Umeed by Fatima Sehr Novel20967

Emotional Romance | Family Drama | Strict Father | Protective Hero | Forced Circumstances | One-Sided Love | Social Issues | Trauma & Healing | Hope Based | Pakistani Urdu Novel

Short Description

Umeed is an emotional family drama centered around Marwah, a young girl who struggles under the harsh restrictions and emotional neglect of her family. When a misunderstanding puts her in a difficult situation, she faces humiliation and blame instead of support. The story explores pain, family pressure, self-worth, and the hope of finding someone who truly understands her.

بابا ہم نے کب اپنی بہن بیٹیوں کو اتنی اجازت دی کہ وہ یوں تن تنہا سڑکوں پر چل نکلے نوح بیٹا کھل کر بتاؤ آخر بات کیا ہے ؟ ابراھیم صاحب نے بیٹے کی غصے کی وجہ جاننا چاہی۔
کیوں کہ اس کے غصے سے تقریباً گھر کے سب افراد نالاں رہتے تھے۔
نوح نے ایک نظر سب کی طرف دیکھا اور پھر یوسف صاحب کی طرف دیکھا تھا۔ وہ بھی تھے۔ سامنے پڑے کھانے سے ہاتھ روک کر اسے ہی دیکھ رہے
تھی۔
آپ کی صاحبزادی آج اکیلی سڑک پر اپنی سوچوں میں گم
میری گاڑی سے ٹکراتے ٹکراتے بچی تھی۔ اگر میری جگہ وہاں کوئی اور ہوتا اور لے جاتا اسے پولیس اسٹیشن

کیوں کہ غلطی اس کی ہے یہ کی کے درمیان میں چل رہی تھی۔
تو آج یہ یہاں بیٹھنے کی بجائے آپ کو تھانے میں ملتی اور خاندان میں بدنامی الگ ہوتی میرا مقصد آپ لوگوں کو آگاہ کرنا ہے۔ کہ میں کسی بھی ایرے غیرے کی وجہ سے اپنی ریپوٹیشن پر کوئی داغ برداشت ہر گز نہیں کروں گا۔
نوح کے خاموش ہوتے ہی ڈائینگ ٹیبل پر موت جیسا سناٹا چھا گیا۔

اس سے پہلے ابراھیم صاحب یوسف صاحب یا آمنہ بیگم کو کچھ کہتے
اچانک فضا میں تھپڑ کی گونج اٹھی تھی۔
اس اچانک افتاد پر سب یوسف صاحب کی طرف دیکھنے لگے۔
یوسف صاحب مروہ کو بولنے کا موقع دیے بنا ہاتھ اٹھا چکے تھے۔
آمنہ بیگم دہل کر اپنی کرسی دھکیل کر مروہ کی طرف لیکی
مروہ کو اپنے پیچھے چھپاتے یوسف صاحب سے بچانے کی ناکام کوشش کرنے لگی۔
جبکے مروہ ابھی تک اپنی جگہ دم سادھے کھڑی تھی۔
اُسے پیار سے بلائے گے۔
یہ سب کچھ نیا تو نہیں تھا۔ بچپن سے آج تک باپ کی طرف سے حسرت ہی رہی کہ وہ کبھی
آج سب کے سامنے اسے ذلت کا احساس زیادہ ہوا تھا۔ ٹن کی اپنے چہرے پر ہاتھ رکھ کر کھڑی وہ فرش کو گھورنے لگی۔ جس کا عکس آنکھوں میں دھندلانے لگا تھا۔

کیا ہو گیا ہے آپ کو یوسف کچھ خدا کا خوف کرے جوان بیٹی پر ہاتھ اٹھائے گے؟ آمنہ بیگم نے یوسف صاحب کو ہوش دلانے کی کوشش کی تھی۔
جوان بیٹی سے پوچھا بھی ہے کہ وہ تن تنہا سڑکوں

پر کس کی اجازت سے پھر رہی تھی۔ یوسف صاحب بنا کسی کی موجودگی کا خیال کیسے آمنہ بیگم پر چھیننے تھے۔
دن با دن اس کی ہمت بڑھ رہی ہے۔ آج اس نے یہ جرات کی ہے کل کو کسی کے ساتھ نکل گئی خاک تو ہمارے
سروں میں پڑے گی۔
کوئی انہیں دیکھ کر یقین نہیں کر سکتا تھا کہ وہ یہ گھٹیا الفاظ اپنی بیٹی کے لیے استعمال کر رہے تھے۔
یوسف صاحب گرج دار آواز سے دھاڑ رہے تھے۔ باقی سب خاموش تماشائی بنے پروگرام کے ختم ہونے کا انتظار کر رہے تھے۔
جب کہ جس نے یہ آگ لگائی تھی وہ کب کا اپنا کھانا ختم کر کے جا چکا تھا۔
آمنہ بیگم نے زویا کو مٹی کا مادھو بنی کھڑی مروہ کو اوپر لے جانے کا کہا تھا۔

 

نیچے دیے گئے 4 ڈاؤنلوڈ لنکس میں سے 3 لنکس پر اشتہار آ سکتا ہے، جبکہ 1 لنک اصل ڈاؤن لوڈ لنک ہے۔

ہماری درخواست ہے کہ کسی بھی لنک کو بند کیے بغیر تھوڑا صبر سے استعمال کریں۔

آپ کی یہی چھوٹی سی سپورٹ ہمیں مزید ناول آپ تک پہنچانے میں مدد دیتی ہے

1st Link

Download link

2nd Link

Download Link

3rd Link

Download Link

4th Link

Download Link

Summary

Marwah has grown up craving the affection and acceptance of her father, but instead she has repeatedly faced his anger and strictness. One ordinary incident on the road becomes a major family issue when Nuh, a short-tempered and reputation-conscious man, informs her family that Marwah was walking alone and nearly collided with his car.

Instead of listening to Marwah’s side, her father immediately assumes the worst and humiliates her in front of the entire family. Years of emotional neglect and fear come rushing back as Marwah silently stands there, unable to defend herself.

Nuh’s involvement may have started with anger and concern for family reputation, but his presence becomes connected to Marwah’s life in unexpected ways. As the story progresses, Umeed explores whether a girl who has spent her life feeling unwanted can finally find understanding, respect, and emotional security.

The novel focuses on family pressure, emotional wounds, societal expectations, misunderstandings, and the journey from despair toward hope and self-worth.

Support Novelistan ❤️

Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.

EasyPaisa / JazzCash

0309 1256788

Account name: Safia Bano

Bank Transfer (UBL)

United Bank Limited

Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131

Name: Sadia Hassan

IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131

Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕

Share this Novel

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *