Hum Kahan Ke Sachay Thay by Umera Ahmed Novel20330
Hum Kahan Ke Sachay Thay by Umera Ahmed
explores family | jealousy | misunderstandings between cousins
کیا آپ مجھ سے شادی کریں گی؟ باہر آتے ہی اس نے مجھ سے کہا تھا میں اس کا چہرہ کہا؟ دیکھ کر رہ گئی۔
میں اپنے پیرنٹس کو آپ کے گھر بھیجنا چاہتا ہوں مگر سوچا پہلے آپ سے بات کرلوں ۔ وہ بہت سنجیدگی سے کہہ رہا تھا۔
دیکھیں اسفند آپ میرے بارے میں کچھ نہیں جانتے اور پھر میں نے ابھی شادی کے بارے میں نہیں سوچا کم از کم اپنی تعلیم مکمل کرنے تک تو میں ایسا سوچ بھی نہیں سکتی۔ میں نے اپنے حواسوں پر قابو پالیا تھا۔
مثلا کیا؟
مثلا یہ کہ میں کیا کرتا ہوں، کیا مشاغل ہیں میرے؟
نہیں۔ پہلی دفعہ اس نے کمپیوٹر اسکرین سے مسکراتے ہو نظر ہٹائی تھی ۔
کیوں نہیں پوچھیں گی ؟
کیونکہ مجھے دلچسپی نہیں ہے۔ میں کرسی سے کھڑی ہوگئی تھی ۔ یک دم میرا جی اچاٹ ہو گیا
تھا ہر چیز سے، اس کے منہ سیا پنا ہ تفصیلی تعارف مجھے اچھا نہیں لگا تھا۔
میں لائیبریری سے نکل آئی تھی۔ شیبا مجھے کاریڈور میں ملی تھی۔
میں نے کتابیں لے لی ہیں۔ میں نے اسے ہاتھ میں پکڑی ہوئی کتا بیں دکھاتے ہو کہا۔
پھر میں شیبا کیسا تھ اس کے کمرے میں چلی گئی تھی۔

Download Link
Direct Download
Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕