Tag Archives: Emotional Romance Urdu Novel
Farjam e Shireen Novel21030 — Novelistan
دو سال تک جس شخص کے ساتھ عرشیہ نے اپنی زندگی کے خوبصورت خواب دیکھے تھے، اسی نے ایک لمحے میں اسے ٹھکرا کر اس کی محبت اور عزتِ نفس کو زخمی کر دیا تھا۔ مگر اس کی زندگی کا سب سے بڑا امتحان ابھی باقی تھا۔ جس زاویار سکندر کو وہ اپنی خوشیوں کا دشمن سمجھتی تھی، وہی شخص اب اس کا شریکِ حیات بننے کا خواہش مند تھا۔ عرشیہ کے نزدیک یہ رشتہ اس کی توہین تھا، جبکہ زاویار کے لیے اسے اپنی زندگی میں شامل کرنا ایک اٹل فیصلہ بنتا جا رہا تھا۔ جب عرشیہ ہر دباؤ سے تنگ آ کر آدھی رات کو گھر چھوڑ نکلی تو اسے اندازہ بھی نہیں تھا کہ جس شخص سے وہ بھاگ رہی ہے، وہی اس کے راستے میں کھڑا ہوگا۔ مگر کیا ایک شخص کی ضد کسی دوسرے کے دل میں موجود نفرت کو بدل سکتی ہے؟
Fatoor e Chahat Novel21023
نکاح میں صرف پندرہ دن باقی تھے اور حیدر خان نے ہانیہ کے سامنے ایسی شرط رکھ دی تھی جسے سن کر وہ غصے سے بھڑک اٹھی۔ سب کے سامنے اس شخص سے عشق کا اعلان کرنا جسے وہ برداشت تک نہیں کرتی تھی، اس کے لیے ناممکن تھا۔ مگر قسمت کو شاید ان دونوں کی ضد سے کوئی سروکار نہیں تھا۔ ٹھیک پندرہ دن بعد نکاح بھی ہوگیا اور اچانک رخصتی نے دونوں کو ایک ہی رشتے میں آمنے سامنے لا کھڑا کیا۔ اب دلہن بنی ہانیہ آدھی رات تک حیدر کے کمرے میں بیٹھی اس شخص کا انتظار کر رہی تھی جسے وہ شادی سے پہلے ہی سکون سے نہ جینے کی دھمکی دے چکی تھی۔ مگر کیا یہ رشتہ واقعی صرف نفرت اور ضد تک محدود رہنے والا تھا؟
Nisbat e IShq Novel21018
تین سال سے زین کے نکاح میں ہونے کے باوجود زینب اس کے غصے سے اس قدر خوفزدہ تھی کہ اس کے کمرے میں قدم رکھنے کو بھی تیار نہ تھی۔ مگر مشال کے ایک چھوٹے سے جھوٹ نے اسے یہ یقین دلا دیا کہ زین شہر سے باہر ہے۔ وہ بےفکری سے اسی کے بستر پر سو گئی، اس حقیقت سے بالکل بےخبر کہ آدھی رات کو وہی شخص واپس لوٹنے والا ہے جس کے سامنے جانے سے بھی اس کی سانسیں الجھ جاتی تھیں۔ رات کی خاموشی میں جب زینب کو اچانک اپنے قریب کسی کی موجودگی اور گردن پر گرم سانسوں کا احساس ہوا تو اس کی آنکھیں خوف سے کھل گئیں۔ مگر سامنے کسی اجنبی کے بجائے زین تھا۔ آخر اس رات کے بعد تین سال سے فاصلے پر قائم یہ رشتہ کس سمت جانے والا تھا؟
Gulab Rastay Badal Liye Hain Novel By Rahat Jabeen Novel20905
شادی سے صرف ایک رات پہلے ارمغان خاموشی سے حنا کے کمرے میں آتا ہے اور نہایت سنجیدہ لہجے میں کہتا ہے کہ اگر وہ اپنی زندگی بچانا چاہتی ہے تو ابھی اسی وقت اس شادی سے انکار کر دے، کیونکہ وہ اسے کبھی خوش نہیں رکھ سکے گا۔ مگر حنا بتاتی ہے کہ وہ پہلے ہی انکار کر چکی تھی، لیکن بزرگوں نے اس کی ایک نہ سنی۔ اب دونوں ایک ایسے رشتے کی دہلیز پر کھڑے ہیں جہاں خواہش کسی کی نہیں، فیصلہ کسی اور کا ہے۔
Mere Khwab Novel By Maryam Mah Munir Novel20852
بچپن میں ہوا ایک نکاح، جسے صنوبر نے ہمیشہ اپنا مقدر سمجھا، مگر مجید نے صرف ایک بوجھ۔ برسوں بعد جب والد نے اسے اس رشتے کی یاد دلائی تو اس نے بے رحمی سے طلاق کے کاغذات بھیجنے کی بات کر دی۔ مگر ایک بوڑھے باپ کی صرف ایک خواہش تھی... "طلاق مت دینا۔" صنوبر کو اس فیصلے کا علم بھی نہ تھا، لیکن اس کی پوری زندگی ایک ایسے وعدے کے سہارے کھڑی تھی جسے نبھانے یا توڑنے کا اختیار صرف ایک شخص کے ہاتھ میں تھا۔
Meri Manzil Banay Tera Rasta Novel By Nahid Chaudhary novel20851
سب کے سامنے ہونے والی وہ چند تلخ باتیں البینہ کی پوری دنیا بدلنے کے لیے کافی تھیں۔ شہزیب نے غصے میں اسے "دوسروں کے ٹکڑوں پر پلنے والی حقیر لڑکی" کہا تو یہ الفاظ اس کے دل پر ہمیشہ کے لیے نقش ہو گئے۔ زخمی دل کے ساتھ جب وہ نانو کے پاس پہنچی تو اسے اپنی زندگی کا سب سے بڑا سچ معلوم ہوا۔ وہ جن لوگوں کو اپنا سب کچھ سمجھتی تھی، ان سے اس کا کوئی خونی رشتہ نہیں تھا۔ ایک ہی دن میں اس کی محبتیں، اس کی پہچان اور اس کی پوری دنیا سوال بن کر اس کے سامنے کھڑی ہو گئی، اور اب اسے صرف ایک جواب چاہیے تھا... آخر وہ حقیقت میں ہے کون؟
Na Juno Raha Na Pari Rahi Novel By Rukhsana Nigar Adnan Novel20850
جب خولہ کو اپنے شوہر کی دوسری شادی کا علم ہوا تو اس کی پوری دنیا ایک لمحے میں اجڑ گئی۔ مگر اصل قیامت اس وقت ٹوٹی جب اسفندیار نے نہ صرف اسے طلاق کی دھمکی دی بلکہ اس کے دونوں معصوم بیٹوں کو بھی اس سے چھین لینے کا اعلان کر دیا۔ ایک بے بس ماں اپنے بچوں کو سینے سے لگائے چیختی رہی، مگر اس کے شوہر کے دل میں ذرا سی نرمی نہ آئی۔ گھر کی دہلیز پر ماں کی ممتا، شوہر کی بے وفائی اور ایک عورت کی عزت ایک ساتھ روندی جا رہی تھی، جبکہ بارش میں بھیگتا صحن اس دردناک منظر کا خاموش گواہ بنا کھڑا تھا۔
Esaret-i Ask Novel20848
شادی کی پہلی رات ہی ماہ زیب کو معلوم ہو گیا کہ اس کا شوہر کرار جعفر اس رشتے کو کبھی دل سے قبول نہیں کرے گا۔ اس نے بے رحمی سے اعلان کیا کہ وہ کسی اور سے محبت کرتا ہے اور جلد دوسری شادی کرے گا۔ پھر اس نے ماہ زیب کو بستر سے نیچے اترنے کا حکم دیا اور اس کی خاموشی پر اسے زبردستی گھسیٹ کر فرش پر پھینک دیا۔ اس رات ماہ زیب نے اپنے تمام خواب ٹوٹتے دیکھے، اپنے رب کے حضور سجدے میں آنسو بہائے اور صبر کی دعا مانگتی رہی، مگر آنے والے دن اس کے لیے اس سے بھی زیادہ کٹھن ثابت ہوئے۔
Hum Haar Gaye By Fozia Akbar Sana Novel20845
شادی کی پہلی رات درِ نجف نے سوچا تھا کہ شاید اب اس کی مشکلات ختم ہو جائیں گی، مگر شہیم احمد نے اسے زندگی کا سب سے بڑا صدمہ دیا۔ اس نے صاف لفظوں میں کہہ دیا کہ یہ شادی صرف اس کی جان بچانے کے لیے کی گئی ہے، وہ اسے کبھی دل سے قبول نہیں کرے گا اور جیسے ہی حالات معمول پر آئیں گے وہ اس سے علیحدہ ہو جائے گا۔ درِ نجف خاموشی سے اس کی ہر تلخ بات سنتی رہی، مگر جب شہیم نے نفرت کی انتہا کرتے ہوئے اس کے چہرے پر جوتوں کی سیاہ پالش مل دی تو اس کی عزتِ نفس بری طرح مجروح ہو گئی۔ وہ پہلی بار ٹوٹنے کے بجائے اس کے سامنے کھڑی ہوئی اور احتجاج کیا، مگر جواب میں اسے بے رحمانہ تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔ یہی لمحہ اس کہانی کا سب سے دردناک موڑ بن جاتا ہے، جہاں ایک بے گناہ لڑکی کی آزمائش اور ایک سخت دل مرد کی نفرت اپنے عروج پر پہنچ جاتی ہے۔