My Lethal Man By Nazia Rajput 

Revenge Base | Gangster Base |  Naughty Heroine Base | Forced Marriage Base | Most Romantic Novel ..

 

” دد دُراب کیا ہوگیا ہے چچ چھوڑیں ” …

دُراب کی لودیتی نگاہوں کو محسوس کرکے مومل لڑکھڑاتے لہجے میں بولی تھی …

” اوہوں اتنی جلدی نہیں ابھی میرا دل نہیں بھرا تم سے ” …

دُراب نے آنکھوں میں خمار لیے کہا تھا اور مومل کی گردن پہ جھکتے جابجا اپنے سگتا لمس چھوڑنے لگا تھا جبھی مومل نے اپنے دونوں ہاتھ سے اسکے سینے پہ دباؤ ڈالتے پیچھے کیا تھا …

” دُراب پلیز اب بس کریں اٹھ جائیں نا دیکھیں نا ٹائم کیا ہوگیا ہے اور ویسے بھی ڈیڈی میرے لیے پریشان ہونگے انکو انفارم بھی تو کرنا ہے…”

شہریار منہور کا ذکر سنکر دُراب خان کا حلق کڑوا ہوا تھا جبکے آنکھوں میں موجود خمار بھک سے اڑا تھا جبھی وہ مومل کو اپنی گرفت سے آزاد کرتے اٹھا تھا اور اپنی شرٹ پہننے لگا تھا …

” چلو تمھیں تمہارے گھر چھوڑ دوں ” …

” کیا دُراب آپ جانتے ہیں نا کل رات ہی ہم نے نکاح کیا ہے اور آپنے کہا بھی تھا کہ نکاح کے بعد جہاں آپ رہیں گے وہی میں رہوں گی ” …

” جھوٹ بولا تھا میں نے ” …

دُراب نے مومل کے چہرے کو بغور دیکھتے کہا تھا …

” کک کی کیا مطلب دُراب کی کیسا جھوٹ ” …

” یہی کہ یہ نکاح میں نے صرف ایک مقصد کے تحت کیا ہے اور اب وہ مقصد پورا ہوچکا ” …

” ک کی کیسا مقصد ” …

مومل نے فق ہوتے چہرے کے ساتھ کہا تھا …

” مجھے تم سے کوئی محبت نہیں ہے تم سے محبت محض دکھاوا تھی ” …

” نن نی نئ ن نہیں ایسا نہیں ہوسکتا ایسا کیسے ہوسکتا ہے دُراب تم ایسا کیسے کرسکتے ہو ” …

مومل دُراب کو گریبان سے پکڑے چلائی تھی…

” ایسا کیوں نہیں ہوسکتا ایسا ہوسکتا ہے اور ایسا ہوچکا ہے ” …

دُراب نے ایک ہی جست میں مومل کے ہاتھوں سے اپنا گریباں چھڑایا تھا …

” پ پی پل پلیز نہیں دُراب یہ ایسا مذاق مت کرو میں برداشت نہیں کرپاؤں گی ادھر دیکھو تمھیں تو مجھ سے محبت تھی نا دیکھو میں تمہاری مومل ہوں کہہ دو یہ سب جھوٹ ہے…”

مومل دُراب کا چہرہ اپنے ہاتھوں کے پیالے میں بھرتے گویا ہوئی تھی …

” یہ مذاق نہیں ہے مومل شہریار منہور یہ سب سچ ہے جتنا جلدی اس بات کو سمجھ لو اتنا ہی تمہارے حق میں بہتر ہے ” …

” کیوں کیوں کیا ایسا میرے ساتھ ہاں کیا بگاڑا تھا میں نے تمہارا الٹا میں نے تو تم سے محبت کی اور بے تحاشہ کی لیکن تمنے کیوں میرے جذبات کے ساتھ کھیلواڑ کیا جواب دو مجھے دُراب خان ” …

مومل بہتی آنکھوں سمیت پوری شدت سے چلائی تھی کہ دُراب لب بھینچے اسکی ایک ایک حرکات و سکنات کا جائزہ لے رہا تھا جو اب ایک ایک کرکے ڈریسنگ سے تمام چیزیں نیچے گرا چکی تھی …

” کیوں کیا میرے ساتھ ایسا دُراب کیوں کیا کمی رہ گئی تھی میری محبت میں ” …

مومل اپنے بالوں کو ہاتھوں میں پکڑے چلائی تھی جبھی دُراب اسکی جانب بڑھا تھا …

” میری بات سنو مومل ” …

اس سے پہلے کہ دُراب مومل کو چھوتا مومل زخمی شیرنی کی مانند غرائی تھی …

” ہاتھ مت لگاؤ مجھے دُراب خان تم مجھ پر سے اپنے تمام حق کھو چکے ہو مجھے ابھی اور اسی وقت طلاق دو ” …

” بکواس بند کرو مومل خبردار جو آئیندہ اپنی زباں سے طلاق کا لفظ ادا کیا تو ” …

دُراب حلق کے بل چیخا تھا جبھی مومل نے ٹیبل پہ پڑی فروٹ باسکٹ میں موجود چھری اٹھاتے اپنے گلے پر رکھ لی تھی …

” دُراب خان مجھے ابھی کے ابھی طلاق دو ورنہ میں قسم کھاتی ہوں اسی چھری سے اپنا گلا کاٹ لونگی ” …

مومل ہزیانی ہوتی چیخی تھی …

” مومل سٹاپ اٹ یہ کیا بچکانہ حرکت ہے نیچے کرو اسے ” …

” طلاق دیتے ہو یا پھر گلا کاٹوں اپنا ” …

” میں ایسا ویسا کچھ نہیں کرنے والا سمجھی تمھیں مجھ سے رہائی تو صرف موت ہی کی صورت میں ملے گی ” …

” تو پھر میں خوشی خوشی موت کو گلے لگا لونگی ” …

مومل نے زخمی نگاہوں سے دُراب کی جانب دیکھتے ہوئے کہا تھا اور پھر اپنا گلا کاٹ لیا تھا کہ دُراب حواس باختہ ہوتے اسکی جانب بڑھا تھا …

” مومل آنکھیں کھولو مومل میری جان آنکھیں کھولو تم ایسا نہیں کرسکتی یہ کیا کردیا تمنے تم مجھے ایسے چھوڑ کر نہیں جاسکتی … “

دُراب مومل کا سر اپنی گود میں لیے زمین پہ بیٹھا تھا مومل کا خون اسکی سفید شرٹ کو لال کر گیا تھا لیکن دُراب کے دل میں مومل کے چھوڑ جانے کا خوف پنجے گاڑھے بیٹھا تھا .

Download link

Support Novelistan ❤️

Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.

EasyPaisa / JazzCash

0309 1256788

Account name: Safia Bano

Bank Transfer (UBL)

United Bank Limited

Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131

Name: Sadia Hassan

IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131

Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *