Teri Mohabbat Ka Inteqam Novel20979
Teri Mohabbat Ka Inteqam Novel20979
Revenge | Forced Marriage | Feudal/Haveli Based | Psychological Drama | Obsessive Hero | Second Chance Romance | Betrayal | Social Issues | Emotional Drama | Suspense
Short Description
A dark emotional story of revenge, betrayal, obsession, and forced relationships, where an ambitious young woman’s peaceful life is disrupted when a powerful man returns with an old grudge and an unexpected claim over her future.

” وہ لڑکی میری شرط ہے ڈیڈ۔۔۔مجھے ملازمہ کی وہی بیٹی اپنے نکاح میں چاہیے جسے میں نے چھت سے دھکا دیا تھا۔ ورنہ واپس نہیں آؤں گا۔ ” یعش کی بات پر اس کا باپ بے بس ہوا تھا۔۔۔اور ملازمہ اور اس کے شوہر کو پیسوں کا لالچ دیا تھا تاکہ وہ اپنی بیٹی کا نکاح کرنے پر مان جائیں کیونکہ حویلی میں سب جانتے تھے کہ وہ سائیکو تھا عورتوں سے اسے سخت نفرت تھی لیکن پھر بھی وہ لوگ مان گئے تھے اور اپنی بیٹی کا نکاح فون پر اس سے کیا تھا وہ جو یعش کا نام سنتے ہی خوفزدہ ہوتی تھی اپنے ماں باپ کی زبردستی کے آگے بے بس ہو گئی تھی۔ فوں پر نکاح کے بعد اسے یعش کے شاہی کمرے میں شفٹ کر دیا گیا تھا دو دن وہاں گزارتے وہ اسے نا پا کر سکون سے سو رہی تھی پر نہیں جانتی تھی وہ کچھ دیر پہلے ہی پاکستان لوٹا تھا۔
رات دو بجے کمرے میں داخل ہوا تو۔۔۔وہ بار بار بابا کو کال کر رہا تھا مگر انکا نمبر آف کا رہا تھا۔ اسنے گھر کے لینڈ لائن پر کال کی۔ کال ایک ملازمہ نے اٹھایا تھی۔ ہیلو کہنے کے بعد ہی اسنے بابا کا پوچھا تھا۔ اس سے پہلے وہ کوئ جواب دیتی کسی نے اس سے مٹھائ کے بارے میں پوچھا تھا جو ٹیبل پر پڑی تھی۔ “ہاں یہ وہ حلیمہ آئ تھی، اسکی نواسی کی رخصتی کی ہے۔” حلیمہ نام سنتے ہی وہ سیدھا کو کر بیٹھا تھا۔ “ہیلو۔۔۔ صاحب جی آواز آ رہی ہے؟” اسے لگا فون کے گیا۔ “کس کی رخصتی ہے؟” “صاحب جی وہ جو مومنہ بی بی یہاں رہتی تھی ناں اسکی۔” “کہاں ہے وہ؟” اسنے بے تابی سے پوچھا۔ اسنے ابھی بدلہ لینا تھا وہ شادی کر رہی تھی۔ “صاحب جی وہ تو آپ کے جاتے ہی چلی گئ تھی۔ ماشاءاللہ سے اب وہ ڈاکٹر ہے۔” اسکے لہجے میں فخر تھا۔
اسنے کچھ کہے بغیر ہی فون کاٹ دیا۔ اور فون کو زور سے دیوار میں مارا تھا۔ اسکے حواس اسکے قابو میں نہیں تھے، رات کو اسنے باپ کو کال کی تھی۔ آنکھیں لال انگارہ تھیں۔ ” ڈیڈ آپ کہتے ہیں ناں کہ میں واپس آ جاؤں۔ تو میری ایک شرط ہے۔” وہ اسکی واپسی کا سن کر ہی خوش ہو گئے۔ اور ہر شرط ماننے کو تیار تھے۔ “مجھے مومنہ سے شادی کرنی ہے۔” “پر سکسی تو شادی ہو چکی ہے میرا مطلب ہے نکاح ہوگیا ہے، رخصتی بھی شاید ہونے والی ہے۔” “میں کہہ رہا ہوں مجھے مومنہ سے شادی کرنی ہے اور بس۔ اگر مجھے واپس بلانا چاہتے ہیں تو یہی شرط ہے۔” کہہ کر فون کاٹ دیا۔ اب انہیں الگ ٹینشن لگی تھی۔ انہوں نے حلیمہ بی کو بلایا تھا۔ مگر شرم کے مارے بات نہیں کر پاۓ۔ وہ اسکے گھر گئے تھے، انہوں نے مومنہ کا تختہ مانگا تھا مگر انکار ہوا۔ “بڑے صاحب جی آپ ایسا کیسے کہہ سکتے ہیں اسکی شادی ہو چکی ہے۔” نانی کا دل ہی ہول گیا۔ “نہیں صرف نکاح ہوا ہے۔” انہوں نے تصیح کی مگر وہ نہیں مانیں۔ انہیں معلوم تھا یہاں ڈال نہیں فلمی تھی۔ وہ اگلے دن محب سے ملے تھے۔
اتنے بڑے بزنس مین کو اپنے آفس میں دیکھ کر وہ کھڑا ہوا تھا۔ بہت عزت سے انہیں بٹھایا۔ مگر ان کا مطالبہ سن کر وہ کھڑا ہوا۔ وہ مومنہ کو نہیں چھوڈ سکتا تھا۔ وہ اسے اچھی لگتی تھی۔ یہی اسنے انہیں کہا تھا۔ مگر انکی پر تعیش آفر بھی اگنور کرنے لائق نہیں تھی۔ وہ کی دن اس پر سوچتا رہا وہ اسے بزنس کی دنیا میں قدم رکھنے میں مدد دے رہے تھے، اور اوپر سے اتنا پیسہ۔ دل پر پتھر رکھ کر اس نے ہاں کر دی۔ اسنے مومنہ کو ڈائوورس پیپر بھیجے تھے۔وہ ناسمجھی سے انہیں دیکھتی رہی۔ اپنی چادر پہن کر وہ اس کے گھر گئ تھی۔ اور اس سے دریافت کیا تھا۔ مگر وہ اس سے نظریں نہیں ملا پا رہا تھا۔ اسنے وجہ یہی بتائ تھی کہ وہ اسے پسند نہیں اس کی امید کے مطابق کی لائف پارٹنر نہیں ہے۔ اسنے منتیں بھی میں، وہ روئ بھی مگر وہ پیچھے نہیں ہٹا۔ مومنہ کو طلاق ہو گئ تھی۔ اس کا دکھ نانی کو کھائے جا رہا تھا۔ وہ پہلے سے زیادہ خاموش ہو گئ تھی۔ یعش کے والد پھر آئے تھے انہوں نے ماموں سے بات کی تھی انہیں جانے کیا کہا تھا جو وہ مان گئے تھے۔ مومنہ کو ماموں نے ہی بتایا تھا کہ اسکا نکاح کروا رہے ہیں وہ۔ اس نے لڑکے کا نام پوچھنے کی زحمت بھی نہیں کی تھی۔
پہلے ہی انکے بہت احسان تھے ماں باپ کے مرنے کے بعد وہی خاندان تھا۔ محب نے اسے دھوکہ دیا تھا اسے ابھی تک نہیں سمجھ آتا تھا۔ یعش کو اسکے ڈیڈ کی کال آئ تھی، انہوں نے خوش ہو کر اسے واپس آنے کا کہا تھا۔ اسی بات پر ہی اسکے لبوں پر مسکراہٹ آئ تھی۔ اسنے اگلے ہفتے کی ہی فلائٹ بک کروا لی تھی۔ ایک ہفتہ کیسے پر لگا کر اڈا معلوم ہی نہیں ہوا۔ وہ ائیر پورٹ سے نکلا تھا، بلیک پینٹ کوٹ پہنے وہ بزنس مین ہی لگ رہا تھا۔ بال پیچھے کو بنائے گئے تھے، ایک ہاتھ بال میں پھیرتا دوسرے سے بیگ گھسیٹتا آ رہا تھا۔ آنکھوں پر گاگلز لگاۓ بہت سی لڑکیوں کا دل دھڑکا گیا تھا۔ ڈرائیور سامنے ہی اسے لینے کھڑا تھا۔ بیگ اسکے حوالے کرتا وہ پچھلی سیٹ پر آ بیٹھا۔ آدھ گھنٹے میں ہی وہ گھر میں موجود تھا۔ اتنے سالوں بعد وہ واپس آیا تھا، ایک الگ ہی احساس ہو رہا تھا۔ ڈیڈ نے اسے گیٹ سے ہی رسیوں کیا اور کتنی ہی دیر اسے گلے سے لگاۓ رکھا۔ تھوڑی دیر بیٹھا رہا پھر ایک سیب اچک کر کھڑا ہوا۔ “بھئی کدھر جا رہے ہو؟ ابھی تو آۓ ہو۔” “اپنی دلہن کو دیکھنے۔” ایک آنکھ ونک کی اور سیب کا بائٹ لیا۔ وہ ہسپتال میں تھی، اسکا راؤنڈ ختم ہوا تو آفس سے بیگ پکڑ کر واپس گھر جانے کی تیاری میں تھی، اسے پیدل بس سٹیشن تک جانا تھا۔ فٹ پاتھ پر چلتے اسے احساس بھی نہ ہوا کہ کوئ اسکے پیچھے آ رہا تھا۔ وہ بلیک وہ بلیک پینٹ پر بلیک ٹی شرٹ پہنے، کالا ماسک لگاۓ اسکے پیچھے چل رہا تھا۔ گاڑی اسنے ہسپتال کے سامنے ہی پارک کر دی تھی۔ وہ سٹیشن پر کا کر بینچ پر بیٹھ گئی۔۔۔
نیچے دیے گئے 4 ڈاؤنلوڈ لنکس میں سے 3 لنکس پر اشتہار آ سکتا ہے، جبکہ 1 لنک اصل ڈاؤن لوڈ لنک ہے۔
ہماری درخواست ہے کہ کسی بھی لنک کو بند کیے بغیر تھوڑا صبر سے استعمال کریں۔
آپ کی یہی چھوٹی سی سپورٹ ہمیں مزید ناول آپ تک پہنچانے میں مدد دیتی ہے
1st Link
Download link
2nd Link
Download Link
3rd Link
Download Link
4th Link
Download Link
Summary
Mominah is a hardworking young woman who has built her life through determination and education, eventually becoming a doctor despite difficult circumstances. She believes she has finally left her painful past behind, but her life takes an unexpected turn when Yaish returns after years away.
Yaish carries an intense resentment toward Mominah and becomes determined to make her part of his life. Meanwhile, Mominah’s existing relationship is destroyed when her fiancé chooses wealth and business opportunities over her. With family pressure and powerful people influencing her decisions, she finds herself trapped in circumstances she never chose.
As Yaish’s obsession and desire for revenge collide with Mominah’s independence, the story unfolds through betrayal, family pressure, emotional conflict, power struggles, and the question of whether hatred can ever transform into genuine love.
Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕