Sard E Mohabbat By Umaima Mukaram Novel20990

Arranged Marriage | Forced Marriage | Husband-Wife Conflict | Emotional Drama | Jealous Hero | Possessive Hero | Misunderstandings | Second Chance Love | Family Drama | Slow Burn Romance

Short Description

Dalawar Shah never truly accepted his marriage to Nain Tara, keeping his promise to his late mother but emotionally distancing himself from his wife. When jealousy and misunderstandings make him question Nain Tara’s loyalty, their already fragile relationship reaches a breaking point. But after discovering the truth, Dalawar is forced to confront his own mistakes and the feelings he has long refused to acknowledge.

” کس سے پوچھ کر نوکری کے انٹرویو کے لیے جارہی ہو ؟” دلاور شاہ اس کی تیاری دیکھ غرایا وہ ملک کا مشہور بزنس مین تھا اور اس کی بیوی دو ٹکے کی نوکری کے لیے دوسروں کے دفتر جارہی تھی ” مجھے پیسوں کی ضرورت ہے۔۔ میں ضرور جاؤں گی ” وہ بولی تو دلاور شاہ ٹھٹھکا۔۔ اس کے معصوم چہرے کو دیکھا، مرنے سے پہلے اس نے اپنی ماں کی خوشی کے لیے ان کی پسند کی لڑکی سے شادی کی تھی جو اس کی ماں کی کیئر ٹیکر تھی۔ اس کی ماں نے مرنے سے پہلے وعدہ کیا تھا وہ اسے طلاق نہیں دے گا اپنے گھر اور کمرے سے نہیں نکالے گا۔ دلاور شاہ نے وعدہ تو پورا کیا تھا لیکن پلٹ کر اس معصوم کی ضرورت تک نہیں پوچھی تھی۔ ” پیسے مل جائیں گے تمہیں چپ چاپ گھر بیٹھو۔۔۔۔” وہ سختی سے بولا پر اگلے لمحے اس کی بات سنتے دماغ گھوم گیا ” مجھے آپ کی بھیک کی ضرورت نہیں ہے۔۔ میں ضرور نوکری کروں گی۔۔” وہ کہتے کمرے سے نکلنے لگی جب دلاور نے۔۔۔

” آپ کو کچھ چاہیے؟” اس نے دلاور سے عام سے لہجے میں پوچھا۔ اس کا اتنا عام سا لہجہ دیکھ کر دلاور نے غصے سے مٹھیاں بھیچ لیں۔ وہ آگے بڑھا، ” فون میرے ہاتھ میں دو! ” اس نے کڑک دار آواز میں کہا۔ “کیوں؟” اس ایک سوال نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ دلاور نے اس کا موبائل پیچھے لے جاتے ہوئے ہاتھ کو زور سے دبوچ لیا اور اس کے ہاتھ سے زبر دستی موبائل چھین لیا! ” رات کے بجے کس سے محبت کا اظہار کر رہی تھی؟ کس سے باتیں ہو رہی تھیں؟ ” دلاور داڑھا۔ “آپ مجھ پر تہمت لگا رہے ہیں؟” نین تارا نے غصے سے پوچھا۔

دلاور اسے خونخوار نظروں سے گھورنے لگا۔ “میرا فون واپس کریں! میں کسی کو اپنے کردار کی وضاحت نہیں دوں گی۔۔۔۔ اور آپ کو تو ہر گز بھی نہیں! جس کے اپنے کردار میں کھوٹ ہونا، وہ دوسروں پر سوال نہیں اٹھا سکتا! ” نین تارا کےاس طنز پر دلاور مزید غصے سے پاگل ہونے لگا۔۔۔۔۔ وہ نین تارا کا بازو پکڑنے لگا، پر اسی لمحے نین تارا نے اپنا باز و پیچھے کرتے ہوئے دلاور کے ہاتھ کو جھٹک دیا، “خبر دار! اگر اب میرا باز و د بوچا۔۔۔۔ سچ چبھ رہا ہے؟ راتوں کو نامحرموں سے بات کرنے کی عادت آپ کی ہے، میری نہیں! ” نین تارا کی آواز بھی بلند ہوئی۔ “شٹ اپ!ایک لفظ مزید منہ سے نکلانا نین تارا، تو تمہارا منہ توڑ دوں گا میں۔۔۔۔فون کا پاسورڈ بتاؤ! ” دلاور نے غصے سے پوچھا۔۔۔۔۔

نین تارا خاموشی سے اسے گھورتی رہی۔ ” میں نے کہا پاسورڈ بتاؤ! ” دلاور نے زور دیا؟ ” نہیں بتاؤں گی! کیا کر لیں گے؟ ماریں گے؟ مار لیں۔۔۔۔ کر لیں اپنی خواہش پوری! ” وہ رونے لگی۔ ” میرے سامنے ڈرامے بند کرو! میں نے کہا مجھے پاسورڈ بتاؤ۔۔۔۔ اگر ایسا کچھ ہے ہی نہیں تو پاسورڈ بتانے میں جان کیوں نکل رہی ہے؟؟؟ ” دلاور نے غصے سے پوچھا۔ نین تارا دن بہ دن بہت ہٹ دھرم ہوتی جارہی تھی، “ہاں! ایسا کچھ ہے۔۔۔۔میں خود بتادیتی ہوں کہ ایسا کچھ ہے! کوئی لڑکا ہے جس سے میں بات کر رہی ہوں، ہوگئی تسلی؟ اب میرا فون واپس کریں اور جائیں یہاں سے۔۔۔۔۔اور اگر بیوی کا غیر محرم سے بات کرنا اتنا برا لگتا ہے نا، تو میرے پاس تو آپشن نہیں تھا دلاور، پر آپ کے پاس تو آپشن ہے نا طلاق کا۔۔۔ طلاق دے دیں

مجھے! ” نین تارا کی بات سنتے ہی دلاور کے دماغ کی رگیں پھٹنے لگی۔

اس نے ہاتھ بلند کیا، لیکن ہاتھ ہوا میں ہی معلق رہ گیا۔ نین تارا آنکھیں پھیلائے دلاور کے بلند ہوتے ہاتھ کو دیکھنے لگی۔ ” نین تار!! میں لاسٹ ٹائم کہہ رہا ہوں، مجھے فون کا پاسورڈ بتاؤ۔۔۔۔” دلاور نے انتہائی سرد لہجے میں کہا۔ حقیقت تو یہ تھی کہ نین تارا دلاور سے ڈر گئی تھی۔ کوئی بعید نہ تھی کہ دلاور اس پر ہاتھ اٹھا دیتا۔۔۔۔ وہ جسمانی طور پر دلاور سے کمزور تھی اور اس سے لڑ نہیں سکتی تھی۔ ” ڈبل ٹو ڈبل فائیو” اس نے کپکپاتے لہجے میں دلاور کو فون کا پاسورڈ بتایا۔ دلاور نے فون کا پاسورڈ کھولا، کال لاگ کھولی تو سب سے اوپر ہی ایک انجان نمبر سے کال موجود تھی۔ دلاور نے اس نمبر پر کال ملائی،اسپیکر آن کیا اور نین تارا کو گھورنے لگا۔ تین چار بیل کے بعد کال اٹھالی گئی۔۔۔۔

“ہیلو! کیا مسئلہ ہے آپی؟ میں تو آپ کو اپنا نیا نمبر دے کر پچھتا رہا ہوں۔۔۔۔۔کل ٹھیک ہو جائے گا نا امی کا فون پھر کر لیجیے گا گھنٹوں گھنٹوں امی سے باتیں! ” اس کا بھائی اکتائی ہوئی آواز میں بولا، جب پیچھے سے نین تارا کی ماں کی آواز آئی۔ارے کمبخت! دو ادھر فون۔۔۔ میری بیٹی سارا دن مصروف ہوتی ہے، مجھے بات کرنے دو!” یہ کہتے ہوئے نین تارا کی ماں نے اپنے بیٹے کے ہاتھ سے فون چھین لیا، “ہاں نین! کیا بات ہے بیٹا؟ اگر اتنی یاد آ رہی تھی تو آ جاتی نا۔۔۔۔ بلا تور ہی تھی میں، یا دلاور نے اجازت نہیں دی؟ ” دلاور کے سر پر جیسے گھڑوں پانی گر گیا تھا! نین تارا ز خمی نظروں سے دلاور کو گھور رہی تھی۔۔۔۔

دلاور کے حلق میں گلٹی ابھر کر معدوم ہوئی۔ اس کے چہرے کی تنی ہوئی رگیں فوراً ڈھیلی پڑ گئیں اور لب آپس میں سختی سے بھینج گئے۔ وہ نین تارا کو دیکھنے لگا۔ فون کٹ چکا تھا۔ نین تارا نے ایک نفرت بھری نگاہ دلاور پر ڈالی اور کمرے سے باہر نکل گئی۔ دلاور نے سختی سے فون مٹھی میں دبوچتے اپنے سر پر مارا، “شٹ! کیا۔۔۔۔کیا چل رہا ہے میرے دماغ میں؟ کیا ہو گیا ہے مجھے؟” وہ خود کو کوسنے لگا۔۔۔۔ بیڈ پر بیٹھ کر اس نے دونوں ہاتھوں میں سر گرا لیا، ” میں شکی ہوگیا؟” اس نے خود سے سوال کیا۔ اس میں بھی نین تارا کا ہی قصور ہے! جب کمرہ چھوڑ کر جائے گی اور پورا وقت کمرے سے غائب

رہے گی، تو بندہ اور کیا سوچے گا؟ اس نے خود کو کلیئر کرنا چاہا پر ناکام رہا۔ کچھ دیر بعد وہ گھر کے کمروں میں نین تارا کو تلاش کرنے لگا، پر گھر میں اسے نین تارا کہیں نہ ملی۔ وہ باہر لان کی طرف نکلہ وہ لان میں بھی نہیں تھی۔۔۔۔آگے کا پورا حصہ گاڑیوں سے بھرا تھا اور سوئمنگ پول ایریا میں بھی نین تارا نہیں تھی۔ کچھ سوچتے ہوئے وہ بیک یارڈ ( پچھلے صحن ) میں گیا؛ بیک یارڈ کا حصہ چھوٹا تھا۔

وہاں پہنچا تو اسے نین تارا ایک کرسی پر بیٹھی، گھٹنوں میں سر دیے نظر آئی۔ اس کی ہچکیوں کی آواز دلاور کو صاف سنائی دے رہی تھی۔ وہ مزید شرمندہ ہونے لگا۔ بھیجے ہوئے اپنے ہاتھوں کو آپس میں مسلا؟ مشکل تھا، پر ناممکن نہیں۔۔۔۔غلطی اس نے کی تھی تو معافی مانگنا تو ضروری تھی! وہ نین تارا کی جانب بڑھا۔ اس کی موجودگی محسوس کرنے کے باوجود نین تارا نے سر نہ اٹھایا۔۔۔۔۔

نیچے دیے گئے 4 ڈاؤنلوڈ لنکس میں سے 3 لنکس پر اشتہار آ سکتا ہے، جبکہ 1 لنک اصل ڈاؤن لوڈ لنک ہے۔

ہماری درخواست ہے کہ کسی بھی لنک کو بند کیے بغیر تھوڑا صبر سے استعمال کریں۔

آپ کی یہی چھوٹی سی سپورٹ ہمیں مزید ناول آپ تک پہنچانے میں مدد دیتی ہے

1st Link

Download link

2nd Link

Download Link

3rd Link

Download Link

4th Link

Download Link

Summary

Dalawar Shah is a successful businessman who married Nain Tara at his mother’s request. After his mother’s death, he keeps his promise to protect Nain Tara’s place in his home, but never makes an effort to understand her or ask about her needs.

Nain Tara, however, refuses to live as a helpless dependent. She decides to find a job, determined to earn her own money despite Dalawar’s disapproval. Their relationship becomes even more strained when Dalawar’s jealousy leads him to suspect her of talking to another man. When he finally checks the number, he discovers that the mysterious caller is actually Nain Tara’s brother.

Realizing how badly he has misunderstood and hurt her, Dalawar is overcome with guilt. For the first time, he begins to question his own behavior and the emotions he has been hiding. As Nain Tara’s resentment grows, Dalawar must find a way to earn back her trust and turn their cold marriage into something real.

Support Novelistan ❤️

Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.

EasyPaisa / JazzCash

0309 1256788

Account name: Safia Bano

Bank Transfer (UBL)

United Bank Limited

Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131

Name: Sadia Hassan

IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131

Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *