Waris E Jaan By Ammara Khalid 

Rude Boss hero | Romantic Novel | Cousin Marriage | Happy Ending

” تمہاری سات نسلیں اس پیسے پر عیاشی کریں گی بس مجھے وارث پیدا کر کے دینا ہے اور بیٹی نہیں ہونی چاہیے۔۔۔۔ ” اذلان کی بات پر نشاء کو حیرت ہوئی وہ اسے کبھی ایسا نہیں لگا تھا وہ اسکی خالہ کا امیر ترین بگڑا ہوا بیٹا تھا اور اپنے ہی خاندان کی لڑکی کی مجبوری کا فائدہ اٹھا رہا تھا۔ نکاح کے بعد ہر رات اذلان کمرے میں آکر اس پر شدتیں لٹاتا نشاہ کو خود سے نفرت ہونے لگی تھی وہ نڈھال ہو جاتی اسے لگ رہا تھا وارث سے زیادہ تو اسے کسی اور کام کا جنون ہے ایک رات میں کئی دفعہ اسکے پاس جاتا اکثر آفس سے چھٹی بھی کر کے اسکے ساتھ وقت گزار تا اچانک وہ بیمار پڑ گئی ڈاکٹر نے بتایا اسکے پیٹ میں تین بچے۔۔۔
نشا اس عالی شان اپارٹمنٹ کے بھاری بھر کم دروازے کو پار کر کے اندر داخل ہوئی تو سامنے ہی صوفے پر بیٹھے اذلان پر اس کی نظر پڑی جو اپنی مخصوص رعونت کے ساتھ سگریٹ کے گہرے کش لگا رہا تھا۔۔۔۔
دھواں فضا میں بو جھل لہریں بنا رہا تھا جس نے کمرے کی خاموشی کو مزید پراسرار کر دیا تھا۔ وہ قدم قدم چلتی اس کے بالکل قریب آکر ساکت کھڑی ہو گئی اور دبی آواز میں پوچھا کہ۔۔۔ ” کیا آپ نے مجھے بلایا تھا؟۔۔۔۔۔۔” اذلان نے اپنی گہری نظریں اس کے سراپے پر جمائیں اور اسے سر سے پاؤس تک ایسے دیکھا جیسے وہ اس کی شخصیت کا اندازہ لگا رہا ہو۔۔۔۔۔
اس کے چہرے پر ایک عجیب سی فاتحانہ مسکراہٹ آئی جب اس نے نشا کی آفس میں نوکری کی درخواست اور سیلری کے ایڈوانس مطالبے کا تذکرہ چھیڑا۔ نشا جو اپنی بیمار ماں کے علاج کے لیے پیسوں کی خاطر یہاں تک آئی تھی، اس کی نظروں کی تپش محسوس کر کے کچھ گھبرا سی گئی۔ اذلان نے سگریٹ کا دھواں ہوا میں اچھالا اور بڑے سپاٹ لہجے میں بولا کہ ” تم جانتی ہو میری پہلے شادی ہو چکی ہے اور میں نے اپنی پہلی بیوی کو طلاق دے دی ہے۔۔۔۔۔۔”
نشا کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ ایک نوکری کے انٹرویو میں اسے اپنی نجی زندگی کی یہ باتیں کیوں بتائی جارہی ہیں؟؟؟ وہ ابھی کچھ کہنے ہی والی تھی کہ اذلان نے اس کے سامنے ایک ایسی شرط رکھ دی جس نے اسے اندر تک ہلا کر رکھا دیا۔ اس نے دوٹوک لفظوں میں کہا کہ ” میں تم سے نکاح کرنا چاہتا ہوں، لیکن اس رشتے کا مقصد صرف اور صرف میرا وارث پیدا کرنا ہوگا۔۔۔” اس نے نشا کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے مزید کہا کہ۔۔۔
” اگر تم مجھے وارث دے دیتی ہو تو میں تمہیں اتنی رقم دوں گا کہ تمہاری ماں کا علاج تو کیا، تمہاری سات نسلیں بھی بیٹھ کر عیاشی کریں گی۔۔۔۔” نشا کو لگا جیسے اس کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی ہو، وہ ساکت و جامد کھڑی اذلان کے اس بھیانک سودے پر شدید خوف اور حیرت کی تصویر بن گئی۔ نشا نے گھبراہٹ کے عالم میں اپنی انگلیاں چٹھائیں، اس کا دل سینے میں ہتھوڑے کی طرح بج رہا تھا اور چہرے پر بے بسی کے سائے گہرے ہو گئے تھے۔۔۔۔
اس نے چند لمحے خاموشی سے زمین کو تکا اور پھر بوجھل آواز میں کہا۔۔۔ ” میں آپ سے نکاح کرنے کے لیے تیار ہوں۔” اذلان کے لبوں پر ایک سرد مسکراہٹ رینگی جیسے اسے پہلے ہی اس جواب کا یقین ہو، اس نے کرسی کی پشت سے ٹیک لگاتے ہوئے اپنی اگلی کڑی شرط سامنے رکھی۔۔۔ ” نکاح کے بعد تمہیں تمہاری مطلوبہ رقم تو مل جائے گی لیکن یاد رکھنا کہ تم اس وقت تک اپنی فیملی کے پاس واپس نہیں جاؤ گی جب تک تم میرے وارث کو جنم نہیں دے دیتیں۔”
نشا کا دل یہ سن کر لرز اٹھا، اسے لگا جیسے وہ کسی قید خانے کا سودا کر رہی ہے لیکن دوسری طرف اسے اپنی ماں کی بگڑتی ہوئی حالت اور پیسوں کی اشد ضرورت کا خیال آیا تو اس نے اپنے تمام تر خوف اور گھبراہٹ کو پس پشت ڈال دیا۔ اس نے ایک لمبا سانس لیا اور اپنی مما کی زندگی کی خاطر اس کٹھن شرط کو بھی تسلیم کرتے ہوئے فوراً حامی بھر لی۔
اذلان نے دراز سے چیک بک نکالی اور ایک خطیر رقم لکھ کر دستخط کیے، پھر وہ چیک نشا کی طرف بڑھاتے ہوئے سپاٹ لہجے میں بولا ” یہ لو، اسے لے جاؤ اور اپنی ضرورت پوری کرو لیکن یاد رہے کہ مجھے تم آج رات تک اس فلیٹ پر چاہیے ہو کیونکہ آج رات ہی میں نے تم سے نکاح کرنا ہے۔۔۔۔۔” اس نے نشا کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے تاکید کی کہ یہ پیسے اپنے گھر والوں کو دے آؤ اور انہیں صاف بتا دو کہ اب تم ان کے پاس تبھی واپس جاؤ گی جب تم اس شخص کے وارث کی ماں بن جاؤ گی جس سے تم نے یہ رقم لی ہے۔
نشانے لرزتے ہاتھوں سے وہ چیک تھاما تو اذلان نے ایک قدم قریب آکر اسے سخت لہجے میں وارننگ دی۔۔ ” ایک بات کان کھول کر سن لو، تم کسی کو یہ نہیں بتاؤ گی کہ میں تمہارا کزن ہوں یا میرا تم سے کوئی خاندانی رشتہ ہے، دنیا کی نظر میں یہ بات نہیں آنی چاہیے کہ میں نے تمہیں یہ پیسہ دیے ہیں یا ہمارا آپس میں کیا تعلق ہے۔۔” نشا خاموشی سے اس کی کڑی شرائط سنتی رہی، اسے محسوس ہو رہا تھا کہ اس چیک کے بدلے اس نے اپنی آزادی ہمیشہ کے لیے اذلان کے پاس گروی رکھ دی ہے۔
نشا گھر پہنچی تو اس کی چھوٹی بہن اسے دیکھ کر حیران رہ گئی، نشانے کانپتے ہاتھوں سے وہ چیک اپنی بہن کے حوالے کیا اور سارا معاملہ مختصر بتایا تو وہ سکتے میں آگئی۔۔۔۔۔ اس کی بہن نے چیختے ہوئے کہا ” کیا تم پاگل ہو گئی ہو، تم ایسا نہیں کر سکتیں، ہم کہیں نہ کہیں سے پیسوں کا انتظام کر لیتے لیکن تم خود کو اس طرح کسی کے حوالے کیسے کر سکتی ہو؟؟ ” نشا نے اپنی بہن کے ہاتھ تھامے اور بھرائی ہوئی آواز میں کہا ” دیکھو، اتنے پیسے ہمیں کوئی بھی نہیں دیتا اور یہ اماں کی زندگی کا سوال ہے، لیکن میری ایک بات مانو کہ اماں کو اس بارے میں کچھ مت بتانا، وہ یہ دکھ برداشت نہیں کر پائیں گی، جب بھی وہ پوچھیں تو بس اتنا کہنا کہ میں کہیں کام سے گئی ہوئی ہوں، اب میں تبھی واپس آسکوں گی جب اس شخص کی شرط پوری کر دوں گی۔ اس کی بہن بے چارگی سے اپنی باقی دو بہنوں کی طرف دیکھنے لگی جو ابھی ان باتوں کو سمجھنے سے قاصر تھیں۔۔۔۔

Download link

Support Novelistan ❤️

Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.

EasyPaisa / JazzCash

0309 1256788

Account name: Safia Bano

Bank Transfer (UBL)

United Bank Limited

Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131

Name: Sadia Hassan

IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131

Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕

Share this Novel

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *