Sajan Ki Sajni By Zubia Khan Novel20924


Romantic Novel| Forced Marriage | Husband Wife | Second Chance | Family Drama | Emotional | Possessive Hero | Love After Marriage | Contemporary Romance

سجن کی ساجنی زبیہ خان کا ایک جذباتی، رومانوی اور خاندانی کشمکش سے بھرپور ناول ہے۔ اسفند یار خان اور لائبہ کے درمیان غلط فہمیاں، انا، خاندانی دشمنی اور ادھورا رشتہ کہانی کو ہر لمحہ مزید دلچسپ بناتے ہیں۔ ایک طرف دل میں چھپی محبت ہے تو دوسری طرف ضد، فاصلے اور ایسے فیصلے جو دونوں کی زندگی بدل دیتے ہیں۔

Sajan Ki Sajni By Zubia Khan Complete Urdu Romantic Novel

اسفند یار خان اور لائبہ کی محبت، انا اور خاندانی دشمنی پر مبنی دلکش اردو ناول۔

” چھوڑیں مجھے کہاں لے کے جارہے ہیں؟۔۔۔” ” تمہاری جرات کیسے ہوئی اس فنکشن میں یہ بے ہودہ لباس پہن کے آنے کی؟۔۔۔” ” آپ اپنی زندگی میں آگے بڑھ چکے ہیں اسفند یار خان مجھ پے اب کوئی پابندی نہیں۔” وہ بھی تڑخ کے بولی۔ خاندانی دشمنی کی وجہ سے وہ اپنی منکوحہ کی رخصتی لینے کی بجائے اپنی کزن سے منگنی کر رہا تھا۔ لائبہ کو لال رنگ کی سلیولیس ساڑھی میں دیکھتا پاگل ہوا تھا۔ سب کی نظروں کا مرکز اس کا خوبصورت تراشیدہ حسن بنا تھا۔ ” منگنی تو بعد میں کروں گا پہلے تمہیں بیوی کا حق دے دوں۔۔۔ ” وہ دروازہ لاک کرتا اپنا کوٹ اتارتا وہیں دروازے کے ساتھ اسے پن کر گیا اور اس کے ہونٹوں پر شدت سے جھکتا اس کو تڑینے پر مجبور کر گیا۔۔۔۔ اسفند یار خان کے سامنے ویٹر نے ٹرے رکی تھی اس نے بیزاری سے اپنا ہاتھ اٹھایا۔۔ ” میں یہ نہیں پیتا میرے لیے سادہ پانی لائو۔۔” ویٹر سر ہلا کر چلا گیا اسفند یار نے بیزاری سے دائیں بائیں دیکھا اپنے دوست کے بے حد اصرار پر وہ اس کے نکاح کے فنکشن میں آ تو گیا تھا مگر اب وہ بری طرح سے اکتا گیا تھا ۔۔جدید لباس پہنے لڑکے اور لڑکیاں،،، ہلکا ہلکا بچتا ہوا میوزک،،،، کسی کو بھی پسند آتا مگر وہ اسفند یار خان تھا اس کی ترجیحات کچھ الگ تھیں بیزاری سے اس نے ویٹر کا لایا ہوا پانی پیا اور گلاس خالی کر کے اسی کے ٹرے میں رکھ دیا تھا۔۔ ” بس بہت ہو گیا اس سے زیادہ میں یہاں نہیں رک سکتا۔۔۔” اس نے موبائل پر ٹائم دیکھا رات کے نو بج رہے تھے موبائل کی سکرین پر کئی مسڈ کالز نظر آرہی تھیں بغیر نمبر دیکھے بھی وہ جان سکتا تھا کہ یہ مسڈ کالز کس کی تھی فحال وہ کسی کو فون کرنا نہیں چاہتا تھا۔۔ بلیک کلرکے ڈنر سوٹ میں اس کا دراز قد نمایاں ہو رہا تھا اس کی براؤن آنکھوں میں عجیب سی الجھن ہلکورے لے رہی تھی چہرے پر ہمیشہ کی طرح سنجیدگی تھی اس نے دور سے دیکھ کر زاویار کو ہاتھ ہلایا تاکہ وہ اس تک آئے اور اسفند یار اسے معذرت کر کے گھر کی طرف نکل جائے۔۔۔۔ مگر اس کا ہاتھ ہوا میں ہی جامد رہ گیا زوار کے عقب میں سے ایک سرخ رنگ کا پلو نظر آیا تھا مگر اس کے کھٹکنے کی وجہ وہ پلو نہیں بلکہ اس سرخ ساڑی کو لپیٹے وہ حسینہ تھی جو اپنی ساتھی لڑکی کی کسی بات پر ہلکا سا مسکرائی تھی مسکراتے ہوئے اس کے دائیں گال میں پڑنے والا ڈمپل واضح ہوا تو اسفند یار خان کو اپنا سارا خون سمٹ کر سر میں جمع ہوتا ہوا محسوس ہوا ” لائبہ خان۔۔۔ تم یہاں کیا کر رہی ہو؟؟ ” اس نے زیر لب ہی الفاظ دہرائے تھے نظر جیسے اس پر جم کر رہ گئی تھی۔۔۔ وہ دھیرے دھیرے چلتی اب اسی کی سمت بڑھ رہی تھی ابھی تک اس نے اسفند یار کو نہیں دیکھا تھا وہ اپنی سہیلی کے ساتھ ہی باتوں میں مگن تھی سرخ رنگ کی خوبصورت ساڑی جس کی سلیوز پوری تھیں بےپردگی کا کوئی عنصر نہیں تھا لمبے سیاہ بالوں کو اس نے کرلز ڈال کر کھلا چھوڑ رکھا تھا کانوں میں پہنی گول بالیاں جو اس کا خاصہ تھیں اتنی دور سے دیکھنے پر بھی اسفند یار کو اندازہ ہو گیا کہ اس نے کچھ خاص میک اپ نہیں کر رکھا تھا لیکن اس کے باوجود وہ غضب ڈھا رہی تھی بالکل اسی طرح جس طرح ہمیشہ حسین لگتی تھی۔۔۔ ” کیا ہو گیا یار وہاں کیا دیکھ رہا ہے۔۔۔۔” زوار نے آکر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا مگر اسفند یار نے اس کا ہاتھ جھٹک دیا بغیر ایک لفظ کہے وہ تیزی سے آگے بڑھا۔ وہ سرخ ساڑھی والی لڑکی اپنی ہی دھیان میں صوفے پر بیٹھتے وہ کسی سے کچھ کہہ رہی تھی جس طرح سے اسفند یار اس تقریب میں مہمان تھا شاید وہ بھی ایک مہمان ہی تھی مگر اسفندیار کی تو پوری دنیا گھوم گئی تھی اتنے لوگوں کی موجودگی میں اپنی بیوی کو اس حال میں دیکھ کر اس سے برداشت نہیں ہو رہا تھا۔۔۔ جسے وہ ہمیشہ ایک بڑی سی چادر میں چھپا ہوا دیکھتا آیا تھا اور یہی ادا تو اسفندیار کو پسند تھی۔۔۔ ” بس یہاں تک ہی تھا تمہارا پردہ؟؟؟ اپنا لباس دیکھا ہے؟؟ اور یہاں کیا کر رہی ہو تم رات کے نو بجے؟؟؟ ” لائبہ خان کی مسکراہٹ سمٹی اس نے اپنے کان کے پاس یہ سرگوشی محسوس کی تھی اور یہ سرگوشی کرنے والی آواز کو وہ بخوبی پہچانتی تھی وہ ٹھٹک کر پلٹی اور جیسے پتھر کا مجسمہ بن گئی تھی اسفند یار خان بالکل اسکے سامنے کھڑا تھا ہلکا سا اس کی سمت جھکے اپنی بھوری آنکھوں سے وہ اسے گھور رہا تھا۔۔۔۔ لائبہ نے فورا خود کو سنبھالا تھا ” میری دوست کا نکاح ہے آج میں یہاں اس لیے آئی ہوں اور آپ کون ہوتے ہیں مجھ سے سوال کرنے والے؟؟ ” وہ تلخ ہوئی تھی یکدم وہ صوفے سے اٹھی اور اسفند یار کے برابر سے اس نے کترا کر نکلنا چاہا مگر اسفند یار نے اسے گزرنے نہیں دیا تھا اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر یکدم اس نے لائبا کو اپنے سامنے کیا وہ دنگ رہ گئی۔۔ ” یہ کیا بد تمیزی ہے ہاتھ مت لگائیں مجھے۔۔” وہ دبے دبے انداز میں غرائی تھی اسفند یار نے طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ اسے دیکھا۔۔ ” اتنا سچ سنور کر یہاں ان سب کے سامنے بیٹھنا برا نہیں لگ رہا مگر میرا ہاتھ لگانا برا لگ رہا ہے؟؟ کیا بھول گئی ہو کہ میرا اور تمہارا کیا رشتہ ہے؟؟ ” وہ سلگتے ہوئے لہجے میں کہہ رہا تھا لائبہ کے وجود میں لرزش اتری وہ ہلکا سا لڑکھڑائی تھی مگر اسنے خود کو سنبھال لیا۔۔ ” ہاں میں بھول گئی ہوں اور مجھے بھولنے پر مجبور کرنے والا کوئی اور نہیں بلکہ آپ خود ہیں آپ ہی نے تو کہا تھا جب میرا اور آپ کا کوئی تعلق نہیں کیا یاد نہیں ہے آپ کو اب میرا راستہ چھوڑیں میں اجنبی لوگوں سے بات نہیں کرتی۔۔۔” اس نے کترا کر نکلنا چاہا مگر اسفند یار نے اسے ہلکا سا ٹہوکا دے کر واپس صوفے پر گرا دیا تھا اس پاس کئی لوگوں نے ان کی طرف دیکھا مگر اسفند یار کو دیکھتے ہی کسی کی ہمت نہ ہوئی کہ وہ ان کے معاملات میں دخل اندازی کریں لائبہ کی آنکھوں میں آنسو آنے لگے تھے۔۔ ” میں تمہارا شوہر ہوں ابھی ہماری طلاق نہیں ہوئی طلاق تو کیا ابھی تو ہماری رخصتی بھی نہیں ہوئی مگر لگتا تمہیں تو اسی دن کا انتظار تھا جیسے ہی میرا تم سے تعلق ختم ہوا تم یہ سب کچھ پہننے لگ گئی ہو ذرا خود کو دیکھو تو۔۔ ” اسفند یار نے سر سے لے کر پیر تک لائبہ کا جائزہ لیا تھا اسے لائبہ کا ساڑی پہن کر یوں اجنبی لوگوں کی محفل میں آنا سخت برا لگا تھا لائبہ نے اپنا سر جھٹکا ” جب آپ مووو آن کر چکے ہیں تو مجھ پر پابندی کیوں؟؟ ہو سکتا ہے کہ مجھے اس لباس میں دیکھ کر یہاں کوئی امیر کبیر لڑکا پسند کر لے اور میں بھی آپ سے طلاق لے کر اس سے شادی کر لوں جیسے آپ اپنی کزن کے ساتھ شادی کرنے والے ہیں۔۔۔” وہ نفرت بھرے انداز میں بولی تھی اور اسفند یار کی برداشت جواب دے گئی اس نے جھپٹنے والے انداز میں لائبہ کا بازو پکڑا تھا۔۔۔ ” کسی اور مرد کے ساتھ تعلق بنانے کی بہت جلدی ہے تمہیں پہلے میرے ساتھ تعلق کونبھا تو لو۔۔۔” اسفند یار کی نگاہیں اس کے وجود پر پھسل رہیں تھیں اور یہی لائبہ سے غلطی ہوئی اس نے پوری قوت سے اسفند یار کے چہرے پر ایک تھپڑ دے مارا تھا یہ سوچے بغیر کہ وہ ابھی تک اس کے نکاح میں تھی زناٹے دار تھپڑ کی آواز سنتے ہی کئی لوگوں نے مڑ کر اس کی طرف دیکھا تھا اور پھر جیسے اسفند یار کے سر پر خون سوار ہو گیا تھا اپنی بے عزتی برداشت کرنے والا تو وہ تھا ہی نہیں اس نے لائبہ کو جھپٹ کر صوفے سے اٹھایا تھا۔۔۔ ” چلو میرے ساتھ اور منہ سے ایک آواز بھی نکالی تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔۔۔۔” اس نے لائبہ کو اپنے ساتھ گھسیٹا جو سرخ سینڈلز میں پہلے بھی مشکل سے چل رہی تھی اب بری طرح سے لڑکھڑائی۔۔۔۔ ” یہ سب کیا کر رہے ہیں آپ؟؟؟ اسفند یار میرا ہاتھ چھوڑیں۔۔۔” مگر وہ سن کہاں رہا تھا اپنے اور لائبہ پر جمی نظروں سے بے نیاز وہ اسے اپنے ساتھ گھسیٹتا لوگوں کے بیچ میں سے نکلنے لگا نکاح کی یہ تقریب زوار خان کے گھر پر رکھی گئی تھی اسفند یار اس کے گھر کہیں مرتبہ آچکا تھا اور وہ جانتا تھا گھر کے !خری حصے میں موجود ملازمین کے کواٹر اس وقت خالی ہی ہوں گے کیونکہ سارے ملازمین تو نکاح کی تقریب میں مصروف تھے۔۔۔۔ کئی لوگوں نے انہیں اسطرح سے جاتے دیکھا مگر زوار نے بات سنبھال لی تھی۔۔” وہ اس کی بیوی ہے ان دونوں کا ذاتی معاملہ ہے آپ لوگ پلیز انہیں اگنور کریں۔۔۔ ” مہمان سر جھٹک کر اپنے کاموں اور باتوں میں مشغول ہو گئے تھے مگر لائبہ کی جان پر بن آئی تھی۔۔۔۔” اسفند یار کیا کر رہے ہیں؟؟؟ پلیز میرا ہاتھ چھوڑیں۔۔۔” وہ اسے گھسیٹتا ہوا گھر کے پچھلے حصے میں لایا تو وہ سسک کر بولی تھی مگر اسفند یار رکا نہیں۔۔ ” کیوں دھوکہ دیا تم نے مجھے لائبہ اس روز تمہارے باپ نے میرے منہ پر تمانچہ مارا تھا اور آج تم نے۔۔۔ کیا تم لوگوں کو لگتا ہے کہ میں کوئی کٹھ پتلی ہوں جس کے کوئی ٹھپتلی ہوں جس کے کوئی جذبات نہیں۔۔۔۔” اس نے ہاتھ مار کر کواٹر کا دروازہ کھولا لائبہ کو گھسیٹ کر اندر پھینکا تھا۔۔۔۔خوف کی ایک سرد سی لہر لائبہ کے اندر دوڑ گئی۔۔

نیچے دیے گئے 4 ڈاؤنلوڈ لنکس میں سے 3 لنکس پر اشتہار آ سکتا ہے، جبکہ 1 لنک اصل ڈاؤن لوڈ لنک ہے۔

ہماری درخواست ہے کہ کسی بھی لنک کو بند کیے بغیر تھوڑا صبر سے استعمال کریں۔

آپ کی یہی چھوٹی سی سپورٹ ہمیں مزید ناول آپ تک پہنچانے میں مدد دیتی ہے

1st Link

Download link

2nd Link

Download Link

3rd Link

Download Link

4th Link

Download Link

اسفند یار خان اپنے دوست کے نکاح کی تقریب میں شریک ہوتا ہے جہاں اچانک اس کی نظر اپنی منکوحہ لائبہ پر پڑتی ہے۔ لائبہ کو نئی شخصیت اور خوبصورت انداز میں دیکھ کر وہ اپنے جذبات پر قابو نہیں رکھ پاتا۔ دونوں کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوتا ہے اور پرانے زخم پھر سے تازہ ہو جاتے ہیں۔ خاندانی دشمنی، نامکمل رخصتی اور ٹوٹتے ہوئے اعتماد کے درمیان ان کا سامنا ایک نئے موڑ کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

Skip to PDF content

#SajanKiSajni #ZubiaKhan #UrduNovel #RomanticNovel #ForcedMarriage #FamilyDrama #LoveStory #EmotionalNovel #Novelistan #UrduBooks

Sajan Ki Sajni By Zubia Khan, Sajan Ki Sajni Novel, Zubia Khan Novel, Romantic Urdu Novel, Forced Marriage Novel, Husband Wife Novel, Family Drama Novel, Emotional Love Story, Urdu Novel Online, Novelistan, Complete Urdu Novel, Best Urdu Novels, Read Urdu Novel Online, Pakistani Romantic Novel, New Urdu Novel

Support Novelistan ❤️

Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.

EasyPaisa / JazzCash

0309 1256788

Account name: Safia Bano

Bank Transfer (UBL)

United Bank Limited

Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131

Name: Sadia Hassan

IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131

Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *