Short Novel
Mujh Ko Jo Tu Mila Novel21053
ثانیہ نے اپنی سانولی رنگت کی وجہ سے ہمیشہ لوگوں کے طنز برداشت کیے تھے، مگر اسے سب سے زیادہ تکلیف اپنی سوتیلی ماں کے رویے سے پہنچتی تھی۔ جب اس کی شادی برہان عالم سے طے کی گئی تو اسے بتایا گیا کہ برہان خواجہ سرا ہے۔ ثانیہ نے اعتراض کیا، مگر اسے زبردستی نکاح قبول کرنا پڑا۔ شادی کی رات اسے معلوم ہوا کہ برہان کے بارے میں بتائی گئی حقیقت مکمل نہیں تھی۔ رات گئے جب وہ پانی تلاش کرتے ہوئے برابر والے کمرے تک پہنچی تو برہان پستول ہاتھ میں لیے اچانک اس کے سامنے آ گیا۔ اس کے غصے نے ثانیہ کو خوفزدہ کر دیا۔ آخر برہان اپنی شناخت کیوں چھپا رہا تھا اور اس کی زندگی میں کون سا راز موجود تھا؟
Tujh Sy Muhabbat Tak Novel21038 — Novelistan
فاریہ احمد نے بچپن سے اپنے خاندان کے مردوں کے ظالمانہ رویے دیکھے تھے، اسی لیے وہ کسی مرد پر اعتماد نہیں کرتی تھی۔ یونیورسٹی میں جب زوریز خان نے اسے محبت کا اظہار کیا تو اس نے انکار کر دیا، مگر زوریز کے مسلسل محبت کے دعووں نے بالآخر اس کا دل بدل دیا۔ وہ اس کے ساتھ نکاح کے لیے تیار ہو گئی۔ لیکن نکاح سے صرف ایک دن پہلے فاریہ نے زوریز کو فون پر کہتے سنا کہ وہ اس کے لیے محض ایک ضد ہے اور نکاح کے بعد سب کے سامنے طلاق دے کر اسے مسترد کیے جانے کا بدلہ لے گا۔ یہ حقیقت جان کر فاریہ ٹوٹ گئی اور نکاح سے پہلے اچانک غائب ہو گئی۔ کیا زوریز کو اپنے فیصلے کی سنگینی کا احساس ہوگا؟
Mata e Jaan Novel21045 — Novelistan
روحیل کی وفات کے بعد حورین شجاعت کی زندگی کا واحد سہارا اس کا بیٹا شایان تھا۔ اس کی عدت مکمل ہوئے صرف دو دن گزرے تھے کہ آغا جان نے اس کا نکاح روحیل کے چھوٹے بھائی زہان سکندر سے کرنے کا فیصلہ سنا دیا۔ حورین نے اس فیصلے کی شدید مخالفت کی، مگر گھر والوں نے اس کی بات نہ مانی۔ زہان نے نکاح اسی دن کرنے کا حکم دیا اور حورین کے انکار پر ایک سخت شرط رکھ دی۔ اگر وہ حویلی چھوڑنا چاہتی تھی تو اسے اپنے بیٹے شایان کو وہیں چھوڑنا ہوگا۔ یہ سن کر حورین ٹوٹ گئی، کیونکہ وہ اپنے بچے سے جدا ہونے کا تصور بھی نہیں کر سکتی تھی۔ اس نے زہان کو خبردار کیا کہ وہ اپنے فیصلے پر پچھتائے گا۔ مگر کیا زہان اس کی بات سنے گا؟
Qurbat e Yaar Novel21037 — Novelistan
سکینہ حیدر اپنی شادی کے دن بیوٹی پارلر سے اچانک لاپتا ہو گئی۔ گھر والوں نے سمجھ لیا کہ وہ نکاح سے بھاگ گئی ہے، جبکہ برہان اسے اپنی بے عزتی کا ذمہ دار سمجھ کر تلاش کرتا رہا۔ کسی کو معلوم نہیں تھا کہ سکینہ کو بے ہوش کر کے اغوا کیا گیا ہے اور وہ خاندان کے دشمنوں کی قید میں شدید ظلم برداشت کر رہی ہے۔ تقریباً دو ماہ بعد برہان کو اس کا سراغ ملا۔ وہ اپنے محافظوں کے ساتھ ایک ویران عمارت کے تہہ خانے میں پہنچا تو سکینہ کو انتہائی زخمی اور نیم بے ہوش حالت میں دیکھ کر ٹوٹ گیا۔ وہ اسے فوراً ہسپتال لے گیا، جہاں ڈاکٹروں نے اس کی حالت کے بارے میں ایک سنگین اطلاع دی۔ کیا برہان اصل مجرموں تک پہنچ سکے گا اور سکینہ کو انصاف مل پائے گا؟
Muqadma e Pyar Novel21035 — Novelistan
رملہ نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ دوستوں کی ایک معمولی شرط اسے اتنی بڑی مشکل میں ڈال دے گی۔ ناریہ اور عروب کے اصرار پر وہ نئے ایس پی سالار سکندر کے سامنے پہنچی اور گھبراہٹ میں خود کو اس کی بیوی ظاہر کر دیا۔ سالار اور اس کے اہلکار حیران رہ گئے، جبکہ رملہ فوراً وہاں سے بھاگ گئی۔ اسے یقین تھا کہ یہ شرارت وہیں ختم ہو جائے گی۔ مگر رات کے وقت اس کے کمرے میں کسی اجنبی کی موجودگی نے اسے خوفزدہ کر دیا۔ ابتدائی منظر میں سالار اسے یاد دلاتا ہے کہ اسی نے خود کو اس کی بیوی کہا تھا۔ رملہ بار بار سمجھاتی ہے کہ وہ سب صرف مذاق تھا، مگر سالار اس بات کو سنجیدگی سے لینے پر اصرار کرتا ہے۔ اب رملہ اس غیرمتوقع صورتحال سے کیسے نکلے گی؟
Qarz e Muhabbat Novel21042 — Novelistan
عنایہ شاہ نے یونیورسٹی سے واپسی پر ایک ٹیکسی لی، مگر کچھ دیر بعد اسے اندازہ ہوا کہ ڈرائیور اسے غلط راستے پر لے جا رہا ہے۔ وہ خوفزدہ ہونے کے بجائے غصے میں اس کے بال پکڑ کر گاڑی روکنے کا مطالبہ کرنے لگی۔ ڈرائیور کے روپ میں موجود حاتم شاہ اس کے ردعمل سے حیران رہ گیا۔ وہ تو دادا جان کے حکم پر اپنی معصوم سمجھی جانے والی کزن کو حویلی لانے آیا تھا، مگر عنایہ نے اس کے لیے یہ کام مشکل بنا دیا۔ آخرکار حاتم اسے بے ہوش کر کے حویلی لے آیا۔ وہاں دادا جان کے سامنے عنایہ کو ہوش آیا تو اس نے فوراً حاتم کو پہچان کر سب کے سامنے اپنے اغوا کا سوال اٹھا دیا۔ اب حویلی میں اس نڈر لڑکی کی آمد کیا ہنگامہ کھڑا کرنے والی تھی؟
Saude Main Mili Muhabbat by Sharia KhanNovel21041
زویا نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ اس کا اپنا بڑا تایا زمین کے بدلے اس کا سودا کرنے کی کوشش کرے گا۔ وہ اس مصیبت سے بچنے کے لیے بھاگی، مگر حالات اسے حدید حسان کے سامنے لے آئے اور دونوں کا نکاح ہو گیا۔ زویا بار بار حدید کو حقیقت بتانے کی کوشش کرتی رہی، لیکن وہ اپنے تایا پر اندھا اعتماد کرتا تھا۔ شادی کے بعد بھی حدید نے اس کی بات سننے کے بجائے اسے مشکوک سرگرمیوں کا طعنہ دیا اور سخت دھمکیاں دیں۔ زویا تنہا بیٹھ کر روتی رہی، جبکہ حدید غصے میں گیسٹ ہاؤس چلا گیا۔ اگلی صبح تایا جان کی بگڑتی حالت کی خبر نے اسے ہسپتال جانے پر مجبور کر دیا۔ کیا حدید کو کبھی معلوم ہو سکے گا کہ زویا سچ کہہ رہی تھی، اور اس کے خاندان میں اصل سازش کس نے کی تھی؟
Man Jao Piya Novel21043 — Novelistan
سیرت کے لیے شادی کا دن اس کی زندگی کا سب سے خوبصورت دن ہونا چاہیے تھا۔ وہ برسوں سے اپنے کزن شہزاد کو چاہتی تھی اور اب اسی کی دلہن بننے والی تھی۔ مگر نکاح سے چند لمحے پہلے شادی ہال میں اس سے منسوب نامناسب تصاویر اور ویڈیوز پھیل گئیں۔ کسی نے حقیقت جاننے کی کوشش نہ کی اور دیکھتے ہی دیکھتے خوشیوں بھری تقریب الزام تراشی اور بدنامی کے خوف میں بدل گئی۔ شہزاد کے گھر والوں نے رشتہ توڑنے کا فیصلہ کیا تو احمر کاظمی اپنے محافظوں کے ساتھ وہاں پہنچ گیا۔ اس نے سیرت سے نکاح کی پیشکش کی، مگر اس کے بدلے ایک بچے کی شرط رکھ دی۔ سیرت کی زندگی کا سب سے اہم فیصلہ اچانک اس کے سامنے آ کھڑا ہوا تھا۔ آخر اس کی شادی کے دن یہ سازش کس نے کی تھی اور احمر کاظمی کی پیشکش کے پیچھے کیا راز تھا؟
Aqd e Muhabbat Novel21040 — Novelistan
نو سالہ حورین کا نکاح دس سالہ زاویار شاہ سے دادا جان کی ضد پر کر دیا گیا تھا۔ دونوں اس فیصلے کے خلاف تھے، مگر ان کی کسی نے نہ سنی۔ زاویار نکاح کے بعد گھر چھوڑ کر چلا گیا اور حورین دس سال تک اس رشتے کا بوجھ اٹھاتی رہی۔ اس دوران اسے اپنی تائی نائلہ کے طعنوں اور سخت رویے کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ دس سال بعد جب زاویار واپس آیا تو حورین نے سب کے سامنے اس سے طلاق مانگ لی۔ لیکن جس شخص سے وہ آزادی چاہتی تھی، اس نے اچانک اسی ہفتے رخصتی کا اعلان کر دیا۔ حورین کے لیے یہ فیصلہ کسی نئے امتحان سے کم نہیں تھا۔ آخر زاویار نے طلاق کے بجائے رخصتی کا فیصلہ کیوں کیا، اور کیا حورین اپنی زندگی کے بارے میں خود فیصلہ کر سکے گی؟
Shab e Zafaf Ka Dasht Novel21039 — Novelistan
زرمین نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا کہ خاندانی دشمنی کی قیمت اسے اپنی زندگی کے سب سے خوفناک لمحوں سے ادا کرنی پڑے گی۔ ونی کی رسم کے تحت اسے میر حویلی بھیج دیا گیا، جہاں میر افنان کے دل میں اس کے لیے صرف نفرت اور انتقام تھا۔ وہ بار بار رحم کی فریاد کرتی رہی، لیکن اس کی آواز حویلی کی دیواروں سے ٹکرا کر رہ گئی۔ شادی کی پہلی رات اس پر ہونے والے ظلم کو سب نے سنا، مگر کوئی اس کی مدد کے لیے آگے نہ بڑھا۔ صبح ہوئی تو زرمین زخمی اور نیم بے ہوش تھی، جبکہ میر افنان اسے اسی حالت میں چھوڑ کر دوسرے ملک روانہ ہو چکا تھا۔ اب اس معصوم لڑکی کی زندگی کس رخ پر جائے گی، اور کیا کبھی اس کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کا حساب لیا جائے گا؟