Dill Ki Pukar By Mahira Novel20981
Dill Ki Pukar By Mahira Novel20981
Forced Marriage | Cousin Marriage | Haveli Based | Family Feud | Suspense | Protective Hero | Romance | Revenge
Short Description
A forced cousin marriage brings Zawiyar and Anaya together despite their completely different feelings. While Zawiyar resents the relationship, Anaya quietly accepts her fate. But when a threatening letter targeting Anaya arrives before their wedding, Zawiyar realizes that their marriage is connected to an old family feud—and someone within the haveli may be betraying them.

“یو ایڈیٹ۔۔ ۔چھوٹی بچی ہو کیا ۔ “وہ غصے سے پاگل ہوتا دلہن بنی عنایہ پر چلایا تھا جو آنکھیں پھیلائے حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی پھر شرارت سے مسکرانے لگی۔”چھوٹی بچی ہی ہوں زاویار بھائی۔” وہ چیخ کر بولی جب زاویار کے گھورنے پر زبان دانتوں تلے دبائی۔ “سوری۔۔۔زاویار بھائی نہیں، زاویار شوہر۔۔۔ویسے زاویار شوہر آج آپ بہت اچھے لگ رہے تھے۔ ” وہ خوشی سے بولی تو زاویار کا دل کیا اپنا سر پھوڑ لے۔ وہ اس بچپن کے بےجوڑ رشتے پر کسی صورت راضی نہیں تھا جب وہ دس سال تھا تب عنایہ پیدا ہوئی تھی گھر والوں نے محبت میں ان کا رشتہ طے کر دیا تھا ۔عنایہ تو اس شادی پر بہت خوش تھی لیکن زاویار شدید نا خوش۔ “تمہارا سارا بچپنا آج میں اچھے سے نکال دوں گا۔”غصے سے جتاتے زاویار ڈریسنگ روم کی جانب بڑھا جب واپس لوٹا تو عنایہ کا منہ کھل گیا وہ تیزی سے نفی میں سر ہلاتی۔۔۔
رات کے بارہ بج رہے تھے۔ لغاری حویلی کے بڑے برآمدے میں بابا سائیں غصے میں ٹہل رہے تھے۔ سامنے زاویار خاموشی سے کھڑا تھا، اس کے چہرے پر سخت تاثرات تھے۔بابا سائیں! آپ مجھ سے کیا مانگ رہے ہیں؟” زاویار نے اپنی گہری آواز میں پوچھابابا سائیں نے عصا زمین پر مارا، “میں کوئی فیصلہ پوچھ نہیں رہا زاویار، حکم دے رہا ہوں! ملک شہمیر کی نیت خراب ہو چکی ہے۔ بیس سال پرانی دشمنی پھر سے سر اٹھا رہی ہے۔ وہ ہماری عزت پر وار کرنے کی تاک میں ہے۔”زاویار نے تلخی سے مسکرا کر کہا، “تو اس کا حل یہ ہے کہ میں ایک سولہ سال کی بچی سے نکاح کر لوں؟”وہ صرف بچی نہیں ہے، تمہاری کزن ہے، عنایہ!” بابا سائیں نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا، “اس کا باپ مرتے وقت اس کا ہاتھ میرے ہاتھ میں دے گیا تھا۔ ملک شہمیر کو معلوم ہے کہ عنایہ اس حویلی کی کمزوری ہے۔ اگر اسے کچھ ہو گیا تو ہم کہیں کے نہیں رہیں گے۔ تم سے نکاح کے بعد وہ اس حویلی کی مالکن بنے گی، کوئی اس کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھ سکے گا۔”زاویار نے گہرا سانس لیا اور رخ موڑ لیا،
“مجھے یہ زبردستی کے رشتے بالکل پسند نہیں۔ میں اسے سنبھال لوں گا، لیکن اس نکاح سے مجھے دور رکھیں۔””نکاح پرسوں ہوگا زاویار!” بابا سائیں کا فیصلہ حتمی تھا، “اور یہ بات میں اب دوبارہ نہیں دہراؤں گا۔”اگلی صبح حویلی میں ہلچل مچی ہوئی تھی۔ زاویار ڈرائنگ روم میں صوفے پر بیٹھا لیپ ٹاپ پر کام کر رہا تھا کہ اس کا کزن شاہویز ہنستا ہوا اندر داخل ہوا او ہو! ہمارے ہونے والے دولہا میاں تو ابھی سے اتنے سنجیدہ ہیں!” شاہویز نے زاویار کے کندھے پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا زاویار نے بنا دیکھے جواب دیا، “شاہویز، میرا موڈ خراب نہ کرو۔ اپنے کام سے کام رکھو۔”شاہویز صوفے پر بیٹھ کر بولا، “ارے یار، اتنا غصہ کیوں؟ عنایہ اتنی معصوم اور پیاری لڑکی ہے۔ تمہیں تو خوش ہونا چاہیے کہ تمہیں اتنی سیدھی سادھی بیوی مل رہی ہے۔”زاویار نے لیپ ٹاپ بند کیا اور شاہویز کو گھورا، “وہ ابھی نادان ہے، شاہویز! اسے دنیا داری کا کچھ نہیں پتا۔ اور مجھے ایسی ہم سفر کی ضرورت نہیں جسے ہر وقت سنبھالنا پڑے۔”
شاہویز نے چائے کا کپ اٹھایا اور مسکرا کر بولا، “بڑے بھائی! جو لڑکیاں سیدھی ہوتی ہیں نا، وہی دلوں پر راج کرتی ہیں۔ تم بس ذرا دل بڑا کرو۔” نوک جھوک زاویار غصے میں کمرے سے باہر نکل کر صحن کی طرف آیا۔ وہاں عنایہ پھولوں کے پودوں کو پانی دے رہی تھی۔ وہ سادگی میں بھی بہت خوبصورت لگ رہی تھی، لیکن اس کے چہرے پر خوف کے اثرات واضح تھے۔زاویار کو دیکھتے ہی عنایہ کے ہاتھ سے پانی کا برتن چھوٹتے چھوٹتے بچا۔تم یہاں کیا کر رہی ہو؟” زاویار نے سخت لہجے میں پوچھا۔عنایہ نے ڈرتے ڈرتے نظریں اٹھائیں، “وہ… میں بس پودوں کو پانی دے رہی تھی۔”زاویار اس کے قریب آیا، “تمہیں پتا ہے نا کہ پرسوں کیا ہونے جا رہا ہے؟ تم نے بابا سائیں کو منع کیوں نہیں کیا؟”عنایہ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے، اس نے لرزتی آواز میں کہا، “میں… میں کیسے منع کرتی؟ بڑے بابا جو کہتے ہیں، سب کو ماننا پڑتا ہے۔ اور آپ مجھ سے اتنے غصے میں کیوں بات کر رہے ہیں؟”کیونکہ تم کوئی سمجھدار لڑکی نہیں ہو!” زاویار نے طنزاً کہا،
“تمہیں لگتا ہے یہ کوئی کھیل ہے؟ شادی کے بعد زندگی بدل جاتی ہے عنایہ۔ اور میں تمہیں کوئی شہزادیوں والی زندگی نہیں دے سکتا۔”عنایہ نے اپنی چیچی انگلی کو مروڑتے ہوئے کہا، “مجھے کچھ نہیں چاہیے… آپ بس مجھ سے اتنے برے طریقے سے بات نہ کیا کریں۔”زاویار نے ایک ٹھنڈی آہ بھری اور وہاں سے پلٹ گیا۔رات کے وقت حویلی پر خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ زاویار اپنے کمرے کی بالکونی میں کھڑا سگریٹ پی رہا تھا اور سوچوں میں گم تھا۔اچانک حویلی کے مرکزی دروازے پر زور زور سے دستک ہوئی۔ زاویار جلدی سے نیچے آیا۔ چوکیدار نے ڈرتے ہوئے ایک کالا لفافہ زاویار کے ہاتھ میں تھمایا۔یہ کون دے گیا؟” زاویار نے پوچھا۔صاحب! کوئی منہ پر کپڑا باندھے باہر پھینک کر بھاگ گیا۔” چوکیدار نے کانپتے ہوئے بتایا۔زاویار نے لفافہ کھولا۔ اندر ایک خط اور ایک تصویر تھی۔ تصویر عنایہ کی تھی، جس پر سرخ روشنائی سے کراس کا نشان لگا ہوا تھا، اور نیچے لکھا تھا:زاویار لغاری! اگر تم نے اس لڑکی سے نکاح کیا، تو یہ نکاح تمہاری زندگی کی سب سے بڑی غلطی ہوگا
۔ یہ ہماراس پہلا اور آخری وار ہے۔”زاویار کا خون کھول اٹھا۔ اس نے مڑ کر عنایہ کے کمرے طرف دیکھا، جہاں لائٹ بند ہو چکی تھی صبح کے چھ بج رہے تھے۔ زاویار خط ہاتھ میں لیے سیدھا بابا سائیں کے کمرے میں داخل ہوا۔ بابا سائیں تسبیح پڑھ رہے تھے، زاویار کو اتنے سویرے دیکھ کر چونک گئے۔کیا بات ہے زاویار؟ اتنی صبح صبح چہرے پر اتنی ہوا ہائیاں کیوں اڑ رہی ہیں؟” بابا سائیں نے تسبیح روک کر پوچھا۔زاویار نے وہ خط اور عنایہ کی تصویر بابا سائیں کے سامنے ٹیبل پر رکھ دی۔ “یہ رات کے دو بجے حویلی کے گیٹ پر پھینک کر گیا ہے کوئی۔”بابا سائیں نے اینک لگا کر خط پڑھا۔ ان کے چہرے کا رنگ فق ہو گیا۔ “ملک شہمیر… وہ واقعی اپنی حدیں پار کر رہا ہے۔”مسئلہ ملک شہمیر کا نہیں ہے بابا سائیں!” زاویار نے اپنی آواز دھیمی رکھتے ہوئے کہا، “مسئلہ یہ ہے کہ ہماری شادی کی بات صرف اس حویلی کے اندر کے لوگوں کو معلوم تھی۔ باہر کے بندے کو کیسے پتا چلا کہ پرسوں نکاح ہے؟”بابا سائیں نے حیرت سے زاویار کو دیکھا، “تم کہنا کیا چاہتے ہو؟”کہنا یہ چاہتا ہوں کہ کوئی اپنا دشمن کے ساتھ ملا ہوا ہے۔ اور جب تک مجھے اس آستین کے سانپ کا پتا نہیں چلتا، یہ نکاح خطرے سے خالی نہیں ہے۔” زاویار نے سنجیدگی سے کہا۔ناشتے کی میز پر سب جمع تھے۔ عنایہ خاموشی سے چائے کے کپ سجا رہی تھی۔ اس کے چہرے پر رات کا خوف اب بھی نظر آ رہا تھا زاویار ناشتے کی میز پر آ کر بیٹھا تو شاہویز نے پلیٹ آگے کرتے ہوئے کہا، “کیا بات ہے ہیرو؟ رات کو نیند نہیں آئی کیا؟ آنکھیں لال ہو رہی ہیں۔”زاویار نے شاہویز کو گھورا، “شاہویز، خاموشی سے ناشتا کرو۔”شاہویز نے ہنستے ہوئے عنایہ کی طرف دیکھا، “ارے عنایہ! دیکھو اپنے ہونے والے شوہر کو، ابھی سے اتنے نخرے دکھا رہے ہیں۔ بعد میں تمہارا کیا بنے گا؟”عنایہ نے شرما کر سر جھکا لیا اور دھیمی آواز میں بولی، “شاہویز بھائی، آپ بھی نا…”زاویار نے چائے کا گھونٹ لیا اور بولا، “عنایہ، آج کے بعد تم حویلی سے باہر قدم نہیں رکھو گی۔ نہ ہی کسی سے بلا ضرورت بات کرو گی
نیچے دیے گئے 4 ڈاؤنلوڈ لنکس میں سے 3 لنکس پر اشتہار آ سکتا ہے، جبکہ 1 لنک اصل ڈاؤن لوڈ لنک ہے۔
ہماری درخواست ہے کہ کسی بھی لنک کو بند کیے بغیر تھوڑا صبر سے استعمال کریں۔
آپ کی یہی چھوٹی سی سپورٹ ہمیں مزید ناول آپ تک پہنچانے میں مدد دیتی ہے
1st Link
Download link
2nd Link
Download Link
3rd Link
Download Link
4th Link
Download Link
Summary
Dill Ki Pukar is an emotional romantic suspense story revolving around Zawiyar and Anaya, whose marriage is arranged against Zawiyar’s wishes. Anaya is innocent and deeply attached to him, while Zawiyar considers her too immature to be his life partner. Their forced relationship becomes even more complicated when an old enemy threatens Anaya and warns Zawiyar against marrying her.
As Zawiyar begins investigating the mysterious threat, he discovers that the enemy somehow knows the haveli’s private affairs. His suspicion turns toward someone close to the family. Between family rivalry, hidden betrayals, forced marriage and growing emotions, Zawiyar must protect Anaya while uncovering the person working against them.
Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕