Raqs E Zindagi By Zunira Riaz Novel20968
Raqs E Zindagi By Zunira Riaz Novel20968
Tawaif Based | Emotional Romance | Regret & Redemption | One-Sided Love | Revenge | Second Chance | Betrayal | Trauma & Healing | Social Issues | Islamic Themes
Short Description
Raqs E Zindagi is an intense emotional romance about betrayal, regret, guilt, and redemption. Anila, once deceived by the man she loved, is forced into a life she never chose. Years later, Ziyaj returns carrying the burden of his mistake and desperately seeks her forgiveness. But forgiveness cannot erase the pain she endured or the life that was taken away from her.

سے آنکھیں۔ بال آگے کو کیے ہوئے۔
وہ بہت حسین لگ رہی تھی۔
جی آپ کون ؟ انیلہ نے اس شخص کا چہرہ دیکھنے کی کوشش کرتے بولا۔
وہ شخص کچھ نہیں بولتا۔
ہیلو آپ ہیں کون ؟
ایک گنہگار ہوں !
ہلکا سا قہقہہ لگائے وہ حیران ہو کر بولتی ہے اچھا ؟ گنہگار کا یہاں کیا کام ؟ یہاں تو لوگ گنہ گار ہونے آتے ہیں۔
گنہ گار مسجد جائے۔ اللہ کے سامنے گڑ گڑائے۔ معافی مانگے ۔۔۔
یہاں لوگ گنہ گار ہونے آتے ہیں تمہارا یہاں کیا کام ؟
صحیح فرمایا آپ نے۔
لیکن مجھ سے اس کو ٹھے پر آنے والے لوگوں سے زیادہ ایک بہت بڑا گناہ ہوا تھا اسکی معافی چاہتا ہوں۔
لگتا ہے آپ کوئی بھٹکے ہوئے ہیں۔
کیا گناہ ہوا آپ سے ؟
ایک بہت بڑا گناہ جس کا ازالہ میں آدا نہیں کر سکتا۔
وہ کہہ کر سر اٹھا کر انیلہ کی طرف دیکھتا ہے۔ ایک لمحے کو وہ چانکتی ہے اگلے لمحہ جیسے اسکو کوئی فرق نہ پڑتا ہو۔
انکی پہلی ملاقات سے زیادہ آج وہ حسین و جمیل ہو چکی تھی۔ ناک میں پہنی نتھلی بال کمر پہ بکھرے ایک لٹ
آگے کو اور گورا رنگ۔ وہ جیسے پہلی ہی نظر میں کھو گیا ہو اسکو دیکھ کر۔
کون ہیں آپ؟
زیاج ! زیاج ہوں میں ! جانتی ہو مجھے ؟
میں تمہیں یہاں لے کر آیا تھا میں نے تمہیں یہاں تک پہنچایا
اس غرک نما جیل میں پھینک کر گیا تھا میں تمہارا گنہ گار ہوں۔
یقین کر وائیلہ میں نے اپنی اس نادانی کے بعد کچھ نہیں پایا۔
مجھے کہیں سکون نہیں ملا۔
میں نے تم سے چھوٹی محبت کے دعوے وعدے کیے۔
نادانی؟ یہ تمہاری نادانی تھی ؟
اور تمہیں کیا لگتا ہے تمہیں معاف کر دینے سے وہ ازیت جو میں روز یہاں کو ٹلوں کی طرح جلتی ہوں وہ کم ہو جائیے گی؟
مانا کے میں سب ایک مشہور طوائف ہوں مانا مسٹر زیاج کہ لوگ میرے پیچھے بھاگتے ہیں میرے پیر پڑتے ہیں لوگوں کو میں پسند آتی ہوں۔ لیکن اس کو ٹھے پر آنے والے ہر مرد کو میں نہیں میرا جسم میری روح نہیں کر رقص بھاتا ہے۔
اس از بیت کو محسوس کر سکتے ہو ؟
جیسے معاف کردوں میں تمہیں ؟
میں تمہارے پیر پڑتا ہوں مجھے معاف کر دو میری روح میرے دماغ کو سکون راحت نہیں ہے۔
وہ گڑ گڑانے لگتا ہے وہ اسکے پیروں پہ ہاتھ رکھے معافی کی بھیک مانگ رہا ہوتا ہے۔
یاد ہے تمہیں وہ پہلی ملاقات ؟
جب میں نے تمہیں پہلی بار دیکھا تھا تو مجھے لگتا تھا تم سے زیادہ حسین کوئی اس دنیا میں کہیں نہیں ہو گا یہ ہیرہ
صرف میرے پاس ہے۔
لیکن۔ میں مانتا ہوں کہ تم اپنی محبت میں سچی تھی تمہارا ہر جزبات بچے تھے لیکن مجھ سے یہ گناہ سر زد ہوا ہے مجھے
معاف کر دو۔۔
وہ مغرور لیلہ کی طرح ایک نظر اسکی حالت زار پہ نظر ڈالتی ہے۔
تم مجھے لوگوں کے سامنے رقص کر تاد دیکھ سکتے ہو ؟ جب لوگ مجھ پہ پیسے اڑاتے ہیں پھینکتے ہیں ؟
میں سمجھا نہیں !
یہ تاش کے کارڈوں کا کھیل تم سمجھنا ہی نہیں چاہتے تھے کبھی اور نہ ہو !
مجھے معافی چاہیے !
تمہیں لگتا ہے زبرستی کی معافی سے تم بچ جاؤ گے ؟
ہاں ! وہ ایک زور دار قہقہہ لگاتی ہے۔ اب بھی تم اپنا مفاد چاہتے ہو زیاج اپنا مفاد !
جاؤ تمہیں معاف کیا میں نے !
سچ میں ؟ ہاں معاف کیا جاؤ
نیچے دیے گئے 4 ڈاؤنلوڈ لنکس میں سے 3 لنکس پر اشتہار آ سکتا ہے، جبکہ 1 لنک اصل ڈاؤن لوڈ لنک ہے۔
ہماری درخواست ہے کہ کسی بھی لنک کو بند کیے بغیر تھوڑا صبر سے استعمال کریں۔
آپ کی یہی چھوٹی سی سپورٹ ہمیں مزید ناول آپ تک پہنچانے میں مدد دیتی ہے
1st Link
Download link
2nd Link
Download Link
3rd Link
Download Link
4th Link
Download Link
Summary
Anila’s life changes forever when the man she trusted becomes the reason she ends up trapped in a life of humiliation and suffering. Once innocent and deeply in love, she is forced to survive in a world where people admire her beauty while ignoring the pain hidden behind her smile.
Years later, Ziyaj returns to face the woman whose life he destroyed. Haunted by guilt and unable to find peace, he admits that he was the one who brought her into that painful world. He begs Anila for forgiveness, hoping that his apology can somehow free him from his guilt.
But Anila’s pain is far deeper than a simple apology can heal. She reminds him that while people watch her dance, nobody sees the suffering of her soul. Ziyaj finally realizes that his repentance cannot undo the past.
When Anila eventually says “جاؤ، تمہیں معاف کیا”, the forgiveness feels less like forgetting and more like her decision to free herself from the burden of hatred.
Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕