Nazre Mohabbat By Habiba Writes Novel20916
Nazre Mohabbat By Habiba Writes Novel20916
CompleteForced Marriage | Emotional Romance | Feudal Family Story | Betrayal | Pregnancy Accusation | Family Politics | Revenge | Husband Wife Story | Social Romantic | Emotional Drama
حالہ اور زاویار ایک دوسرے سے محبت کرنے والے میاں بیوی ہیں، مگر شادی کے صرف گیارہ ماہ بعد اولاد نہ ہونے پر حالہ کو مسلسل طعنے دیے جاتے ہیں۔ اماں سائیں خاندان کی روایت کا حوالہ دے کر زاویار کی دوسری شادی طے کر دیتی ہیں اور شانزے کو نئی دلہن بنانے کا اعلان کر دیتی ہیں۔
حالہ اپنی محبت، عزت اور رشتے کو بچانے کی ہر ممکن کوشش کرتی ہے، مگر گھر کے طاقتور فیصلے اس کی زندگی کو ایک ایسے موڑ پر لے آتے ہیں جہاں ہر لمحہ اس کے لیے ایک نئی آزمائش بن جاتا ہے

“ہمارے خاندان کا ہر مرد دوسری شادی کرتا ہے تم کیوں رونا دھونا مچا رہی ہو۔” ” زاویار دوسری شادی کر رہا ہے تو یہ گناہ تھوڑی ہے۔” شاہ جہان بیگم یعنی اماں سائیں کی گرجدار اور حاکمانہ آواز حویلی کے وسیع ہال میں گونجی تو وہاں موجود ہر شخص کی سانسیں تھم گئیں۔ ان کے چہرے پر خاندانی غرور اور جاہ و جلال کی سرخی واضح تھی۔ ہالہ نے فرش پر بیٹھے بیٹھے اپنے کانپتے ہوئے ہاتھ جوڑے اس کی ہچکیاں بندھ چکی تھیں اور آنسوؤں نے اس کے معصوم چہرے کو بھگو رکھا تھا وہ لرزتی ہوئی آواز میں بولی “اماں سائیں خدا کے لیے ایسا مت کہیں۔ مجھ میں اتنا ظرف نہیں کہ میں اپنے شوہر کو کسی کی بھی جھولی میں خیرات کر دوں۔ میں زاویار کی بیوی ہوں ان کی محبت ہوں آپ کیسے ان کا رشتہ میری موجودگی میں کسی اور سے طے کر سکتی ہیں؟ کیا میرا کوئی وجود نہیں اس گھر میں؟” اماں سائیں نے اسے حقارت سے دیکھا اور اپنے ہاتھ کی چھڑی فرش پر مارتے ہوئے بری طرح جھڑکا “ارے کرم جلی اپنی زبان کو لگام دو۔ بچے کے لیے شادی کر رہا ہے وہ کوئی عیاشی کے لیے نہیں کر رہا۔ ہمارے خاندانی نام اور اس حویلی کی بقا کے لیے یہ فیصلہ ضروری ہے۔ تو بیچ میں رکاوٹ نا ڈال جلدی سے نئی دلہن کے لیے کمرہ خالی کر اور دفع ہو یہاں سے۔” ہال کے ایک کونے میں کھڑی چچی زرینہ نے اپنے دوپٹے کا پلو درست کیا اور طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ آگے بڑھیں ان کی آنکھوں میں حسد اور زہر صاف جھلک رہا تھا وہ بولیں “اماں سائیں بالکل ٹھیک کہہ رہی ہیں ہالہ آخر کب تک یہ حویلی ایک وارث کو ترستی رہے؟ کب تک ہم لوگ اس خاندان کے چراغ کے لیے رات دن منتیں مانگتے رہیں تمہاری گود تو سوکھی پڑی ہے گیارہ مہینے ہو گئے ہیں اس شادی کو لیکن تمہاری طرف سے کوئی اچھی خبر نہیں آئی۔ اب کیا زاویار ساری عمر بے اولاد رہے؟” ہالہ نے تڑپ کر چچی زرینہ کی طرف دیکھا اس کا دل اس طعنے پر خون کے آنسو رو رہا تھا “چچی اماں آپ تو خود ایک عورت ہیں ایک ماں ہیں۔ آپ کیسے اتنی بے رحم بات کر سکتی ہیں؟ صرف گیارہ مہینے ہی تو ہوئے ہیں ہماری شادی کو کیا گیارہ مہینے کسی عورت کو بانجھ ثابت کرنے کے لیے کافی ہوتے ہیں؟ کیا خدا کا قانون یہی ہے کہ سال بھی نہ گزرے اور عورت کو گناہ گار بنا کر گھر سے نکال دیا جائے؟” زرینہ نے منہ بنایا اور اماں سائیں کی طرف دیکھا “لو سنو اس کی زبان اماں سائیں دیکھ رہی ہیں آپ؟ اس کے تیور تو دیکھیں کیسے آگے سے کٹ کٹ جواب دے رہی ہے۔ ہمارے وقتوں میں تو اگر شادی کے پہلے دوسرے مہینے گود ہری نہ ہوتی تو عورتیں شرم سے پانی پانی ہو جاتی تھیں اور یہ یہاں کھڑی بڑوں کے سامنے بحث کر رہی ہے۔ بدتمیز نہ ہو تو” اماں سائیں نے اپنے ہاتھ میں پکڑی ہوئی تسبیح کو سختی سے دبوچا اور ہال میں ایک قدم آگے بڑھایا “زرینہ اس کے منہ مت لگو۔ اس کی اتنی مجال کہ یہ ہمارے خاندانی فیصلوں پر انگلی اٹھائے۔ ہالہ کان کھول کر سن لو اس حویلی پر میرا حکم چلتا ہے اور رہے گا۔ اگر میں نے کہہ دیا ہے کہ زاویار دوسری شادی کرے گا تو وہ کرے گا۔ شانزے اس گھر کی نئی مالکن بنے گی اور وہی اس خاندان کو وارث دے گی۔ تمہاری حیثیت اس حویلی میں اب ایک فالتو سامان سے زیادہ نہیں ہے۔” ہالہ نے گھٹنوں کے بل گھسٹتے ہوئے زویا کی طرف دیکھا جو ہال کے دوسرے کونے میں کھڑی سسکیاں لے رہی تھی اور خوف سے کانپ رہی تھی “زویا تم تو کچھ بولو۔ تم تو میری بہنوں جیسی ہو تم نے تو دیکھا ہے کہ میں نے اس گھر کو تمہارے بھائی کو کتنی محبت دی ہے۔ کیا میرا کوئی قصور ہے زویا۔۔ تم اپنی ماں کو سمجھاؤ خدا کے لیے انہیں روکیں میرا گھر اجڑنے سے بچا لو۔” زویا نے ڈرتے ڈرتے اپنی ماں کی طرف دیکھا اس کے ہونٹ کپکپائے “اماں سائیں… بھابھی سچ کہہ رہی ہیں… ابھی تو صرف گیارہ ماہ ہی ہوئے ہیں… بھائی کو آنے دیں ان سے بات…” “خاموش زویا” اماں سائیں نے اس زور سے ڈانٹا کہ زویا نے خوف زدہ ہو کر فوری طور پر اپنی نظریں جھکا لیں اور دو قدم پیچھے ہٹ گئی۔ “اگر تم نے اس منحوس عورت کے حق میں ایک لفظ بھی بولا تو یاد رکھنا مجھ سے برا کوئی نہ ہوگا۔ اپنی اوقات میں رہو اور جاؤ اپنے کمرے میں” زویا نے روتے ہوئے اپنا چہرہ ہاتھوں میں چھپا لیا مگر اپنی ماں کے جلال کے سامنے وہ بالکل بے بس اور لاچار تھی۔ ہالہ فرش پر سر رکھ کر رو پڑی۔ “جا اور اپنا سارا سامان سمیٹ لے ہم نہیں چاہتے کہ تمہاری کسی بھی چیز کا منحوس سایہ اس حویلی پر رہے” چچی زرینہ نے پیچھے سے ایک اور زہریلا جملہ کاسا۔ ہالہ نے کوئی جواب نہیں دیا وہ اپنے آنسو پونچھتی ہوئی اوپر اپنے کمرے میں چلی گئی۔ یہ وہی کمرہ تھا جہاں گیارہ ماہ پہلے وہ لال جوڑا پہن کر زاویار کی دلہن بن کر آئی تھی۔ اس کمرے کی ہر چیز میں زاویار کی خوشبو تھی ان کی محبت کی یادیں تھیں۔ دیوار پر لگی ان کی شادی کی تصویر ہالہ کو منہ چڑا رہی تھی۔ اس نے الماری کھولی اور ایک پرانا سوٹ کیس نکال کر بیڈ پر رکھا۔ وہ روتی جا رہی تھی اور اپنے کپڑے اس بیگ میں ٹھونستی جا رہی تھی۔ وہ بیڈ پر بیٹھ کر خود سے کلام کرنے لگے “صرف گیارہ مہینوں میں میری پاکیزہ محبت کا یہ صلہ ملا؟ زاویار… تم کہاں ہو؟ تم نے تو کہا تھا کہ تم دنیا کے سامنے میرے لیے کھڑے ہو گے پھر آج تم نے مجھے اپنی ماں کے رحم و کرم پر کیوں چھوڑ دیا؟ کیا تمہاری محبت اتنی کمزور تھی کہ ایک طعنے کی نذر ہو گئی؟”
نیچے دیے گئے 4 ڈاؤنلوڈ لنکس میں سے 3 لنکس پر اشتہار آ سکتا ہے، جبکہ 1 لنک اصل ڈاؤن لوڈ لنک ہے۔
ہماری درخواست ہے کہ کسی بھی لنک کو بند کیے بغیر تھوڑا صبر سے استعمال کریں۔
آپ کی یہی چھوٹی سی سپورٹ ہمیں مزید ناول آپ تک پہنچانے میں مدد دیتی ہے
1st Link
Download link
2nd Link
Download Link
3rd Link
Download Link
4th Link
Download Link
نظرِ محبت مشہور رائٹر Habiba Writes کا ایک انتہائی جذباتی، دل دہلا دینے والا اور خاندانی سازشوں سے بھرپور اردو ناول ہے۔ یہ کہانی حالہ اور زاویار کی محبت کے گرد گھومتی ہے، جن کی شادی کو ابھی صرف گیارہ ماہ ہوئے ہوتے ہیں کہ اولاد نہ ہونے کی وجہ سے حالہ پر بانجھ ہونے کا الزام لگا دیا جاتا ہے۔
خاندان کی بااثر بزرگ اماں سائیں اپنے خاندانی اصولوں کا سہارا لے کر زاویار کی دوسری شادی کا فیصلہ کر دیتی ہیں، جبکہ چچی زرینہ بھی ہر موقع پر حالہ کو ذلیل کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتیں۔ حالہ کی محبت، عزتِ نفس اور ازدواجی زندگی ایک ایسے امتحان میں ڈال دی جاتی ہے جہاں ہر طرف صرف الزام، بے بسی اور آنسو ہوتے ہیں۔
کیا زاویار اپنی محبت کا ساتھ دے گا یا خاندانی روایات کے آگے خاموش ہو جائے گا؟ کیا حالہ اپنا گھر بچا سکے گی یا دوسری شادی اس کی دنیا ہمیشہ کے لیے اجاڑ دے گی؟
یہ ناول محبت، قربانی، خاندانی سیاست، ظلم، عورت کی بے بسی اور امید کی خوبصورت مگر دردناک داستان پیش کرتا ہے
Skip to PDF contentFAQs
Q1. Nazr e Muhabbat kis writer ka novel hai?
Habiba Writes ka likha hua mashhoor Urdu novel hai.
Q2. Is novel ka genre kya hai?
Ye Second Marriage, Family Drama, Emotional Romance, Saas Bahu Conflict aur Social Issues par mabni novel hai.
Q3. Kya ye family based novel hai?
Ji haan, ye aik strong family-based emotional Urdu novel hai.
Q4. Kya is novel mein happy ending hai?
Ending ka suspense kahani ka aham hissa hai. Is liye usay reveal kiye baghair novel parhna zyada behtar rahega.
Q5. Kya ye novel online read kiya ja sakta hai?
Ji haan, agar website par available ho to online read bhi kiya ja sakta hai aur PDF format mein bhi.
Nazr e Muhabbat Novel, Nazr e Muhabbat PDF, Habiba Writes Novel, Nazr e Muhabbat Read Online, Urdu Novel PDF, Second Marriage Novel, Family Politics Story, Saas Bahu Drama, Emotional Urdu Novel, Marriage Crisis Novel, Family Based Story, Strong Heroine Novel, Social Issues Novel, Pakistani Romantic Novel, Emotional Family Drama, Urdu Romantic Fiction, Complete Urdu Novel, Best Urdu Novels, Novelistan
#NazrEMuhabbat #HabibaWrites #SecondMarriage #FamilyPolitics #SaasBahuDrama #EmotionalRomance #MarriageCrisis #FamilyDrama #StrongHeroine #UrduNovel #PakistaniNovel #ReadOnline #Novelistan #UrduBooks #SocialFiction
Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕