Meri Manzil Banay Tera Rasta Complete Urdu Novel by Nahid Chaudhary
240.7kViews
#1503Ranking
NOVELISTAN · URDU NOVELS

Meri Manzil Banay Tera Rasta Novel By Nahid Chaudhary novel20851

Rate this novel

سب کے سامنے ہونے والی وہ چند تلخ باتیں البینہ کی پوری دنیا بدلنے کے لیے کافی تھیں۔ شہزیب نے غصے میں اسے "دوسروں کے ٹکڑوں پر پلنے والی حقیر لڑکی" کہا تو یہ الفاظ اس کے دل پر ہمیشہ کے لیے نقش ہو گئے۔ زخمی دل کے ساتھ جب وہ نانو کے پاس پہنچی تو اسے اپنی زندگی کا سب سے بڑا سچ معلوم ہوا۔ وہ جن لوگوں کو اپنا سب کچھ سمجھتی تھی، ان سے اس کا کوئی خونی رشتہ نہیں تھا۔ ایک ہی دن میں اس کی محبتیں، اس کی پہچان اور اس کی پوری دنیا سوال بن کر اس کے سامنے کھڑی ہو گئی، اور اب اسے صرف ایک جواب چاہیے تھا... آخر وہ حقیقت میں ہے کون؟

Meri Manzil Banay Tera Rasta Novel By Nahid Chaudhary novel20851

 Hidden Identity | Emotional Romance | Family Drama | Orphan Heroine | Secret Past | Social Romantic Novel | Heartbreaking Story | Emotional Journey | Complete Urdu Novel

Meri Manzil Banay Tera Rasta Complete Urdu Novel by Nahid Chaudhary

Ek dil ko chhoo lene wali kahani jahan ek sach poori zindagi badal deta hai.

“یہ آپ نے کیا کیا؟” وہ کوشش کے باوجود آواز میں سختی پیدا نہ کر سکی، نجانے احساسِ جرم تھا یا کوئی اور بات تھی۔
“یو لٹل فول! تم نے کیا سوچ کر میرے ساتھ کھیلنے کی کوشش کی؟” شہزیب کی آواز اتنی اونچی تھی کہ بہت سے لوگ ان کی طرف متوجہ ہو گئے۔ علی، دانی، زنیر اور سارہ پانی میں جاتے جاتے پلٹ آئے اور اب سب حیران نظروں سے البینہ کی طرف دیکھ کر سوچ رہے تھے کہ آخر اس سے کون سی خطا ہو گئی۔ البینہ کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کیسے سب کی نظروں سے غائب ہو جائے، خوبصورت چہرے پہ تارا سی آنکھیں خوف سے پھیل گئیں۔
“شہزیب! آپ کو کوئی حق نہیں۔۔۔”
“شٹ اپ! وہ گرجا۔ تم دوسروں کے ٹکڑوں پہ پلنے والی چھوٹی سی حقیر لڑکی! تمہیں یہ جرات کیسے ہوئی تھی؟” وہ بھی کتنا بیوقوف تھا، آواز پہ کبھی غور ہی نہ کیا، حالانکہ تقریباً ایک سی آواز ہوتی تھی، اس نے سر جھٹکا۔
“شیزی ہوش میں آؤ، پلیز کول ڈاؤن” فراز نے آگے بڑھ کر اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔ البینہ کا دماغ سائیں سائیں کر رہا تھا، نسیں یوں تن گئیں جیسے ابھی دماغ پھٹ جائے گا، اس نے ساکن ہوتی دھڑکنوں کو بمشکل سنبھالا۔ آنسوؤں کی دبیز دھند میں سب کے چہرے دھندلا گئے۔ وہ الٹے قدموں مڑی، ذرا سا لڑکھڑائی اور تیزی سے بھاگتی چلی گئی۔ فراز بھی تیزی سے اس کے پیچھے لپکا لیکن اتنی دیر میں وہ ایک ٹیکسی میں بیٹھ کر جا چکی تھی۔ وہ سست قدموں سے چلتا قریب آ گیا۔
“مجھے نہیں پتا تھا کہ تم اتنے چھوٹے دل کے ہو اور اتنی گھٹیا سوچ رکھتے ہو۔” اس نے حقارت سے شہزیب کی طرف دیکھا جو لہروں پہ نظریں جمائے لاپروا انداز میں کھڑا تھا۔ باقی سب حقیقت جاننے کی کوشش میں سوالیہ نظروں سے ایک دوسرے کی طرف دیکھ رہے تھے۔
البینہ نے ٹیکسی سے اتر کر ڈبڈباتی آنکھوں سے اپنے گھر کی طرف دیکھا، پھر کپکپاتے ہاتھوں سے پرس کھول کے پیسے ڈھونڈنے لگی۔ ذہن اتنا منتشر ہو رہا تھا کہ کچھ بھی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا، اس نے پچاس کا نوٹ ڈرائیور کی طرف بڑھا دیا۔
“میرے پاس کھلا نہیں ہے صاحب۔”
“نہیں نہیں، مجھے کھلا نہیں چاہیے، تم لے جاؤ، سب لے جاؤ۔” البینہ بڑبڑائی اور تقریباً بھاگتی ہوئی نانو کے گھر میں داخل ہو گئی۔ نجانے سب کہاں تھے، وہ سیدھی ان کے کمرے میں گھس گئی۔ نانو چشمہ لگائے تسبیح پڑھ رہی تھیں، وہ بے دم سی ہو کر ان کے پاس گر گئی۔
“البینہ کیا ہوا میری بچی؟” انہوں نے گھبرا کر اس کا سر گود میں رکھ لیا۔
“نانو! میں کون ہوں؟ کس کی بیٹی ہوں؟” البینہ نے سر اٹھا کر بھرائی آواز میں پوچھا۔
“یہ بھی کوئی پوچھنے کی بات ہے، ظاہر ہے تم زینت کی بیٹی ہو” نانو پیار سے اس کے بال سنوارتی ہوئی بولیں۔
“چھوڑیں نانو یہ بہلاوے، آپ بتائیں میرے ماں باپ کہاں ہیں؟ میں ان پر اتنا بوجھ بن گئی تھی کہ انہوں نے مجھے مما کے حوالے کر دیا؟ خدا کے لیے نانو، اب کچھ مت چھپائیں” البینہ ایک جھٹکے سے بیٹھ گئی۔
“کس نے کہا تم سے یہ سب؟” نانو پریشان ہو گئیں۔
“جس نے بھی کہا ہو، آپ یہ بتائیں کہ یہ سچ ہے یا جھوٹ؟” البینہ کا رواں رواں دعا گو ہو گیا کہ کاش نانو کہہ دیں یہ سب جھوٹ ہے، اس نے ملتجی نظروں سے ان کی طرف دیکھا۔
“نہیں البینہ، یہ جھوٹ نہیں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ تم ان پہ بوجھ تھیں، بلکہ زندگی تو ان کے لیے بوجھ بن گئی تھی، جب اس سے ہار گئے تو تمہیں فیاض نے لے لیا میری جان! یہ تقدیر کا فیصلہ ہے، زینت نے کبھی تمہیں محرومی کا احساس نہیں ہونے دیا” نانو نے محبت سے اسے بازوؤں میں لیا۔
“کاش نانو! آپ سب نے مجھے ان محبتوں کے جال میں نہ جکڑا ہوتا” اس نے نرمی سے خود کو نانو کے بازوؤں سے جدا کیا اور پھر لڑکھڑاتی ہوئی باہر نکل گئی۔
اوہ خدایا! اتنی توہین، اس وقت وہ مچل مچل کے رو رہی تھی، اندر اتنی گھٹن ہو رہی تھی کہ اسے یوں لگا جیسے ابھی دل دھڑکنا بند ہو جائے گا۔ شہزیب کے کہے ہوئے الفاظ ابھی تک اس کا تعاقب کر رہے تھے۔ “دوسروں کے ٹکڑوں پر پلنے والی حقیر لڑکی۔” کتنی حقیر تھی وہ، بھکاریوں کی طرح دوسروں پر بوجھ بنی رہی۔ کتنی تکلیف دہ بات تھی کہ یہ جو اتنے پیار سے رشتے اس کے گرد پھیلے ہوئے تھے، جن کے بغیر جینے کا وہ تصور بھی نہیں کر سکتی تھی، اس سے ان کا کوئی خونی رشتہ نہیں تھا، سب سراب ثابت ہوئے۔

Download Novel PDF

Download Link 1 — MediaFire

#MeriManzilBanayTeraRasta #NahidChaudhary #UrduNovel #CompleteNovel #EmotionalRomance #FamilyDrama #HiddenIdentity #SecretPast #HeartbreakingStory #PakistaniNovels

Meri Manzil Banay Tera Rasta Novel, Meri Manzil Banay Tera Rasta Complete Novel, Nahid Chaudhary Novels, Hidden Identity Novel, Emotional Romance Urdu Novel, Family Drama Novel, Secret Past Novel, Orphan Heroine Novel, Pakistani Urdu Novel, Complete Urdu Novel

 

Support Novelistan ❤️

Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.

EasyPaisa / JazzCash

0309 1256788

Account name: Safia Bano

Bank Transfer (UBL)

United Bank Limited

Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131

Name: Sadia Hassan

IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131

Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕

Frequently asked questions

What categories is this novel listed under?

This novel is listed under Complete Urdu Novel and Emotional Love Story.

Where can I read Meri Manzil Banay Tera Rasta Novel By Nahid Chaudhary novel20851?

The reading content is available in the Read online section of this page.

Share this Novel

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *