Mohabbat Lazawal Novel20991
Mohabbat Lazawal Novel20991
Romantic | Emotional Drama | Office Romance | Forced Circumstances | Rich Hero | Poor Heroine | Family Problems | Love & Sacrifice
C6
” وہ لڑکی کہاں ہے؟ آفس کیوں نہیں آرہی ڈیم اٹ۔۔ لاکھوں کا قرض لیا ہے اس نے آفس سے ” شہریار دھاڑا “سر ایکچولی وہ لڑکی بہت مجبور اور غریب تھی اسے اور پیسوں کی ضرورت تھی۔ کمپنی نے لون نہیں دیا تو انہوں نے ریزائن ” مینیجر کی بات پر شہریار کا دماغ بری طرح گھوما تھا۔ وہ غصے سے اٹھا تھا اور مینیجر کو پیچھے آنے کا اشارہ کیا تھا وہ ایسی لڑکیوں کو بخوبی جانتا تھا جو مجبوری کا ڈھونگ کر کے ایسے پیسے لیتی تھیں اور پھر بھاگ جاتی تھیں۔ وہ اس لڑکی مہوش کے گھر پہنچا تھا پر پتھر تب ہوا جب گھر کے باہر شامیانہ لگا دیکھا۔ ” یہ لڑکی میرا قرض ادا کیے بغیر شادی نہیں کر سکتی ” اس کی دھاڑ پر حیرت سے اس امیر حسین نوجوان کو دیکھنے لگے جبکہ آنکھوں میں آنسو لیے مہوش نے گھونگھٹ اٹھایا تو پہلی بار بے اختیار شہریار کا دل دھڑ کا پر پتھر ہو گیا جب نگاہ اس کے بوڑھے دلہے پر پڑی۔۔۔۔۔
” کیا کلائنٹ کی فائل تیار ہے؟” ارحم نے چلتے ہوئے پوچھا۔ “جی ارہحم، بالکل تیار ہے۔ مس مہوش ابھی وہی چک کر رہی ہیں”ارہم کے قدم رک گئے۔ اس نے پہلی بار مہوش کی طرف دیکھا۔ مہوش نے گھبرا کر نظریں نیچے کر لیں۔ ” نئی ہیں؟” ارہم نے سرد لہجے میں پوچھا۔ “جی سر! آج پہلا دن ہے۔” مہوش نے ہمت جمع کر کے جواب دیا۔ “مجھے دس منٹ میں وہ فائل میرے کیبن میں چاہیے۔ کوئی غلطی نہیں ہوئی چاہیے۔ ” ارہم نے اتنی بات کی اور اپنے کیبن میں چلا گیا۔ شہریار نے مہوش کی طرف دیکھ کر ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا، “دیکھا؟ میں نے کہا تھا نا۔ اب جلدی سے فائل تیار کر لیں۔۔۔” تین دن یوں ہی گزر گئے۔
مہوش دن رات محنت کر رہی تھی تاکہ وہ اپنی نوکری پکی کر سکے اور بھائی کے علاج کے لیے کچھ پیسے جوڑ سکے۔ لیکن حالات اس کا امتحان لینے پر تلےتھے۔ چوتھے دن شام کے وقت مہوش کو اس کے ہمسائے کی فون کال آئی۔ “مہوش بیٹا! تم جلدی گھر آ جاؤ۔ سامر کی طبعیت بہت زیادہ خراب ہو گئی ہے۔ اسے چکر آئے تھے اور وہ بے ہوش ہو گیا ہے۔ ہم اسے قریب کے ہسپتال لے کر جا رہے ہیں۔ ” مہوش کے ہاتھوں سے فون چھوٹے چھوٹتے بچا۔۔۔ “کیا؟ سامر۔۔۔۔ وہ ٹھیک تو ہے نا؟ میں… میں ابھی آتی ہوں۔۔۔۔” مہوش نے جلدی سے اپنا سامان سمیٹا۔ وہ سیدھی ارحم کے کیبن کی طرف بھاگی۔۔۔۔
اس نے بغیر ناک کیے کیبین کا دروازہ کھول دیا۔ ارہم اس وقت ایک اہم فائل دیکھ رہا تھا۔ کسی کے بغیر اجازت اندر آنے پر اس نے سخت نگاہوں سے اوپر دیکھا۔ “یہ کیا طریقہ ہے مس مہوش؟ آپ کو تمیز نہیں ہے کہ کیبن میں کیسے آیا جاتا سے؟” مہوش کے چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔۔۔ “س۔۔۔۔ سر! مجھے ایمر جنسی میں جانا ہے۔ میرے بھائی کی طبعیت بہت خراب ہے، وہ ہسپتال میں ہے۔ پلیز مجھے جانے دیں۔” وہ روتے ہوئے بولی۔ ارہم نے کچھ لمحے اس کی حالت کو دیکھا، لیکن اس کا چہرہ اب بھی سپاٹ تھا۔۔۔۔
” اگر آپ کو یوں اچانک جانا تھا تو اپنے مینیجر کو بتاتیں یہ میرا کیبن ہے آئندہ اس طرح بلا اجازت اندر آنے کی ضرورت نہیں ہے،،، جا سکتی ہیں آپ۔۔۔۔۔ ” مہوش نے کچھ کہے بغیر سر جھکایا اور تیزی سے کیبن سے باہر نکل گئی۔ شہریار، جو باہر کھڑا یہ سب دیکھ رہا تھا، فوراً اندر آیا۔ “ارہم! وہ لڑکی بہت پریشان لگ رہی تھی۔ تم تھوڑا نرمی سے بھی بات کر سکتے تھے؟” “شہر یار! آفس کے کچھ اصول ہوتے ہیں۔ اگر ہر کوئی جذباتی ہو کر یوں کیبن میں گھسنے لگا تو کام کیسے ہو گا؟” مہوش بھاگتی ہوئی ہسپتال پہنچی۔۔۔۔
ڈاکٹروں نے سامر کو ایمرجنسی میں رکھا ہوا تھا۔ کچھ دیر بعد ڈاکٹر باہر آیا تو مہوش کے چہرے پر خوف واضع تھا۔۔۔” ڈاکٹر صاحب! میرا بھائی کیسا ہے؟۔۔” ڈاکٹر نے سنجیدگی سے اپنے دستانے اتارہے۔ “دیکھیں مس، بچے کے گردوں میں شدید انفیکیشن ہے اور اس کے کچھ ٹیسٹ فوراً ہونے ہیں۔ اس کے علاوہ اسے بڑی دواؤں کی ضرورت ہے جس کے لیے کم از کم ایک لاکھ روپے کا خرچ فوراً آئے گا! “ڈاکٹر صاحب! پلیز علاج شروع کریں، میں پیسوں کا بندوبست کرتی ہوں۔۔۔۔میں کہیں سے بھی لاؤں گی!” مہوش نے ہاتھ جوڑ کر التجا کی۔۔۔۔” ہمیں اگلے دو گھنٹے میں ڈیپازٹ چاہیے ورنہ ہم علاج شروع نہیں کر سکیں گے۔۔۔۔”
اس نے اپنے چچا کو فون ملایا۔ “چچا جی! سامر کی طبعیت بہت خراب ہے، ہسپتال میں ایک لاکھ روپے مانگ رہے ہیں۔ پلیز میری مدد کر دیں، میں آپ کے سارے پیسے واپس کردوں گی۔۔۔” “ایک لاکھ روپے؟ ہمارے پاس کوئی خزانہ نہیں ہے مہوش! پہلے جو باپ کا قرضہ ہے وہ تو دیا نہیں جا رہا، اب ایک لاکھ اور؟ ہم کہاں سے دیں؟ اپنے کسی سیٹھ سے مانگو جہاں نوکری کرتی ہو۔ ” چچا نے فون کاٹ دیا۔ مہوش نے بے بسی سے فون کو دیکھا۔ اس کے پاس اب صرف ایک ہی انسان بچا تھا، جس کے سامنے جانے سے وہ ڈرتی بھی۔۔۔۔ ” ارہم خانزادہ۔۔۔۔”
اس نے اپنےآنسو پونچھے، ہمت جمع کی اور ہسپتال سے باہر نکل آئی۔ بارش تیز ہو چکی تھی اور مہوش کے کپڑے جگہ جگہ سے بھیگ چکے تھے۔ وہ تیز قدم اٹھاتی ہوئی خانزادہ انڈسٹریز کی عمارت کے سامنے پہنچی۔ دفتر کا وقت ختم ہو چکا تھا اور زیادہ تر ملازمین گھر جا چکے تھے۔۔۔۔۔مہوش نے کیبن کے باہر کھڑے ہو کر اپنا سانس بحال کیا اور دھیرے سے دروازے پر دستک دی۔ “اندر آجائیں۔” اندر سے ارہم کی بھاری آواز آئی۔ مہوش نے دروازہ کھولا اور اندر قدم رکھا۔ ارہم اپنی فائلیں سمیٹ رہا تھا، لیکن بھیگی ہوئی حالت میں مہوش کو دیکھ کر اس کے ہاتھ لمحے بھر کے لیے رک گئے۔۔۔۔۔
” تم یہاں اس وقت؟ تم تو ہسپتال گئی تھی نا؟” ارہم نے ماتھے پر بل ڈال کر پوچھا۔ مہوش نے آگے بڑھ کر ارہم کی میز کے پاس ہاتھ جوڑ دیے۔ اس کی آواز لرز رہی تھی۔ “سر! مجھے آپ سے ایک بہت بڑی مدد چاہیے۔ میرے بھائی کی حالت بہت خراب سے، ڈاکٹر کہہ رہے ہیں کہ اگر فوراً
علاج شروع نہ ہوا تو وہ.۔۔۔۔وہ بچے گا نہیں۔” ” تو اس میں، میں کیا کر سکتا ہوں مس مہوش؟ میں کوئی ڈاکٹر تو نہیں ہوں۔” “سر! مجھے پیسے چاہیے۔۔۔ ایک لاکھ روپے فوراً جمع کروانے ہیں، اور۔۔۔۔اور آگے کے علاج کے لیے مزید پیسے چاہیے۔۔۔۔ میں آپ کی ہر قسط، اپنی تنخواہ سے کاٹتی رہوں گی۔ آپ چاہیں تو مجھ سے دن رات کام لے لیں۔ بس مجھے پیسے دے دیں۔” مہوش کی آنکھوں سے مسلسل آنسو بہہ رہے تھے۔
ارہم نے اپنے دونوں ہاتھ میز پر رکھے اور مہوش کو سر سے پاؤں تک دیکھا۔ اس کے چہرے پر ذرا برابر بھی رحم کے تاثرات نہیں آئے۔ ” مس مہوش! آپ کو یہاں کام کرتے ہوئے کتنے دن ہوئے ہیں؟ صرف چار دن! اور آپ مجھ سے اتنی بڑی رقم مانگ رہی ہیں؟ آپ کو پتہ ہے پچھلے ہفتے ہی تم پچاس ہزار روپے کے ایڈوانس لے چکی ہو؟” “سر! وہ تو میں نے چچی کا قرضہ دینے کے لیے لیے تھے، تاکہ وہ ہمیں گھر سے نہ نکالیں۔ میں مجبور تھی سر! “
ارہم اچانک کرسی سے اٹھ کھڑا ہوا۔ اس کے چہرے پر شدید غصہ تھا۔ اس نے ڈیسک پر ہاتھ مارا۔ “مس مہوش! آپ آلریڈی پچاس ہزار ایڈوانس لے چکی ہیں اور آپ کو مزید دس لاکھ چاہیں؟ آپ کو یہ خیراتی سینٹر نظر آتا ہے؟” “سر۔۔۔۔ میں کوئی بھیک نہیں مانگ رہی۔۔۔ میں کام کر کے اتار دوں گی۔۔۔” مہوش نے روتے ہوئے سسکیاں لیں۔ ” میری کمپنی کوئی بینک نہیں ہے جو ہر ضرورت مند کو لاکھوں روپے بانٹتی پھرے۔ اور مجھے ایسے ملازم بالکل نہیں چاہئیں جو کام سے زیادہ اپنے ذاتی مسائل لے کر کیبن میں گھس آئیں۔۔۔” ارہم نے موڑ کر کھڑکی کی طرف منہ کر لیا۔۔۔۔
مہوش نے بوجھل قدموں سے اپنے بیگ سے ایک کاغذ نکالا۔ اس نے قلم سے چند سطریں لکھیں۔۔۔۔ “یہ میرا استعفیٰ ہے سر… آپ کا بہت شکریہ۔” مہوش نے اپنے آنسو پونچھے اور بنا پیچھے دیکھے کیبن سے باہر نکل گئی۔ کچھ دیر بعد شہر یار کیبن کے اندر داخل ہوا۔ اس کے ہاتھ میں کچھ کاغذات تھے۔ “یہ مہوش کا استعفیٰ ہے؟ کیا ہوا ارہم؟ وہ ابھی روتی ہوئی باہر گئی ہے۔” شہریار نے تشویش سے پوچھا۔۔۔۔۔” وہ مجھ سے دس لاکھ رویے مانگ رہی تھی میں نو منع
کردیا۔۔۔۔۔۔۔
نیچے دیے گئے 4 ڈاؤنلوڈ لنکس میں سے 3 لنکس پر اشتہار آ سکتا ہے، جبکہ 1 لنک اصل ڈاؤن لوڈ لنک ہے۔
ہماری درخواست ہے کہ کسی بھی لنک کو بند کیے بغیر تھوڑا صبر سے استعمال کریں۔
آپ کی یہی چھوٹی سی سپورٹ ہمیں مزید ناول آپ تک پہنچانے میں مدد دیتی ہے
1st Link
Download link
2nd Link
Download Link
3rd Link
Download Link
4th Link
Download link
Summary
Mohabbat Lazawal is an emotional romantic story revolving around Mehwish, a poor and helpless girl who is struggling to support her family and save her younger brother. After joining Khanzada Industries, she faces the cold and strict attitude of Arham Khanzada, a powerful businessman who believes emotions have no place in professional life. When Mehwish desperately needs money for her brother’s life-saving treatment, she is forced to seek help from the very man she fears. Her resignation marks the beginning of a complicated relationship filled with misunderstandings, helplessness, emotions, and an unexpected bond that may turn into a love that refuses to fade.
Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕