Tag Archives: Family Drama Novel
Mere Khwab Novel By Maryam Mah Munir Novel20852
بچپن میں ہوا ایک نکاح، جسے صنوبر نے ہمیشہ اپنا مقدر سمجھا، مگر مجید نے صرف ایک بوجھ۔ برسوں بعد جب والد نے اسے اس رشتے کی یاد دلائی تو اس نے بے رحمی سے طلاق کے کاغذات بھیجنے کی بات کر دی۔ مگر ایک بوڑھے باپ کی صرف ایک خواہش تھی... "طلاق مت دینا۔" صنوبر کو اس فیصلے کا علم بھی نہ تھا، لیکن اس کی پوری زندگی ایک ایسے وعدے کے سہارے کھڑی تھی جسے نبھانے یا توڑنے کا اختیار صرف ایک شخص کے ہاتھ میں تھا۔
Meri Manzil Banay Tera Rasta Novel By Nahid Chaudhary novel20851
سب کے سامنے ہونے والی وہ چند تلخ باتیں البینہ کی پوری دنیا بدلنے کے لیے کافی تھیں۔ شہزیب نے غصے میں اسے "دوسروں کے ٹکڑوں پر پلنے والی حقیر لڑکی" کہا تو یہ الفاظ اس کے دل پر ہمیشہ کے لیے نقش ہو گئے۔ زخمی دل کے ساتھ جب وہ نانو کے پاس پہنچی تو اسے اپنی زندگی کا سب سے بڑا سچ معلوم ہوا۔ وہ جن لوگوں کو اپنا سب کچھ سمجھتی تھی، ان سے اس کا کوئی خونی رشتہ نہیں تھا۔ ایک ہی دن میں اس کی محبتیں، اس کی پہچان اور اس کی پوری دنیا سوال بن کر اس کے سامنے کھڑی ہو گئی، اور اب اسے صرف ایک جواب چاہیے تھا... آخر وہ حقیقت میں ہے کون؟
Na Juno Raha Na Pari Rahi Novel By Rukhsana Nigar Adnan Novel20850
جب خولہ کو اپنے شوہر کی دوسری شادی کا علم ہوا تو اس کی پوری دنیا ایک لمحے میں اجڑ گئی۔ مگر اصل قیامت اس وقت ٹوٹی جب اسفندیار نے نہ صرف اسے طلاق کی دھمکی دی بلکہ اس کے دونوں معصوم بیٹوں کو بھی اس سے چھین لینے کا اعلان کر دیا۔ ایک بے بس ماں اپنے بچوں کو سینے سے لگائے چیختی رہی، مگر اس کے شوہر کے دل میں ذرا سی نرمی نہ آئی۔ گھر کی دہلیز پر ماں کی ممتا، شوہر کی بے وفائی اور ایک عورت کی عزت ایک ساتھ روندی جا رہی تھی، جبکہ بارش میں بھیگتا صحن اس دردناک منظر کا خاموش گواہ بنا کھڑا تھا۔
Esaret-i Ask Novel20848
شادی کی پہلی رات ہی ماہ زیب کو معلوم ہو گیا کہ اس کا شوہر کرار جعفر اس رشتے کو کبھی دل سے قبول نہیں کرے گا۔ اس نے بے رحمی سے اعلان کیا کہ وہ کسی اور سے محبت کرتا ہے اور جلد دوسری شادی کرے گا۔ پھر اس نے ماہ زیب کو بستر سے نیچے اترنے کا حکم دیا اور اس کی خاموشی پر اسے زبردستی گھسیٹ کر فرش پر پھینک دیا۔ اس رات ماہ زیب نے اپنے تمام خواب ٹوٹتے دیکھے، اپنے رب کے حضور سجدے میں آنسو بہائے اور صبر کی دعا مانگتی رہی، مگر آنے والے دن اس کے لیے اس سے بھی زیادہ کٹھن ثابت ہوئے۔
Hum Haar Gaye By Fozia Akbar Sana Novel20845
شادی کی پہلی رات درِ نجف نے سوچا تھا کہ شاید اب اس کی مشکلات ختم ہو جائیں گی، مگر شہیم احمد نے اسے زندگی کا سب سے بڑا صدمہ دیا۔ اس نے صاف لفظوں میں کہہ دیا کہ یہ شادی صرف اس کی جان بچانے کے لیے کی گئی ہے، وہ اسے کبھی دل سے قبول نہیں کرے گا اور جیسے ہی حالات معمول پر آئیں گے وہ اس سے علیحدہ ہو جائے گا۔ درِ نجف خاموشی سے اس کی ہر تلخ بات سنتی رہی، مگر جب شہیم نے نفرت کی انتہا کرتے ہوئے اس کے چہرے پر جوتوں کی سیاہ پالش مل دی تو اس کی عزتِ نفس بری طرح مجروح ہو گئی۔ وہ پہلی بار ٹوٹنے کے بجائے اس کے سامنے کھڑی ہوئی اور احتجاج کیا، مگر جواب میں اسے بے رحمانہ تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔ یہی لمحہ اس کہانی کا سب سے دردناک موڑ بن جاتا ہے، جہاں ایک بے گناہ لڑکی کی آزمائش اور ایک سخت دل مرد کی نفرت اپنے عروج پر پہنچ جاتی ہے۔