721.6kViews
#581Ranking
NOVELISTAN · URDU NOVELS

Dil Diya Roshan Hua by Shumaila Dilebad Novel20902

Rate this novel

"میری ماں جائی کی نشانی کے ساتھ ایسا ظلم... یہ دکھ کبھی بھلایا نہیں جا سکتا۔"
"گل کے خواب اُس کی مرضی پوچھے بغیر ہی چھین لیے گئے۔"
"کبھی کبھی قسمت انسان کو ایسے فیصلوں کے سامنے لا کھڑا کرتی ہے جہاں خاموشی بھی ایک آزمائش بن جاتی ہے۔"
"ماں کی جدائی، خاندان کی بے حسی اور ایک مجبور رشتہ... گل کی زندگی کا سب سے کڑا امتحان تھا۔"
"ہر اندھیری رات کے بعد روشنی ضرور آتی ہے، بس صبر کا دامن تھامے رکھنا پڑتا ہے۔"

Dil Diya Roshan Hua by Shumaila Dilebad Novel20901

Forced Marriage | Age Gap Marriage | Family Drama | Emotional Fiction | Sacrifice | Social Issues | Contemporary Urdu Novel

Short Description

Dil Diya Roshan Hua is an emotional family drama that explores forced marriage, broken dreams, and the hardships of an orphaned girl. The novel portrays sacrifice, family pressure, and the painful journey of finding hope and love after enduring injustice.

عشرت بہن، صبر کریں۔”

“ارے، کیسے صبر کر لوں؟ میری ماں جائی کی نشانی کے ساتھ ایسا ظلم! ہائے میرے اللہ، میرا تو کلیجہ منہ کو آ رہا ہے۔ میری مسکین بھانجی پہلے سوتیلیوں کی جوتیاں سیدھی کرتی رہی، اور اب اس کا نکاح اپنے ہی پھوپھا سے کر دیا۔ میرے رب، میں کیا کروں؟”

عشرت ایک بار پھر منہ پر دوپٹہ رکھ کر سسکنے لگیں۔ انہیں دیکھ کر گل کے سینے میں بھرا دھواں آنکھوں سے آنسو بن کر بہنے لگا۔ وہ جو کب سے ضبط کا دامن تھامے خاموشی سے آنسو پونچھتی جا رہی تھی، خالہ کے بار بار سسکنے نے اسے گھٹی گھٹی آواز میں کھل کر رونے پر مجبور کر دیا۔

“یہ کیا، کچھ زیادہ ہی بڑھا چڑھا کر نہیں کہہ رہیں؟”

“بڑھا چڑھا کر ہے یا نہیں، مگر پھوپھا تو ہے نا! آج اگر الفت زندہ ہوتی تو بتاؤ، کون اس کی گل پری کا رشتہ ایک رنڈوے پھوپھا سے کرتا؟ کون اسے اپنی ہی پھوپھی کے دو بچوں کی ماں بنا کر رخصت کرتا؟”

امنا نے دکھ بھرے لہجے میں کہا،

“ارے بہن! کتنے بڑے خواب تھے ہم دونوں بہنوں کے۔ ایک ہی مہینے میں ہماری شادیاں ہوئیں، پھر ایک ہی مہینے میں میرا عثمان اور گل پری پیدا ہوئے۔ اسے تو بڑا شوق تھا کہ گل کا نام گل بدن رکھا جائے، مگر تب بھی اس کی ایک نہ چلنے دی گئی۔

اسے اتنے دکھ دیے گئے کہ وہی دکھ پیٹ کا کینسر بن گئے اور آخرکار اس کی جان لے کر ہی چھوڑے۔ ہائے… سوچا تھا جب بچے بڑے ہوں گے تو گل کو اپنے عثمان کی دلہن بناؤں گی، لیکن میری نصیب جلی بہن بہت تھوڑی عمر لکھوا کر لائی تھی۔ ہمیں اور اپنی ننھی سی گل کو روتا چھوڑ کر قبر میں جا سوئی۔”

ماں کا ذکر سنتے ہی گل کی ہچکیاں بندھ گئیں۔ عشرت نے آگے بڑھ کر اسے اپنے ساتھ لگا لیا۔

ہمسائی عاصمہ نے افسوس سے “ہائے ہائے” کی آواز نکالی اور لمبی سی آہ بھری۔

“بس جی، جانے والے تو چلے جاتے ہیں، مگر پیچھے رہ جانے والوں کو عمر بھر کا روگ لگا جاتے ہیں۔”

Download Novel PDF

Download Link 1 — MediaFire

Complete Summary

The story follows Gul, a young orphan whose life changes when family elders force her into an unwanted marriage with her widowed uncle. As she struggles against emotional pain, shattered dreams, and society’s harsh decisions, Gul must find the courage to rebuild her life. Blending family conflicts, sacrifice, and emotional healing, the novel delivers a touching message about resilience, hope, and the light that can emerge after life’s darkest moments.

Support Novelistan ❤️

Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.

EasyPaisa / JazzCash

0309 1256788

Account name: Safia Bano

Bank Transfer (UBL)

United Bank Limited

Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131

Name: Sadia Hassan

IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131

Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕

Frequently asked questions

What categories is this novel listed under?

This novel is listed under After Marriage and Age Difference.

Where can I read Dil Diya Roshan Hua by Shumaila Dilebad Novel20902?

The reading content is available in the Read online section of this page.

Share this Novel

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *