Tag Archives: Slow Burn Romance
Aroos e Atish By Sadz Hassan Novel20880
وہ اپنی بہن کی جگہ دلہن بنی تھی... مگر اسے خبر نہ تھی کہ جس مرد سے اس کا نکاح ہوا ہے، وہ اس کی قسمت ہی بدل دے گا۔
ایک مجبور لڑکی، ایک پراسرار شوہر، ایک ایسا راز جو پہلی رات ہی سب کچھ بدلنے والا تھا۔ نیسا کو لگا تھا کہ وہ ایک غریب آدمی کے گھر آئی ہے، لیکن ہر گزرتے لمحے کے ساتھ اسے احساس ہونے لگا کہ اس شادی کے پیچھے صرف غربت نہیں... ایک خطرناک سچ بھی چھپا ہے۔ جب حقیقت سامنے آئے گی تو کیا محبت جیتے گی... یا ہر رشتہ آگ میں جل جائے گا؟
Gulab Rastay Badal Liye Hain Novel By Rahat Jabeen Novel20905
شادی سے صرف ایک رات پہلے ارمغان خاموشی سے حنا کے کمرے میں آتا ہے اور نہایت سنجیدہ لہجے میں کہتا ہے کہ اگر وہ اپنی زندگی بچانا چاہتی ہے تو ابھی اسی وقت اس شادی سے انکار کر دے، کیونکہ وہ اسے کبھی خوش نہیں رکھ سکے گا۔ مگر حنا بتاتی ہے کہ وہ پہلے ہی انکار کر چکی تھی، لیکن بزرگوں نے اس کی ایک نہ سنی۔ اب دونوں ایک ایسے رشتے کی دہلیز پر کھڑے ہیں جہاں خواہش کسی کی نہیں، فیصلہ کسی اور کا ہے۔
Dewar Ke Us Paar Novel by Shazia Chaudhry Novel20866
رائنہ کی زندگی والد کی وفات کے بعد یکسر بدل گئی۔ گھر بیچنے کے بعد وہ اپنی والدہ کے ساتھ ایک چھوٹے سے فلیٹ میں منتقل ہو گئی اور تمام ذمہ داریاں نبھانے کے لیے ملازمت اختیار کر لی۔ مگر اس کا سخت مزاج اور مغرور باس ہر دن کو ایک نئی آزمائش بنا دیتا تھا۔
اسی دوران اس کی ملاقات اپنے ہمسائے اسفند یار سے نہایت عجیب انداز میں ہوئی، جب ایک معمولی سی شرارت کے باعث وہ اس کی موٹر سائیکل سمیت زمین پر جا گرا۔ شرمندہ رائنہ کو اسفند یار نے صرف اتنا کہا، "زیادہ تیس مار خان بننے سے پہلے اپنے اطراف سے ہوشیار رہنا سیکھیں۔"
رائنہ نہیں جانتی تھی کہ یہی اجنبی نہ صرف اس کا ہمسایہ بلکہ اسی کے دفتر میں بھی کام کرتا ہے۔ بار بار ہونے والی ملاقاتیں جلد ہی ان کی زندگی میں محبت، تکرار اور ان کہے جذبات کی نئی کہانی رقم کرنے لگیں۔
Mere Khwab Novel By Maryam Mah Munir Novel20852
بچپن میں ہوا ایک نکاح، جسے صنوبر نے ہمیشہ اپنا مقدر سمجھا، مگر مجید نے صرف ایک بوجھ۔ برسوں بعد جب والد نے اسے اس رشتے کی یاد دلائی تو اس نے بے رحمی سے طلاق کے کاغذات بھیجنے کی بات کر دی۔ مگر ایک بوڑھے باپ کی صرف ایک خواہش تھی... "طلاق مت دینا۔" صنوبر کو اس فیصلے کا علم بھی نہ تھا، لیکن اس کی پوری زندگی ایک ایسے وعدے کے سہارے کھڑی تھی جسے نبھانے یا توڑنے کا اختیار صرف ایک شخص کے ہاتھ میں تھا۔