Guzarish Hai Tujh Se By Ammara Khalid Novel20982
Guzarish Hai Tujh Se By Ammara Khalid Novel20982
Forced Marriage | Underworld | Protective Hero | Office base | Strong Female Lead | Emotional Drama | Social Issues | Romance | Action | Family Drama
Short Description
Zoya, a kind-hearted and fearless hotel manager, never tolerates injustice or humiliation. On her fifth day at work, she unexpectedly stands up to Jaffer Khakwani, a powerful and feared underworld figure, when he mistreats a waiter. Her courage leaves everyone shocked—and catches Jaffer’s attention.
What begins as a bold confrontation slowly turns into an unexpected connection filled with mystery, protection, emotions, and romance.
” معافی مانگیں اس ویٹر سے، آپ کو کس نے حق دیا ان پر ہاتھ اٹھانے کا؟؟ “وہ غصے سے جعفر خاکوانی کی ٹیبل پر ہاتھ رکھتے بولی تو وہاں بیٹھے باقی سب سانس روکے اس بیوقوف لڑکی کو دیکھنے لگے جو شاید جانتی نہیں تھی اس کے سامنے کون بیٹھا تھا؟؟ جعفر خاکوانی نے سر تاپیر اس کم عمر لڑکی کو دیکھا تھا جو مینیجر کے کپڑوں میں تھی۔ شاید اس ہوٹل پر نئی نئی نوکری پر لگی تھی۔ “سوری” اگلے لمحے سب کو جھٹکا تھا جب انڈرورلڈ کے بادشاہ جعفر خاکوانی نے ایک ویٹر کو سوری کہا تھا۔ ” آپ مجھے شکل سے ہی شریف انسان لگے تھے اور معافی مانگ کر آپ نے ثابت کر دیا۔۔۔ ” وہ معصوم مسکرا کر کہتی وہاں سے جاچکی تھی جب کے جعفر کی مسکراتی گہری نظروں نے دور تک اس کا پیچھا کیا تھا۔ “انٹر سٹنگ گرل۔۔۔”” مس زویا…. ٹیبل نمبر نو پر گیسٹ کو زرا ایک بار آپ خود دیکھ لیں۔۔۔۔” جی ۔۔۔۔ میں دیکھتی ہوں۔۔۔۔” بلیک حجاب میں لپٹے چہرے نے اپنے نام کی پکار پر فورا سے سر ہلاتے ہوئے جواب دیا اور تیز قدموں سے آگے بڑھ گئی تھی۔۔۔ تا کہ وہ گیسٹ کو دیکھ سکے۔ ۔۔۔ نوکری کا صرف پانچواں دن تھا۔۔۔۔۔
وہ اتنے چھوٹے عرصے میں بھی سب کی نظروں میں آہ گی تھی ۔۔ کیونکہ اس کا اخلاق ہی ایسا تھا۔۔۔۔ ” میم۔۔۔۔کچن سے آرڈر لیٹ ہو رہا ہے۔۔۔۔ پلیز چیک کر لیں ۔۔۔” وہ ابھی ایک کام کر آئی تجی جب ایک کم عمر ویٹر نے اسے پکارا تھا۔۔۔” میم نہیں… عمر آپ مجھے زویا۔۔۔۔کہ لیا کریں اتنی بھی بڑی نہیں ہوں میں اب۔۔۔۔” اس کی بات پر سامنے کھڑا عمر بھی ہنس دیا تھا۔۔۔ “عادت ہے نا۔۔۔ میم.۔۔۔” ” تو آج سے بدل لو۔۔۔۔” اس نے مسکراتے ہوئے اس کے کندھے پر ہلکی سی تھپکی دیتے مشورہ دیا اور کچن کی طرف بڑھ گئی تھی۔۔۔ وہ سخت لہجے والی مینجر نہیں تھی۔۔۔ غلطی پر سمجھا دیتی۔۔۔ مگر کسی کی بے عزتی کرنا اسے پسند نہیں تھا۔۔۔۔ شاید اسی لیے صرف چند دنوں میں اسٹاف اس سے گھل مل گیا تھا۔۔۔۔
” مس زویا! ” پیچھے سے سینئر منیجر کی آواز آئی تھی۔۔۔ ” جی۔۔۔۔ سر؟۔۔۔ ” ” آج ایک خاص گیسٹ آ رہے ہیں۔” ” جی اچھا۔۔۔” اس نے سر ہلایا تھا۔۔۔۔۔۔” تو پلیز دھیان رکھیئے گا۔۔ کہ کچھ غلط نہ ہو۔۔” اس نے سنجیدگیسے کہا تھا۔۔۔ ” فکر نہ کریں۔۔۔۔ یہاں آنے والا ہر گیسٹ ہمارے لیے خاص ہوتا ہے۔۔۔” زویا نے مسکرا کر یقین دلانے والے لہجے میںکہا تھا۔۔۔کچھ ہی دیر بعد ہوٹل کے مرکزی دروازے کے باہر ایک سیاہ رنگ کی گاڑی آکر رکی۔ پھر دوسری۔۔۔ پھر تیسری۔۔۔۔ ریسپشن پر کھڑا لڑکا فوراً سیدھا ہو گیا تھا۔۔۔۔ دروازہ کھولنے والا ملازم بے اختیار اپنی ٹائی درست کرنے لگا تھا۔۔۔۔ ایک لمحے میں پورے فلور کا ماحول بدل گیا۔۔۔۔۔
“سر آگئے۔۔۔۔” کسی نے آہستہ کہا تھا۔۔۔ زویا نے چونک کر ادھر دیکھا تھا۔۔۔ “یہ ایک دم سب کو کیا ہو گیا۔۔۔۔ کون سر؟۔۔۔” اس نے ساتھ کھڑی ریسپشنسٹ سے پوچھا تھا۔۔۔۔ لڑکی نے فوراً نظریں جھکا لی تھی۔۔ جیسے نہ جانے کیا ہو گیا ہو۔۔۔ ” آپ نئی ہیں نا… بعد میں بتاؤں گی۔” ” اتنا سسپنس کیوں بنا رہی ہو؟ ” زویا حیرانگی سے بولی تھی۔۔۔” بس… آپ ان کے سامنے کوئی غلطی نہ ہونے دینا۔۔۔۔” وہ لڑکی جواب دینے کے بجائے ہدایت دینے والے لہجے میں بولی تھی۔۔۔ زویا نے ہونٹ سکڑے تھے۔۔۔” یہ تو ہر گیسٹ کے ساتھ ہونا چاہیے۔۔۔” وہ نارملی بولی تھی۔۔ جیسے اسے اس کی سمجھ نہ اہ رہیہو۔۔۔ جواب سن کر ریسپشنسٹ خاموش ہو گئی تھی۔۔۔ اسی دوران ہوٹل کا شیشے کا دروازہ کھلا تھا۔۔۔ سب سے پہلے دو آدمی اندر آئے تھے۔۔۔ سادہ مگر مہنگے لباس میں ملبوس، چہروں پر سنجید گی تھی۔۔۔ ان کے پیچھے ایک شخص آہستہ آہستہ اندر داخل ہوا تھا۔۔۔۔ سیاہ سوٹ میں اس کا رنگ چمک رہا تھا۔۔۔ ہاتھ میں پہنی مہنگی گھڑی اس کی پرسنلٹی میں چار چاند لگا رہی تھی
۔ اوپر سے اس کے سنجیدہ تاثرات بس ایک خاموش اعتماد اس کی شخصیت کا حصہ تھا۔۔۔۔۔ وہ کسی طرف دیکھے بغیر اپنی مخصوص میز کی جانب بڑھ گیا تھا۔۔۔۔ گڈ ایوننگ، سر۔ جنرل مینجر آگے آتے ہوے بولا تھا۔۔۔ اس شخص نے صرف ہلکا سا سر ہلانے پر اکتفا کیا تھا۔۔۔۔ زویا نے منظر دیکھا تو فورا پوچھنے لگی تھی۔۔۔ ” یہ کون ہیں؟ کوئی سیاست دان؟ کیا؟؟؟ ” ” شش…” ریسپشنسٹ نے فوراً اسے خاموش کرایا تھا۔۔۔۔ ” اتنی اونچی آواز میں مت بولیں۔ آخر کیوں ؟؟؟ ” ” بس مت پوچھیں۔…” زویا نے حیرانی سے اس شخص کی طرف دیکھا۔ اسے وہ عام سا… سنجیدہ مزاج انسان ہی لگا تھا نہ جانے یہ لوگ اسے اس طرح ٹریٹ کیوں کر رہے تھے؟؟ جیسے وہ کوئی الگ چیز ہو۔۔۔” عجیب لوگ ہیں۔۔۔” وہ بڑبڑاتی اپنے کام میں مصروف ہوگئی تھی وہ اپنا کام کر رہی تھی جب اس کی نظر عمر پر پڑی جو کافی کی ٹرے پکڑے اس ٹیبل کی جانب جا رہا تھا۔۔۔ اس کے ہاتھ ہلکے ہلکے کانپ رہے رہے تھے۔۔۔” آرام سے… گھبراؤ مت۔” اسے دیکھتے زویا نے فورا کہا تھا۔۔۔ عمر نے بمشکل سر ہلایا اور میز کے قریب جا کر کافی رکھنے لگا تھا۔۔۔ اسی لمحے اس کے ہاتھ سے کپ ہلکا سا پھسلا تھا۔۔۔
چند قطرے میز پر اور سامنے بیٹھے شخص کے ہاتھ پر گر گئے تھے۔۔۔ ویٹر کے چہرے کا رنگ ایک دم اڑا تھا۔۔۔۔ “س… سوری مجھ سے غلطی ہو گئی وہ فورا۔۔” بولا ویٹرتھا سب کی نگاہ اسی میز پر جم گئی۔۔۔۔۔ ویٹر مسلسل معذرت کر رہا تھا۔۔۔۔۔ ” صاف کر دیتا ہوں، سر پلیز۔۔” اس شخص نے آہستہ سے اپنے ہاتھ پر گرے کافی کے قطروں کی طرف دیکھا۔۔۔ پھر نظریں ویٹر پر اٹھائیں اس کے چہرے پر کوئی خاص تاثر نہیں تھا۔۔۔۔وہٹر نے کانپتے ہاتھوں سے نیپکن اٹھایا تھا کے اگلے ہی لمحے ایک زوردار تھپڑ اسکے گال پر پر پڑا تھا۔۔۔۔۔چٹاخ!!! آواز اتنی بلند تھی کے قریب بیٹھی خاتون کے ہاتھ سے چمچ گرگیا تھا۔۔۔۔ویٹر لڑکھڑا کر پیچھے ہٹا تھا۔اسکی آنکھوں میں آنسو بھر آئے تھے۔۔۔۔ ایک نئے لمحے کو ہال میں مکمل خاموشی چھا گئی۔۔۔۔۔۔۔
کسی نے ایک لفظ تک نہ کہا۔ کسی نے آگے بڑھنے کی ہمت نہ کی۔ زویا چند لمحے ساکت کھڑی رہی تھی۔۔۔۔ اسے یقین ہی نہیں آیا کہ معمولی سی غلطی پر کسی کو سب کے سامنے اس طرح ذلیل کیا جا سکتا تھا۔۔۔۔ اس نے ایک نظر ویٹر کے سرخ ہوتے گال پر ڈالی تھی۔۔دوسری نظر اس شخص پر جو سنجیدہ تاثرات لیے بیٹھا تھا۔۔۔۔پھر بغیر کچھ سوچے تیز قدموں سے اسی میز کی طرف بڑھ گئی۔۔۔۔ “مس زویا۔۔۔” پیچھے سے سینئر نے گھبرا کر آواز دی تھی۔۔۔۔ مگر وہ نہیں رکی تھی۔۔۔ وہ سیدھا اس میز کے سامنے جا کر کھڑی ہوئی تھی۔۔۔ کسی کے یوں اپنے سامنے آکر کھڑے ہونے پر جعفر خاکوانی نے نظریں اٹھا کر پہلی بار اسے دیکھا تھا۔۔۔” مجھے نہیں معلوم آپ کون ہیں۔۔۔۔ لیکن اتنا ضرور جانتی ہوں کہ کسی انسان کو سب کے سامنے تھپڑ مارنے کی غلطی کرنے کا حق کسی کے پاس نہیں ہوتا۔۔۔۔۔” زویا نے سانس لیتے پر سکون مگر مضبوط لہجے میں کہا تھا۔۔۔ “مسں زویا…”مینیجر کی گھبرائی ہوئی آواز دوبارہ آئی تھی۔۔۔۔ مگر اس بار بھی وہ نہیں رکی اس کی نظریں صرف سامنے بیٹھے شخص پر تھیں۔۔۔۔
” آپ کو ان سے معافی مانگنی ہوگی۔۔” اس نے صاف لفظوں میں کہا تھا۔۔ لمحوں کے لیے ایسا لگا جیسے پورا ہال ساکت ہو گیا ہو۔ ویٹر۔۔۔۔ ریسپشنسٹ۔۔۔شیف۔۔دوسرے گاہک… سب کی نظریں ایک ہی منظر پر جمی تھیں۔۔۔ کہ ہو کیا رہا جعفر خاکوانی خاموشی سے اسے دیکھتا رہا تھا۔۔۔۔۔ اس کی آنکھوں میں غصہ نہیں تھا۔ بلکہ ایک عجیب سا تجسس تھا۔۔۔۔ ” آپ نے۔۔۔سنا نہیں؟۔۔۔ ” زویا نے دوبارہ کہا تھا” غلطی ہوئی لیکن جان بوجھ کر نہیں کیا ۔۔۔۔ اس کی سزا کسی کی عزت چھین لینا نہیں ہوتی۔۔۔۔۔” “میم پلیز رہنے دیں۔۔۔۔” ویٹر نے فوراً آگے بڑھ کر آہستہ سے کہا تھا۔۔۔۔۔” رہنے دیں میری غلطی تھی۔۔” ” غلطی تھی۔۔۔ جرم نہیں۔۔۔۔” زویا نے اس کی طرف دیکھے بغیر جواب دیا تھا۔۔۔۔ ” اور اگر آج تم اپنی عزت کے لیے خود نہیں بولو گے تو کل کوئی بھی تمہارے ساتھ یہی کرے گا۔۔۔۔” ویٹر خاموش ہو گیا تھا۔۔۔۔ جعفر خاکوانی نے کرسی کی پشت سے ٹیک ہٹائی اور پہلی بار سیدھا ہو کر بیٹھا تھا۔۔۔۔ اس کی نظریں بدستور زویا پر تھیں۔۔۔ ” یہاں نئی ہو؟ ” جعفر خاکوانی نے نہایت پرسکون لہجے میں پوچھا تھا؟؟؟؟ زویا کو ایک لمحے کے لیے حیرت ہوئی تھی ۔۔۔ وہ کسی چیخ دھمکی یا غصے کی توقع کر رہی تھی۔۔۔۔۔ مگر اس کا لہجہ بالکل معمول کے مطابق تھا۔۔۔۔۔
” جی۔” ” کتنے دن ہوئے؟ چ ” پانچ ۔۔۔۔” اس نے مختصر جواب دیا تھا۔۔۔ ” پانچ۔۔۔۔ اور پانچ دن میں ہی تم نے اپنے گیسٹ سے اس طرح بات کرنا سیکھ لیا؟۔۔۔ ” اس کے لہجے میں ہلکی سی سنجیدگی تھی۔۔۔۔” مجھے میرے والد نے ایک بات سکھائی تھی۔ سامنے والا جتنا بھی بڑا ہو۔۔۔۔ اگر وہ غلط ہے تو خاموش رہنا بھی غلطی ہے۔۔۔۔۔” زویا ٹھہر ٹھہر کر بولی تھی۔۔۔ مگر بولتے ہوئے اس کی آواز میں عجیب سی مضبوطی تھی ۔۔۔۔۔ سینئر مینجر نے بے چینی سے رومال نکال کر ماتھے پر آیا پسینہ پونچا تھا۔۔۔۔” سر میں ان کی طرف سے معذرت کرتا ہوں۔۔۔۔ یہ نئی ہیں۔۔۔۔ ابھی…” ” میں نے آپ سے کچھ پوچھا؟ ” سامنے بیٹھے شخص نے بغیر آواز بلند کہا تھا۔۔۔ مینیجر فوراً خاموش ہو گیا تھا۔۔۔ سب دیکھتی زویا ابھی بھی اپنے مؤقف پر تھی۔۔۔۔۔۔” آپ انہیں ڈرا سکتے ہیں۔۔۔۔ مجھے نہیں۔۔ ی کہتے زویا کے اپنے دل کی دھڑکن بھی تیز ہو چکی تھی۔۔۔۔۔ مگر اس نے خود کو سنبھال رکھا تھا۔۔۔۔ سامنے بیٹھے شخص کے ہونٹوں کے کنارے ہلکے سے ہلے تھے۔۔۔ شاید وہ مسکراہٹ تھی۔۔۔۔ جعفر خاکوانی نے ایک نظر ویٹر کی طرف دیکھا تھا۔۔۔ عمر اب بھی سر جھکائے کھڑا تھا۔۔۔۔۔۔” نام کیا ہے تمہارا؟۔۔۔۔”
” عامر سر۔۔۔۔” اس نے بمشکل جواب دیا تھا۔۔۔ “سوری عامر ۔۔۔۔” کچھ لمحے خاموش رہنے کے بعد وہ ٹھہر ٹھہر کر بولا تھا۔۔۔ ایک لمحے کو جیسے وقت رک گیا تھا۔۔۔۔ دوسرے ٹیبل کی طرف جاتے ویٹر کے ہاتھ سے ٹرے پھسلتے پھسلتے بچی تھی ریسپشنسٹ نے حیرت سے آنکھیں پھیلا کر دیکھا تھا۔۔۔۔ جنرل مینیجر کو یقین ہی نہیں آیا کہ اس نے واقعی یہی سنا تھا۔۔۔۔عمر نے سر اٹھایا تھا۔۔۔۔ اس کی آنکھوں میں حیرت صاف دکھائی دے رہی تھی۔۔۔۔۔”س… سر؟ ” ” میں نے کہا… سوری ” اس شخص نے دوبارہ اتنے ہی سکون سے کہا تھا۔۔۔۔ ” مگر آئندہ کافی رکھتے وقت ہاتھ مضبوط رکھنا۔۔۔۔۔” وہ اتنی ہی سنجیدگی سے بولا تھا۔۔۔ عامر نے فوراً سر ہلایا تھا۔۔۔۔ “ج… جی۔۔۔ جی ۔۔۔ سر”۔ زویا کے چہرے پر بےاختیار مسکراہٹ آگئی تھی۔۔۔۔ ” دیکھا؟ معافی مانگنے سے کسی کا قد چھوٹا نہیں ہوتا۔۔۔۔” وہ مسکراتے ہوے بولی تھی۔۔۔ “یہ بات تو یاد رکھنے والی ہے۔۔۔۔ میڈیم۔۔۔” زویا نے اطمینان سے سر ہلایا۔ ” مس زویا…. ٹیبیل نمبر نو پر گیسٹ کو زرا ایک بار آپ خود دیکھ لیں” ” جی ۔۔۔۔ میں دیکھتی ہوں۔۔۔۔ “بلیک حجاب میں لپٹے چہرے نے اپنے نام کی پکار پر فورا سے سر ہلاتے ہوئے جواب دیا اور تیز قدموں سے آگے بڑھ گئی تھی۔۔۔ تا کہ وہ گیسٹ کو دیکھ سکے۔ ۔۔۔
نیچے دیے گئے 4 ڈاؤنلوڈ لنکس میں سے 3 لنکس پر اشتہار آ سکتا ہے، جبکہ 1 لنک اصل ڈاؤن لوڈ لنک ہے۔
ہماری درخواست ہے کہ کسی بھی لنک کو بند کیے بغیر تھوڑا صبر سے استعمال کریں۔
آپ کی یہی چھوٹی سی سپورٹ ہمیں مزید ناول آپ تک پہنچانے میں مدد دیتی ہے
1st Link
Download link
2nd Link
Download Link
3rd Link
Download Link
4th Link
Download Link
Summary
Zoya is a kind-hearted and principled hotel manager who believes that no one has the right to humiliate another person. On her fifth day at the hotel, she unexpectedly confronts Jaffer Khakwani, a powerful and feared underworld figure, after he mistreats a waiter for a simple mistake.
Instead of becoming intimidated by his reputation, Zoya firmly asks him to apologize. Surprisingly, Jaffer does exactly that, leaving everyone stunned. Her courage and innocence spark an unusual curiosity in him. As their paths continue to cross, Zoya slowly discovers that the intimidating man behind the rumors has a much more complicated personality than she imagined. What begins with a bold confrontation gradually turns into an intense journey of trust, emotions, protection, and unexpected love.
Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕