Safar Hi Tamam Rah Main Hai By Nighat Abdullah Novel20915

Feudal Family Story | Emotional Romance | Husband Wife Story | Women Empowerment | Family Drama | Forced Marriage | Social Romantic | Inspirational Story | Strong Heroine | Rural Fiction

سفر ہی تمام راہ میں ہے ایک ایسی عورت کی کہانی ہے جس نے ڈاکٹر بننے کے لیے برسوں محنت کی، مگر شادی کے بعد اسے اپنی شناخت، خوابوں اور خواہشات کو قربان کرنے پر مجبور کر دیا گیا۔ جاگیردارانہ غرور، شوہر کی بے رخی، خاندانی دباؤ اور معاشرتی پابندیاں اس کی زندگی کو آزمائش بنا دیتی ہیں، لیکن وہ ہار نہیں مانتی۔ یہ ناول عورت کی خودداری، تعلیم، خدمتِ انسانیت، محبت، قربانی اور زندگی کی مسلسل جدوجہد کا خوبصورت امتزاج ہے۔


Safar Hi Tamam Rah Main Hai By Nighat Abdullah Urdu Novel Cover | Emotional Family Novel

Safar Hi Tamam Rah Main Hai by Nighat Abdullah is an emotional Urdu novel based on feudal traditions, women empowerment, emotional romance, and family conflicts.

حویلی سے بابا سائیں کا بلاوا آ گیا۔ وہ اسی شام امی، اباجی اور بھائی کے ساتھ حویلی آ گئی تھی۔ یہاں خاص گہما گہمی تھی۔ کسی تقریب کا سماں تھا اور ابھی وہ آ کر ہال کمرے میں کھڑے ہی ہوئے تھے کہ اماں جی کے اشارے پر فرناز اس کا ہاتھ پکڑ کر اوپر لے گئی۔ پھر پلنگ پر دھکا دیتے ہوئے شرارت سے بولی تھی “تمھاری شادی ہو رہی ہے۔“ “کیا؟” وہ اپنی جگہ سے اچھل گئی تھی۔ “سچ کہہ رہی ہوں۔“ “لیکن ابھی تو میں۔۔۔” بابا سائیں کو آتے دیکھ کر اس کی بات ہونٹوں میں رہ گئی اور اپنی جگہ سے کھڑی ہو کر اُس نے سر جھکا لیا۔ تب بابا سائیں نے فرناز کو جانے کا اشارہ کیا پھر اُس سے کہنے لگے “مجھے معلوم ہے، ابھی تمھیں پڑھنا ہے۔ اسی لیے ابھی صرف تمھارا نکاح کر رہا ہوں۔ پھر زوار شاہ بھی ابھی کچھ لاابالی سا ہے۔ اُسے ذمہ داریوں کا احساس کرنے اور سمجھنے میں وقت لگے گا اور جب تک وہ زمینوں جائیدادوں کا حساب سمجھنے کے قابل ہو تب تک تم پڑھ سکتی ہو۔” اُسے سچ مچ افسوس ہوا کہ بابا سائیں نے اس کا اعتبار نہیں کیا، یا پھر اُسے آزمانا چاہتے تھے جو پوچھنے لگے: “تمھیں کوئی اعتراض تو نہیں ہے؟” “نہیں۔” اُس نے بہت آہستہ سے جواب دیا اور اُن کے جاتے ہی پلنگ پر ڈھے گئی تھی۔ زوار شاہ اس کی بڑی پھوپھو کا بیٹا تھا۔ چھ فٹ کا لمبا چوڑا جوان، اگر وہ کوئی عام سی لڑکی ہوتی تو اس کی آمد پر جھروکوں سے جھانکا کرتی اور اب اُس سے نسبت ٹھہرنے پر تو گویا دلی مراد بر آتی، لیکن اُس پر تو بس پھوپھو مہر النساء کی طرح ڈاکٹر بننے کی دھن سوار تھی۔ اس کے علاوہ کسی بات میں کشش نظر نہیں آتی تھی۔ بہرحال اُس روز نہ صرف اس کا اور زوار شاہ کا نکاح ہوا بلکہ بدلے میں زوار شاہ کی بہن سمیرا کو اس کے بھائی شہباز لالا سے منسوب کیا گیا اور اُس وقت تو اُس نے اس بات کو کوئی اہمیت نہیں دی تھی بلکہ یہی سوچا تھا کہ اچھا ہے وہ بابا سائیں کے سامنے سرخرو ہو گئی۔وہ رخصت ہوئی تو سمیرا بھابھی اس کے ساتھ آئی تھیں۔ وہی اُسے حجلۂ عروسی میں چھوڑ گئی تھیں۔ تنہا ہوتے ہی اُس نے اپنی دکھتی ہوئی گردن کو ذرا سا اونچا کیا جو جھکانے سے اکڑ گی تھی ۔ابھی تو وہ ہر احساس سے عاری تھی، اس کے باوجود اندر کہیں ایک فطری سا احساس تھا کہ زوار شاہ اس کے حسن سے نہ سہی، تعلیم سے تو مرغوب ہوگا ہی اور وہ کوئی معمولی پڑھی لکھی بھی نہیں تھی، ڈاکٹر بن چکی تھی اور اسی احساس میں گھر کر وہ آئندہ کے بارے میں سوچ رہی تھی کہ زوار شاہ آ گیا۔ اُس نے کن اکھیوں سے دیکھا، وہ سر پر سے بڑا سا شملہ اتار کر ٹیبل پر رکھ رہا تھا، پھر اُس کے برابر یوں لیٹا جیسے میلوں مسافت طے کر کے آ رہا ہو اور اپنے مخصوص اکھڑ لہجے میں بولا “مجھے چادر اڑھا دو۔” “جی؟” اس نے یونہی بے دھیانی میں دیکھا تو وہ خواہ مخواہ تپ کر بولا: “اونچا سنتی ہو کیا؟ مجھے چادر اڑھاؤ۔” اُس نے بیڈ پر اور ادھر ادھر دیکھا، کہیں کوئی چادر نہیں تھی۔ تب بیڈ سے اتر کر پوچھنے لگی: “کہاں ہے چادر؟” “بکس میں دیکھو۔” اس کی سمجھ میں نہیں آیا وہ آتے ہی رعب کیوں جھاڑنے لگا۔ چپ چاپ کونے میں رکھا بڑا بکس کھول کر چادر نکالی، پھر اُسے اوڑھاتے ہوئے اپنے تئیں ہمدردی سے پوچھا: “آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے ناں؟” “کیا مطلب؟” وہ ایک جھٹکے سے اٹھ کر بیٹھ گیا۔ “کیا میں تمھیں بیمار نظر آ رہا ہوں؟” “نہیں۔” وہ سچ مچ سمجھ میں نہیں آیا کیا کہے اور وہ جیسے ادھار کھائے بیٹھا تھا۔ “سمجھ گیا، اپنی ڈاکٹری کا رعب جمانا چاہتی ہو۔ لو دیکھو میری نبض۔” اُس نے اپنی کلائی آگے بڑھائی اور وہ بے اختیار دو قدم پیچھے ہٹ گئی۔ تب وہ اس کا تمسخر اڑانے لگا: “یہ تم ڈاکٹر ہو؟ مریض ہاتھ دکھا رہا ہے اور تم بھاگ رہی ہو۔ چلو ادھر آ کر دیکھو کیا تکلیف ہے مجھے۔” وہ اس کے کہنے پر آگے آئی اور اس کی نبض پر ہاتھ رکھنا چاہتی تھی کہ اس سے پہلے ہی اُس نے کلائی تھام لی اور زور سے جھٹکا دے کر اسے اپنے برابر گرا لیا۔ حد تھی بدتمیزی اور وحشی پن کی۔ اُس نے کم از کم ایسا تصور کبھی نہیں کیا تھا۔ اتنا تو جانتی تھی کہ وہ اجڈ اور بدتمیز ہے لیکن یہ گمان میں بھی نہیں تھا کہ اُس کے ساتھ اس طرح بدتمیزی سے پیش آئے گا۔ وقت ایسے ہی گزرتا گیا شادی کو ایک سال ہونے والا تھا ۔۔ وہ زوار شاہ کی لاتلقی برداشت کرتی رہی ۔لیکن وہ ایک ڈاکٹر تھی کیسے گاؤں کے لوگوں کو یوں بیمار دیکھ سکتی تھی ۔۔ایک دن اس نے حوصلہ کرکے زوار شاہ کو کہہ ہی دیا “زوار شاہ! آپ مجھے یہاں ایک چھوٹا موٹا ہاسپٹل بنوا کر تو دے ہی سکتے ہو۔” اُس نے ابھی اس قدر کہا تھا کہ وہ کڑک کر بولا “کیوں؟ اسپتال کی کیا ضرورت ہے؟” “ضرورت ہے اس لیے کہ یہاں علاج معالجے کی کوئی سہولت موجود نہیں ہے۔” “تمھیں کیا فکر؟ تم بیمار پڑو گی تو شہر سے ڈاکٹر آ جائے گا۔” “میں صرف اپنی بات نہیں کر رہی زوار شاہ! جن لوگوں کو تم اپنی رعایا کہتے ہو، اُن کی بات کر رہی ہوں۔” وہ حتی الامکان بہت آرام سے بات کر رہی تھی۔ “یہ لوگ جو ہمارے ٹکڑوں پر پلتے ہیں، ان کے لیے اسپتال بنوا دوں؟ پھر کہو گی ان کے لیے گھر کھڑے کر دو، اس کے بعد زمینوں کا حساب کتاب اُن کے ہاتھوں میں دے کر ہم بیٹھے منہ دیکھا کریں۔” “تم خواہ مخواہ بات بڑھا رہے ہو۔” وہ رسان سے بولی، “میں نے ہاسپٹل بھی اپنے لیے بنوانے کے لیے کہا ہے۔ دوسرے لوگ تو ظاہر ہے وہاں علاج کے لیے آئیں گے اور اس طرح اسپتال ان کی جاگیر نہیں ہو جائے گا۔” “تمھارے لیے اسپتال بنوا دوں؟ یعنی تم۔۔۔” وہ جیسے اب سمجھا اور ایسے لڑاکا تیوروں سے اُسے دیکھنے لگا جیسے پتا نہیں اُس نے کیا کہہ دیا ہے، اور وہ اندر ہی اندر سہم گئی تھی۔ بظاہر اسی سکون سے بولی “ہاں، مجھے اپنی تعلیم کا مصرف چاہیے۔” “بکواس مت کرو!” وہ غضبناک ہو کر دھاڑا۔ “بھول جاؤ، جیسے یہاں دوسری عورتیں رہتی ہیں ویسے رہو۔” “میں اُسی طرح رہ رہی ہوں زوار شاہ! لیکن میں اپنے اتنے سالوں کی محنت اور کاوشوں کو بھول نہیں سکتی۔” “لیکن یہ خیال ہی دل سے نکال دو کہ میں کبھی تمھیں کام کرنے کی اجازت دوں گا، ہرگز نہیں!” پھر طنز آمیز لہجے میں بولا: “بڑا علاج کرنے کا شوق ہے تو اپنا علاج کرو! سال ہو گیا شادی کو اور ابھی تک گود خالی ہے۔” “زوار شاہ!” وہ سناٹے میں آ گئی۔ “ٹھیک تو کہہ رہا ہوں۔ بڑی آئی کہیں سے ڈاکٹرنی بن کے، ہونہہ!” وہ اپنا شملہ ٹھیک کرتا نکل گیا اور وہ کتنی دیر تک وہیں بیٹھی رہی تھی۔

نیچے دیے گئے 4 ڈاؤنلوڈ لنکس میں سے 3 لنکس پر اشتہار آ سکتا ہے، جبکہ 1 لنک اصل ڈاؤن لوڈ لنک ہے۔

ہماری درخواست ہے کہ کسی بھی لنک کو بند کیے بغیر تھوڑا صبر سے استعمال کریں۔

آپ کی یہی چھوٹی سی سپورٹ ہمیں مزید ناول آپ تک پہنچانے میں مدد دیتی ہے

1st Link

Download link

2nd Link

Download Link

3rd Link

Download Link

4th Link

Download Link

سفر ہی تمام راہ میں ہے از نگہت عبداللہ ایک منفرد، حقیقت سے قریب اور انتہائی متاثر کن اردو ناول ہے جس میں جاگیردارانہ نظام، خاندانی روایات، وٹہ سٹہ، عورت کی تعلیم، ازدواجی زندگی کی تلخ حقیقتوں اور ایک مضبوط عورت کی جدوجہد کو نہایت خوبصورتی سے بیان کیا گیا ہے۔

ڈاکٹر بننے کا خواب پورا کرنے والی ذہین اور باہمت ہیروئن کی شادی جاگیردار خاندان کے وارث زوار شاہ سے کر دی جاتی ہے۔ وہ سمجھتی ہے کہ اس کی تعلیم اس کے شوہر کے لیے باعثِ فخر ہوگی، مگر شادی کے بعد اسے احساس ہوتا ہے کہ زوار شاہ کے نزدیک عورت کی حیثیت صرف گھر کی چار دیواری تک محدود ہے۔

ہر خواب ایک ایک کر کے ٹوٹتا جاتا ہے، مگر وہ ہمت نہیں ہارتی۔ وہ اپنے علم کو انسانیت کی خدمت کے لیے استعمال کرنا چاہتی ہے، جبکہ زوار شاہ اپنی انا اور جاگیردارانہ سوچ کے باعث اس کی ہر خواہش کو کچل دیتا ہے۔

کیا ایک تعلیم یافتہ عورت اپنی شناخت بچا سکے گی؟ کیا محبت کبھی انا پر غالب آ سکے گی؟ اور کیا زوار شاہ اپنی سوچ بدل پائے گا؟ یہ جاننے کے لیے سفر ہی تمام راہ میں ہے ضرور پڑھیں۔

Skip to PDF content

Safar Hi Tamam Rah Main Hai By Nighat Abdullah, Safar Hi Tamam Rah Main Hai Novel, Nighat Abdullah Novels, Urdu Novel, Emotional Urdu Novel, Romantic Urdu Novel, Feudal Family Story, Strong Heroine Story, Women Empowerment Novel, Husband Wife Story, Family Drama, Forced Marriage Novel, Social Romantic Story, Inspirational Urdu Novel, Rural Fiction, Pakistani Urdu Novel, Complete Urdu Novel, Read Online, Best Urdu Novels, Novelistan

#SafarHiTamamRahMainHai #NighatAbdullah #UrduNovel #EmotionalRomance #FamilyDrama #StrongHeroine #WomenEmpowerment #FeudalStory #ForcedMarriage #HusbandWife #SocialRomantic #PakistaniNovels #UrduFiction #Novelistan #ReadOnline

 

Support Novelistan ❤️

Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.

EasyPaisa / JazzCash

0309 1256788

Account name: Safia Bano

Bank Transfer (UBL)

United Bank Limited

Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131

Name: Sadia Hassan

IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131

Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *