Junoon E Janam By Habiba Writes Novel21017

Romantic Comedy | Police Officer Hero | Forced Marriage | Family Drama | Rude & Possessive Hero | Strong Family Bond | Emotional Romance | Light-Hearted Romance | Urdu Novel

Description

Junoon E Janam by Habiba is a light-hearted romantic Urdu novel filled with playful misunderstandings, family bonds, teasing romance, and an unexpected connection between a police officer and a strong-willed girl. When SP Hamdan Sehgal takes Azki’s playful dare seriously, their relationship turns into a hilarious yet emotional journey of love, arguments, possessiveness, and family drama.

پوز کرو، یہ تمھارا ڈئیر ہے۔” ازکٰی کی دوستوں نے سامنے روڈ پر کھڑے ایس پی کی طرف اشارہ کر کے کہا، جو اپنے تین اہلکاروں کے ساتھ کھڑا تھا۔ ازکی مرے مرے قدموں سے جا کر بولی، “صبح کہا تھا آپ سے جلدی آنا، لیکن آپ تو یہاں کھڑے گپیں مار رہے ہیں، بیوی کی کوئی فکر نہیں۔” ازکی ناٹک کرتی خفگی سے بولی۔ سب اہلکار حیران تھے، ایس پی کا چہرہ ضبط سے سرخ ہوا۔ “شام کو گھر آئیے گا، پھر بات ہوگی۔” اب وہ خفگی سے واپس مڑی تھی اور ایس پی حمدان سہگل کی آنکھیں حیرت سے پھٹی رہ گئی تھیں۔ “تمھیں پرپوز کرنے کا کہا تھا، ڈئیر پورا نہیں ہوا۔” اس کی دوستیں منہ بنا کر بولی۔ “پولیس والے کو پرپوز کرتی تو گولی مار دیتا وہ مجھے۔” ازکی نے منہ بنا کر کہا تو اس کی دوستیں ہنسنے لگی۔ رات وہ سوئی ہوئی تھی جب کوئی اسے اپنے حصار میں لے کر بولا، “جانم! ابھی تک ناراض ہو اپنے ایس پی سے؟” اس آواز پر ازکی دھک سے رہ گئی کیونکہ وہ اس کے بہت قریب تھا۔ ازکی فوراً اس سے دور ہوئی تھی۔ “یہ… یہ کیا بدتمیزی ہے؟ آپ کمرے میں کیسے آئے؟” وہ بیڈ سے دور ہوئی تھی۔ اس کا دوپٹہ بھی بیڈ پر ہی پڑا تھا۔ اس میں اتنی ہمت بھی نہیں تھی کہ وہ اس شخص کے قریب جا کر دوپٹہ ہی اٹھا لیتی۔ اس نے جلدی سے لائٹس آن کر دی تھیں۔ حمدان سہگل بیڈ سے اٹھا تھا۔ وہ اسے غصے میں گھور رہی تھی۔ حمدان نے دوپٹہ بیڈ سے اٹھا کر اس کی طرف پھینکا تھا اور ازکی نے جلدی سے دوپٹہ اپنے گرد اچھی طرح لپیٹ لیا تھا۔ وہ اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھ رہی تھی۔ “میں نے پوچھا، میرے کمرے میں کیا کر رہے ہیں؟” “ارے، تم مجھ سے ناراض تھی۔ میں تو تمہیں منانے آیا ہوں۔ تم ہی تو کہہ رہی تھی شام کو گھر پر بات ہوگی۔ میں تو تمہارا انتظار ہی کرتا رہا، مگر تم گھر آئی نہیں، پھر مجھے مجبوراً یہاں آنا پڑا۔” وہ آنکھیں پٹپٹاتے ہوئے معصومیت سے بولا تھا۔ “دیکھیں مسٹر! وہ میری دوستوں نے مجھے ڈئیر دیا تھا اور آپ اتنی سی بات بھی نہیں سمجھ سکتے؟ وہ سب میں نے ڈئیر پورا کرنے کے لیے کیا ہے۔ آپ تو سیریس ہی ہو گئے ہیں۔” “بھئی، مجھے نہیں پتہ ٹرتھ اینڈ ڈئیر کا۔ میں تو سیریس ہوں۔ تم نے مجھے کہا بیوی کی فکر نہیں، میں بیوی کی فکر کے لیے یہاں آ گیا ہوں۔ اب تو میری بیوی کو میرے ساتھ چلنا ہوگا۔” اور وہ حیرت سے سر پھرے آدمی کو دیکھ لیتی تھی۔ “دماغ تو خراب نہیں ہو گیا؟ پاگل واگل تو نہیں ہو گئے؟ مجھے لگتا ہے تمہیں ایس پی کے بجائے پاگل خانے میں شفٹ ہو جانا چاہیے۔ نکلو ابھی اسی وقت میرے گھر سے۔ پولیس والا ہوگا تو اپنی جگہ، میرے چار بھائی ہیں۔ چار بھائیوں کی اکلوتی بہن ہوں۔ وہ تمہاری ہڈیوں کا کچومر بنا دیں گے” “اچھا، یہ بات ہے؟ تو جاؤ نیچے اپنے بھائیوں کو بلا کر لاؤ۔ تمہارے بھائی تو نیچے پارٹی میں مصروف ہیں نا، تمہارے افنان بھیا کے کچھ دوست آئے ہوئے ہیں اسی لیے۔ جاؤ، اگر بلا سکتی ہو تو بلا لاؤ۔” وہ صوفے پر بیٹھا ڈھٹائی سے بولا تھا اور ازکی باہر کی طرف بڑھی تھی۔ وہ اپنے کمرے سے نکلی تھی اور سیڑھیاں اترتے ہوئے نیچے آئی تھی۔ گھر کا داخلی دروازہ کھول کر وہ باہر لان میں آ گئی تھی۔ لان عبور کر کے وہ بیٹھک کی طرف آئی تھی۔ یہ بھی ان کے ہی گھر کا حصہ تھا اور یہاں یہ ازکی کے بھائیوں نے اپنے لیے خاص طور پر بنوایا تھا۔ جب ان کے دوست آتے تھے تو وہ یہیں پر قیام کرتے تھے۔ وہ غصے میں بیٹھک کی طرف بڑھ رہی تھی، تب ہی اس کے بھیا کی نظر اس پر پڑی تو وہ باہر آئے تھے۔ “ارے ازکی بچے، کیا ہوا؟” “وہ بھیا، میرے کمرے میں کوئی ہے۔” اور افنان کو حیرت ہوئی تھی۔ “یہ کیا کہہ رہی ہو؟ کون ہے کمرے میں؟” افنان کے پیچھے ہی اس کے باقی تینوں بھائی بھی آواز سن کر باہر نکلے تھے اور دوسری طرف فون سنتا ان کا دوست بھی کال بند کرتا واپس آیا تھا۔ “افنان، سب ٹھیک ہے؟ اگر چور وغیرہ آئے ہیں تو مجھے بتاؤ۔ آج تو پولیس چوروں کی واردات سے پہلے پہنچ چکی ہے۔” اور اسے وہاں کھڑا دیکھ کر اسے حیرت ہوئی تھی۔ “بھیا، یہ کون ہے؟” “ارے، یہ میرا دوست ہے، ایس پی حمدان سہگل۔” اور ازکی نے اپنے بھیا کے اس دوست کا آج سے پہلے صرف نام سنا تھا۔ اس کی یہ پہلی ملاقات تھی۔ “افنان، باتوں میں ٹائم ضائع نہیں کرو، چلو آؤ چور کو پکڑتے ہیں۔” حمدان جان بوجھ کر ازکی کو چھیڑتے ہوئے بولا تھا اور اس نے گن بھی نکالی تھی۔ وہ سب آگے پیچھے ازکی کے کمرے کی طرف بھاگے تھے، مگر جب وہ کمرے میں پہنچے تو

 

نیچے دیے گئے 4 ڈاؤنلوڈ لنکس میں سے 3 لنکس پر اشتہار آ سکتا ہے، جبکہ 1 لنک اصل ڈاؤن لوڈ لنک ہے۔

ہماری درخواست ہے کہ کسی بھی لنک کو بند کیے بغیر تھوڑا صبر سے استعمال کریں۔

آپ کی یہی چھوٹی سی سپورٹ ہمیں مزید ناول آپ تک پہنچانے میں مدد دیتی ہے

1st Link

Download link

2nd Link

Download Link

3rd Link

Download Link

4th Link

Download Link

Summary

Azki is a lively and confident girl who loves teasing her friends and enjoys the protection of her four brothers. One day, her friends give her a dare to propose to SP Hamdan Sehgal, her brother’s friend. What begins as a harmless prank soon becomes something completely unexpected when Hamdan takes her words seriously.

Hamdan, a serious and confident police officer, decides to make Azki understand that he is not joking about their relationship. His unexpected appearance in her room leaves Azki furious and shocked, while Hamdan remains completely unfazed by her anger. Their constant arguments and playful clashes gradually bring them closer, but with four protective brothers standing between them, winning Azki’s heart will not be easy.

Will Azki’s playful dare turn into a real love story? And what will happen when her brothers discover Hamdan’s intentions?

Support Novelistan ❤️

Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.

EasyPaisa / JazzCash

0309 1256788

Account name: Safia Bano

Bank Transfer (UBL)

United Bank Limited

Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131

Name: Sadia Hassan

IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131

Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕

Share this Novel

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *