Esaret-i Ask Novel20848
Esaret-i Ask Novel20848
Watta Satta | Forced Marriage | Emotional Romance | Family Drama | Marriage Issues | Toxic Husband | Second Marriage | Divorce Based Novel | Social Romantic Urdu Novel | Complete Novel
Short Description
Esaret-i Aşk ek beinteha emotional Urdu novel hai jo Watta Satta, forced marriage, second marriage, toxic husband, family honour, sacrifice aur divorce ke dardnaak safar ko bohot gehrai se bayan karta hai.

Watta Satta, zabardasti ki shadi, nafrat, qurbani aur talaq ke dard se bhari dil ko chhoo lene wali kahani.
سالوں سے چلتی دشمنی اور ناراضگی کو ختم کرنے کے لیے دونوں خاندانوں میں صلح کے لیے آغا جان نے وٹہ سٹہ پر شادی کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اور یوں جعفر کرار جیسے سخت، ضدی اور بے لچک مرد کو نازک موم جیسی لڑکی ماہ زیب کے نکاح میں دے دیا گیا تھا، جبکہ کرار جعفر کی بہن سبینہ کو ماہ زیب کے بھائی حسن فاروق کے نکاح میں دے دیا گیا تھا۔ یہ فیصلہ خاندانوں کو جوڑنے کے لیے تھا، مگر کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ یہ رشتہ ایک معصوم جان کے لیے قربانی کی سولی بننے والا ہے۔ شادی کا دن آ تو گیا، مگر قصرِ گل کے در و دیوار پر خوشی کے بجائے ایک عجیب سا بھاری پن مسلط تھا۔ سرخ عروسی جوڑے اور ڈھیروں زیورات میں لپٹی ماہ زیب اپنے نئے کمرے میں بیٹھی کانپتے دل کے ساتھ اپنے مجازی خدا کی منتظر تھی۔ مگر شادی کی پہلی رات ہی، جوں ہی کرار جعفر نے کمرے میں قدم رکھا، تو اس کے چہرے کی سردی اور آنکھوں کی بیزاری نے کمرے کے درجہ حرارت کو منجمد کر دیا۔ وہ روایتی دلہا بن کر محبت کے دو بول بولنے نہیں آیا تھا، بلکہ اس کے ہاتھ میں اپنی انا اور سرکشی کا وہ کوڑا تھا جو اس نے پہلی ہی رات ماہ زیب پر برسا دیا۔ وہ شیروانی کے بٹن کھولتا ہوا انتہائی بیزاری سے بیڈ کے قریب آیا، جہاں ماہ زیب گھونگھٹ گرائے اپنے خوابوں کے بکھرنے کی آہٹ سن رہی تھی۔ کرار نے اس کے چہرے سے گھونگھٹ ہٹانے کی زحمت تک نہ کی، بلکہ اس کے سامنے کھڑے ہو کر انتہائی سرد اور کھردرے لہجے میں گویا ہوا: “اپنے دماغ سے یہ غلط فہمی بالکل نکال دینا کہ اس زبردستی کے رشتے کو میں دل سے قبول کروں گا۔ تم صرف میرے دادا کے فیصلے کا ایک مہرہ ہو، اس سے زیادہ تمہاری میری زندگی میں کوئی حیثیت نہیں۔ میں کسی اور کو پسند کرتا ہوں، خدیجہ نام ہے اس کا۔ اور میں بہت جلد اسے اس گھر میں لا کر اپنی مرضی کی دوسری شادی کروں گا۔” پہلی ہی رات سہاگ کے بستر پر دوسری شادی کی یہ سنگین دھمکی سن کر ماہ زیب جیسے گنگ ہو کر رہ گئی۔ اس کے پیروں تلے سے زمین نکل چکی تھی اور وہ شدید صدمے کی حالت میں ساکت بیڈ پر بیٹھی رہی۔ اس کے وجود کی یہ خاموشی اور ساکت پن کرار کے غصے کو مزید بھڑکا گیا۔ اس نے نفرت سے ماہ زیب کی طرف دیکھا اور انتہائی کرخت آواز میں حکم دیا: “بیڈ سے نیچے اترو! اس بیڈ پر سونے کا حق صرف خدیجہ کا ہے، تمہارا نہیں۔ چلو، نیچے اترو یہاں سے!” شدید صدمے اور حیرت کے باعث ماہ زیب کے حواس جواب دے چکے تھے، وہ ہلنے جلنے کے قابل بھی نہیں رہی تھی۔ اس کی بڑی بڑی آنکھیں آنسوؤں سے لبریز تھیں اور وہ نڈھال سی بس اسے دیکھتی رہ گئی۔ اس کا یوں ساکت بیٹھے رہنا کرار کے تکبر کو ناگوار گزرا۔ جب ماہ زیب بیڈ سے نہیں اتری، تو کرار نے تمام اخلاقی حدیں پار کر دیں۔ اس نے ایک وحشیانہ جھٹکے سے ماہ زیب کا نازک بازو پکڑا اور اسے بے دردی سے کھینچتے ہوئے بیڈ سے نیچے اتار دیا۔ وہ عروسی جوڑے کے بوجھل گھیرے اور صدمے کے باعث سنبھل نہ سکی اور فرش پر گرتے گرتے بچی۔ بازو پر کرار کی انگلیوں کے سخت دباؤ نے اس کے گوشت میں نیل ڈال دیے تھے، مگر اس جسمانی تکلیف سے ہزار گنا زیادہ تکلیف اس کی روح کو پہنچی تھی جس کا مان شادی کی پہلی ہی رات اس کے اپنے شوہر نے بے رحمی سے پامال کر دیا تھا۔ “آئندہ میری بات کو نظرانداز کرنے کی جرات مت کرنا!” کرار نے انگلی اٹھا کر اسے آخری بار وارن کیا اور خود بے حسی سے کمبل تان کر بستر کے دوسرے کونے میں منہ موڑ کر لیٹ گیا، جبکہ وہ دلہن اپنے ارمانوں اور خوابوں کی بربادی پر نوحہ کناں فرش پر ہی بیٹھی رہی۔ کتنی ہی دیر بے تاثر آنکھوں اور خالی دل کے ساتھ شیشے میں اپنا نڈھال عکس دیکھنے کے بعد اس نے جیسے کسی سحر کے اثر میں ایک ایک کر کے اپنے تمام بھاری زیورات اتارے اور زمین پر رکھ دیے۔ بے دھیانی میں الماری سے ایک سادہ سا جوڑا نکال کر وہ واش روم میں جا گھسی۔ کافی دیر بعد شاور لے کر باہر نکلنے پر اس نے جائے نماز بچھا کر نماز کی نیت باندھی، مگر سلام پھیرتے ہی خشک آنکھوں سے اشکوں کا طوفان رواں ہو گیا۔ سجدے میں سر گرائے وہ اپنے معبودِ حقیقی کے حضور سسکتی رہی اور روتے روتے نڈھال ہو کر وہیں کارپٹ پر سو گئی۔ اگلی صبح ساڑھے سات بجے جب کرار کی آنکھ کھلی، تو اسے رات کا سارا منظر یاد آیا۔ کمرے میں دلہن کو نہ پا کر وہ پریشان ہوا اور جب ڈریسنگ روم کی جانب بڑھا، تو سامنے زمین پر سوئی ماہ زیب پر اس کی نظر پڑی۔ اس کا دل پگھلا نہیں، بلکہ اس نے بے رحمی سے ماہ زیب کے بازو کو جھٹکے سے ہلا ڈالا اور چبا چبا کر انگارے برسانے لگا کہ وہ اٹھ کر اپنا حلیہ درست کرے، کیونکہ اس کے خاندان والے تشریف لانے والے ہیں۔ ماہ زیب نے آنسو پی کر سر جھکا لیا اور بس اپنے رب سے صبر کی دعا مانگی۔ شادی کے بعد کے دن ماہ زیب کے لیے دہکتے کوئلوں پر چلنے کے مترادف تھے۔ ہر ایک کے سامنے اپنے لبوں پر جھوٹی مسکراہٹ سجائے وہ اپنے بکھرتے ہوئے گھر کا بھرم رکھنے کی ناکام کوشش کرتی رہی۔ وہ سبینہ کی محبت میں اپنے بھائی حسن کے گھر کی آبادی کی خاطر کرار کے ہر طنز، ہر بدتمیزی اور ہر بے رخی کو سہتی چلی گئی۔ جعفر آغا نے جب دونوں کو ہنی مون پر جانے کا مشورہ دیا، تو کرار نے سب کے سامنے دو ٹوک انکار کر کے ماہ زیب کا بھرم مٹی میں ملا دیا۔ وہ دن بہ دن اس کے بال پکڑ کر اسے ذلیل کرتا، اس کے خاندان کو تھرڈ کلاس کہتا اور اس کے وجود کو رد کرتا رہا۔ ماہ زیب اپنی ذات کو ڈریسنگ روم کے ایک کونے میں قید کر چکی تھی، جبکہ کرار کا دل اس کے بے پناہ خلوص اور شائستگی کے باوجود نفرت کی آگ میں جلتا رہا۔ وہ روزِ اول سے جس اجنبیت کا شکار تھی، وہ وقت گزرنے کے ساتھ مزید گہری ہوتی چلی گئی۔ وقت گزرتا گیا اور شادی کے آٹھ مہینے مکمل ہو گئے۔ آٹھ مہینے کا یہ طویل عرصہ ماہ زیب کے لیے ایک ایک صدی کی طرح گزرا تھا، جہاں اس نے ہر روز اپنے سہاگ کی چادر کو تار تار ہوتے دیکھا۔ اور پھر ایک کالی شام، کرار جعفر نے اپنی سفاکی اور خودغرضی کی تمام حدیں پار کر دیں۔ وہ کمرے میں داخل ہوا، تو اس کے ہاتھ میں کوئی تحفہ نہیں تھا، بلکہ سفید کاغذات کا ایک پلندہ تھا۔ انتہائی بے حسی اور سرد مہری کے ساتھ، اس نے وہ طلاق کے کاغذات ماہ زیب کے سامنے پھینک دیے۔ کاغذ کے اس بے جان ٹکڑے نے پل بھر میں ماہ زیب کی آٹھ ماہ کی ریاضت، اس کے صبر، اس کے آنسوؤں اور اس کی قربانیوں کو خاک میں ملا دیا۔ کرار جعفر نے بغیر کسی پچھتاوے کے ماہ زیب کو طلاق کے پیپرز تھامائے اور اس معصوم، بے گناہ لڑکی کے پاکیزہ ماتھے پر طلاق جیسی کلک کا ایسا گہرا نشان لگا دیا جسے وہ پوری زندگی نہیں مٹا سکتی تھی۔ اس آخری وار نے قصرِ گل کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ ماہ زیب آغا پیلس واپس پہنچ چکی تھی، جہاں اس کا بھائی حسن فاروق اور سبینہ موجود تھے، مگر اب اس طلاق کے بعد وٹہ ستہ کے اس نازک رشتے کا کیا انجام ہونا تھا، اور ماہ زیب کے ماتھے پر سجی یہ محرومی دونوں خاندانوں کو کس نئے اور بھیانک طوفان کی طرف دھکیلنے والی تھی،
نیچے دیے گئے 4 ڈاؤنلوڈ لنکس میں سے 3 لنکس پر اشتہار آ سکتا ہے، جبکہ 1 لنک اصل ڈاؤن لوڈ لنک ہے۔
ہماری درخواست ہے کہ کسی بھی لنک کو بند کیے بغیر تھوڑا صبر سے استعمال کریں۔
آپ کی یہی چھوٹی سی سپورٹ ہمیں مزید ناول آپ تک پہنچانے میں مدد دیتی ہے
1st Link
Download link
2nd Link
Download Link
3rd Link
Download Link
4th Link
Download Link
#EsaretiAsk #UrduNovel #CompleteNovel #WattaSatta #ForcedMarriage #EmotionalRomance #FamilyDrama #SecondMarriage #DivorceStory #PakistaniNovels
Esaret-i Ask Novel, Esaret-i Ask Complete Novel, Watta Satta Novel, Forced Marriage Novel, Emotional Romance Urdu Novel, Family Drama Novel, Toxic Husband Novel, Second Marriage Novel, Divorce Novel, Complete Urdu Novel
Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕