Junoon E Ghairat By PC Novel20980

Forced Marriage | Revenge | Feudal Family | Tawaif Based | Action | Emotional Drama | Protective Hero | Social Issues | Romance

Short Description

A powerful man enters a notorious kotha to rescue a helpless girl who has been sold there by her own uncle for property. But when he claims her as his responsibility, Meram fears that she has merely been bought by another ruthless man. Arqam, however, carries a completely different motive—one connected to his deceased friend’s final wish and a promise he can never forget.

” اس لڑکی کی قیمت بتاؤ مجھے۔۔۔۔۔ ” بے تابی سے ملک ارقم نے میرم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پوچھا تو میرم خوف سے روتی ہوئی چندا بائی کی منتیں کرنے لگی۔ “میں آپکے سارے کام کر دونگی، بس میری عزت کا سودا نا کریں۔” چندا بائی اس کی منتیں نظر انداز کر کے بولی “صاحب! لڑکی ہیرا ہے بلکل ان ٹچ!” ملک ارقم نے بلینک چیک چندا بائی کی طرف پھینکا اور میرم کی کلائی جکڑ لی۔ میرم ڈر سے بری طرح چیخنے لگی۔ ملک ارقم کا وجود غیرت سے زلزلوں کی زد میں تھا، وہ اس کے مرحوم دوست کی بہن تھی۔ جس کی جائیداد پر قبضہ کر کے اس کے چچا نے اسے کوٹھے پر بیچ دیا تھا مرنے سے پہلے ارقم کا دوست اسے اپنا بہنوئی بنانا چاہتا تھا۔” میں اپنی جان دے دونگی پر عزت نہیں۔۔ “میرم نے کہہ کر پیٹ میں شیشہ۔۔۔۔۔۔۔۔شام کا اندھیرا پھیل رہا تھا بدنام گلی کے اس پرانے کوٹھے پر رونقیں ابھی جوان ہو رہی تھیں۔

فضا میں طبلے کی تھاپ گھنگروؤں کی چھنکار اور امیر زادوں کے غلیظ بے ہودہ قہقہوں کا شور گونج رہا تھا۔ اس گناہ آلود رونق کے بیچوں سرخ لباس میں ملبوس میرم ایک جیتے جاگتے جنازے کی طرح بیٹھی تھی۔ سرخ جوڑا جو کسی دوشیزہ کے لیے زندگی کے سب سے خوبصورت خواب کی علامت ہوتا ہے اس وقت میرم کے وجود پر ایک کفن کی طرح لپٹا ہوا تھا۔۔۔۔اس کی آنکھوں سے نکلنے والے آنسو گالوں پر لگی لال سرخی کو بہا کر لے جا رہے تھے اور اس کا معصوم وجود خوف کی شدت سے بری طرح کانپ رہا تھا۔ اس کے نازک ہاتھ مسلسل اپنے دوپٹے کو بھینچ رہے تھے ابھی چند دن پہلے تک وہ اپنے بھائی ارسلان کے سایہ شفقت میں ایک شہزادی کی طرح رہتی تھی۔ لیکن بھائی کے اچانک انتقال کے بعد اس کے اپنے سگے چچا چوہدری غفار نے جائیداد کی ہوس میں اندھے ہو کر اس کی دنیا اجاڑ دی۔ ا

س نے نہ صرف بھائی کا ترکہ ہڑپ لیا بلکہ رات کے اندھیرے میں اس معصوم کو اس بد نام کوٹھے کی مالکن چندا بائی کے ہاتھوں چند پیسوں میں بیچ دیا۔۔۔محفل کے درمیان ایک اونچی نشست پر چندا ہائی براجمان تھی جو اپنے پان سے لال ہونٹوں کو چباتے ہوئے گاہکوں پر للچائی ہوئی نظریں ڈال رہی تھی۔ اچانک محفل خانے کا بھاری لکڑی کا دروازہ زور سے کھلا۔ محفل کا شور جیسے پل بھر میں جم گیا۔ ایک لمبا باوقار اور وجیہہ قامت مرد اندر داخل ہوا جس کے چہرے پر سختی اور آنکھوں میں شعلے لپک رہے تھے۔ اس کا ہر قدم زمین پر اتنے رعب سے پڑ رہا تھا کہ ارد گرد! بیٹھے ہوئے سیٹھ اور نواب سہم کر پیچھے ہٹ گئے۔ وہ ملک ار قم تھا۔ ارقم کی نظریں جیسے ہی سرخ لباس میں لیٹی سسکتی ہوئی میرم پر پڑیں اس کی آنکھوں میں خون اتر آیا۔۔۔ ارقم نے سرد نظر پورے کمرے پر ڈالی پھر اس کی بھاری اور رعب دار آواز نے محفل کی خاموشی کو چیر کر رکھدیا۔ “اس لڑکی کی قیمت بتاؤ مجھے ” ارقم نے میرم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پوچھا۔ اس کا لہجہ اتنا سخت اور دو ٹوک تھا کہ محفل میں بیٹھے تمام لوگ خاموش ہو گئے۔ میرم نے جیسے ہی اس اجنبی شخص کی آواز سنی اور اس کا اپنی طرف اشارہ دیکھا اس کی روح تک کانپ اٹھی۔ اس کا دل ڈوبنے لگا کہ شاید یہ شخص باقی تمام درندوں سے زیادہ ظالم ہے اور اس کی قیمت لگا کر اسے خریدنے آیا ہے۔۔

۔خوف کی ایک شدید لہر اس کے جسم میں دوڑ گئی۔ وہ بدحواس ہو کر زمین پر گھسٹتی ہوئی چندا بائی کے قدموں میں جاگری اور اس کا غرارہ پکڑ کر منتیں کرنے لگی۔ “چندا بائی خدا کے لیے۔۔۔۔ خدا کا واسطہ ہے آپ کو مجھے اس طرح نہ بھچیں ” میرم ہچکیوں کے درمیان خوف سے تھر تھراتے ہوئے التجا کر رہی تھی۔ ” میں آپ کے سارے کام کر دوں گی۔۔۔۔ میں صبح سے رات تک برتن دھو لوں گی فرش پر جھاڑو لگا لوں گی آپ جو کہیں گی کروں گی۔۔۔۔ بس میری عزت کا سودا نہ کریں۔ مجھے کسی کے ساتھ نہ بھیجیں مجھے مار دیں لیکن میری عزت بخش دیں” چندا بائی نے اس کی دردناک منتوں اور بہتے ہوئے آنسوؤں کو اس طرح نظر انداز کیا جیسے وہ انسان نہیں بلکہ کوئی ہے جان کھلونا ہو۔ وہ ارقم کی طرف قدم بڑھاتے ہوئے بولی ” او ہو۔۔۔۔ ارقم صاحب ذرا ٹھہریے اتنی بے تابی بھی کیا ہے؟ ذرا مال کی قدر تو دیکھیے۔” چندا بائی نے میرم کے دوپٹے کو چھونے کی کوشش کی جس سے میرم خوف سے پیچھے ہٹی۔ چندا بائی نے اتراتے ہوئے کہا ” صاحب لڑکی ہیرا ہے بالکل ان چھوئی ہے۔ نواب زادے اس کا ایک دیدار کرنے کے لیے لاکھوں لٹانے کو تیار ہیں۔ اس کی قیمت اتنی معمولی نہیں ہوگی کہ آپ یوں ایک جملے میں طے کر لیں۔۔۔” ملک ارقم نے اپنے کوٹ کی اندرونی جیب سے چیک بک نکالی قلم سے اس پر اپنے دستخط کیے اور وہ بلینک چیک چندا بائی کے منہ پر دے ماری۔۔۔”

چیک پر اپنی مرضی کی رقم لکھ لو اور ہٹ جاؤ میرے سامنے سے” ارقم کی آواز میں ایسا غضب تھا کہ چندا بائی چیک سنبھالتی ہوئی خود بخود دو قدم پیچھے ہٹ گئی۔ اگلے ہی لمحے ارقم لمبے ڈگ بھرتا ہوا میرم کے قریب پہنچا اور میرم کی کلائی کو جکڑ لیا “آ۔۔۔۔چھوڑو مجھے چھوڑو” میرم ڈر سے بری طرح جیخنے لگی۔ اس نے تمام تر طاقت لگا کر اپنا ہاتھ چھڑانے کی کوشش کی لیکن ارقم کی گرفت مضبوط تھی۔ میرم کا نازک دل خوف سے بند ہو رہا تھا۔ اسے یقین ہو چلا تھا کہ یہ بے رحم شخص اسے خرید چکا ہے اور اب اس کی اذیت کا سفر شروع ہونے والا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

نیچے دیے گئے 4 ڈاؤنلوڈ لنکس میں سے 3 لنکس پر اشتہار آ سکتا ہے، جبکہ 1 لنک اصل ڈاؤن لوڈ لنک ہے۔

ہماری درخواست ہے کہ کسی بھی لنک کو بند کیے بغیر تھوڑا صبر سے استعمال کریں۔

آپ کی یہی چھوٹی سی سپورٹ ہمیں مزید ناول آپ تک پہنچانے میں مدد دیتی ہے

1st Link

Download link

2nd Link

Download Link

3rd Link

Download Link

4th Link

Download Link

Summary

Junoon E Ghairat follows Meram, a young girl whose life is destroyed after the death of her brother. Her greedy uncle takes control of the family property and sells Meram to a notorious kotha. Terrified and desperate to protect her dignity, Meram believes her life is over.

Everything changes when Malik Arqam arrives at the kotha and offers a blank cheque for her. Meram initially sees him as another cruel man who has come to buy her, unaware that Arqam is determined to protect her. She is the sister of his deceased friend, who had once wished for Arqam to become Meram’s husband.

As Arqam takes Meram away from the dangerous world she was forced into, old enemies, betrayal, property disputes and family secrets begin to surface. Between Meram’s fear and Arqam’s fierce sense of honor, their journey slowly turns into a powerful story of protection, revenge, dignity and unexpected love.

Support Novelistan ❤️

Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.

EasyPaisa / JazzCash

0309 1256788

Account name: Safia Bano

Bank Transfer (UBL)

United Bank Limited

Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131

Name: Sadia Hassan

IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131

Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕

Share this Novel

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *