Chalo Kuch Diye Jalaye by Durre Saman Saleem Novel20846
Chalo Kuch Diye Jalaye by Durre Saman Saleem Novel20846
Forced Marriage | Hate to Love | Emotional Romance | Family Drama | Marriage of Convenience | Revenge & Redemption | Social Romantic Urdu Novel | Complete Novel
Short Description
Chalo Kuch Diye Jalaye Durre Saman Saleem ka ek beinteha emotional Urdu novel hai jo zabardasti ke nikah, nafrat se mohabbat tak ke safar, sacrifice, family emotions aur healing ki dil ko choo lene wali kahani pesh karta hai.

نفرت، قربانی، غلط فہمیاں اور محبت کی روشنی سے بھرپور ایک دل چھو لینے والا اردو ناول۔
خبردار! مجھے ہاتھ مت لگانا۔” اس نے سرعت سے آذان کے ہاتھوں کو جھٹکا اور اٹھ کھڑی ہوئی۔
“کم آن عینا! یہ کیا بچوں جیسی۔۔۔”
“اگر تم میرے قریب آئے تو میں کچھ کر بیٹھوں گی!” عینا نے قریب پڑا کرسٹل کا گلدان اٹھا لیا تھا۔ آذان غایتِ حیرت سے جہاں کھڑا تھا، وہیں ٹھہر گیا۔
“تم نے مجھے مار دیا ہے آذان شاہ! تم اس گھر میں میرے مردہ وجود کو لائے ہو۔ تم کیا سمجھتے ہو مجھے رسوا کرنے کے بعد تم نے مجھے پا لیا؟ نہیں آذان نہیں، تم مجھے پا کر بھی نہیں پا سکو گے۔ تم نے مجھ سے سب کچھ چھین لیا، سب کچھ، میری خوشیوں کو چھین کر کیا میں تمہیں خوش رہنے دوں گی؟ نہیں، کبھی نہیں، تم خوشی کے ایک ایک لمحے کو ترسو گے۔” وہ ہسٹیریکل ہو رہی تھی۔۔۔۔۔۔
میں کہیں نہیں جاؤں گی، آپ کو، اس گھر کو چھوڑ کر میں کہیں نہیں جاؤں گی۔ نہیں نہیں جانا، ایسے مت کریں، مجھے خود سے جدا مت کریں۔” وہ ان کے سینے سے لگی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔
“صبر کر میری بچی، صبر کر، یہاں تجھے کوئی جینے نہیں دے گا اور میں تجھے روز روز مرتا ہوا نہیں دیکھ پاؤں گا۔” جمال دین کی آنکھیں چھلک گئیں، وہ کمرے سے باہر نکل گئے تھے۔
شام کو آذان شاہ اپنے دوستوں کے ساتھ اس چھوٹے سے آنگن میں موجود تھا۔ نکاح کے لیے مولوی صاحب جمال دین کے ساتھ کمرے میں داخل ہوئے تو زینب بی کونے میں منہ لپیٹے بیٹھی تھیں۔ مولوی صاحب نے عینا سے رضامندی پوچھی تو وہ پتھر کی طرح ساکت اور خاموش تھی۔ مولوی صاحب نے دوبارہ دوہرایا تو نمل نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اس کے کندھوں پہ دباؤ ڈالا۔
“بیٹی جواب دو، مولوی صاحب کیا پوچھ رہے ہیں۔” جمال دین کے لہجے میں التجا تھی۔ عینا نے جھکا ہوا سر اٹھایا، آنکھیں آنسوؤں سے بھری ہوئی تھیں، اس نے دھیرے سے سر ہلا کر رضامندی ظاہر کر دی۔
سب کے جانے کے بعد وہ نمل سے لپٹ کر رونے لگی۔ جمال دین نے آگے بڑھ کر اس کی پیشانی پہ بوسہ دیا اور باہر نکل گئے۔ عینا نے بھیگی آنکھوں سے زینب بی کو دیکھا تو وہ نظریں چرا گئیں، عینا دھیرے سے اٹھ کر ان کے پاس چلی آئی۔
“مامی! میں نے آپ کو ہمیشہ اپنی ماں کے روپ میں دیکھا، خدا کے لیے مجھ سے اپنا یہ روپ مت چھینیں مامی! میرے ان خالی ہاتھوں میں پھر سے اپنے پیار کے سکے ڈال دیں مامی۔” عینا نے روتے روتے اپنے ہاتھوں کو زینب بی کے آگے پھیلایا تو وہ بھی آبدیدہ ہو گئیں، انہوں نے عینا کے دونوں ہاتھ تھام کر اپنے لبوں سے لگائے۔
“چلو عینا بیٹی! آذان باہر انتظار کر رہا ہے۔” جمال دین دوبارہ کمرے میں داخل ہوئے تو عینا نے ردا (چادر) لی۔ نمل نے اسے شانوں سے تھام کر اٹھایا، وہ جیسے بے جان وجود کے ساتھ قدم اٹھا رہی تھی۔ جمال دین سر جھکائے، چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتے عینا کو رخصت کرنے کے لیے آذان کے پاس آئے تھے۔
“بیٹا! تم بہت اعلیٰ ظرف کے مالک ہو، خدا تمہیں اس کا اجر دے، آج سے میری بیٹی تمہارے سپرد ہوتی ہے، تو اسے خوش رکھنا۔” جمال دین نے ساکت عینا کو اس کے ساتھ لا کھڑا کیا۔
“آپ بے فکر ہو جائیں، ان شاء اللہ ایسا ہی ہو گا۔” آذان نے پر یقین لہجے میں کہا تو جمال دین نے باری باری دونوں کے سر پہ ہاتھ رکھ کر دعا دی۔ عینا نے سر اٹھا کر برستی ہوئی نگاہوں سے اس چھوٹے سے آنگن کو دیکھا تھا؛
نظر بھٹک کر عارض کے کمرے کی جانب اٹھی، جہاں سوائے سناٹوں کے اور کوئی صدا سنائی نہ دی۔ جمال دین نے اس کا رخ موڑا اور دروازے سے باہر نکل گئے۔ شام کا اندھیرا پھیل چکا تھا۔ آذان نے اپنے دوستوں سے ہاتھ ملا کر اجازت چاہی اور گاڑی کا فرنٹ ڈور کھولا تو نمل نے اسے گاڑی میں بٹھا دیا۔ آذان شاہ جمال دین سے مل کر اپنی سیٹ پہ آ بیٹھا۔ گاڑی کچی گلیوں سے نکل کر مین روڈ پہ آ چکی تھی۔ آذان نے رخ موڑ کر دیکھا، وہ بالکل ساکت و خاموش تھی۔ اس نے دوبارہ ونڈ اسکرین پہ نگاہیں جما دیں، بالآخر اس کی گاڑی ڈیفنس کے ایک خوبصورت بنگلے کے سامنے جا رکی۔ ہارن کی آواز سن کر چوکیدار نے سرعت سے گیٹ کھولا، گاڑی پورچ میں جا رکی تھی۔
آذان گاڑی سے اتر کر اس کی جانب چلا آیا مگر وہ اب بھی جوں کی توں بیٹھی تھی۔ آذان نے گاڑی کا دروازہ کھولا، اس نے ہولے سے سر اٹھایا اور بے یقینی سے اپنے پیش نظر دیکھتے ہوئے باہر نکل آئی اور کسی روبوٹ کی طرح اس کے پیچھے پیچھے چلنے لگی۔ راہداری اور ٹی وی لاؤنج عبور کر کے آذان سیڑھیاں چڑھنے لگا۔
اوپر ہال میں پہنچ کر اس نے دائیں جانب بیڈ روم کا دروازہ کھولا اور لائٹ آن کر کے واش روم میں گھس گیا۔ وہ اپنے بے جان وجود کے ساتھ بیڈ پہ آ بیٹھی۔ محلے کی شرمناک سرگوشیاں، عارض کی نفرت، زینب بی کی دل چھلنی کر دینے والی باتیں اور جمال دین کا جھکا ہوا سر، یہ سب درد کا روپ دھار کر باری باری اس کے سامنے آنے لگے۔ آذان واش روم سے نکل کر گم صم سی عینا کو بغور دیکھتا ہوا اسی طرف چلا آیا۔
“عینا! میں نے ہمیشہ تمہیں۔۔۔”
“خبردار! مجھے ہاتھ مت لگانا۔” اس نے سرعت سے آذان کے ہاتھوں کو جھٹکا اور اٹھ کھڑی ہوئی۔
“کم آن عینا! یہ کیا بچوں جیسی۔۔۔”
“اگر تم میرے قریب آئے تو میں کچھ کر بیٹھوں گی!” عینا نے قریب پڑا کرسٹل کا گلدان اٹھا لیا تھا۔ آذان غایتِ حیرت سے جہاں کھڑا تھا، وہیں ٹھہر گیا۔
“تم نے مجھے مار دیا ہے آذان شاہ! تم اس گھر میں میرے مردہ وجود کو لائے ہو۔ تم کیا سمجھتے ہو مجھے رسوا کرنے کے بعد تم نے مجھے پا لیا؟ نہیں آذان نہیں، تم مجھے پا کر بھی نہیں پا سکو گے۔ تم نے مجھ سے سب کچھ چھین لیا، سب کچھ، میری خوشیوں کو چھین کر کیا میں تمہیں خوش رہنے دوں گی؟ نہیں، کبھی نہیں، تم خوشی کے ایک ایک لمحے کو ترسو گے۔” وہ ہسٹیریکل ہو رہی تھی۔
“عینا! یہ سب۔۔۔ سب جھوٹ ہے، بکواس ہے، میں ایسا سوچ بھی۔۔۔””مجھے تم سے کل بھی نفرت تھی اور ہمیشہ رہے گی، سمجھے تم؟ آئی ہیٹ یو آذان شاہ! آئی ہیٹ یو۔” وہ چلا رہی تھی۔ آذان شاہ متحیر سا اسے دیکھے گیا
نیچے دیے گئے 4 ڈاؤنلوڈ لنکس میں سے 3 لنکس پر اشتہار آ سکتا ہے، جبکہ 1 لنک اصل ڈاؤن لوڈ لنک ہے۔
ہماری درخواست ہے کہ کسی بھی لنک کو بند کیے بغیر تھوڑا صبر سے استعمال کریں۔
آپ کی یہی چھوٹی سی سپورٹ ہمیں مزید ناول آپ تک پہنچانے میں مدد دیتی ہے
1st Link
Download link
2nd Link
Download Link
3rd Link
Download Link
4th Link
Download Link
#ChaloKuchDiyeJalaye #DurreSamanSaleem #UrduNovel #CompleteNovel #ForcedMarriage #HateToLove #EmotionalRomance #FamilyDrama #PakistaniNovels #NovelLovers
Chalo Kuch Diye Jalaye Novel, Chalo Kuch Diye Jalaye by Durre Saman Saleem, Durre Saman Saleem Novels, Forced Marriage Novel, Hate to Love Novel, Emotional Romance Urdu Novel, Family Drama Novel, Complete Urdu Novel
Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕