Na Juno Raha Na Pari Rahi Complete Urdu Novel by Rukhsana Nigar Adnan
898.0kViews
#226Ranking
NOVELISTAN · URDU NOVELS

Na Juno Raha Na Pari Rahi Novel By Rukhsana Nigar Adnan Novel20850

Rate this novel

جب خولہ کو اپنے شوہر کی دوسری شادی کا علم ہوا تو اس کی پوری دنیا ایک لمحے میں اجڑ گئی۔ مگر اصل قیامت اس وقت ٹوٹی جب اسفندیار نے نہ صرف اسے طلاق کی دھمکی دی بلکہ اس کے دونوں معصوم بیٹوں کو بھی اس سے چھین لینے کا اعلان کر دیا۔ ایک بے بس ماں اپنے بچوں کو سینے سے لگائے چیختی رہی، مگر اس کے شوہر کے دل میں ذرا سی نرمی نہ آئی۔ گھر کی دہلیز پر ماں کی ممتا، شوہر کی بے وفائی اور ایک عورت کی عزت ایک ساتھ روندی جا رہی تھی، جبکہ بارش میں بھیگتا صحن اس دردناک منظر کا خاموش گواہ بنا کھڑا تھا۔

Na Juno Raha Na Pari Rahi Novel By Rukhsana Nigar Adnan Novel20850

Second Marriage | Marriage Crisis | Emotional Romance | Family Drama | Betrayal | Divorce Drama | Motherhood | Husband Wife Relationship | Social Romantic Urdu Novel | Complete Novel

Na Juno Raha Na Pari Rahi Complete Urdu Novel by Rukhsana Nigar Adnan

Doosri shadi, bewafai, maa ki mamta aur dil ko rula dene wali emotional Urdu novel.

کیا یہ سچ ہے۔ آپ نے دوسری شادی کر لی ہے ۔۔۔ مارے صدمے کے میرے منہ سے لفظ نہیں نکل رہے تھے، امید کی آخری روشنی بھی بجھ گئی تھی۔ “ہاں سچ ہے، تو پھر؟” وہ کرسی پر بیٹھ گیا، میں ششدر کھڑی رہ گئی، میرے آنسو بھی رک گئے۔ اس نے ریسٹ واچ اتار کر ڈریسنگ ٹیبل پر رکھی اور اٹھ کر الماری سے اپنے کپڑے نکالنے لگا ۔ “تو پھر یہ کہ یا تو میں تمہاری زندگی میں رہوں گی یا وہ طوائف۔” میں نے ذرا سنبھل کر ٹھوس لہجے میں کہا تو کپڑے نکالتے اس کے ہاتھ رک گئے، اس نے پلٹ کر مجھے دیکھا اور پھر الماری کا پٹ بند کرتے ہوئے میری طرف بڑھا۔ “اگر تم یہی چاہتی ہو تو یہی سہی ورنہ میں تو ایسا نہیں چاہتا تھا۔” وہ میرے قریب آکر سرد لہجے میں بولا تو مجھے اپنا خون ہڈیوں میں جمتا ہوا محسوس ہونے لگا۔ “تم ہی بتاؤ تین بول بولوں یا پیپرز بھیجوا دوں؟” اس کا لہجہ حد درجے سفاکانہ تھا اور اس کے بعد کھڑے رہنا میرے لیے مرنے کے برابر تھا۔ میں آگے بڑھی اور سوئے ہوئے اسامہ کو اٹھا کر کندھے سے لگا لیا اور دوسرے ہاتھ سے معاذ کو اٹھانے لگی۔ “ان کو کیوں اٹھا رہی ہو، یہ کہیں نہیں جائیں گے، البتہ تم جانا چاہو تو ابھی چلی جاؤ ورنہ یہاں رات گزار سکتی ہو۔” اس نے آگے بڑھ کر اسامہ کو میری گود سے کھینچنا چاہا، سویا ہوا بچہ کسمسانے لگا۔ “یہ دونوں میرے ساتھ جائیں گے، ماں ہوں میں ان کی، ان کو میرے ساتھ جانے سے کوئی نہیں روک سکتا۔” میں نے اس کے ہاتھ کو جھٹکا دے کر پرے کیا، “معاذ، معاذ بیٹا اٹھو چلو یہاں سے۔” میں نے بے خبر سوئے ہوئے معاذ کو اٹھانا چاہا۔ “میں کہتا ہوں اتارو اس کو گود سے ورنہ ابھی تمہیں اٹھا کر گیٹ سے باہر کر دوں گا۔” اس نے جھپٹ کر اسامہ کو میری گود سے چھین لیا۔ “یہ میرے بچے ہیں، تم ان کو مجھ سے نہیں چھین سکتے، چھوڑو انہیں، چھوڑو انہیں!” میں چیخنے لگی، معاذ ڈر کر اٹھ بیٹھا، اسامہ بھی اس کے کندھے سے لگا حیران آنکھوں سے دیکھنے لگا۔ “تم ان کو ہاتھ نہیں لگا سکتیں، تمہاری اوقات ہے کیا؟ ابھی اس گھر سے نکلو تو رونے جوگی نہ رہو گی، یہ میرے بچے ہیں، اسفندیار کے بچے، سنا تم نے؟ تم انہیں کیا دے سکتی ہو، پہلے جا کر اپنا تو کہیں ٹھکانا کر لو، پھر ان کے بارے میں سوچنا۔” اس کا لہجہ حقارت بھرا تھا۔ “اور تم، تم خود کیا ہو؟ طوائفوں کے پیچھے بھاگنے والے گھٹیا انسان۔” اس نے آگے بڑھ کر ایک طمانچہ میرے منہ پر کھینچ کر مارا، میں تیورا کر دیوار سے جا لگی، میرا سر چکرا اٹھا۔ “میں اپنے بچوں پر تمہاری اس گندی زندگی کا سایہ نہیں پڑنے دوں گی، چھوڑ دو ان کو۔” میں زور سے چیخی۔ “دفع ہو جاؤ تم یہاں سے، اب میں تمہیں ایک پل یہاں برداشت نہیں کروں گا، نکل جاؤ یہاں سے۔” اس نے اسامہ کو بیڈ پر پٹخا اور مجھے بازو سے پکڑ کر باہر گھسیٹنے لگا۔ اسامہ زور زور سے رونے لگا، معاذ بھی بیڈ سے اتر کر میرے پیچھے لپکا۔ “ماما، ماما! بابا، ماما کو چھوڑ دیں۔” وہ چیختا ہوا ہمارے پیچھے آ رہا تھا اور وہ میرا بازو زور سے پکڑے مجھے باہر گھسیٹ لایا۔ شور سن کر اسی وقت اماں جی اور نیہاں آگئیں، “کیا ہو گیا، کیا ہوا ہے اسفند؟ کیا کر رہے ہو؟” اماں جی نے گھبرا کر اس سے میرا بازو چھڑانا چاہا۔ “اماں جی! آپ پیچھے ہٹ جائیں، یہ ہمارا آپس کا معاملہ ہے، میں اس کو یہاں ایک منٹ بھی برداشت نہیں کر سکتا۔ یہ گھٹیا عورت میرے آگے زبان چلاتی ہے، ابھی نکال باہر کروں گا تو اپنی اوقات میں آ جائے گی۔” اس نے مجھے زور سے دھکا دیا۔ میں برآمدے کی سیڑھیوں کے پاس جا گری، باہر بارش تواتر سے ہو رہی تھی۔ “اسفندیار! کیا بک رہے ہو، تمہارا دماغ تو خراب نہیں ہو گیا؟” اماں جی غصے سے بولیں، نیہاں میری طرف بڑھی اور مجھے ہاتھ پکڑ کر اٹھانے لگی۔ “میں اب اس کو یہاں نہیں رکھوں گا، اس کو طلاق دیتا ہوں میں، اس کو۔۔۔” اماں جی نے کھینچ کر ایک تھپڑ اس کے منہ پر مارا۔ “یہی تربیت دی ہے میں نے تمہیں؟ اتنی کمزور اور بودی؟ اس وقت شیطان تمہارے سر پر سوار ہے، جاؤ اپنے کمرے میں۔” انہوں نے اسے اندر کی طرف دھکیلا، “خولہ! تم آؤ میرے ساتھ، مجھے بتاؤ کیا معاملہ ہے۔” انہوں نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا، میں جو اپنی سسکیاں دبائے کھڑی تھی، ان کے قریب آتے ہی چیخ چیخ کر رونے لگی۔ “مکار عورت، کیسے چیختی ہے! اماں جی آپ پیچھے ہٹ جائیں، میں ابھی اس کا دماغ درست کرتا ہوں۔” اس وقت وہ کسی لوئر مڈل کلاس کا، تہذیب اور شرافت سے عاری ایک جاہل ان پڑھ مرد لگ رہا تھا۔

Download Novel PDF

Download Link 1 — MediaFire

Na Juno Raha Na Pari Rahi Novel, Na Juno Raha Na Pari Rahi Complete Novel, Rukhsana Nigar Adnan Novels, Second Marriage Novel, Emotional Romance Urdu Novel, Divorce Novel, Betrayal Novel, Family Drama Novel, Motherhood Novel, Complete Urdu Novel

#NaJunoRahaNaPariRahi #RukhsanaNigarAdnan #UrduNovel #CompleteNovel #SecondMarriage #EmotionalRomance #FamilyDrama #Motherhood #DivorceStory #PakistaniNovels

 

Support Novelistan ❤️

Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.

EasyPaisa / JazzCash

0309 1256788

Account name: Safia Bano

Bank Transfer (UBL)

United Bank Limited

Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131

Name: Sadia Hassan

IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131

Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕

Frequently asked questions

What categories is this novel listed under?

This novel is listed under Betrayal and Complete Urdu Novel.

Where can I read Na Juno Raha Na Pari Rahi Novel By Rukhsana Nigar Adnan Novel20850?

The reading content is available in the Read online section of this page.

Share this Novel

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *