Aroos e Ejbar (عروسِ اجبار) Urdu novel cover
546.3kViews
#913Ranking
CompleteStory status
NOVELISTAN · URDU NOVELS

Aroos e Ejbar Novel21044 — Novelistan

By Novelistan

5.0/5

انابیہ نے اپنی زندگی کے تمام خواب حسن کے ساتھ وابستہ کیے تھے، مگر ایک دن وہی شخص دوسری عورت سے نکاح کرکے گھر آ گیا۔ شوہر کی بےوفائی نے اس کے اعتماد اور محبت کو بری طرح توڑ دیا۔ وہ اپنا گھر بچانے کے لیے التجائیں کرتی رہی، لیکن حسن نے اسے طلاق دے کر اپنی زندگی سے الگ کر دیا۔ ٹوٹے ہوئے دل کے ساتھ ماں کے گھر لوٹنے والی انابیہ نے عدت کے بعد خود کو سنبھالا اور ملازمت کرنے کا فیصلہ کیا۔ قسمت اسے منہاج عالم کی کمپنی میں لے آئی، جہاں اس کا سابق شوہر بھی کام کرتا تھا۔ منہاج عالم پہلی ملاقات ہی میں اس کی شخصیت سے متاثر ہوا، مگر انابیہ نہیں جانتی تھی کہ اس کی نئی زندگی کی یہ شروعات ایک اور غیرمتوقع رشتے کی طرف بڑھ رہی ہے۔ کیا وہ اپنے ماضی سے آزاد ہو پائے گی، یا محبت اور مجبوری ایک مرتبہ پھر اس کی زندگی کو مشکل بنا دیں گے؟

Sneak

"پلیز! پلیز! مجھے طلاق مت دینا۔"وہ روتے ہوئے منہاج عالم کے آگے گڑگڑائی تھی۔"بھائی آپ کیا دیکھ رہے ہیں؟ بہت چالاک ہے یہ، آپ کو لوٹ کر کھا جائے گی۔"منہاج کی بہن نے کہا۔انابیہ کی شادی اس کے ماموں کے بیٹے سے ہوئی تھی۔ شادی کے کچھ عرصے بعد ہی اس کے شوہر کا من بھر گیا تو اپنے باس کی بہن سے شادی کرنے کے لیے انابیہ کو طلاق دے دی تھی۔ عدت کے بعد اس نے جاب تلاش کرنا شروع کی تو اسے منہاج عالم کے آفس میں جاب ملی۔منہاج عالم وہی تھا جس کی بہن سے شادی کے لیے اس کے شوہر نے اسے طلاق دی تھی۔ منہاج عالم کو وہ پہلی نظر میں پسند آئی تھی پر اسی آفس میں انابیہ کا پہلا شوہر بھی کام کرتا تھا اور اب اسے اپنے فیصلے پر پچھتاوا ہو رہا تھا، جب منہاج عالم نے مجبور کرتے زبردستی انابیہ سے شادی کی تو اس کے سابقہ شوہر نے اپنی بیوی کو ورغلاتے انابیہ پر چھوٹا الزام۔۔۔
"یہ... یہ سب کیا ہے حسن؟ یہ عورت کون ہے اور آپ اسے اس طرح گھر کیوں لے کر آئے ہیں؟" انابیہ کا کانپتا ہوا لہجہ اور خوف سے بھیگی ہوئی پلکیں چیخ چیخ کر پوچھ رہی تھیں۔حسن نے ایک سرد اور بے پرواہ نظر انابیہ پر ڈالی، سارہ کا ہاتھ مضبوطی سے اپنے ہاتھ میں تھاما اور انتہائی بے دردی سے بولا،"سن لو اور اچھی طرح کان کھول کر سن لو انابیہ! یہ سارہ ہے، اور اب یہ میری دوسری بیوی ہے۔ میں نے اس سے نکاح کر لیا ہے، اور اب سے یہ بھی اسی گھر میں میرے ساتھ رہے گی۔"یہ الفاظ سن کر انابیہ پر جیسے قیامت ٹوٹ پڑی۔ اس کا دل چاہا کہ وقت یہیں تھم جائے، زمین پھٹ جائے اور وہ اس میں سما جائے۔ اس کا پورا جسم لرزنے لگا، وہ بے اختیار پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی، اس کی سسکیاں پورے گھر میں گونج اٹھیں۔ وہ دوڑ کر حسن کے قدموں میں گر گئی اور روتے بلکتے ہوئے التجا کرنے لگی۔"حسن! آپ میرے ساتھ ایسا نہیں کر سکتے... خدا کے لیے ایسا ظلم مت کریں! میں نے تو اپنی پوری زندگی آپ کے نام کر دی، میں نے ہر مشکل وقت میں آپ کا ساتھ نبھایا۔ آپ کو مجھ سے کیا گلہ تھا حسن؟ پلیز... اس عورت کو واپس بھیج دیں، مجھ سے میرا یہ سہاگ مت چھینیں!" انابیہ کی چیخیں اور دل چیر دینے والی سسکیاں ماحول کو غمگین کر رہی تھیں، اس کے آنسو حسن کے جوتوں کو بھگو رہے تھے۔لیکن حسن کا دل پتھر کا بن چکا تھا۔ اس پر دولت، گلیمر اور سارہ کے عشق کا ایسا بھوت سوار تھا کہ اسے انابیہ کے ان معصوم آنسوؤں پر ذرا سا بھی ترس نہیں آیا۔ اس نے جھٹکے سے اپنا پیر انابیہ کی گرفت سے چھڑایا،پیچھے ہٹا اور غصے سے دہاڑتے ہوئے بولا،"بس کرو اب یہ ڈرامے بازی! تمہارا یہ رونا دھونا مجھے مزید چڑاتا ہے۔ میں تمہاری اس بورنگ اور گھریلو زندگی سے تنگ آ چکا ہوں، مجھے سارہ جیسی ماڈرن اور سمجھدار جیون ساتھی چاہیے تھی۔ اب اور تماشا مت بناؤ۔"سارہ پاس کھڑی یہ سارا منظر دیکھ کر مسکرا رہی تھی، اس کے چہرے پر فتح کی ایک مکروہ چمک تھی۔حسن نے آخر کار اسے طلاق دے دی تھی۔۔۔انابیہ اپنی جگہ سن رہ گئی تھی۔۔۔جس شخص کے لیے اس نے اپنی پوری دنیا لٹا دی تھی،وہ اب مکمل طور پر بدل چکا ہے اور پتھر دل بن گیا ہے۔ اس کا اندر کا انسان ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہو چکا تھا۔آنسوؤں سے بھرے چہرے اور لرزتے ہاتھوں کے ساتھ انابیہ نے خود کو سنبھالا، اٹھ کھڑی ہوئی اور لڑکھڑاتے قدموں سے اپنے کمرے میں گئی۔ اس نے جلدی سے اپنے کچھ ضروری کپڑے ایک چھوٹے سے بیگ میں ڈالے، آخری بار اس اجڑے ہوئے گھر اور اس کمرے کو دیکھا جہاں اس نے اپنے حسن کے ساتھ کتنے ہی خوبصورت خواب دیکھے تھے، اور بغیر ایک لفظ بولے وہاں سے باہر نکل گئی۔جب وہ گھر کے دروازے سے باہر سڑک پر آئی، تو رات کا اندھیرا اس کے دل کی تاریکی کا منہ بولتا ثبوت بن چکا تھا۔ وہ روتے ہوئے پیدل ہی اپنے ماں باپ کے گھر کی طرف چل دی، جہاں سے کبھی وہ ایک نئی زندگی کے خواب سجا کر رخصت ہوئی تھی، اور آج خالی ہاتھ، ٹوٹے ہوئے دل اور اجڑی ہوئی امیدوں کے ساتھ واپس لوٹ رہی تھی۔
رات کے اس پچھلے پہر جب انابیہ کے گھر کی گھنٹی بجی، تو اس کی ماں نے گھبرا کر دروازہ کھولا اور سامنے اپنی بیٹی کو اس حالت میں دیکھ کر ان کا دل دھک سے رہ گیا۔ انابیہ کا چہرہ آنسوؤں سے بھیگا ہوا تھا، حلیہ بگڑا ہوا تھا اور ہاتھوں میں ایک چھوٹا سا بیگ تھا، جو اس کے ٹوٹے ہوئے اندرونی وجود کی کہانی کہہ رہا تھا۔ماں نے بے تابی سے آگے بڑھ کر انابیہ کو اپنے سینے سے لگا لیا اور کانپتے ہوئے لہجے میں پوچھا، "میری بچی! انابیہ... اس وقت اور اس حالت میں تم یہاں؟ کیا ہوا ہے میری جان؟"انابیہ کا ضبط کا بندھن ٹوٹ چکا تھا۔ وہ ماں کے گلے لگ کر بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی۔ اس کی ہچکیاں بندھ گئی تھیں اور منہ سے الفاظ ادا نہیں ہو رہے تھے۔ بڑی مشکل سے لرزتی ہوئی آواز میں اس نے کہا، "امی... حسن... حسن نے مجھے دھوکہ دے دیا ہے! وہ کسی اور عورت کو گھر لے آیا... اور جب میں نے روکا تو اس نے... اس نے مجھے طلاق دے دی، امی! وہ بدل گیا ہے، بالکل پتھر دل ہو گیا ہے..."بیٹی کی زبان سے یہ الفاظ سن کر ماں کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ صدمے اور تکلیف کی ایک شدید لہر ان کے پورے جسم میں دوڑ گئی، لیکن اس مشکل ترین لمحے میں ایک ماں ہونے کے ناطے انھوں نے خود کو سنبھالا۔ انھوں نے انابیہ کے دونوں بازوؤں کو مضبوطی سے تھاما، اس کے چہرے کو اپنے بوڑھے ہاتھوں کے پیالے میں لیا اور اس کے آنسو اپنے آنچل سے صاف کرنے لگیں۔"بس میری بیٹی صبر کرو، اپنے دل کو پکا کرو..."ماں کی آواز میں درد کے ساتھ ساتھ ایک مضبوط تسلی اور اپناتی گہرائی تھی، "تم اکیلی نہیں ہو! یہ گھر آج بھی اتنا ہی تمہارا ہے جتنا کل تھا۔ جس شخص نے تم جیسی وفادار اور معصوم بیٹی کی قدر نہیں کی، وہ تمہارے ایک آنسو کے بھی لائق نہیں۔"انابیہ نے سسکتے ہوئے کہا، "امی،میں نے تو اپنی پوری زندگی اس کے نام کر دی تھی... میری پڑھائی، میرے خواب... سب کچھ تو اسی کے لیے تھا پھر اس نے میرے ساتھ ایسا کیوں کیا؟"ماں نے محبت سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا، اسے مزید قریب کرتے ہوئے اپنے سینے سے لگا لیا اور دل کو ڈھارس بندھانے والے لہجے میں بولیں، "زندگی یہاں ختم نہیں ہوتی میری جان۔ مرد کی بے وفائی یا ظلم کسی عورت کی قسمت کا فیصلہ نہیں کرتا۔ تم نے کوئی خطا نہیں کی، قصوروار وہ ہے جس نے اپنی اندھی چاہت میں ایک اچھے رشتے کو روند ڈالا۔ تم میری شیر دل بیٹی ہو، ہمت ہارو گی تو کیسے چلے گا؟ اللہ کی ذات پر بھروسہ رکھو، وہ کسی کے ساتھ ناانصافی نہیں کرتا۔ تم بس اب یہیں رہو، میرا سارا سکون اور میری خوشیاں تم سے ہی ہیں۔"ماں کے اس مضبوط سہارے اور پیار بھری آغوش نے انابیہ کے زخمی دل کو تھوڑا سا سکون دیا۔ اس نے محسوس کیا کہ دنیا میں اگر سب رشتے جھوٹے ہو جائیں، تب بھی ماں کی محبت اور پناہ گاہ ہمیشہ سچی اور اٹل رہتی ہے۔ اس نے ماں کے کندھے پر سر رکھ کر اپنی باقی ماندہ سسکیاں دبا لیں، اور ایک نئے اور کٹھن امتحان کے لیے خود کو سنبھالنے کی کوشش کرنے لگی۔
عدت کا وہ مشکل اور اداس وقت جیسے تیسے گزر گیا۔ اس دوران انابیہ نے اپنے غم کو طاقت بنا لیا تھا، اور اس کا سارا دھیان اب اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے اور اپنی ادھوری رہنے والی قابلیت کو کام میں لانے پر تھا۔ وہ جانتی تھی کہ اب اسے خود اپنی شناخت بنانی ہے۔ایک دن جب وہ اخبار اور مختلف جاب پورٹلز پر ملازمت کے لیے اشتہارات دیکھ رہی تھی، تو اس کی نظر ایک نامور اور بڑی کمپنی کے اشتہار پر پڑی جہاں ایک قابل اور تجربہ کار"سیکرٹری" کی ضرورت تھی۔ کمپنی کا نام دیکھتے ہی انابیہ کا دل ایک لمحے کے لیے دھک سے رہ گیا—یہ وہی کمپنی تھی جس کا سی ای او منہاج عالم تھا، اور اسی کمپنی میں حسن بھی مینجر کے طور پر کام کرتا تھا!پہلے تو انابیہ کے قدم پیچھے ہٹنے لگے، اسے خیال آیا کہ اسی افس میں تو سارہ بھی ہے اور شاید حسن بھی، لیکن پھر اس کے اندر کی چھپی ہوئی غیرت اور خود اعتمادی نے سر اٹھایا۔ اس نے سوچا، "میں نے کوئی گناہ نہیں کیا، میں اپنی محنت اور قابلیت کے بل بوتے پر روزگار کمانے جا رہی ہوں، تو مجھے کسی سے ڈرنے کی کیا ضرورت ہے؟" یہی سوچ کر اس نے پختہ ارادہ کیا اور اپنی سی وی (CV) تیار کر کے اس کمپنی میں آن لائن اپلائی کر دیا۔کچھ ہی دنوں میں انابیہ کو انٹرویو کے لیے کال آ گئی۔ مقررہ دن وہ خود کو سنبھال کر، ایک پروقار اور باوقار انداز میں اس بڑی عمارت کے اندر داخل ہوئی۔ اس کی سادگی اور چہرے کا پرسکون اعتماد دیکھ کر وہاں موجود لوگ بھی متاثر ہوئے۔انڈرویوز کا مرحلہ شروع ہوا اور جب باری آئی، تو انابیہ کو سیدھا چیف ایگزیکٹو آفیسر (CEO) منہاج عالم کے کیبن میں بھیج دیا گیا۔ منہاج عالم اپنی ایگزیکٹیو چیئر پر بیٹھے فائل دیکھ رہے تھے، جب دروازے پر دستک ہوئی اور انابیہ نے اندر قدم رکھا۔"مے آئی کم ان، سر؟" انابیہ کی دھیمی لیکن پختہ آواز گونجی۔منہاج نے سر اٹھا کر دیکھا۔سادہ سے لباس میں موجود انابیہ کھڑی تھی۔۔منہاج کو اس کی شخصیت پہلی ہی نظر میں بہت پسند آئی۔ اس نے کچھ سوالات کیے تھے۔۔
"مس انابیہ! آپ کی تعلیم، آپ کا انداز اور یہ اعتماد دیکھ کر مجھے خوشی ہوئی۔ ہماری کمپنی کو ایک ایسی ہی سمجھدار اور قابل سیکرٹری کی تلاش تھی۔ آپ کا انٹرویو کامیاب رہا، آپ کل سے ہی جوائن کر سکتی ہیں۔"منہاج عالم نے مسکراتے ہوئے اپنی فائل بند کی اور بولا تھا۔۔یہ سن کر انابیہ کے دل کو ایک سکون سا ملا۔ اس نے شکریہ ادا کیا اور ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کیبن سے باہر آ گئی۔ اسے یہ معلوم نہیں تھا کہ اس کی یہ نئی شروعات آنے والے وقت میں تقدیر کے کون سے نئے پتے پلٹنے والی ہے، لیکن اتنا طے تھا کہ اس نے اپنی زندگی کا پہلا اور اہم قدم کامیابی کی طرف اٹھا لیا تھا۔۔۔

Download Novel PDF

Download Link 1 — MediaFireDownload Link 2 — Google Drive

Read Novel Online

Join WhatsApp Channel

Description — Urdu

**عروسِ اجبار** ایک جذباتی، دوسری شادی اور جبری نکاح کے موضوع پر مبنی رومانی اردو ناول ہے، جس کی کہانی انابیہ، اس کے بےوفا شوہر حسن اور ایک بااثر کاروباری شخصیت منہاج عالم کے گرد گھومتی ہے۔

انابیہ ایک معصوم، وفادار اور محبت کرنے والی لڑکی تھی جس کی شادی اس کے ماموں کے بیٹے حسن سے ہوئی تھی۔ اس نے اپنی زندگی کے خوبصورت خواب اپنے شوہر سے وابستہ کر رکھے تھے۔ وہ سمجھتی تھی کہ حسن ہمیشہ اس کا ساتھ نبھائے گا، مگر قسمت نے اس کے لیے ایک ایسا امتحان لکھ رکھا تھا جس کا اس نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا۔

شادی کے کچھ عرصے بعد حسن اپنی بیوی سے بیزار ہونے لگا۔ دولت، ظاہری چمک دمک اور ایک نئی محبت نے اسے اس قدر بدل دیا کہ وہ انابیہ کی وفاداری اور قربانیوں کو بھول بیٹھا۔

ایک دن حسن اچانک سارہ نامی لڑکی کو اپنے گھر لے آیا اور انابیہ کو بتایا کہ وہ اس سے نکاح کر چکا ہے۔

سارہ کوئی عام لڑکی نہیں تھی بلکہ حسن کے باس، منہاج عالم کی بہن تھی۔

اپنے شوہر کی دوسری شادی کی خبر سن کر انابیہ کی دنیا اجڑ گئی۔ جس شخص کے لیے اس نے اپنے خواب اور خوشیاں قربان کی تھیں، وہی اسے بےوقعت سمجھنے لگا تھا۔

انابیہ نے حسن کے سامنے رو رو کر التجائیں کیں۔ وہ اپنا گھر ٹوٹنے سے بچانا چاہتی تھی، مگر حسن کے دل میں اس کے لیے کوئی نرمی باقی نہیں رہی تھی۔

اس نے انابیہ کی محبت، آنسوؤں اور بےبسی کو نظرانداز کرتے ہوئے اسے طلاق دے دی۔

طلاق کے بعد انابیہ ٹوٹے ہوئے دل کے ساتھ اپنے والدین کے گھر واپس آ گئی۔

اس کی ماں اپنی بیٹی کی حالت دیکھ کر شدید غمزدہ ہوئیں، مگر انہوں نے انابیہ کو حوصلہ دیا اور یقین دلایا کہ اس کی زندگی ایک ناکام رشتے کے ساتھ ختم نہیں ہوئی۔

ماں کی محبت اور تسلی نے انابیہ کو دوبارہ جینے کا حوصلہ دیا۔

عدت کے مشکل دن گزرنے کے بعد انابیہ نے فیصلہ کیا کہ اب وہ کسی پر بوجھ نہیں بنے گی۔ وہ اپنی تعلیم اور قابلیت کی بنیاد پر ملازمت حاصل کرے گی اور اپنی ایک الگ شناخت بنائے گی۔

ملازمت کی تلاش کے دوران اسے ایک بڑی کمپنی میں سیکرٹری کی آسامی کا اشتہار نظر آیا۔

یہ کمپنی منہاج عالم کی تھی، اور حسن بھی اسی دفتر میں منیجر کے طور پر کام کرتا تھا۔

ابتدا میں انابیہ اس کمپنی میں درخواست دینے سے ہچکچائی، کیونکہ وہ اپنے ماضی کا دوبارہ سامنا نہیں کرنا چاہتی تھی۔

لیکن پھر اس نے خود کو سنبھالا اور فیصلہ کیا کہ حسن کی بےوفائی اس کے مستقبل کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتی۔

انابیہ نے ملازمت کے لیے درخواست دی اور اسے انٹرویو کی کال موصول ہو گئی۔

انٹرویو کے روز وہ ایک باوقار اور پراعتماد انداز میں منہاج عالم کے دفتر پہنچی۔

منہاج عالم نے جب پہلی مرتبہ انابیہ کو دیکھا تو اس کی سادگی، شخصیت اور اعتماد سے متاثر ہوا۔

اس نے انابیہ سے چند سوالات کیے اور اس کی قابلیت کو دیکھتے ہوئے اسے سیکرٹری کی ملازمت دے دی۔

انابیہ کے لیے یہ اس کی نئی زندگی کی پہلی کامیابی تھی۔

وہ نہیں جانتی تھی کہ جس دفتر میں وہ اپنے مستقبل کو سنوارنے آئی ہے، وہیں اس کی زندگی ایک مرتبہ پھر غیرمتوقع حالات کا شکار ہونے والی ہے۔

دوسری طرف منہاج عالم کے دل میں انابیہ کے لیے دلچسپی پیدا ہو چکی تھی۔

کہانی کے ابتدائی اشارے کے مطابق منہاج عالم انابیہ سے زبردستی نکاح کرتا ہے، جبکہ حسن کو بھی اپنی سابقہ بیوی کو چھوڑنے کے فیصلے پر پچھتاوا ہونے لگتا ہے۔

حسن اپنی نئی بیوی کو انابیہ کے خلاف کرنے کی کوشش کرتا ہے، اور انابیہ پر ایک جھوٹا الزام لگنے کی صورت حال پیدا ہوتی ہے۔

مگر اس الزام کی حقیقت کیا ہے، اور اس کے بعد انابیہ کی زندگی کس رخ پر جائے گی، یہ جاننا ابھی باقی ہے۔

کیا منہاج عالم کی محبت انابیہ کے لیے سکون کا سبب بنے گی یا اس کی زندگی میں ایک اور آزمائش لے آئے گی؟

کیا حسن کو اپنی بےوفائی کا احساس واقعی بدل سکے گا؟

کیا انابیہ اپنے ماضی کے زخموں سے نکل کر اپنی عزتِ نفس اور مستقبل کی حفاظت کر پائے گی؟

اور کیا ایک جبری نکاح دو مختلف شخصیات کے درمیان کسی نئے رشتے کی بنیاد بن سکے گا؟

**عروسِ اجبار** بےوفائی، طلاق، دوسری شادی، جبری نکاح، خودداری، خاندانی رشتوں اور ایک عورت کی اپنی زندگی دوبارہ تعمیر کرنے کی جدوجہد پر مبنی جذباتی اور تجسس سے بھرپور کہانی ہے۔

Summary — Urdu

**عروسِ اجبار** انابیہ نامی ایک معصوم اور وفادار لڑکی کی کہانی ہے، جس کی شادی اس کے ماموں کے بیٹے حسن سے ہوئی تھی۔

انابیہ اپنے شوہر سے بےحد محبت کرتی ہے اور اپنی پوری زندگی اسی کے ساتھ گزارنا چاہتی ہے، مگر حسن دولت اور ایک نئی محبت کے لیے اپنی بیوی سے بےوفائی کر بیٹھتا ہے۔

وہ اپنے باس منہاج عالم کی بہن سارہ سے دوسرا نکاح کر لیتا ہے اور اسے گھر لے آتا ہے۔

انابیہ اس فیصلے سے شدید صدمے میں مبتلا ہو جاتی ہے۔ وہ اپنے شوہر کے سامنے رو رو کر گھر بچانے کی التجا کرتی ہے، مگر حسن اسے طلاق دے دیتا ہے۔

طلاق کے بعد انابیہ اپنے والدین کے گھر واپس آ جاتی ہے، جہاں اس کی ماں اسے حوصلہ دیتی ہے۔

عدت مکمل ہونے کے بعد انابیہ فیصلہ کرتی ہے کہ وہ اپنی تعلیم اور قابلیت کے ذریعے خودمختار بنے گی۔

ملازمت کی تلاش اسے منہاج عالم کی کمپنی تک لے جاتی ہے، جہاں حسن بھی کام کرتا ہے۔

انابیہ اپنی ہمت اور اعتماد کے ساتھ انٹرویو دیتی ہے اور منہاج عالم اسے سیکرٹری کی ملازمت دے دیتا ہے۔

منہاج عالم پہلی ہی ملاقات میں انابیہ کی شخصیت سے متاثر ہو جاتا ہے۔

انابیہ کے لیے یہ ملازمت نئی زندگی کی شروعات ہے، مگر وہ اس بات سے بےخبر ہے کہ منہاج عالم کے ساتھ اس کا تعلق آگے چل کر ایک پیچیدہ صورت اختیار کرنے والا ہے۔

کہانی کے ابتدائی تعارف میں منہاج عالم کے انابیہ سے زبردستی نکاح کرنے، حسن کے پچھتاوے اور انابیہ پر ایک جھوٹا الزام لگنے کی طرف اشارہ ملتا ہے۔

ایک طرف انابیہ اپنے ماضی کی تلخ یادوں سے نکلنا چاہتی ہے اور دوسری طرف اس کی زندگی میں ایک نیا شخص داخل ہو رہا ہے۔

کیا انابیہ اپنی زندگی کے فیصلے خود کر سکے گی؟

کیا منہاج عالم اس کے جذبات اور مرضی کو اہمیت دے گا؟

اور کیا حسن کا پچھتاوا انابیہ کی زندگی میں مزید مشکلات پیدا کرے گا؟

Related Keywords

Aroos e Ejbar (عروسِ اجبار) Novel, Aroos e Ejbar (عروسِ اجبار) Urdu Novel, Aroos e Ejbar (عروسِ اجبار) PDF

Support Novelistan ❤️

Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.

EasyPaisa / JazzCash

0309 1256788

Account name: Safia Bano

Bank Transfer (UBL)

United Bank Limited

Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131

Name: Sadia Hassan

IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131

Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕

Frequently asked questions

Who wrote Aroos e Ejbar Novel21044 — Novelistan?

Aroos e Ejbar Novel21044 — Novelistan is written by Novelistan.

Is Aroos e Ejbar Novel21044 — Novelistan complete or ongoing?

The recorded status of this novel is Complete.

What categories is this novel listed under?

This novel is listed under Complete Urdu Novel and Family Drama.

Where can I read Aroos e Ejbar Novel21044 — Novelistan?

The reading content is available in the Read online section of this page.

Share this Novel

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *