Peymaan e Koodaki (پیمانِ کودکی) Urdu novel cover
626.1kViews
#756Ranking
CompleteStory status
NOVELISTAN · URDU NOVELS

Peymaan e Koodaki Novel21048 — Novelistan

Rate this novel

بچپن میں طے ہونے والی منگنی شہروز خاکوانی اور نور الہدیٰ دونوں کے لیے ایک مسئلہ بن چکی تھی۔ شہروز اپنی مرضی کے بغیر شادی کرنے کو تیار نہیں تھا، جبکہ نور الہدیٰ بیرونِ ملک اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے خواب دیکھ رہی تھی۔ والدین کے اصرار پر دونوں کو ایک دوسرے سے ملنے کا موقع دیا گیا، مگر نور الہدیٰ نے پہلے ہی ایک منصوبہ بنا لیا تھا۔ وہ اپنا حلیہ اس طرح بدل کر گاؤں پہنچی کہ شہروز اسے دیکھتے ہی شادی سے انکار کر دے۔ لیکن جب شہروز نے سب کے سامنے اسے پسند کرنے کا اعلان کیا تو نور الہدیٰ کے تمام اندازے غلط ثابت ہو گئے۔ وہ حیران تھی کہ آخر اس نوجوان کے ذہن میں کیا چل رہا ہے اور اس نے اچانک شادی کے لیے رضامندی کیوں ظاہر کر دی؟

Sneak

"نہیں بابا پلیز۔۔۔میری شادی اپنے دیہاتی بھتیجے سے مت کریں۔میں بچپن کی منگنی کو نہیں مانتی۔ " وہ کوفت سے بولی تھی ۔وہ پڑھنے کے لیے امریکہ جانا چاہتی تھی جب کہ اس کے ماں باپ اسے گاؤں لے جا رہے تھے۔ جب اس کے ماں باپ نہ مانے تو پلان کرتے وہ ایک ہفتہ پہلے اپنی بہن کے ساتھ گاؤں گئی اور گاؤں پہنچنے سے پہلے نقلی گولڈن بالوں کی وگ لگاتے نہایت چمکیلا اور نا مناسب ٹائٹ ٹراؤزر اور شرٹ پہنا تاکہ شہروز خاکوانی اسے دیکھتے ہی شادی کے لیے انکار کر دے۔ "مجھے لڑکی پسند ہے ماما بابا۔میں اسی سے شادی کروں گا۔ " شہروز خاکوانی کی بات سنتے وہ پتھر ہوئی تھی جب کہ شہروز اسے سرد نظروں سے دیکھ رہا تھا۔ "یہ مجھے ایسی کھا جانے والی نظروں سے کیوں گھور رہا ہے؟ " اس نے اپنی بہن سے پوچھا پر کمرہ خالی ہوتے شہروز نے اس کا راستہ روک لیا اور۔۔۔
میں کسی صورت اس لڑکی سے شادی نہیں کروں گا بابا! آپ لوگوں کی رشتہ داری نبھانے کے چکر میں میں اپنی زندگی برباد نہیں کروں گا، وہ انتہائی سختی سے کہہ رہا تھا۔ اس کے ماں باپ منہ پر ہاتھ رکھے اسے خاموشی سے دیکھ رہے تھے۔ انہیں مستقل خاموش دیکھ اس کے ماتھے پر بل پڑے، آپ لوگ مجھے گھورنا بند کریں، آپ لوگوں کے گھورنے سے میرا فیصلہ نہیں بدلے گا۔ اس نے جھنجھلاتے ہوئے کہا۔ اس کا باپ مسکرایا، پر مجھے ایسا کیوں لگ رہا ہے کہ تمہارا فیصلہ بدلنے لگا ہے؟ اپنے باپ کی چالاکی پر اس نے اپنے باپ کو گھور کر دیکھا۔ وہ اسے ہر بات کے لیے ایسے ہی منایا کرتے تھے۔ نہیں، بالکل بھی نہیں! مانا میں نے اور نہ میں مانوں گا بھی نہیں۔ آپ لوگ مجھے اس طرح بلیک میل نہیں کر سکتے۔ شادی میرا شرعی اور قانونی حق ہے، جو میں اپنی پسند سے کروں گا۔ آپ لوگ مجھے اس کے لیے مجبور نہیں کر سکتے، اس نے قطعیت سے کہا۔ ہاں، مجبور نہیں کر رہے، پر وہ تمہاری بچپن کی منگیتر ہے۔ تم اس سے ایسے کیسے رشتہ توڑ سکتے ہو؟ یہ ہمارے بڑوں میں رشتہ طے ہوا تھا اور تم جانتے ہو ہمارے خاندان میں منگنی کو بھی نکاح کی حیثیت سے دیکھا جاتا ہے، زبان کی پاسداری کی جاتی ہے۔ اگر کسی انسان کا قول و فعل ہی ٹھیک نہ ہو، تو پھر وہ کیسے پہچانا جائے گا؟ اپنے باپ کی بات پر اس نے کمر پر ہاتھ رکھا۔ بچپن میں بنا پوچھے بچوں سے رشتہ پکا کر دینا کہاں کا انصاف ہے؟ میں نے کہا تھا میرا رشتہ پکا کریں؟ زندگی میری ہے اور فیصلے بڑے کر کے چلے گئے، وہ غصے سے بولا۔ تمیز سے بات کرو، اس کے باپ نے سنجیدگی سے ٹوکا۔ ہاں، میں تمیز سے ہی بات کر رہا ہوں اور میں تمیز سے ہی آپ کو یہ بتا رہا ہوں کہ میں اس منگنی کو نہیں مانتا، جو میرے ہوش و حواس میں کی ہی نہیں گئی، اس نے غصے سے کہا۔ اتنے عرصے میں اس کی ماں پہلی بار بولی، تم کسی اور کو پسند کرتے ہو کیا؟ اپنی ماں کے کہنے پر اس نے نفی میں سر ہلایا، میں کسی کو پسند نہیں کرتا، پر میں کسی ایسے شخص سے بھی شادی نہیں کروں گا جو مجھے ناپسند ہو، اس نے جتایا۔ پر تم تو اس سے ملے ہی نہیں، پھر تم اسے ناپسند کیسے کر سکتے ہو؟ اس کی ماں کی بات پر وہ گہری سانس لیتے ہوئے ان کے سامنے بیٹھا۔ میں ملا نہیں ہوں اب میں ملنا بھی نہیں چاہتا۔ یہ اچھی زبردستی ہے؟ نہیں کرنی اس سے شادی تو نہیں کرنی۔ میں خاندان میں شادی ہی نہیں کرنا چاہتا، وہ میرے ٹائپ کی نہیں ہے، اس نے آنکھیں گھماتے ہوئے کہا۔ اس کا باپ سیدھا ہوا، جو تمہاری ٹائپ کیا ہے؟ اس نے اپنے باپ کو گہری نظروں سے دیکھا، میری ٹائپ جاننا چاہتے ہیں؟ ٹھیک ہے! میں کسی گھریلو، سلجھی ہوئی، سلیقہ مند، کم گو، پیاری لڑکی سے شادی کرنا چاہتا ہوں، حیادار! لیکن وہ شہر میں رہتی ہے، شہر کا ماحول جانتے ہیں آپ کس قدر خراب ہو چکا ہے؟ میں کسی ماڈرن لڑکی کو اپنی بیوی بنا کر اپنی نسل خراب نہیں کروں گا۔ اس کے کہنے پر اس کے ماں باپ نے مسکرا کر ایک دوسرے کو دیکھا۔ شکر ہے تمہاری پسند اچھی ہے، ہم سمجھے پتہ نہیں کیا دماغ میں بٹھائے بیٹھے ہو۔ تو تمہاری اطلاع کے لیے عرض کر دیں، وہ جو آ رہی ہے وہ باحیا اور پردے دار ہے۔ گاؤں میں بھی لڑکیاں ایسی شرافت نہیں دکھاتی ہوں گی جیسی شرافت سے وہ رہتی ہے۔ اس کے باپ نے اسے بہت نیک تربیت سے پالا ہے۔ اپنے باپ کے کہنے پر اس کی آنکھیں پھیلیں، دیکھا! اسی لیے اگلوانے کے لیے میں نے آپ کو اپنی یہ پسند بتائی تھی۔ یہی میں آپ کو کہنا چاہ رہا تھا، میں اس ٹائپ کی لڑکی نہیں چاہتا۔ میری ذاتی پسند یہ ہے کہ میں اپنے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنے والی لڑکی کو پسند کروں، مجھے ماڈرن لڑکی سے شادی کرنی ہے، اس لیے آپ منع کر دیں کہ وہ لوگ گاؤں نہ آئیں۔ کہتے وہ کھڑا ہوا۔ اس کا باپ سنجیدگی سے کھڑا ہوا، آگے بڑھا اور اس کے شانوں کو تھاما، وہ لوگ گاؤں آ رہے ہیں، ایک بار تو اس لڑکی سے مل لو، اگر تمہیں پسند آ گئی تو ٹھیک ورنہ میرا وعدہ ہے کہ میں تم پر زبردستی نہیں کروں گا۔ جیسا کہو گے ویسا ہوگا، لیکن تم جب تک اس کا انتظار کرو گے اور صرف دیکھو گے، سوچ سمجھ کر پھر اپنا فیصلہ سناؤ گے۔ اپنے باپ کے کہنے پر اس نے گہری سانس لی، ٹھیک ہے! اور اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔ ہونٹ مسکرانے لگے، جیسے دل سے کوئی بوجھ اتر گیا ہو۔ فیصلہ تو وہ پہلے ہی کر چکا تھا کہ وہ اپنے چچا کی بیٹی سے کسی صورت شادی نہیں کرے گا۔ وہ شہروز خاکوانی تھا، اپنے ماں باپ کا اکلوتا بیٹا۔ ان کے ماں باپ جاگیردار خاندان سے تھے، رشتہ داروں میں صرف ایک چچا تھے جو سگی رشتہ دار تھے اور چچا کی شادی اس کی چھوٹی خالہ سے ہوئی تھی یعنی وہ دونوں طرف سے پھنسا تھا۔ اگر ماں باپ الگ الگ ہوتے تو ان کو اس بات پر اختلاف ہوتا کہ ہمارے خاندان میں شادی کرو، لیکن اب وہ دونوں ہی اس کی کزن نور الہدیٰ کو اس کی بیوی بنانا چاہتے تھے۔ اس کی ماں اپنی بہن کی بیٹی کو لانا چاہتی تھی اور باپ اپنے بھائی کی بیٹی کو، اور اسی سلسلے میں انہوں نے انہیں گاؤں بلایا تھا۔
نہیں بابا، میری بات کا یقین کریں، میں کسی صورت اس سے شادی نہیں کروں گی جس سے آپ کہہ رہے ہیں۔ بھلا ایک گاؤں کے جاہل، گوار سے میں کیوں شادی کروں؟ وہ اپنے باپ کے سامنے ہاتھ جوڑے بیٹھی تھی، اس کی ماں بیزارگی سے اسے دیکھ رہی تھی۔ وہ نور الہدیٰ ان کی لاڈلی چھوٹی بیٹی تھی۔ نور! بکواس مت کرو، اپنے کمرے میں جاؤ۔ اسی لیے تمہیں تعلیم دلوائی ہے کہ تم دوسروں کو جاہل، گوار کہو؟ تم سے کروڑ درجے بہتر تربیت والا ہے میرا بچہ! اتنا باادب ہے کہ بس... اس کی ماں نے اسے ڈانٹا۔ نور الہدیٰ انہیں گھورنے لگی، مجھے اس کے ادب کا کچھ بھی نہیں کرنا! کوئی ادب والا ہو تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ اس سے شادی کر لیں۔ انسان اپنے کیولری (مساوی) انسان سے شادی کرتا ہے۔ آپ مجھے ڈاکٹر کی ڈگری دلوا رہے ہیں اور آپ میری اس جاہل، انپڑھ سے شادی کروا رہے ہیں؟ اگر یہی سب کچھ کرنا تھا تو میری تعلیم کنٹینیو کیوں کروائی؟ وہ جھنجھلائی۔ تو ٹھیک ہے، چھوڑ دو تعلیم! اس کی ماں نے کندھے اچکاتے ہوئے کہا۔ رونے کو ہوئی نور... مرزا کے باپ نے اس کی ماں کو خاموش رہنے کا اشارہ کیا۔ میں بات کر رہا ہوں ناں میری بیٹی سے، میں خود بات کر لوں گا۔ انہوں نے محبت سے کہا۔ نہیں بابا، آپ مجھے ایموشنل بلیک میل نہیں کریں گے! دیکھیں، میرے آگے کے خواب بہت بڑے ہیں۔ آپ نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ اگر میں نے ڈاکٹری کی ڈگری اچھے طریقے سے کلیئر کر لی تو آپ مجھے اسپیشلائزیشن کے لیے یورپ بھیجیں گے اور اب آپ اپنے وعدے سے مکر رہے ہیں! آپ میری شادی کیسے کر سکتے ہیں؟ وہ غصے سے بول رہی تھی۔ دیکھو نور الہدا! اگر کوئی آپ سے کم تعلیم یافتہ ہو تو وہ جاہل، گوار نہیں ہوتا۔ جسے تم جاہل، گوار کہہ رہی ہو ناں، وہ بی بی اے کی ڈگری لے کر بیٹھا ہے اور مزید آگے پڑھنے کا ارادہ رکھتا ہے، باپ نے اسے سمجھایا۔ پر میری نظر میں وہ جاہل، گوار ہی ہے۔ آپ کو پتہ نہیں ہے کہ گاؤں کے لوگوں کی مینٹیلٹی کیسی ہوتی ہے؟ آپ پلیز میرے ساتھ زبردستی مت کریں، میری شادی مت کریں۔ آپ بس اپنا وعدہ پورا کریں جو آپ نے کیا تھا کہ آپ مجھے اسپیشلائزیشن کروائیں گے، اب آپ یورپ بھیجنے کے نام پر مکر رہے ہیں! وہ غصے سے بولی۔ بہت ہو گئی بحث، اپنے کمرے میں جاؤ! ہم نے تم سے پوچھا نہیں ہے، تمہیں بتایا ہے کہ ہمیں گاؤں جانا ہے اور ہم نے کون سا رشتہ پکا کیا ہے؟ یہ تمہارے دادا پکا کر کے گئے تھے، اب ہم بڑوں کے فیصلوں کو بدل نہیں سکتے۔ اس کی ماں نے اسے ڈانٹا۔ بڑوں کے فیصلوں کو بدل نہیں سکتے پر بے جوڑ کے رشتے زبردستی ایک دوسرے پر تھوپ سکتے ہیں؟ بڑوں کو تو عقل نہیں تھی، آپ لوگ تو عقل سے کام لیں! اس کا کہنا تھا کہ اس کا باپ اسے غصے سے گھورنے لگا۔ سوری بابا! میرا وہ مطلب نہیں تھا، لیکن پلیز ناں میں شادی نہیں کرنا چاہتی وہاں پر... وہ رو دینے کو تھی۔ کسی اور کو پسند کرتی ہو؟ اس کے باپ نے سنجیدگی سے پوچھا۔ استغفراللہ! نہیں بابا، میں کسی کو پسند نہیں کرتی، لیکن میں وہاں بھی شادی نہیں کروں گی جہاں آپ کہہ رہے ہیں۔ میں کسی گاؤں دیہاتی سے شادی نہیں کروں گی! اس نے فیصلہ کن انداز میں کہا۔ نور الہدا! تم اسے ایک بار مل تو لو، وہ بہت اچھا ہے، وہ بہت ہینڈسم ہے، مجھے یقین ہے تم اس سے ملو گی تو وہ تمہیں پسند آئے گا۔ نور الہدا نے گہری سانس لی، مجھے معلوم ہے مجھے نہیں پسند آئے گا، آپ پلیز رشتے کو ختم کریں ناں! آپ لوگ جہاں بولیں گے میں شادی کروں گی، پر ابھی نہیں، میری اسپیشلائزیشن ہو جائے پھر۔ پہلے آپ مجھے یورپ بھیجیں گے، میں وعدہ کرتی ہوں میں پسند کی شادی نہیں کروں گی لیکن وہاں بھی نہیں کروں گی جہاں آپ کہہ رہے ہیں۔ اس کے کہنے پر اس کے باپ نے گہری سانس لی، مجھے نہیں پتہ تھا نور الہدا! تم مجھے اس طرح شرمندہ کرو گی۔ میں نے تمہیں اس لیے تعلیم نہیں دلوائی تھی کہ تم میرے منہ پر آ کر کھڑی ہو جاؤ۔ اگر مجھے پتہ ہوتا تعلیم تم پر اتنا برا اثر ڈالے گی تو میں تم سے کبھی بات نہ کرتا۔ جسے تم جاہل، گوار کہہ رہی ہو ناں، پہلی بات وہ جاہل، گوار نہیں ہے اور اگر جاہل، گوار ہے بھی ناں تو اس نے اپنے بنا دیکھے وہ تم سے شادی پر رضامند ہے، جب کہ وہ لڑکا ہے اسے تم سے زیادہ اعتراضات ہو سکتے ہیں، اسے کوئی اور بھی پسند ہو سکتا ہے، پر اس نے ایسا کچھ بھی نہیں کیا صرف اپنے ماں باپ کی عزت اور ان کی زبان کی خاطر! اگر تمہیں شادی نہیں کرنی تو ٹھیک ہے، میں تمہیں مجبور نہیں کروں گا لیکن میرا تم پر سے مان اٹھ جائے گا! وہ کہتے ہوئے رخ پھیر گئے۔ نور الہدا نم نگوں سے انہیں دیکھنے لگی۔ اگر آپ کو ایسے لگتا ہے کہ میں آپ کا مان توڑ رہی ہوں تو ٹھیک ہے، میں شادی پر رضامند ہوں! کہتے ہوئے وہ اٹھ کر کمرے سے نکل گئی۔ نور الہدا کے باپ نے مسکراتے ہوئے اس کی ماں کو دیکھا، ماں نے داد دینے والی نظروں سے اپنے شوہر کو دیکھا اور اطمینان سے واپس اپنی کتاب پڑھنے میں مصروف ہو گئی۔ نور الہدا غصے سے اپنے کمرے میں آئی۔ اس کی بڑی بہن کا ٹی وی کا ریموٹ ہاتھ میں تھا اور وہ ٹی وی دیکھنے میں مگن تھی۔ نور الہدا کے داخل ہونے پر نگاہ موڑ کر نور الہدا کو دیکھا، کیا ہوا؟ کون جیتا جنگ؟ بابا یا تم؟ اس نے پوچھا۔ تمہیں کیا لگتا ہے کون جیتا ہوگا؟ نور الہدا نے چڑھ کر جواب دیا۔ اس کی بہن نے ٹی وی بند کر دیا، ہنسی، یقینی طور پر بابا جیتے ہوں گے! انہوں نے کوئی ایک آدھ جملہ ایموشنل ایسا بولا ہوگا کہ تم ان کے حق میں فیصلہ سنا کر آ گئی ہوگی۔ اس کی بہن نے اطمینان سے کہا۔ اس بار ایسا نہیں ہوا، میں نے حامی ضرور بھری ہے لیکن میں نے ابھی جنگ ہاری نہیں ہے۔ ہاں، لیکن اب مجھے تھوڑا چالاکی سے کام لینا پڑے گا، بابا کہہ رہے تھے وہ بہت فرمانبردار ہے! اس نے فرمانبرداری میں رشتے کے لیے ہاں کر دی ہے، پر ٹرسٹ می میں خود ایسے حالات پیدا کر دوں گی کہ وہ لڑکا شادی سے انکار کرے گا! بلکہ اتنی بدتمیزی سے انکار کرے گا کہ بابا کے سر سے اس کی شرافت اور ماما کے سر سے اس کے باادب ہونے کا سارا بھوت ایک لمحے میں اتر جائے گا!
۔
۔
۔

Download Novel PDF

Download Link 1 — MediaFireDownload Link 2 — Google Drive

Read Novel Online

Join WhatsApp Channel

Description — Urdu

**پیمانِ کودکی** بچپن کی منگنی، خاندانی وعدوں، ضد، انا اور دو مختلف سوچ رکھنے والی شخصیات کے گرد گھومنے والا ایک دلچسپ رومانی اردو ناول ہے۔

شہروز خاکوانی ایک بااثر جاگیردار خاندان کا اکلوتا بیٹا تھا۔ خوددار، ضدی اور اپنی زندگی کے فیصلے خود کرنے کا خواہش مند شہروز اس وقت سخت ناراض ہو گیا جب اس کے والدین نے اس کی شادی اس کی بچپن کی منگیتر نور الہدیٰ سے کرنے کی بات چھیڑی۔

یہ رشتہ دونوں خاندانوں کے بزرگوں نے برسوں پہلے طے کیا تھا اور اب والدین اسے پورا کرنا چاہتے تھے۔

مگر شہروز کسی ایسی لڑکی سے شادی کرنے کے لیے تیار نہیں تھا جس سے وہ کبھی ملا تک نہیں تھا۔

اس کا مؤقف واضح تھا کہ شادی اس کی اپنی زندگی کا فیصلہ ہے اور اسے اپنی پسند سے شریکِ حیات منتخب کرنے کا حق حاصل ہے۔

اس کے والدین نے اسے سمجھایا کہ نور الہدیٰ ایک شریف، باحیا اور اچھی تربیت یافتہ لڑکی ہے، لیکن شہروز کسی صورت ماننے کو تیار نہ تھا۔

آخرکار اس کے والد نے اسے یقین دلایا کہ وہ صرف ایک مرتبہ نور الہدیٰ سے مل لے۔ اگر ملاقات کے بعد بھی وہ راضی نہ ہوا تو اس پر شادی کے لیے کوئی زبردستی نہیں کی جائے گی۔

شہروز نے بظاہر یہ شرط قبول کر لی، مگر اپنے دل میں وہ پہلے ہی انکار کا فیصلہ کر چکا تھا۔

دوسری طرف نور الہدیٰ بھی اس رشتے سے خوش نہیں تھی۔

وہ ایک تعلیم یافتہ، خوداعتماد اور اپنے مستقبل کے لیے بڑے خواب دیکھنے والی لڑکی تھی۔ اس کی خواہش تھی کہ ڈاکٹری کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ بیرونِ ملک جا کر مزید تخصص حاصل کرے۔

لیکن اس کے والدین اسے گاؤں لے جا کر اس کے بچپن کے منگیتر سے ملوانا چاہتے تھے۔

نور الہدیٰ کو گاؤں میں شادی کرنے کا خیال ہی پسند نہیں تھا۔ وہ شہروز کو جانے بغیر اس کے بارے میں منفی رائے قائم کر چکی تھی۔

اس نے اپنے والدین کے سامنے صاف انکار کر دیا کہ وہ کسی دیہاتی نوجوان سے شادی نہیں کرے گی۔

اس کے والد نے اسے سمجھایا کہ گاؤں میں رہنے والا ہر شخص جاہل نہیں ہوتا اور شہروز خود بھی تعلیم یافتہ نوجوان ہے۔

مگر نور الہدیٰ اپنی بات پر قائم رہی۔

آخرکار جب اس کے والد نے خاندانی وعدے اور اپنے اعتماد کی بات کی تو وہ جذباتی ہو کر بظاہر شادی کے لیے رضامند ہو گئی۔

لیکن اس کے ذہن میں کچھ اور ہی چل رہا تھا۔

اپنی بڑی بہن کے سامنے اس نے اعلان کیا کہ وہ ابھی ہاری نہیں ہے۔

اس نے فیصلہ کیا کہ وہ گاؤں جا کر ایسا حلیہ اختیار کرے گی کہ شہروز اسے دیکھتے ہی ناپسند کر دے اور خود شادی سے انکار کر دے۔

اپنے منصوبے کے مطابق نور الہدیٰ نے نقلی سنہرے بالوں کی وگ، چمکیلا لباس اور غیرمعمولی انداز اختیار کیا تاکہ شہروز پر اس کا منفی تاثر قائم ہو۔

اسے پورا یقین تھا کہ اس کی یہ ترکیب کامیاب ہو جائے گی۔

مگر وہ اس وقت حیرت سے ساکت رہ گئی جب شہروز خاکوانی نے سب کے سامنے اعلان کر دیا کہ اسے نور الہدیٰ پسند ہے اور وہ اسی سے شادی کرے گا۔

نور الہدیٰ کو یقین نہیں آ رہا تھا کہ جس شخص کو وہ شادی سے انکار کرنے پر مجبور کرنا چاہتی تھی، وہی اس رشتے کے لیے رضامند ہو گیا ہے۔

شہروز کی سرد اور گہری نگاہیں اس کی گھبراہٹ میں مزید اضافہ کر رہی تھیں۔

اور جب کمرہ خالی ہونے پر شہروز نے اس کا راستہ روک لیا تو نور الہدیٰ کے ذہن میں کئی سوالات گردش کرنے لگے۔

آخر شہروز نے اپنا فیصلہ اچانک کیوں بدل دیا؟

کیا وہ نور الہدیٰ کی چال سمجھ چکا تھا؟

یا اس کی رضامندی کے پیچھے کوئی ایسی وجہ تھی جس سے نور الہدیٰ ابھی بے خبر تھی؟

**پیمانِ کودکی** بچپن کے طے شدہ رشتے، خاندانی توقعات اور دو ضدی شخصیات کے درمیان شروع ہونے والی ایک دلچسپ کہانی ہے۔

Summary — Urdu

**پیمانِ کودکی** شہروز خاکوانی اور نور الہدیٰ کی کہانی ہے، جن کا رشتہ ان کے بزرگوں نے بچپن میں طے کر دیا تھا۔

شہروز ایک جاگیردار خاندان کا اکلوتا بیٹا ہے جو اپنی مرضی کے بغیر شادی کرنے کو تیار نہیں۔ وہ اپنے والدین کے سامنے واضح کر دیتا ہے کہ بچپن کی منگنی اس کی مرضی کے بغیر طے ہوئی تھی، اس لیے وہ اسے قبول نہیں کرتا۔

دوسری طرف نور الہدیٰ ایک تعلیم یافتہ لڑکی ہے جو ڈاکٹری کی تعلیم کے بعد بیرونِ ملک تخصص حاصل کرنا چاہتی ہے۔

اسے بھی گاؤں میں اپنے بچپن کے منگیتر سے شادی کرنا منظور نہیں۔

والدین کے اصرار اور والد کے جذباتی الفاظ کے بعد نور الہدیٰ بظاہر رضامند ہو جاتی ہے، لیکن اپنی بڑی بہن کے ساتھ مل کر ایک منصوبہ تیار کرتی ہے۔

وہ فیصلہ کرتی ہے کہ گاؤں جا کر اپنا حلیہ بالکل بدل لے گی تاکہ شہروز اسے دیکھتے ہی ناپسند کر دے۔

اس مقصد کے لیے وہ نقلی سنہرے بالوں کی وگ اور چمکیلا لباس پہنتی ہے۔

لیکن اس کی توقعات اس وقت غلط ثابت ہوتی ہیں جب شہروز سب کے سامنے اسے پسند کرنے اور اسی سے شادی کرنے کا اعلان کر دیتا ہے۔

نور الہدیٰ اس غیرمتوقع فیصلے پر حیران رہ جاتی ہے۔

کیا شہروز اس کی چال سمجھ چکا ہے؟

کیا دونوں کی ضد ان کے درمیان نئی کشمکش پیدا کرے گی؟

اور کیا بچپن کا یہ وعدہ ان دونوں کی زندگی کو کسی غیرمتوقع موڑ پر لے جائے گا؟

Related Keywords

Peymaan e Koodaki (پیمانِ کودکی) Novel, Peymaan e Koodaki (پیمانِ کودکی) Urdu Novel, Peymaan e Koodaki (پیمانِ کودکی) PDF

Support Novelistan ❤️

Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.

EasyPaisa / JazzCash

0309 1256788

Account name: Safia Bano

Bank Transfer (UBL)

United Bank Limited

Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131

Name: Sadia Hassan

IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131

Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕

Frequently asked questions

Is Peymaan e Koodaki Novel21048 — Novelistan complete or ongoing?

The recorded status of this novel is Complete.

What categories is this novel listed under?

This novel is listed under Arranged Marriage and Complete Urdu Novel.

Where can I read Peymaan e Koodaki Novel21048 — Novelistan?

The reading content is available in the Read online section of this page.

Share this Novel

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *