کیا گیا ہے۔

علینہ ایک باپردہ، بااصول اور دین دار لڑکی ہے جو غیر مردوں سے فاصلے رکھنا اپنی تربیت کا حصہ سمجھتی ہے۔ دوسری طرف علی شیر باران ایک بااثر، طاقتور اور بےحد خوداعتماد شخصیت کا مالک ہے، جو پہلی ہی ملاقات کے بعد علینہ میں غیر معمولی دلچسپی لینے لگتا ہے۔ دونوں کی پہلی گفتگو ہی انا، غرور اور سخت جملوں سے بھرپور ہوتی ہے، مگر یہی تلخی آہستہ آہستہ ایک ایسی کہانی کی بنیاد بنتی ہے جس میں محبت، آزمائش، خاندانی راز اور قسمت کے حیران کن موڑ شامل ہیں۔

اگر آپ طاقتور ہیرو، مضبوط ہیروئن، دشمنی سے محبت، جذباتی رومانس اور سسپنس سے بھرپور اردو ناول پسند کرتے ہیں تو گلے ملتا ہے خواب کوئی ضرور پڑھیں۔

Skip to PDF content

Galey Milta Hai Khwab Koi By Mehwish Iftikhar, Galey Milta Hai Khwab Koi Novel, Mehwish Iftikhar Novels, Urdu Novel, Romantic Urdu Novel, Emotional Urdu Novel, Strong Hero Novel, Strong Heroine Story, Enemies To Lovers, Family Drama, Social Romantic Novel, Suspense Urdu Novel, Love Story, Emotional Romance, Pakistani Urdu Novel, Complete Urdu Novel, Read Online, Best Urdu Novels, Novelistan

#GaleyMiltaHaiKhwabKoi #MehwishIftikhar #UrduNovel #RomanticNovel #EmotionalRomance #EnemiesToLovers #FamilyDrama #SuspenseNovel #StrongHero #StrongHeroine #LoveStory #UrduFiction #PakistaniNovels #ReadOnline #Novelistan

Support Novelistan ❤️

Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.

EasyPaisa / JazzCash

0309 1256788

Account name: Safia Bano

Bank Transfer (UBL)

United Bank Limited

Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131

Name: Sadia Hassan

IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131

Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *