Inteqam e Ask by Rani Mujahid Novel20877

Forced Marriage | Love Marriage | Betrayal | Divorce | Pregnancy | Second Chance Romance | Family Drama | Emotional Romance | Revenge Based | Hero Regret | Toxic Relationship | Social Romantic

Short Description

Inteqam e Ask by Rani Mujahid aik emotional Urdu novel hai jismein love marriage, betrayal, divorce, pregnancy, family revenge aur second chance emotions ko bohat hi dilchasp andaaz mein pesh kiya gaya hai.

Inteqam e Ask by Rani Mujahid Complete Urdu Novel

Mohabbat, dhoka aur pachtaway se bharpoor dil ko chhoo lene wali Urdu novel.

” ہوٹل میں اتنے دن گزارنے کے بعد تم کہہ رہے ہو تمہیں میں پسند نہیں ہوں؟؟” بنش برس پڑی دلاور لاپرواہی سے شاور لینے کے بعد ٹاول سے خود کو خشک کرتا اسکی طرف چند لاکھ پھینکے ساتھ ہی طلاق کے کاغذ تھے۔ بنش دلاور کی خاطر اپنے گھر سے بھاگی تھی ماں باپ کو چھوڑا تھا اسکے بعد دلاور نے شادی کر لی چند ماہ بعد اسکا چھوٹا بھائی ایک ماں بننے والی لڑکی کو گھر لایا ” بھیاء یہ میری بیوی ہے اور میرے ہونے والے بچے کی ماں بھی ” حدید نے مسکراتے ہوئے بنش کو اپنے ساتھ لگاتے تعارف کروایا دلاور کا دماغ گھوم گیا وہ اسکی سابقہ بیوی تھی جسکا ناواں مہینہ تھا مطلب وہ بچہ دلاور کا اپنا۔۔۔۔

ہوٹل کے کمرے میں دلاور داخل ہوا تو بنش کو دلہن کے جوڑے میں ملبوس دیکھ کر اس کے قدم وہیں ٹھہر گئے۔ کمرے کی مدہم روشنی میں سرخ جوڑا، سونے کے زیورات اور اس پر بنش کی شرم سے جھکی ہوئی نظریں، سب کچھ دلاور کو اپنے حصار میں لے رہا تھا۔ وہ مسکرا کر قریب آیا، اس کی آنکھوں میں ایک فاتحانہ چمک تھی، اس نے بنش کے قریب ہو کر نرمی سے اس کے ہاتھ تھام لیے۔ ” مجھے اب بھی یقین نہیں آرہا، قسمت اتنی مہربان کیسے ہو سکتی ہے کہ تم آج میری ہو چکی ہو، صرف میری ” دلاور نے اس کے ہاتھ پر بوسہ دیتے ہوئے سرگوشی کی۔

پھر اس نے بنش کو کھینچ کر اپنے سینے سے لگا لیا۔بنش کی دھڑکنیں تیز ہوئیں اور وہ شرما کر کچھ لمحوں کے لیے اس کی گرفت میں پگھل سی گئی۔ دلاور نے ذرا پیچھے ہٹ کر اس کی آنکھوں میں جھانکا، اس کی آواز میں ایک عجیب سی گونج تھی، “شکریہ بنش۔۔۔ میرے لیے تم نے سب کچھ چھوڑ دیا۔ سچ کہوں تو، میں آج بھی ان لمحوں کو یاد کرتا ہوں جب میں تمہارے ماں باپ کے آگے جھکا تھا، کتنی منتیں کی تھیں میں نے تمہارے رشتے کے لیے۔ وہ دن اور آج کا دن مجھے لگتا ہے میں نے دنیا جیت لی ہے۔” بنش نے شرما کر نظریں چرائیں اور خود کو اس کی گرفت سے آزاد کروانے کی کوشش کی۔۔۔

مگر دلاور نے اسے جانے نہیں دیا۔ اس نے ایک لمحے کے لیے بنش کی آنکھوں میں دیکھا، جہاں خوشی کے ساتھ ساتھ ایک ہلکی سی نمی بھی تھی، دلاور کی آنکھوں میں بھی تڑپ اور جذبات کا طوفان تھا، ایک آنسو اس کی آنکھ سے نکل کر گال پر آگرا۔ وہ جھکا اور بنش کی گردن پر نرمی سے بوسے دیتے ہوئے اس کے وجود میں گم ہونے لگا۔ وہ اس کی بانہوں سے نکلنے کی کوشش کرتی ہوئی ہلکی سی ہچکچاہٹ کے ساتھ بولی، ” آج نہیں، پلیز آج نہیں۔۔۔۔مجھے کچھ وقت چاہیے، سب کچھ بہت جلدی میں ہوا ہے۔۔۔۔” اس کے جملے پر دلاور کی آنکھوں کی چمک لمحوں میں غائب ہوئی اور ان میں ایک شدید سرد مہری در آئی۔۔۔

اس نے بنش کے چہرے پر اپنی گرفت مضبوط کی، اس کی آواز میں ایک گہرا شک اور کرب تھا، “کس کا انتظار ہے تمہیں؟ کسی اور کا؟ ” بنش اس کے اچانک بدلتے تیوروں سے کانپ اٹھی، اس نے ڈر کر شدت سے نفی میں سر ہلایا، ” نہیں۔۔۔۔ خدا کے لیے ایسا مت کہو، میں تو بس۔۔۔۔۔ ” دلاور نے اس کے ہونٹوں پر اپنی انگلی رکھتے ہوئے اسے خاموش کرایا، اس کی مسکراہٹ اب ایک خطرناک موڑے لے چکی تھی، آئندہ کبھی مجھے اس چیز کے لیے روکنے کی کوشش مت کرنا، میں جان نکال لوں گا تمہاری۔ ” وہ اس کی گھبراہٹ پر بے دلی سے ہنسا، اور اس کے ڈر کو نظر انداز کرتے ہوئے اسے بستر پر لٹا کر اس کے اوپر جھک گیا۔۔۔

اس رات کی شدتیں بنش کے لیے کسی تازیانے سے کم نہ تھیں، وہ چاہ کر بھی خود کو اس کی گرفت سے دور نہ کر پائی۔ صبح کی پہلی کرن جب کمرے میں داخل ہوئی تو بنش کی حالت کسی ٹوٹے ہوئے پھول جیسی تھی، وہ بہت تھکی ہوئی اور نڈھال لگ رہی تھی۔ اسی اثنا میں کمرے میں ناشتہ آگیا، دلاور کی لاپرواہی بدستور قائم تھی۔ بنش نے ہمت جمع کر کے دبتی آواز میں پوچھا، ” دلاور۔۔۔ مجھے اپنے گھر کب لے کر جائیں گے؟ آپ نے کہا تھا شادی کے بعد سب ٹھیک ہو جائے گا۔ ” دلاور نے اپنی کافی کا کپ اٹھایا اور اس کی بات کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا۔ اس نے نظریں ہٹاتے ہوئے موضوع بدل دیا۔۔۔

” تمہیں معلوم ہے ، یہاں کے ناشتے کی چائے بہت لاجواب ہوتی ہے۔ چکھ کر دیکھو۔ ” ناشتے کے بعد دلاور نے اپنی جیکٹ اٹھاتے ہوئے سر د لہجے میں کہا، ” مجھے ایک ضروری کام سے باہر جانا ہے، تم یہیں رہو گی اور باہر نہیں نکلو گی۔ ” بنش کا چہرہ زرد پڑ گیا، اس نے بے چینی سے دلاور کا ہاتھ پکڑنے کی کوشش کی، ” دلاور! ہماری شادی کو ابھی چند گھنٹے ہی ہوئے ہیں، ہم نے اب تک ساتھ وقت بھی نہیں گزارا۔ پلیز! مجھے وقت دیں، میں یہاں اکیلی کیا کروں گی؟ ” دلاور نے اس کا ہاتھ جھٹک دیا اور اسے نظر انداز کرتے ہوئے کمرے کے دروازے کی طرف بڑھ گیا۔

بنش کی پریشانی بڑھ گئی تھی، وہ اسے روکنے کے لیے پیچھے بھاگی لیکن اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہہ پاتی،دلاور نے باہر نکل کر دروازے کو تالے کی آواز کے ساتھ مقفل کر دیا۔ کمرے میں اب ایک سناٹا سا چھا گیا تھا۔ بنش نے تیزی سے چاروں طرف دیکھا، اس کا دل زور سے دھڑک رہا تھا۔ اس کا موبائل فون دلاور پہلے ہی اپنے ساتھ لے گیا تھا، کمرے میں نہ کوئی کتاب تھی، نہ ٹی وی اور نہ ہی باہر جانے کا کوئی راستہ وہ قید ہوچکی تھی۔ اس نے دروازہ پیٹا اسے ہلانے کی کوشش کی وہ لوہے کی طرح مضبوط تھا۔ وہ وہیں فرش پر ڈھیر ہوگئی، خوف اور تنہائی کے ملے جلے احساس نے اسے گھیر لیا تھا۔ وقت کا پہیہ جیسے تھم گیا تھا۔۔۔

وہ روتے روتے کب بستر پر پڑگئی اسے خبر نہ ہوئی۔ جب اس کی آنکھ کھلی تو کمرے میں دوپہر کی مدہم روشنی پھیل چکی تھی۔ اس نے اٹھ کر بے تابی سے ارد گرد دیکھا، دلاور کے واپس آنے کی امید میں دروازے پر نظریں جمائے رکھیں، لیکن کمرہ بدستور خاموش تھا۔ وہ اب بھی نہیں آیا تھا۔ رات کے پچھلے پہر دروازے پر دستک ہوئی اور دلاور اندر داخل ہوا، اس کے ہاتھوں میں کھانے کی ٹرے تھی۔ بنش جو دن بھر کی تنہائی اور خوف سے نڈھال ہو چکی تھی، اسے دیکھتے ہی دوڑی اور اس کے سینے سے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔۔۔۔

اس کی ہچکیاں بندھ گئی تھیں۔ دلاور نے نرمی سے اسے خود سے جدا کیا اور اس کے چہرے کو ہاتھوں میں لے کر بڑی محبت سے سمجھانے لگا، ” میرا بچہ روتے نہیں ہیں۔میرا ایک انتہائی ضروری کام تھا جس کا ٹلنا ممکن نہ تھا۔” بنش کی آنکھوں میں آنسو تھے، وہ سسکتے ہوئے بولی، ” مجھے بہت ڈر لگ رہا تھا، آپ مجھے ایسے اکیلا چھوڑ کر چلے گئے، مجھے لگا آپ مجھے کہیں بھول گئے ہیں۔۔۔” دلاور نے اس کے ماتھے پر بوسہ دیا اور مسکرا کر کہا، ” تمہیں کیسے چھوڑ سکتا ہوں؟ تم میری زندگی ہو، بنش۔ کبھی نہیں چھوڑوں گا، یہ میرا وعدہ ہے۔” اس کی ان محبت بھری باتوں اور دلاسوں نے بنش کے دل کا بوجھ ہلکا کر دیا۔

اس نے اسے پیار سے ڈنر کرایا، ماحول میں ایک عجیب سا سکون گھل گیا تھا۔ کھانے کے بعد، دلاور نے اسے اٹھایا اور کھڑکی کے پاس رکھی راکنگ چیئر پر جا بیٹھا۔ بنش کو اپنی گود میں بٹھا کر وہ آہستہ آہستہ چیئر کو جھلانے لگا۔ کمرے کی مدہم روشنی میں، وہ دونوں کھڑکی سے باہر کے نظارے دیکھ رہے تھے، جہاں شہر کی روشنیاں جگمگار ہی تھیں۔ اس وقت بنش کو یہ سب کچھ ایک خواب جیسا لگ رہا تھا، جہاں خوف کی جگہ اب دلاور کی قربت کی گرمائش نے لے لی تھی۔ وقت کے ساتھ ساتھ دلاور کارویہ بدلنے لگا۔ شروع کی وہ شفقت اور قربتیں اب بے باکی میں بدلنے لگیں۔ دلاور اسے اپنی مرضی کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرتا، بنش کی شرم و حیا اس کے لیے اب کوئی معنی نہیں رکھتی تھی۔

وہ ہر گزرتی رات کے ساتھ اس پر اپنی ملکیت کا اظہار زیادہ شدت سے کرنے لگا، جیسے وہ کوئی ایسی شے ہو جسے وہ ہر قیمت پر استعمال کرنا چاہتا ہو۔ دو تین راتیں تو دلاور نے اس کے ساتھ اسی جنون میں گزاریں، اسے اپنی باتوں کے سحر میں جکڑے رکھا اور محبت کے جھوٹے وعدوں سے اسے بہلایا۔ لیکن چوتھی رات سے ہی منظر بدلنے لگا۔ بنش، جواب اس کے ساتھ کچھ حد تک مانوس ہو چکی تھی، جب مسکرا کر اسے کچھ کہنا چاہتی تو دلاور کی آنکھوں میں اسے وہ پیار نظر نہ آتا جو پہلے دن تھا۔ وہ اب اس کی باتوں کا جواب دینے کے بجائے اسے نظر انداز کر دیتا۔۔۔

رات کے سناٹے میں جب وہ اسے اپنے قریب کرتا، تو اس کی آنکھوں میں اکتاہٹ اور بیزاری واضح ہوتی۔ وہ اسے دیکھتا تو ایسے جیسے وہ اس سے تھک چکا ہو، جیسے اس کا تجسس ختم ہو چکا ہو۔ بنش کے لیے یہ رویہ ایک نئے خوف کا پیش خیمہ تھا، اسے محسوس ہونے لگا کہ دلاور کی یہ محبت کسی طوفان سے پہلے کی خاموشی تھی، جو اب اپنی اصلیت دکھا رہی تھی۔ ایک صبح جب سورج کی پہلی کرن کمرے میں داخل ہوئی تو دلاور بستر پر بیٹھا ایک کاغذ کو گھور رہا تھا۔ بنش کی آنکھ کھلی تو اس نے دلاور کو اسی سرد اور اجنبی انداز میں دیکھا جو گزشتہ چند راتوں سے اس کا معمول بن چکا تھا۔۔۔

دلاور نے اپنی ٹھنڈی نظریں اس پر جمائیں اور میز پر پڑا کاغذ اس کی طرف پھینکتے ہوئے کہا، ” میرا دل اب اس رشتے سے بھر گیا ہے۔ جو چند لمحے ہم نے ساتھ گزارے ہیں ، اب ان کی قیمت چکانےکا وقت آگیا ہے۔ یہ لو طلاق نامہ ۔ ” بنش کا سانس جیسے حلق میں اٹک گیا۔ اس نے کانپتے ہاتھوں سے وہ کا غذ اٹھایا، اس کے الفاظ اس کے وجود کو چیرتے ہوئے گزر گئے۔ وہ سر جھٹکتے ہوئے، جیسے کسی بھیانک خواب کو جھٹکنا چاہتی ہو، اٹھ کر دلاور کے قریب ہونے لگی۔ اس کی آنکھوں میں آنسو تھے اور آواز میں لرزش۔۔۔” دلاور۔۔ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟ کیا آپ پاگل ہوگئے ہیں؟ کیسی باتیں کر رہے ہیں آپ؟ میں آپ کی بیوی ہوں، یہ سب کیا مذاق ہے؟ “اس نے اپنا ہاتھ دلاور کے بازو پر رکھنے کے لیے بڑھایا ہی تھا کہ دلاور تیزی سے پیچھے ہٹا۔

اس کی آنکھوں میں شدید نفرت اور حقارت تھی۔ وہ دہاڑا، ” خبردار! جو مجھے چھونے کی کوشش کی۔ ” وہ اٹھ کر کھڑا ہو گیا اور بنش کی طرف نفرت سے دیکھتے ہوئے بولا، ” تمہارے اور میرے درمیان اب کوئی تعلق نہیں ہے۔ میرے لیے تم اب ختم ہو چکی ہوں۔ آج کے بعد میں تمہارے لیے ایک مردہ ( ڈیڈمین ) کی حیثیت رکھتا ہوں۔ یہ کاغذ سائین (ڈیڈمین) کرو اور اس کمرے سے دفع ہو جاؤ۔ ” بنش کے ہاتھوں کی لرزش بڑھ گئی تھی، وہ روتے ہوئے دلاور کے گریبان کو مٹھیوں میں جکڑ کر اسے جھنجھوڑنے لگی، جیسے وہ اس کے وجود سے کوئی جواب مانگ رہی ہو۔ اس کی سسکیاں کمرے کی خاموشی کو چیر رہی تھیں۔۔۔

” دلاور! کیوں؟ آخر کیوں کر رہے ہو میرے ساتھ یہ؟ ” دلاور کا چہرہ کسی پتھر کی طرح ساکت تھا، اس نے نفرت اور بیزاری سے بنش کے ہاتھ اپنے گریبان سے جھٹک دیے، جیسے اسے چھونا بھی اب اس کے لیے اذیت ہو۔ ” میں نے کہانا چلی جاؤ! اس سے زیادہ میرے پاس تمہیں دینے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ بس اتنا ہی تھا یہ سب، یہ وقت، یہ رشتہ۔۔۔ ختم! ” بنش کی دنیا جیسے ایک لمحے میں مسمار ہوگئی تھی۔ وہ اپنے پیروں پر کھڑی نہ رہ سکی اور اس کے قدموں میں گر گئی۔ اس نے دلاور کے جوتوں کو تھام لیا، اس کی آواز کرب سے بھری ہوئی تھی، “ایسا مت کرو، دلاور! خدارا! میں کہاں جاؤں گی؟ اپنے ماں باپ کو چھوڑ کر، اپنی عزت، اپنا سب کچھ صرف تمہارے لیے قربان کیا تھا۔ میں کہاں جاؤں گی، کیا کروں گی ؟” وہ اس کے قدموں میں سر رکھے سسکیاں لے رہی تھی، لیکن دلاور کی آنکھوں میں ایک قطرہ ہمدردی بھی نہیں تھی۔۔۔

وہ اس کے سامنے سے ایسے گزر گیا جیسے وہاں کوئی موجود ہی نہ ہو۔ دلاور کے جانے کے کچھ ہی دیر بعد ہوٹل کا عملہ کمرے میں آگیا، ان کے لہجے میں کوئی نرمی نہیں تھی۔ “میڈم! بل کی ادائیگی ہوچکی ہے، آپ کو اب کمرہ خالی کرنا ہو گا۔ ” بنش، جس کی روح پہلے ہی جسم سے الگ ہو چکی تھی، نیم پاگلوں کی طرح اپنا سامان سمیٹے ہوٹل سے باہر نکل آئی۔ اگلا ایک ہفتہ بنش کے لیے قیامت بن کر گزرا۔ وہ شہر کی سڑکوں پر ٹھوکریں کھاتی رہی۔ بھوک، پیاس اور تذلیل نے اسے زندہ لاش بنادیا تھا۔ وہ تھک ہار کر اپنے میکے پہنچی تو وہاں کا منظر دیکھ کر اس کے رہے سہے حوصلے بھی دم توڑ گئے۔۔۔۔

اس کی بھابھی نے دروازے پر ہی اسے ذلیل کر کے نکال دیا ، ” جو خاندان کی عزت اچھال کر کسی کے پیچھے بھاگے، اس کے لیے ہمارے گھر میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ نکل جاؤ یہاں سے! ” بنش اب بالکل بے سہارا تھی۔ سڑکوں کی خاک چھانتے ہوئے، بھوک کی شدت اور شدید ذہنی صدمے سے اس کا سر چکرانے لگا۔ وہ لڑکھڑاتی ہوئی سڑک کے کنارے چل رہی تھی، اسے دنیا گھومتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔۔۔۔۔

Us ne mohabbat ke liye sab kuch chhor diya… magar badle mein talaq mili. Saalon baad jab hero ko pata chala ke us ki ex-wife us ke apne bachche ki maa banne wali hai, tab us ki duniya ulat gayi.

نیچے دیے گئے 4 ڈاؤنلوڈ لنکس میں سے 3 لنکس پر اشتہار آ سکتا ہے، جبکہ 1 لنک اصل ڈاؤن لوڈ لنک ہے۔

ہماری درخواست ہے کہ کسی بھی لنک کو بند کیے بغیر تھوڑا صبر سے استعمال کریں۔

آپ کی یہی چھوٹی سی سپورٹ ہمیں مزید ناول آپ تک پہنچانے میں مدد دیتی ہے

1st Link

Download link

2nd Link

Download Link

3rd Link

Download Link

4th Link

Download Link

Summary

Inteqam e Ask Rani Mujahid ka aik emotional aur heartbreaking Urdu novel hai jo mohabbat, dhokay, inteqam aur pachtaway ke gird ghoomta hai.

Novel ki heroine Banish apni mohabbat ke liye apna ghar, walidain aur tamam rishton ko chhor kar Dilawar ke sath nayi zindagi shuru karti hai. Shuru mein Dilawar us par bepanah mohabbat lutaata hai aur use yakeen dilata hai ke ab us ki duniya sirf woh hai. Lekin chand hi dino baad us ka asal chehra samne aana shuru ho jata hai. Mohabbat ki jagah be-rukhi, qabza aur jazbati torture le leta hai.

Banish ko hotel ke kamre mein qaid rakhna, us se jhoote waade karna aur phir achanak talaq de kar akela chhor dena us ki zindagi ko tabah kar deta hai. Ghar wale use qabool karne se inkar kar dete hain aur woh tanha, be-sahara aur zillat bhari zindagi jeene par majboor ho jati hai.

Doosri taraf Dilawar apni zindagi mein aage barh jata hai, lekin taqdeer us ke liye aisa imtehan lekar aati hai jis ka us ne kabhi socha bhi nahi hota. Waqt guzarne ke baad jab us ka chhota bhai apni hamil biwi ko ghar laata hai to Dilawar ke hosh udd jate hain. Woh aurat koi aur nahi balki us ki ex-wife Banish hoti hai aur us ke batan mein palne wala bachcha bhi Dilawar ka hi hota hai.

Ab Dilawar ko apni har ghalti, har dhokay aur har zulm ka ehsaas hota hai. Lekin kya ab sab kuch theek ho sakega? Kya Banish us mard ko dobara apni zindagi mein jagah degi jis ne use zinda laash bana diya tha? Ya phir inteqam aur pachtawa hi is kahani ka asli anjaam banega?

Agar aap betrayal, emotional trauma, second chance romance aur family-based Urdu novels pasand karte hain to Inteqam e Ask aap ke liye ek behtareen intikhab hai.

Inteqam e Ask, Inteqam e Ask by Rani Mujahid, Rani Mujahid novels, Urdu novel, Complete Urdu Novel, Love Marriage Novel, Divorce Novel, Pregnancy Novel, Hero Regret, Betrayal Story, Second Chance Romance, Revenge Novel, Emotional Urdu Novel, Pakistani Novel

#InteqamEAsk #RaniMujahid #UrduNovel #CompleteNovel #LoveMarriage #Betrayal #Divorce #Pregnancy #HeroRegret #SecondChanceRomance #FamilyDrama #EmotionalRomance #PakistaniNovels #Novelistan

FAQs

Inteqam e Ask kis writer ka novel hai?

Ye novel Rani Mujahid ne likha hai.

Kya Inteqam e Ask complete Urdu novel hai?

Ji haan, ye complete Urdu novel hai.

Is novel ka hero kaun hai?

Novel ka hero Dilawar hai.

Heroine ka naam kya hai?

Novel ki heroine Banish hai.

Kya ye revenge based novel hai?

Ji haan, is mein revenge aur emotional consequences dono ko highlight kiya gaya hai.

Kya is novel mein divorce aur pregnancy ka track hai?

Ji haan, kahani ka sab se emotional hissa divorce aur pregnancy se related hai.

Kya ye happy ending novel hai?

Ending kahani ke progress ke mutabiq reveal hoti hai.

 

Support Novelistan ❤️

Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.

EasyPaisa / JazzCash

0309 1256788

Account name: Safia Bano

Bank Transfer (UBL)

United Bank Limited

Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131

Name: Sadia Hassan

IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131

Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕

Share this Novel

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *