Teri Zulm Ki Dastan By Bilqees Haroon Novel20977

Forced Marriage | Domestic Abuse | Social Issues | Emotional Drama | Family Conflict | Betrayal | Toxic Relationship | Second Marriage | Halala-Based Plot | Psychological Trauma | Women Empowerment

Short Description

Teri Zulm Ki Dastan is an intense emotional story revolving around Naml, a woman trapped in a toxic marriage where she faces cruelty, false accusations, betrayal, and family pressure. Her journey is filled with pain, emotional struggles, and the fight to reclaim her dignity and freedom.

” حلالہ کرنے کے لیے ایک رات کا ازدواجی تعلق کافی ہوتا ہے مجھے طلاق دو۔۔۔۔” نمل کے گیلے بالوں سے اسکی شرٹ بھیگ کر اسکے جسم کے ساتھ چپک گئی تھی دانیال اپنی شرٹ اتار کر پھینکتا ایک بار پھر سے اسکے گیلے بالوں کو سونگھتا بیڈ پر دھکا دے گیا “ایک رات کی قربت کافی نہیں ہے چند راتیں تو تمہارے اس حسین وجود پر حق جتاوں گا شوہر ہوں تمہارا ” وہ اسے اپنے شکنجے میں دبوچ کر اسے بےبس کرچکا تھا ” یہ جو تمہارے وجود سے پانچ ماہ میں تمہارے شوہر کے دیئے نشان نہیں ختم ہوئے یہ ختم ہونے کے بعد طلاق دوں گا” نمل کی جان نکلی جا رہی تھی دانیال اس پر حاوی ہوچکا تھا۔۔۔۔۔۔

پورے کمرے میں اس لڑکی کے رونے کی اور چلانے کی آوازیں گونج رہی تھی۔۔۔” آج میں تمہیں زندہ نہیں چھوڑوں گا میں نے تمہیں منع کیا تھا کہ تمہارا وہ کزن اس گھر میں دوبارہ نا آئے اس کے باوجود وہ یہاں کیا لینے آیا تھا؟؟؟ ” حامد غصے میں چلاتے ہوئے اس پہ ہاتھ اٹھائے جا رہا تھا۔ ” حامد خدا کے لیے چھوڑو مجھے چھوڑو کیا کر رہے ہو تم؟؟ ” وہ خود کو حامد سے چھڑانے کی کوشش کر رہی تھی نمل کی چیخیں پورے گھر میں گونج رہی تھی اچانک سے نمل نے زور دار تماچہ حامد کے منہ پہ رسید کیا اور شاید یہ دو سالوں میں پہلی دفعہ تھا جب نمل نے اسکے منہ پر تھپڑ رسید کیا۔۔۔

کیونکہ آج اس کا ضبط جواب دے چکا تھا وہ مزید اپنے کردار پر الزام برداشت نہیں کر سکتی تھی۔۔۔ ” خبردار جو تم نے مزید میرے بارے میںکسی قسم کی کوئی بکواس کرنے کی کوشش کی۔۔۔ ” یہ دیکھ کر تو حامد کو مزید غصہ آنے لگا ” دو ٹکے کی جاہل عورت تمہاری ہمت کیسے ہوئی مجھ پہ ہاتھ اٹھانے کی؟؟ ” یہ کہتے ہوئے حامد نے اس کے جبڑے کو دبوچ کے زور دار تماچہ اس کے منہ پہ رسید کیا وہ فرش پہ جا گری تھی اب کی بار وہ اپنا بیلٹ نکالتا ہوا اسے بیلٹ کے ساتھ مارنے لگا تھا وہ نفی میں سر ہلانے لگی۔۔۔۔

اس کے پورے وجود یہ بیلٹ سے مارنے کے نشان بن چکے تھے۔ ” چھوڑو مجھے چھوڑو حامد خدا کے لیے مجھے تکلیف ہو رہی ہے۔۔۔” وہ روتے چلاتے ہوئے بولے جا رہی تھی کافی وقت بعد حامد نے اسے چھوڑا تو وہ حامد کو پیچھے دھکا دیتی ہوئی کہنے لگی۔ ” میں جانے لگی ہوں میں تمہارے بارے میں جا کے سب کو بتاؤں گی تم کس قدر درندے جاہل اور گھٹیا انسان ہو۔۔ ” وہ چلاتے ہوئے بولی۔ ” اچھا تم اب مجھے دھمکیاں دو گی؟؟؟ اتنی تمہاری اوقات ہو چکی ہے۔۔” یہ کہتے ہوئے حامد نے اسے پیچھے بیڈ کی طرف دھکا دیا اور اپنی شرٹ کے بٹن کھولنے لگا۔۔۔ آج پھر وہ اسے اپنی مردانگی دکھانے لگا تھا وہ چلاتے ہوئے نفی میں سر ہلانے لگی ” نہیں ایسا نہیں کرو گے تم چھوڑو مجھے خبر دار جو میرے پاس آنے کی کوشش کی تو میں اپنے ساتھ کچھ کر لوں گی۔۔۔” وہ چلاتے ہوئے بولی تھی مگر وہ اپنی شرٹ کو اتارتا ہوا دور پھینک چکا تھا

اب کی بار وہ اس کے اوپر جھکتا ہوا اپنے دانت اس کی گردن پہ گاڑھ چکا تھا اس کی چیخ بلند ہوئی تھی وہ چلانے لگی تھی اپنے پورے وجود پر اس کے دیے ہوئے زخم اور نشان محسوس کرنے لگی تھی۔۔۔۔اب کی بار اس کا ضبط جواب دے چکا تھا وہ بے ہوشی کی حالت میں چلی گئی پورا وجود اس کا کانپ رہا تھا جب اسے ہوش آیا تو اس نے خود کو حامد کی بانہوں کے حصار میں پایا تھا اس نے نگاہیں اٹھا کے حامد کی طرف دیکھا وہ بالکل اسے اپنی بانہوں کے حصار میں سمیٹے ہوئے سو رہا تھا وہ فورا سے اس سے دور جانے کی کوشش کرنے لگی۔ ” چھوڑو مجھے چھوڑو۔۔۔۔۔” وہ خود کو چھڑانے کی کوشش کر رہی تھی ابھی بھی اس کا پورا وجود تکلیف میں جکڑا ہوا تھا

وہ پوری تکلیف کو اپنے وجود میں محسوس کر رہی تھی۔۔۔ حامد دھیرے دھیرے اس کی پشت کو سہلانے لگا تھا وہ ہوش کی دنیا میں واپس آچکا تھا۔ ” میری جان کیا ہو گیا ہے رات کو تم نے پہلے میرے ساتھ جھگڑا کیا تھا تو اسوجہ سے میں نے تم پر اتنا ظلم کیا میں تم پر اتنا ظلم نہیں کرنا چاہتا تھا میں تمہیں اتنی تکلیف نہیں دینا چاہتا تھا۔۔۔۔” وہ دھیرے دھیرے اس کی پشت کو سہلاتے ہوئے اس کی گردن پہ اپنے لب رکھ چکا تھا شدت سے اس کی گردن کو چومنے لگا وہ اس کے سینے پہ ہاتھ رکھتے ہوئے اسے خود سے دور کرنے لگی۔۔۔۔

” چھوڑو مجھے اب کی بار میں تمہیں خود پہ ظلم نہیں کرنے دوں گی۔۔۔۔” وہ روتے ہوئے بولی تھی اس کی آنکھوں میں سے موٹے موٹے آنسو بہنے لگے وہ ہر بار یہی بات کہتی تھی کہ میں خود پے ظلم نہیں کرنے دوں گی مگر ہر بار اس درندے کے سامنے ہار جاتی تھی اسے کچھ نہیں کہہ پاتی تھی دن گزرتے جا رہے تھے حامد اس کے ماں باپ کی پسند کا لڑکا تھا جس کے ساتھ اس کے ماں باپ نے اس کی شادی کروائی تھی وہ تو ہمیشہ سے حامد کو ناپسند کرتی تھی وہ تو ہمیشہ سے حامد کے ساتھ شادی سے چڑتی تھی۔۔۔وہ کچن میں کھڑی کھانا بنا رہی تھی جب حامد غصے میں گھر میں داخل ہوا۔۔۔ چلاتا ہوا نمل کو پکار رہا تھا نمل گھبراتے ہوئے کچن سے باہر آئی۔۔” کیا ہوا ہے آپ اتنے زیادہ چلا کیوں رہے ہیں؟؟؟ ” ہمیشہ کی طرح وہی نرم سا لہجہ وہی اس کی آواز میں کپکپاہٹ واضح تھی وہ چلتا ہوا اس کے پاس آیا تماچہ نمل کے منہ پر رسید کیا نمل فرشپر جاگری تھی اس کا سر نیچے فرش پہ لگا تھا اس کےبالوں سے پکڑتا ہوا اسے اوپر اٹھا چکا تھا۔۔۔

” تم مجھے دھوکہ دے رہی ہو نا؟؟؟ تم جان بوجھ کے وہ والی میڈیسن کھاتی ہو جس سے تم کبھی ماں نا بن سکو اس وجہ سے تم ابھی تک مجھے خوشخبری نہیں دے سگی۔۔۔۔”وہ غصے میں چلاتے ہوئے بولے جا رہا تھا۔۔۔ وہ بھبراتے ہوئے حامد کی طرف دیکھ کر نفی میں سر ہلانے لگی۔ ” آپ کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہے ایسا کچھ بھی نہیں ہے آپ غلط سمجھ رہے ہیں۔۔۔” وہ روتے سسکتے ہوئے بولے جا رہی تھی مگر ایک دفعہ پھر سے اس کے منہ پہ تماچہ رسید کرتا ہوا کہنے لگا۔۔۔” تم جیسی گھٹیا غلیظ عورت کو بہت زیادہ میں نے برداشت کر لیا ہے اب مزید میں تمہیں اپنی زندگی میں برداشت نہیں کر سکتا یہ کہتے ہوئے وہ اسے طلاق دینے لگا تھا وہ نفی میں سر ہلانے لگی نہیں آپ مجھے طلاق نہیں دے سکتے مگر وہ غصے میں اسے طلاق دیکر گھر سے جا چکا تھا۔۔۔۔۔

 

نیچے دیے گئے 4 ڈاؤنلوڈ لنکس میں سے 3 لنکس پر اشتہار آ سکتا ہے، جبکہ 1 لنک اصل ڈاؤن لوڈ لنک ہے۔

ہماری درخواست ہے کہ کسی بھی لنک کو بند کیے بغیر تھوڑا صبر سے استعمال کریں۔

آپ کی یہی چھوٹی سی سپورٹ ہمیں مزید ناول آپ تک پہنچانے میں مدد دیتی ہے

1st Link

Download link

2nd Link

Download Link

3rd Link

Download Link

4th Link

Download Link

Summary

Teri Zulm Ki Dastan is an emotional social-drama novel centered around Naml, whose married life becomes a painful struggle because of her husband’s controlling behavior, anger, accusations, and cruelty.

Naml is repeatedly forced to endure situations that challenge her dignity and emotional strength. As misunderstandings, betrayal, family pressure, and a toxic relationship continue to affect her life, she eventually reaches a point where she can no longer remain silent.

The story explores domestic abuse, toxic relationships, social pressure, betrayal, family conflicts, and women’s struggle for respect and independence. Through Naml’s emotional journey, the novel portrays how a woman can find the courage to stand up for herself despite the circumstances surrounding her.

Support Novelistan ❤️

Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.

EasyPaisa / JazzCash

0309 1256788

Account name: Safia Bano

Bank Transfer (UBL)

United Bank Limited

Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131

Name: Sadia Hassan

IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131

Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕

Share this Novel

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *