Zaat E Ishq By Bisma Khan Novel20978

Forced Marriage | Haveli Based | Feudal Family | Rude Hero | Revenge | Social Issues | Emotional Drama  | One-Sided Hatred | Romantic Drama

Short Description

A dark emotional romance about a young woman whose dreams of education are shattered by family honor, forced marriage, and a powerful man’s deep resentment. Amidst a strict haveli environment, she struggles to protect her dignity, dreams, and identity.

” میرے بیٹے کو فیڈ کرواؤ کب سے رو رہا ہے اور تمہیں پڑھائی کی پڑی ہے؟؟؟ ” سردار قیوم نے محمل کے ہاتھ سے کتابیں کمرے کے درمیان پھینکی اور اپنے بیٹے کو اسکی گود میں ڈالا محمل شرم سے لال ہوئی بچے کو دور کرنے لگی مگر اسکی سرد نگاہیں محمل کو خوفزدہ کر گئیں وہ اسکے حکم کو جھٹلا نا سگی اور اپنے بچے کو فیڈ کروانے لگی۔۔۔محمل کو اسکی نگاہیں آرپار ہوتی محسوس ہو رہی تھیں آہل کے سونے کے بعد اسے بے بی کاٹ میں لٹا کر وہ موبائل اٹھانے لگی مگر سردار قیوم نے اسے بیڈ پر دھکا دیا۔۔۔ ” میرا بھی حق ادا کرو۔۔۔۔۔” قیوم شدت سے۔۔۔
محمل آنکھیں پھاڑے سامنے جاتے ہوئے شخص کی طرف دیکھ رہی تھی جو شادی سے انکار کر کے جا چکا تھا یہ کہہ کر کہ محمل کے ساتھ اس کی زبردستی شادی کروائی جا رہی تھی اور کسی بھی غریب خاندان کی دو ٹکے کی لڑکی کے ساتھ وہ شادی نہیں کرنا چاہتا پاس کھڑے ہوئے سردار قیوم کی پیشانی پہ بل نمودار ہوئے تھے وہ اس روتی ہوئی لڑکی کی طرف دیکھنے لگا پھر اپنے باپ کی طرف دیکھنے لگا۔۔۔۔
” دلاور تو سب کی عزت کو خاک میں ملا کے جا چکا تھا میں اس کے ساتھ نکاح کروں گا۔۔۔” سردار قیوم کی آواز سن کر سب نے ایک دم سے سردار کی طرف دیکھا منزہ تائی کو تو حیرت ہورہی تھی ان کی لاکھ منتیں کرنے کے باوجود بھی قیوم کسی طور پر بھی شادی کے لیے نہیں مانا تھا اور آج وہ یوں بھرے مجمعے میں اس لڑکی کے ساتھ شادی کرنے کو تیار ہو چکا تھا؟؟؟ جسے اس کا چھوٹا بھائی ٹھکرا کے جا رہا تھا وہ اس کے پہلو میں بیٹھتا ہوا مولوی صاحب کو کہنے لگا۔۔۔
” نکاح شروع کریں۔۔۔۔۔” اور محمل کا دل مزید شدت سے دھڑکا تھا اس کی قسمت کا تو یہاں پہ تماشہ بن چکا تھا سب کی ہمدرد دانہ نگاہیں وہ اپنے وجود پہ محسوس کر سکتی تھی اس نے ضبط سے اپنی مٹھیاں بھینچ لیں نجانے کتنے آنسو اس کی آنکھوں کی باڑ توڑ کر باہر آچکے تھے وہ ہچکیوں اور سسکیوں کے ساتھ بہت شدت سے رونے لگی اپنا رونا کنٹرول کرنے کی کوشش کرنے لگی۔۔۔
تھوڑی ہی دیر بعد وہ اس شخص کے نام ہو چکی تھی جس کے بارے میں اس نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا سردار قیوم جس کے نام سے بھی لوگ خوف کھاتے تھے وہ اس قدر سخت مزاج و سنجیدہ مزاج تھا کوئی بھی اس کے ساتھ بات کرنے سے ڈرتا تھا اور آج محمل کا نکاح اس کے ساتھ ہو رہا تھا۔۔۔۔
کسی نے کچھ کہنے کی بھی ہمت نہیں کی نکاح کے بعد رخصتی ہو گئی حویلی آنے کے بعد تائی جان نے عجیب نگاہوں سے محمل کی طرف دیکھا نجانے کیوں محمل سے انہیں نفرت محسوس ہو رہی تھی دو تین رسومات کے بعد محمل کو لا کر کمرے میں بٹھا دیا گیا وہ کمرے کو چاروں اطراف دیکھ رہی تھی اس کا دل بہت شدت سے دھڑک رہا تھا نجانے کتنے آنسو اس کی آنکھوں میں سے بہہ رہے تھے۔۔۔۔
آج اس نے پہلی دفعہ اپنے بارے میں ایسی باتیں سنی تھی جیسی وہ عورتیں اس کے بارے میں باتیں کیے جا رہی تھیں اپنے گھٹنوں پہ سر رکھے وہ بہت شدت سے رونے لگی جب کمرے کا دروازہ کھلا اور قیوم کمرے میں داخل ہوا۔۔ سردار چلتا ہوا اس کے پاس آیا خونخوار نگاہوں سے سامنے بیٹھی ہوئی اس لڑکی کی طرف دیکھنے لگا۔۔۔۔” صرف تمہارے ماں باپ کی عزت کو بچانے کے لیے میں نے تمہارے ساتھ شادی کی ہے ورنہ کبھی بھی کسی قیمت پر میں تم جیسی لڑکی کے ساتھ شادی نا کرتا بلکہ تم سے تو کیا میں کسی لڑکی کے ساتھ شادی نا کرتا مجھے عورت ذات سے نفرت ہے۔۔۔” وہ محمل کے جبڑے کو دبوچتا ہوا قہر آلودہ لہجے میں بولا۔۔۔۔
محمل فورا ہی اس سے دور ہو گئی آنکھوں میں سے نجانے کتنے آنسو بہنے لگے سب نے اس کا استقبال سرد مہری سے کیا تھا اب اس شخص کا رویہ بھی اتنا سرد ہوگا اس نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا وہ خود تو کمرے سے باہر چلا گیا محمل چینج کرنے کے بعد واپس کمرے میں آئی اور اپنی کتابیں نکالنے لگی اس کے بیگ میں کتابیں موجود تھیں کتابیں کھول کر بیٹھ گئی اسے نہیں معلوم تھا کہ اس کے چھوٹے بھائی کے ساتھ شادی کرنے کے بعد ہی اسے پڑھائی کی اجازت ملی ہے آگے تو وہ کبھی بھی نہیں پڑھ سکے گی اس شخص کے نکاح میں ہوتے ہوئے۔۔۔۔
دوبارہ سے جب قیوم کمرے میں داخل ہوا تو اس کے ہاتھ میں وہ کتابیں دیکھ کر اس کی پیشانی پہ بل نمودار ہوئے ” تم کتابیں کیوں پڑھ رہی ہو؟؟ ” وہ غصے میں بولا مگر وہ ڈر گئی کہنے لگی ” میں نے اسٹڈی کرنی ہے میرے ایک ہفتے بعد ایگزامز شروع ہونے والے ہیں۔۔۔۔” وہ گبھراتے ہوئے بولی ” کوئی سٹڈی وغیرہ نہیں کرنی آئی سمجھ تمہیں؟؟؟ ” یہ کہتا ہوا ایک دم سے اس کے بازو سے پکڑتا ہوا اسے اپنے قریب کر چکا تھا اب کی بار محمل کو اندازہ ہوا تھا اسے لگا تھا کہ شاید وہ بچ گئی ہے مگر وہ شخص تو اپنا حق لینے کے چکروں میں تھا۔۔۔
اس کی کمر پہ ہاتھ رکھتے ہوئے اسے بالکل اپنے قریب کر گیا تھا اس کے اوپر جھکتا ہوا اس کی گردن پر اپنے لب رکھنے لگا اسے اپنی گردن نم ہوتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی مگر وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی۔ یہ کیا ہو رہا ہے؟؟ وی اسے خود سے دور کرنے لگی ” پلیز ابھی مجھے اسٹڈی کرنی ہے مجھے بہت کچھ لائف میں کرنا ہے میں یہ سب کچھ نہیں چاہتی مجھے اماں نے یہی بولا تھا کہ آپ لوگ مجھے اسٹڈی کرنے دوگے تبھی میری شادی اس گھر میں ہو رہی تھی۔۔۔” وہ گھبراتے ہوئے اسے بتائے جا رہی تھی اگلے ہی لمحے وہ مزید کچھ کہتی وہ اس کے لبوں کو قید کر چکا تھا۔۔۔۔
اس کے اوپر اپنی شدتیں لٹانے لگا مگر اس کی شدتوں میں محبت نہیں تھی نا کوئی جذبات تھے ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے وہ اپنی تمام تر نفرت اس پر لٹا رہا ہو محمل کو کیا معلوم تھا اس کی قسمت کی بربادی یہیں سے شروع ہونے والی ہے اپنی آنکھوں میں سے بہنے والے آنسو صاف کرنے لگی جو بہہ کر تکیے میں جذب ہونے لگے تھے وہ اپنا حق وصول کرنے کے بعد چلا گیا تھا وہ نڈھال سے بستر پہ پڑی ہوئی تھی۔۔۔۔
اسکی آنکھوں میں سے آنسو بہہ رہے تھے اس نے اس کے ساتھ کسی قسم کی نرمی والا برتاؤ نہیں کیا تھا اور محمل کو ایسا محسوس ہوا جیسے وہ ناپاک ہو گئی ہے آئینے کے سامنے کھڑی ہو کر رونے لگی۔۔۔ جلدی سے اپنے آنسو صاف کرنے لگی اتنے میں وہ شاور لے کے آچکا تھا “یوں آئینے کے سامنے اپنے آپ کو دیکھتے رہنے کا ارادہ ہے کیا؟؟؟ مجھے ناپاک عورتیں بہت بری لگتی ہیں جائو جاکے شاور لے کے آؤ۔۔۔۔” اس کی یہ بات سن کے وہ اثبات میں سر ہلاتی ہوئی واش روم کی طرف چلی گئی کافی وقت بعد شاور لے کے آئی اس کی آنکھیں بالکل لال ہو رہی تھی آنکھوں کے کٹورے بھی لال ہو رہے تھے وہ تو سو چکا تھا وہ ایک دفعہ پھر سے اپنی کتابیں اٹھاتے ہوئے پڑھنے لگی جس قدر اسے پڑھائی کا شوق تھا اس نے اپنی پڑھائی کے لیے ہی تو سب کچھ قربان کیا تھا۔۔۔۔۔

 

نیچے دیے گئے 4 ڈاؤنلوڈ لنکس میں سے 3 لنکس پر اشتہار آ سکتا ہے، جبکہ 1 لنک اصل ڈاؤن لوڈ لنک ہے۔

ہماری درخواست ہے کہ کسی بھی لنک کو بند کیے بغیر تھوڑا صبر سے استعمال کریں۔

آپ کی یہی چھوٹی سی سپورٹ ہمیں مزید ناول آپ تک پہنچانے میں مدد دیتی ہے

1st Link

Download link

2nd Link

Download Link

3rd Link

Download Link

4th Link

Download Link

Summary

Mahmal is a young girl who dreams of continuing her education and building a better future, but her life changes dramatically when a family crisis leads to her forced marriage with Sardar Qayum. A stern and feared man, Qayum carries a deep hatred toward women and initially treats Mahmal with coldness and resentment.

After entering the haveli, Mahmal finds herself surrounded by hostility, judgment, and restrictions. Even her education becomes a source of conflict as Qayum refuses to accept her desire to study. Despite the emotional and psychological hardships she faces, Mahmal continues to hold on to her books and her dreams.

The story explores forced marriage, family honor, class differences, emotional abuse, women’s education, and the struggle to preserve one’s identity in a restrictive environment, while gradually unfolding the reasons behind Qayum’s bitterness and Mahmal’s difficult journey.

Support Novelistan ❤️

Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.

EasyPaisa / JazzCash

0309 1256788

Account name: Safia Bano

Bank Transfer (UBL)

United Bank Limited

Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131

Name: Sadia Hassan

IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131

Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕

Share this Novel

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *