Zeest e Muhabbat Novel21050 Urdu novel cover
133.5kViews
#1712Ranking
CompleteStory status
NOVELISTAN · URDU NOVELS

Zeest e Muhabbat Novel21050 — Novelistan

By Haya Fatima

Rate this novel

الوینہ کو ونی کی رسم کے تحت ارمان شاہ کے نکاح میں دیا گیا تھا، مگر جب وہ حاملہ ہوئی تو ارمان نے بچے کو اپنا ماننے سے انکار کر دیا۔ اسی رات حویلی والوں نے اسے مردہ سمجھ کر باہر پھینک دیا۔ چھ سال بعد الوینہ ڈاکٹر ماہم کے نام سے ایک نئی زندگی گزار رہی تھی اور اپنے بیٹے عبداللہ کی پرورش کر رہی تھی۔ ایک دن حادثے کا شکار ہونے والے مریض کو آپریشن کے لیے اس کے سامنے لایا گیا تو وہ ارمان شاہ نکلا۔ الوینہ نے اپنا فرض ادا کرتے ہوئے اس کا علاج کیا، لیکن پھر اپنے بیٹے کو لے کر شہر چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا۔ سفر سے پہلے عبداللہ اچانک باہر بھاگا اور الوینہ نے پیچھے مڑ کر ایسا منظر دیکھا جس نے اسے ہلا دیا۔

Sneak

ارمان شاہ سرد نظروں سے اپنے سامنے روتی الوینہ کو دیکھ رہا تھا۔ وہ پریگننٹ تھی۔اس کے نکاح میں ونی ہو کر آئی لڑکی جسے اس نے آج تک دیکھا تک نہیں تھا ۔وہ اسٹور روم میں رہتی تھی ۔"یہ بچہ ارمان شاہ کا ہی ہے۔ " وہ روتے ہوئے چلائی تو ارمان شاہ کی نظریں مزید سرد ہوئیں۔"تم سردار پر الزام لگا رہی ہو۔۔۔بتاؤ کس کا بچہ ہے؟ " وہ غرایا تو الوینہ نفرت سے ارمان شاہ کو دیکھنے لگی پھر غصے سے اسے پیچھے دھکا دیا۔"نشے میں قریب آئے تھے آپ میرے۔ " وہ چلائی۔۔۔پر اگلے لمحے منہ پر تھپڑ پڑا تو زمین پر گری ۔ اسی رات حویلی والوں نے اس کی سانسیں رکی دیکھ اسے مردہ سمجھ کر پھینک دیا ۔ چھ سال بعد ارمان شاہ دوسرے شہر سے لوٹ رہا تھا۔ ان چھ سالوں میں اسے ونی ہوئی الوینہ نجانے کیوں یاد آتی رہی تھی ۔جب اس کا ایکسیڈینٹ ہوا۔۔۔وہ علاج کے لیے ہسپتال گیا تو لیڈی ڈاکٹر کو دیکھ پتھر ہو گیا کیونکہ وہ الوینہ۔۔۔ 

"ڈاکٹر صاحب جلدی آئیے، ایمرجنسی ہے مریض کا بہت خون بہہ گیا ہے، ایئرپورٹ سے واپسی پر ان کا ایکسیڈنٹ ہو گیا تھا۔ وہ اکیلے ہیں اور ان کا موبائل بھی نہیں مل پا رہا، آپ پلیز جلدی آ جائیں"ڈاکٹر ماہم، جو اس وقت ایک سرجری مکمل کر کے اپنے چھ سالہ بیٹے کے ساتھ بیٹھی لنچ کر رہی تھیں، ایک دم اپنی جگہ سے اٹھیں اور بھاگ کر ایمرجنسی روم میں داخل ہوئیں۔ سامنے خون میں لت پت مریض کو دیکھ کر ان کی پوری دنیا گھوم گئی تھی! وہ چند لمحے پتھر کی ہو گئیں اور سامنے لیٹے مریض کو یک ٹک دیکھنے لگی۔"ڈاکٹر صاحبہ! کیا کریں؟ آپ بتائیے نا! آپریشن کی تیاری شروع کریں؟" پاس کھڑی نرس نے ان کے کندھے پر ہاتھ رکھا تو وہ جیسے ہوش کی دنیا میں واپس لوٹیں۔ ان کے چہرے کے تاثرات پتھریلے ہو چکے تھے۔"آپریشن کی تیاری شروع کریں۔"وہ مرے مرے قدموں سے واپس پلٹیں۔ اپنے بیٹے کو اپنے سینے سے لگایا، نہ جانے کیوں اسے کھونے کا ڈر ان کے دل میں اتنے سالوں بعد دوبارہ پیدا ہو گیا تھا۔"ڈاکٹر ماہم تیاری مکمل ہے۔"انہوں نے گہرا سانس بھرا اور آپریشن تھیٹر کی طرف بڑھ گئیں۔ ان کے ہاتھ پہلی بار کپکپا رہے تھے۔تبھی نرس کی تیز آواز ان کے کانوں میں پڑی۔ "ڈاکٹر صاحب۔۔۔ یہ ہوش میں آ گئے ہیں، ہمیں انہیں اینستھیزیا فورا دینا ہوگا"بیڈ پر لیٹے ارمان شاہ کی آنکھیں کھلی تھیں اور سامنے موجود چہرے کو دیکھ کر وہ پتھر کا ہو گیا تھا۔ اس کے ہونٹ پھڑپھڑائے تھے، مگر نقاہت سے اس میں اتنی طاقت نہیں تھی کہ وہ باآوازِ بلند اس کا نام لیتا۔ اس نے بے ساختہ اپنا ہاتھ بلند کیا۔"الوینہ۔۔۔"ماہم نے ضبط سے اپنے ہونٹ بھیچے۔ "اینستھیزیا دیجیے، ہمیں آپریشن فوراً کرنا ہوگا۔" یہ کہہ کر اس نے پروفیشنل انداز میں اپنا کام شروع کر دیا۔ ارمان شاہ کا ذہن نیم غنودگی کی حالت میں گم ہوتا چلا گیا۔آپریشن مکمل ہوتے ہی وہ بھاگ کر اپنے کمرے میں بند ہو گئی تھی اور دروازے سے ٹیک لگا کر روتے ہوئے زمین پر بیٹھ گئی۔ تبھی دو چھوٹے چھوٹے ہاتھوں نے اس کے گالوں پر موجود آنسوؤں کو صاف کیا۔"مما! آپ کیوں رو رہی ہیں؟" وہ اپنی توتلی زبان میں اس کی گود میں بیٹھ کر سوال کر رہا تھا۔"کچھ نہیں بیٹا، بس ایسے ہی۔۔۔ وہ پیشنٹ بہت زخمی تھا نا، اس لیے۔"وہ اسے کیا بتاتی کہ آج پورے چھ سالوں بعد وہ ارمان شاہ کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔جب وہ شاہ ولا سے رسوا ہو کر نکالی گئی تھی اور پھر اس نے پورے ایک سال درد میں مبتلا رہ کر جس طرح اسے پیدا کیا تھا، پھر اس کی پرورش کی مشکلات کا سامنا کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی پڑھائی جاری رکھنے کا بہترین فیصلہ کر کے ڈاکٹری کی ڈگری مکمل کی تھی۔۔۔ وہ چھ سال گزر گئے تھے! ارمان شاہ اور الوینہ کا ایک خوبصورت بیٹا جو اب چھ سال کا ہو چکا تھا، وہ اسے کیا بتاتی کہ وہ پورے چھ سال بعد اس کے باپ کو دیکھ کر آ رہی ہے، جس نے اس کی پیدائش اور اس کے وجود سے ہی انکار کر دیا تھا"ہم گھر چلتے ہیں، ٹھیک ہے؟"وہ جو آج 24 گھنٹے ڈیوٹی دینے والی تھی، اس نے اپنے بیٹے عبداللہ کو گود میں بھرا، اپنا پرس کندھے پر لٹکایا اور ہسپتال سے طبیعت کی خرابی کا بہانہ کر کے گھر آ گئی۔"مما! آپ کھانا نہیں کھا رہی ہیں؟" عبداللہ نے الوینہ ماہم سے معصومیت سے پوچھا۔"نہیں۔۔۔ بیٹا، میرا دل نہیں کر رہا۔ آپ کھا لیجیے اور پھر آج جلدی سونے کی تیاری کیجیے۔ کل ہم نانو کے گھر جا رہے ہیں۔"عبداللہ یہ سن کر خوشی سے اچھل پڑا تھا، مگر الوینہ ماہم جانتی تھی کہ وہ کس سے بھاگ رہی ہے۔ وہ دوبارہ کبھی اس کا سامنا نہیں کرنا چاہتی تھی اور اگر وہ یہاں تک پہنچ گیا تو۔۔۔ اس سے آگے اس سے کچھ سوچا ہی نہ گیا۔ اس نے عبداللہ کے سوتے ہی ہاسپٹل سے ارجنٹ ایک ہفتے کی چھٹی لے لی۔اگلی صبح اٹھ کر وہ پیکنگ کرنے لگی۔ چھ سال پہلے کا ہر ایک واقعہ اس کے دل کے غم کو تازہ کر گیا۔ "کاش ارمان شاہ! اس وقت آپ نے اپنی بیوی پر یقین کیا ہوتا، تو آج مجھے اس طرح آپ سے بھاگنا نہ پڑتا۔" اس نے اپنا دل کڑا کر کے ماضی کے غم کو دل سے مٹانے کی کوشش کی اور ڈرائیور کو گاڑی نکالنے کی ہدایت کی۔ عبداللہ کو گود میں اٹھائے اور بیگ ہاتھ میں تھامے وہ باہر نکلی ہی تھی کہ ہاسپٹل سے اسے کال آئی۔"میم! آپ کے پیشنٹ بار بار آپ کا پوچھ رہے ہیں، کیا آپ راؤنڈ بھی نہیں لگائیں گی؟"الوینہ ماہم نے ضبط سے اپنی مٹھیاں بھینچیں۔ "ایک سرجن کو بہتر پتہ ہوتا ہے کہ اسے کیا کرنا ہے اور کیا نہیں! وہ کافی سٹیبل ہو چکے ہوں گے آئی تھنک، اور جو علاج وہاں میں لکھ کر گئی ہوں وہ انہیں دیتے رہیے گا۔ چوتھے دن انہیں ڈسچارج کر دیجیے گا۔"اس نے جلدی سے فون بند کیا اور گاڑی میں بیٹھنے ہی لگی کہ ڈرائیور نے اسے ایک الم ناک خبر سنائی۔"آئی ایم ریلی سوری میم! لیکن میں آپ کو لے کر نہیں جا سکتا۔ٹرین کو حادثہ پیش آ گیا ہے اور بس ڈرائیور ایسوسی ایشن نے ہڑتال شروع کر دی ہے۔ بہت مشکل سے ٹرین کی ٹکٹ ملی تھی۔۔۔"ڈاکٹر الوینہ ماہم پر یہ خبر بجلی بن کر گری۔ وہ عبداللہ کو لے کر اترے چہرے کے ساتھ دوبارہ اپنے گھر آئی۔"مما! ہم کیوں نہیں گئے؟" عبداللہ کافی اداس ہو چکا تھا۔"ہم جائیں گے، ضرور جائیں گے۔"پورا دن وہ خود کو گھر کے کاموں میں مصروف رکھتی رہی۔ اس نے اپنا فون بند کر دیا تھا۔ تین دن یوں ہی گزر گئے۔ چوتھے دن ڈرائیور نے اسے خوشخبری سنائی کہ شام کو چار بجے ان کی ٹکٹ ہے، مگر الوینہ کے چہرے پر خوشی کے کوئی آثار نہ تھے۔ اس نے میکے سے بھی بہت کم رابطہ رکھا تھا اور اب تو وہ ضرورت کے تحت جا رہی تھی۔ اس نے ساری پیکنگ مکمل کر لی تھی۔دوپہر کے تین بجے وہ عبداللہ کو کھانا کھلا رہی تھی جب اس کے فون کی گھنٹی بجی۔ اس نے فون کان سے لگایا ہی تھا کہ عبداللہ دوڑ کر باہر کی جانب لپکا۔ وہ کال بند کر کے جیسے ہی واپس مڑی تو اس کے پیروں تلے سے زمین کھسک گئی۔۔۔

Download Novel PDF

Download Link 1 — MediaFireDownload Link 2 — Google Drive

Read Novel Online

Join WhatsApp Channel

Description — Urdu

**زیستِ محبت از حیا فاطمہ** ایک دردناک، جذباتی اور ونی کی رسم پر مبنی اردو ناول ہے، جس میں ایک بے قصور لڑکی کو اپنے شوہر کی بے اعتباری، خاندانی ظلم اور معاشرتی ناانصافی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ چھ سال بعد وہی لڑکی ایک کامیاب ڈاکٹر اور اپنے بیٹے کی محافظ ماں بن کر زندگی گزار رہی ہوتی ہے، مگر ماضی اچانک دوبارہ اس کے سامنے آ کھڑا ہوتا ہے۔

الوینہ ایک ایسی لڑکی تھی جسے ونی کی رسم کے تحت ارمان شاہ کے نکاح میں دیا گیا تھا۔ اس رشتے میں اس کی خواہش اور رضامندی کو اہمیت نہیں دی گئی تھی۔ وہ شاہ ولا کے اسٹور روم میں رہتی تھی اور ارمان شاہ نے اس کی زندگی اور حالات پر توجہ نہیں دی تھی۔

اس کی زندگی میں سب سے تکلیف دہ وقت اس وقت آیا جب اس کے حاملہ ہونے کی خبر سامنے آئی۔ الوینہ نے روتے ہوئے کہا کہ اس کے پیٹ میں موجود بچہ ارمان شاہ ہی کا ہے، مگر ارمان نے اس کی بات ماننے کے بجائے اس پر الزام لگایا۔

الوینہ نے اسے یاد دلایا کہ وہ نشے کی حالت میں اس کے قریب آیا تھا۔ لیکن ارمان شاہ نے اس کی بات پر یقین نہیں کیا۔ بات بڑھنے پر الوینہ کو تھپڑ مارا گیا اور وہ زمین پر گر پڑی۔

اسی رات حویلی والوں نے اسے بے جان سمجھ کر گھر سے باہر پھینک دیا۔

یہ ایک ایسا ظلم تھا جس نے الوینہ کی زندگی کا رخ بدل دیا۔

چھ سال گزر گئے۔

ان چھ برسوں میں الوینہ نے اپنے لیے ایک نئی زندگی تعمیر کی۔ اس نے اپنے بیٹے عبداللہ کو جنم دیا، اس کی پرورش کی اور مشکلات کے باوجود اپنی تعلیم جاری رکھی۔ بالآخر وہ ڈاکٹری کی ڈگری حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی۔

اب وہ ڈاکٹر الوینہ ماہم کے نام سے ایک ہسپتال میں کام کر رہی تھی۔

اس کا بیٹا عبداللہ چھ سال کا ہو چکا تھا۔ وہ اپنی ماں کے قریب رہنے والا ایک معصوم بچہ تھا، جس کی موجودگی الوینہ کی زندگی کا سب سے اہم حصہ بن چکی تھی۔

الوینہ نے اپنے ماضی سے دور رہنے کی کوشش کی تھی۔ وہ دوبارہ شاہ ولا، ارمان شاہ یا ان لوگوں کا سامنا نہیں کرنا چاہتی تھی جنہوں نے اس کے ساتھ ناانصافی کی تھی۔

مگر قسمت نے اس کے لیے ایک غیرمتوقع امتحان تیار کر رکھا تھا۔

ایک دن الوینہ ہسپتال میں اپنی سرجری مکمل کرنے کے بعد عبداللہ کے ساتھ کھانا کھا رہی تھی کہ ایمرجنسی سے اسے بلایا گیا۔ ایک مریض ایئرپورٹ سے واپسی پر حادثے کا شکار ہو گیا تھا اور اس کا بہت خون بہہ چکا تھا۔

ڈاکٹر ماہم فوراً ایمرجنسی روم میں پہنچی۔

لیکن سامنے زخمی حالت میں موجود مریض کو دیکھ کر اس کے قدم جیسے زمین میں جم گئے۔

وہ ارمان شاہ تھا۔

وہی شخص جس نے چھ سال پہلے اس کے بچے کو اپنا ماننے سے انکار کر دیا تھا۔

وہی شخص جس کے رویے اور فیصلوں کی وجہ سے الوینہ کو اپنی زندگی کے انتہائی مشکل حالات سے گزرنا پڑا تھا۔

چند لمحوں کے لیے الوینہ شدید صدمے میں آ گئی، لیکن پھر اس نے خود کو سنبھالا اور مریض کے آپریشن کی تیاری کا حکم دیا۔

اس کے ہاتھ پہلی مرتبہ کپکپا رہے تھے۔

آپریشن سے پہلے جب ارمان شاہ کو کچھ ہوش آیا تو اس نے سامنے موجود خاتون ڈاکٹر کو دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں حیرت اتر آئی اور اس کے ہونٹوں سے الوینہ کا نام نکلا۔

الوینہ نے اپنے جذبات پر قابو رکھا اور پیشہ ورانہ ذمہ داری پوری کرتے ہوئے آپریشن شروع کر دیا۔

آپریشن مکمل ہونے کے بعد وہ اپنے کمرے میں جا کر رو پڑی۔

اس کا بیٹا عبداللہ اس کے پاس آیا اور اپنی ماں کے آنسو صاف کرتے ہوئے پوچھنے لگا کہ وہ کیوں رو رہی ہے۔

الوینہ نے اسے بتایا کہ ایک مریض بہت زخمی تھا، اسی لیے وہ پریشان ہے۔

وہ اپنے چھ سالہ بیٹے کو یہ کیسے بتاتی کہ آج اس نے اس کے باپ کو دیکھا ہے، جس نے کبھی اس کے وجود کو تسلیم نہیں کیا تھا۔

اس واقعے نے الوینہ کے دل میں پرانے زخم تازہ کر دیے۔

اس نے فیصلہ کیا کہ وہ دوبارہ ارمان شاہ کا سامنا نہیں کرے گی۔

وہ عبداللہ کو لے کر ہسپتال سے گھر واپس آ گئی اور اگلے دن اپنی والدہ کے گھر جانے کی تیاری شروع کر دی۔

اس نے ہسپتال سے ایک ہفتے کی ہنگامی چھٹی بھی لے لی۔

لیکن حالات اس کے ارادے کے مطابق نہیں چل رہے تھے۔

سفر کے انتظامات میں اچانک رکاوٹ آ گئی۔ ڈرائیور نے اسے بتایا کہ ٹرین کو حادثہ پیش آنے اور ٹرانسپورٹ کی ہڑتال کے باعث سفر ممکن نہیں رہا۔

الوینہ کو مجبوراً گھر واپس آنا پڑا۔

اس نے اپنا فون بند کر دیا اور تین دن تک خود کو گھریلو کاموں میں مصروف رکھا۔

چوتھے دن ڈرائیور نے بتایا کہ شام چار بجے سفر کے لیے ٹکٹ مل گئی ہے۔

الوینہ نے دوبارہ سامان تیار کیا۔

اسے امید تھی کہ اب وہ عبداللہ کو لے کر اس شہر سے دور جا سکے گی۔

لیکن روانگی سے کچھ پہلے، جب وہ عبداللہ کو کھانا کھلا رہی تھی، اس کے فون کی گھنٹی بجی۔

اس نے کال وصول کی ہی تھی کہ عبداللہ اچانک باہر کی طرف بھاگ گیا۔

الوینہ نے فون بند کر کے پیچھے دیکھا تو اس کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔

سامنے کیا منظر تھا، یہ ابھی کہانی میں ظاہر نہیں ہوا تھا۔

کیا ارمان شاہ الوینہ تک پہنچ چکا تھا؟

کیا اسے عبداللہ کے بارے میں حقیقت معلوم ہو سکے گی؟

اور کیا الوینہ اپنے بیٹے کو اس ماضی سے محفوظ رکھ سکے گی جس نے اس کی زندگی کو شدید تکلیف پہنچائی تھی؟

**زیستِ محبت** ونی کی رسم، جبری رشتے، بے اعتباری، ماں کی جدوجہد، پوشیدہ بچے اور چھ سال بعد ہونے والے غیرمتوقع سامنا پر مبنی جذباتی کہانی ہے۔

Summary — Urdu

**زیستِ محبت** الوینہ اور ارمان شاہ کی کہانی ہے، جس میں ایک جبری رشتہ، سنگین غلط فہمی اور چھ سال کی جدائی دو زندگیوں کا رخ بدل دیتی ہے۔

الوینہ کو ونی کی رسم کے تحت ارمان شاہ کے نکاح میں دیا جاتا ہے۔ وہ شاہ ولا کے اسٹور روم میں رہتی ہے، جبکہ ارمان اس کی زندگی سے بے پروا رہتا ہے۔

جب الوینہ حاملہ ہوتی ہے تو ارمان بچے کو اپنا ماننے سے انکار کر دیتا ہے۔

الوینہ اسے بتاتی ہے کہ وہ نشے کی حالت میں اس کے قریب آیا تھا، مگر ارمان اس کی بات پر یقین نہیں کرتا۔

اس کے ساتھ تشدد کیا جاتا ہے اور اسی رات حویلی والے اسے مردہ سمجھ کر باہر پھینک دیتے ہیں۔

چھ سال بعد الوینہ اپنی زندگی نئے سرے سے شروع کر چکی ہوتی ہے۔

وہ ڈاکٹر الوینہ ماہم کے نام سے ایک سرجن بن جاتی ہے اور اپنے چھ سالہ بیٹے عبداللہ کی پرورش کر رہی ہوتی ہے۔

ایک دن ہسپتال میں حادثے کا شکار ہونے والے مریض کو دیکھ کر وہ حیران رہ جاتی ہے۔

وہ مریض ارمان شاہ ہوتا ہے۔

الوینہ اپنے جذبات پر قابو رکھ کر اس کا آپریشن کرتی ہے، مگر چھ سال بعد اسے دیکھنا اس کے لیے شدید تکلیف دہ ہوتا ہے۔

آپریشن کے بعد وہ اپنے بیٹے کے پاس جا کر رو پڑتی ہے۔

وہ ارمان کا دوبارہ سامنا نہیں کرنا چاہتی، اس لیے عبداللہ کو لے کر اپنی والدہ کے گھر جانے کا فیصلہ کرتی ہے۔

وہ ہسپتال سے چھٹی لیتی ہے اور سفر کی تیاری شروع کر دیتی ہے۔

لیکن ٹرانسپورٹ کے مسائل کے باعث اس کا سفر مؤخر ہو جاتا ہے۔

تین دن بعد اسے دوبارہ ٹکٹ ملتی ہے۔

روانگی سے کچھ پہلے عبداللہ اچانک باہر کی طرف بھاگتا ہے اور الوینہ پیچھے مڑ کر ایسا منظر دیکھتی ہے جس سے وہ شدید حیران رہ جاتی ہے۔

کیا ارمان شاہ الوینہ کی نئی زندگی کے بارے میں جان سکے گا؟

کیا عبداللہ کی حقیقت اس کے سامنے آئے گی؟

اور کیا الوینہ اپنے بیٹے اور اپنی نئی زندگی کو محفوظ رکھ پائے گی؟

Related Keywords

Zeest e Muhabbat Novel21050 Novel, Zeest e Muhabbat Novel21050 Urdu Novel, Zeest e Muhabbat Novel21050 PDF

Support Novelistan ❤️

Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.

EasyPaisa / JazzCash

0309 1256788

Account name: Safia Bano

Bank Transfer (UBL)

United Bank Limited

Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131

Name: Sadia Hassan

IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131

Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕

Frequently asked questions

Who wrote Zeest e Muhabbat Novel21050 — Novelistan?

Zeest e Muhabbat Novel21050 — Novelistan is written by Haya Fatima.

Is Zeest e Muhabbat Novel21050 — Novelistan complete or ongoing?

The recorded status of this novel is Complete.

What categories is this novel listed under?

This novel is listed under Complete Urdu Novel and Romantic Urdu Novels.

Where can I read Zeest e Muhabbat Novel21050 — Novelistan?

The reading content is available in the Read online section of this page.

Share this Novel

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *