Bus Thori Si Be Wafai by Amtul Aziz Shehzad Novel20823

After Marriage | Second Marriage Base |  Romance | Family Drama | Emotional Journey | Betrayal | Contemporary Fiction

“یہ کیا؟” اس نے حیرت سے کہا۔ “امید، تم اس وقت کہاں جا رہی ہو؟”

امید نے نہ سوٹ کیس کا ہینڈل چھوڑا اور نہ ہی اس کی طرف دیکھا، بس دھیمے لہجے میں بولی،

“میرا کام بس یہیں تک تھا، داؤد… امانت اپنے حق دار تک بحفاظت پہنچ گئی، سو میرا فرض مکمل ہو گیا۔”

“مگر تم کہاں جا رہی ہو؟ اور کیوں؟ کیا مجھ سے کوئی غلطی ہوئی ہے؟ تم مجھ سے ناراض ہو؟”

وہ فوراً اس کے سامنے آ کھڑا ہوا اور بےقراری سے اس کے کندھے تھام لیے۔

اب کی بار امید نے نظریں اٹھائیں۔ اس کی آنکھوں میں آنسو زیادہ تھے یا شکوے، داؤد اندازہ نہ کر سکا۔

“غلطی تم سے نہیں، مجھ سے ہوئی تھی… آج سے چودہ سال پہلے۔ اور اپنی غلطیوں کی تلافی انسان کو خود ہی کرنی پڑتی ہے۔”

وہ بےبسی سے روتے ہوئے بولی۔

“امید!” وہ بلند آواز میں پکارا، پھر اس کے ہاتھ سے سوٹ کیس لے کر ایک طرف رکھ دیا۔

“کرم کرکے بتاؤ، آخر بات کیا ہے؟ اس طرح ناراض ہو کر گھر چھوڑنے کا کیا مطلب ہے؟”

“مطلب تو میں بتا چکی ہوں۔ میرا فرض مکمل ہو چکا ہے، اب اس گھر میں میرے مزید رہنے کا کوئی جواز نہیں۔”

اس کی آواز اس کے قدموں کی طرح لڑکھڑا رہی تھی۔

“یہ کیسی باتیں کر رہی ہو؟ یہ گھر تمہارا ہے، تم یہاں سے کیوں جاؤ گی؟”

اچانک امید نے اس کے ہاتھ جھٹک دیے۔

“نہیں! یہ میرا گھر نہیں، نہ یہ رشتے میرے ہیں، نہ تم میرے ہو۔ میں ہی بےوقوف تھی جو آج تک اس سراب کے پیچھے دیوانہ وار بھاگتی رہی۔”

وہ اس قدر ٹوٹ چکی تھی کہ داؤد اسے سنبھال نہیں پا رہا تھا۔

“امید… میری جان! ہوش کرو۔ کسی نے تم سے کچھ کہا ہے؟ مجھے بتاؤ۔”

وہ اسے اپنے بازوؤں کے حصار میں لینے لگا، مگر امید نے نفرت سے اسے دھکیل دیا۔

“نہیں داؤد! اب میں تمہاری جھوٹی محبت اور فریب بھرے لفظوں کے جال میں نہیں آؤں گی۔ اچھا ہوا میری حیثیت مجھ پر تمہاری ہی زبانی آشکار ہو گئی۔ اگر کوئی اور کہتا تو شاید مجھے یقین نہ آتا، مگر تم پر تو مجھے آج بھی خود سے زیادہ یقین تھا۔”

یہ کہتے ہی وہ پھر سے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔

داؤد بری طرح جھنجھلا گیا۔

“یہ کیسا تماشا لگا رکھا ہے؟ ابھی سارے نوکر یہاں جمع ہو جائیں گے۔ آخر مجھے بتاؤ تو سہی، ہوا کیا ہے؟”

امید طنزیہ مسکرائی، مگر اس کی آنکھوں سے آنسو مسلسل بہہ رہے تھے۔

“خوب! تم چاہتے ہو قتل بھی کر دو اور چرچا بھی نہ ہو۔”

“شٹ اپ!” وہ سخت لہجے میں دھاڑا۔ “تمیز سے بات کرو اور سیدھی طرح بتاؤ کہ معاملہ کیا ہے۔”

اس کی برداشت جواب دے چکی تھی۔

امید زہرخند لہجے میں بولی،

“معاملہ صرف اتنا ہے کہ جس مقصد کے لیے تم مجھے یہاں لائے تھے، وہ پورا ہو چکا ہے۔ اب میرا یہاں رہنا بے معنی ہے۔”

“یہ سب تم سے کس نے کہا؟”

“تم نے۔”

وہ حیرت سے بولا،

“میں نے؟”

“ہاں، تم نے… اپنی ڈائری میں۔ اگر بھول گئے ہو تو جا کر دیکھ لو۔”

اسی لمحے باہر گیٹ پر کسی گاڑی کا ہارن بجا۔

امید نے خاموشی سے دوبارہ اپنا سوٹ کیس اٹھایا اور گھر سے نکلنے لگی۔

جاتے ہوئے اس نے ایک آخری نظر اس گھر پر ڈالی… اس گھر پر جو کبھی اسے اپنا لگتا تھا، مگر آج اسے احساس ہوا کہ وہ کبھی اس کا تھا ہی نہیں۔

نیچے دیے گئے 4 ڈاؤنلوڈ لنکس میں سے 3 لنکس پر اشتہار آ سکتا ہے، جبکہ 1 لنک اصل ڈاؤن لوڈ لنک ہے۔

ہماری درخواست ہے کہ کسی بھی لنک کو بند کیے بغیر تھوڑا صبر سے استعمال کریں۔

آپ کی یہی چھوٹی سی سپورٹ ہمیں مزید ناول آپ تک پہنچانے میں مدد دیتی

1st Link

Download link

2nd Link

Download Link

3rd Link

Download Link

4th Link

Download Link

Complete Summary

“بس تھوڑی سی بےوفائی” از امتُل عزیز شہزاد ایک جذباتی رومانوی ناول ہے جس میں محبت، بےوفائی، اعتماد، معافی اور رشتوں کی پیچیدگیوں کو نہایت خوبصورتی سے پیش کیا گیا ہے۔

کہانی ایسے کرداروں کے گرد گھومتی ہے جن کی زندگی ایک معمولی سی غلطی، غلط فہمی یا بےوفائی کے احساس سے یکسر بدل جاتی ہے۔ محبت اور اعتماد کی بنیاد پر قائم رشتے وقت کے ساتھ سخت آزمائشوں سے گزرتے ہیں، جہاں ہر فیصلہ نئے مسائل اور جذباتی کشمکش کو جنم دیتا ہے۔ حالات کرداروں کو اپنی غلطیوں کا سامنا کرنے، معاف کرنا سیکھنے اور رشتوں کی اصل اہمیت کو سمجھنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔

ناول میں محبت، وفاداری، خاندانی تعلقات، قربانی، صبر اور دوسری موقع (Second Chance) کی خوبصورتی کو مؤثر انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ دل کو چھو لینے والے مکالمے، غیر متوقع موڑ اور حقیقت سے قریب کردار اس کہانی کو آغاز سے اختتام تک دلچسپ، متاثر کن اور یادگار بنا دیتے ہیں۔

Support Novelistan ❤️

Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.

EasyPaisa / JazzCash

0309 1256788

Account name: Safia Bano

Bank Transfer (UBL)

United Bank Limited

Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131

Name: Sadia Hassan

IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131

Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *