Mere Khwab Novel By Maryam Mah Munir Novel20852

Childhood Nikah | Forced Marriage | Emotional Romance | Family Drama | Marriage Issues | Long Distance Relationship | Slow Burn Romance | Social Romantic Urdu Novel | Complete Novel

Mere Khwab Novel By Maryam Mah Munir

Mere Khwab Novel By Maryam Mah Munir

پلیز، میں اس بچپن کے نکاح کو نہیں مانتا۔”
“لیکن تمہارا نکاح۔۔”
“فور گاڈ سیک ڈیڈ! اب فضول کا لیکچر مت دیجیے گا۔ اور اگر آپ سمجھتے ہیں کہ میری جان طلاق کے تین الفاظ سے چھوٹ سکتی ہے تو اٹس اوکے، میں اگلے ہی ہفتے بنوا کر بھیج دوں گا، آپ کو بائی میل مل جائیں گے۔ ڈیورس پیپرز۔”
“بکواس بند کرو مجید! میری یہ تربیت۔۔”
“پلیز ڈیڈ! جب آپ نے نکاح کیا تھا تو پوچھا تھا؟ آپ کس دنیا میں رہ رہے ہیں۔ لائف از ناٹ اے جوک (Life is not a joke) کہ ماں باپ نے جس کے لیے چاہا باندھ دیا۔ جس کو جانتے بھی نہیں، بچپن میں دیکھا، ہاں جھلک یاد ہے لیکن کیا زندگی ایسی گزاری جا سکتی ہے؟” ثنا اللہ صاحب بیٹے کی بات پر خاموش سے ہو گئے۔
“دیکھیں ڈیڈ! میں ابھی لائف انجوائے کرنا چاہتا ہوں لیکن پلیز اس اسٹوپڈ قسم کے رشتے سے میری جان چھڑائیں۔” مجید کے لہجے میں ناگواری تھی۔
“تم صنوبر کو ایک مرتبہ دیکھ لو۔ تم کہو تو اس سے بات کر لو۔ بہت اچھی ہے۔ تمہاری زندگی کی اچھی ساتھی ثابت ہوگی، مجھے پورا یقین ہے۔” ثنا اللہ صاحب نے اپنے طور پر اس کو سمجھانے کی کوشش کی۔
“پلیز ڈیڈ! کہا نا کہ میں ان فضول کی باتوں میں ابھی الجھنا نہیں چاہتا۔ ابھی لائف انجوائے کرنا چاہتا ہوں۔ اور ویسے بھی فون پر بات کرنے سے کیا ہوگا؟” مجید دو ٹوک انداز میں بولا۔
“تم پاکستان آؤ، مل لو اس سے۔”
“فی الحال تو میرا سمسٹر ہے۔ میں نہیں آ سکتا اور ویسے بھی جب مجھے یہ رشتہ ہی منظور نہیں تو پھر پاکستان آنے اور بات کرنے کی کوئی تک نہیں بنتی۔” مجید کا انداز ہنوز وہی تھا۔
“تم بدل گئے ہو۔” ثنا اللہ صاحب کہے بنا نہ رہ سکے۔
“لیو اٹ ڈیڈ! آپ یہ بتائیے کہ میں ڈیورس پیپرز کب بھیجوں؟”
“ایک بات کہوں مانو گے؟”
“ہوں۔”
“اب یہ نہ کہیے گا کہ اس لڑکی کو یو کے بھیج دیتا ہوں۔”
“نہیں۔ یہ بات نہیں۔ میں تمہیں فورس بھی نہیں کروں گا۔ اب تو تمہارے آگے درخواست ہی کر سکتا ہوں، اگر بوڑھے باپ کے لیے اتنا کر سکو۔” اتنا کہہ کر خاموش ہو گئے تھے۔
“بولیے، سوچ کر بتاؤں گا۔”
“تم صنوبر کو طلاق نہیں دو گے۔”
“یعنی کہ اس کا دم چھلا میری جان کے ساتھ لگا رہے گا؟” مجید کی آواز ایئر پیس پر ابھری تھی جو ثنا اللہ صاحب کے کانوں کے پردوں سے ٹکرائی۔
“وہ تمہیں تنگ نہیں کرے گی۔ اس کی گارنٹی میں تمہیں دیتا ہوں۔”
“تو پھر اس بات کا مقصد؟ آئی مین طلاق نہ دینے کا جواز؟”
“میں نے اس کے مرتے باپ کو یقین دلایا تھا اس کی جانب سے بے فکر ہونے کا۔ اور ویسے بھی یہ منحوس لفظ آج تک ہمارے خاندان میں کبھی استعمال نہیں ہوا۔ اگر بوڑھے باپ کی یہ درخواست مان سکو تو مجھے اور تم سے کچھ نہیں چاہیے۔”
“اور اس کی گارنٹی کون دے گا کہ اس ایشو کو پھر لائف میں نہیں اٹھایا جائے گا؟” اب وہ پوچھ رہا تھا۔
“میں دیتا ہوں اس بات کی گارنٹی کہ نہ وہ تمہیں کبھی تنگ کرے گی اور نہ ہی اس بات کو دوبارہ تمہارے سامنے دہرایا جائے گا، لیکن تم اسے ڈیورس دینے کی بات نہیں کرو گے۔”
“اس وقت تک جب تک کہ آپ اپنی بات پر قائم ہیں۔

نیچے دیے گئے 4 ڈاؤنلوڈ لنکس میں سے 3 لنکس پر اشتہار آ سکتا ہے، جبکہ 1 لنک اصل ڈاؤن لوڈ لنک ہے۔

ہماری درخواست ہے کہ کسی بھی لنک کو بند کیے بغیر تھوڑا صبر سے استعمال کریں۔

آپ کی یہی چھوٹی سی سپورٹ ہمیں مزید ناول آپ تک پہنچانے میں مدد دیتی ہے

1st Link

Download link

2nd Link

Download Link

3rd Link

Download Link

4th Link

Download Link

#MereKhwab #MaryamMahMunir #UrduNovel #CompleteNovel #ChildhoodNikah #ForcedMarriage #EmotionalRomance #FamilyDrama #SlowBurnRomance #PakistaniNovels

#MereKhwab #MaryamMahMunir #UrduNovel #CompleteNovel #ChildhoodNikah #ForcedMarriage #EmotionalRomance #FamilyDrama #SlowBurnRomance #PakistaniNovels

 

Support Novelistan ❤️

Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.

EasyPaisa / JazzCash

0309 1256788

Account name: Safia Bano

Bank Transfer (UBL)

United Bank Limited

Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131

Name: Sadia Hassan

IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131

Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *