Qafas By Haleema Sadia Novel20445
Qafas By Haleema Sadia
Introduction to Qafas
SNEAK PEAK
“ان میں کیا ہے، اماں…؟”اس کی آواز رونے کی وجہ سے بھاری اور بھراہٹ زدہ تھی۔
اماں نے شاپرز کھولے۔”زمان کے گھر سے تیرے نکاح کا جوڑا اور زیور آئے ہیں… دیکھ، کتنا خوبصورت جوڑا ہے۔”وہ جوڑا نکال کر فخر سے اس کے سامنے پھیلانے لگیں۔
پھر زیور کے ڈبے کھول کر دکھانے لگی ،
الساء نے بے دلی سے ایک سرسری سی نظر جوڑے پر ڈالی، پھر اماں کو دیکھا—وہی اماں، جو اپنی بیٹی کے درد کو سمجھنے کے بجائے سامان کی چمک آنکھوں میں بھرے کھڑی تھیں۔
الساء نے دھیمی مگر ٹوٹتی ہوئی آواز میں کہا:
“یہ نکاح کا جوڑا نہیں ہے، اماں… یہ میرے لیے کفن ہے۔اگر میں نے اسے پہنا… تو میں مر جاؤں گی۔”اس کے اندر کی گھٹن پہلی بار لفظوں میں باہر نکلی۔
“اماں… میں کوئی چیز نہیں ہوں جسے تم لوگ پیسوں کے عوض بیچ رہے ہو۔
خدا سے ڈرو… جب تم اس کی عدالت میں پیش کیے جاؤ گے، اور وہ پوچھے گا کہ تم نے اپنی بیٹی پر یہ ظلم کیوں کیا—تو کیا جواب دے گی؟”الساء کے ہاتھ کانپ رہے تھے، آنکھیں پھر بھر آئیں۔
“ہمارا دین تو لڑکے اور لڑکی دونوں کو پسند کا حق دیتا ہے… پھر میرے ساتھ زبردستی کیوں؟”
اس کی آواز آخر میں ٹوٹ گئی۔وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔
“اماں… مت کر۔”اس نے روتے ہوئے اماں کے ہاتھ پکڑ لیے۔”ابا سے کہو یہ ظلم نہ کرے۔ ورنہ پچھتاؤ گے… تم بھی، وہ بھی۔”
اماں خاموش کھڑی اسے دیکھتی رہیں۔
کچھ ان کے چہرے پر ابھرا ، پھر دب گیا۔الساء نے آنسو پونچھتے ہوئے پوچھا:
“اماں… کیا تیرے اماں ابا نے بھی تیری شادی زبردستی کرائی تھی؟”
یہ سوال اماں کے دل میں جیسے کہیں گہرا اتر گیا۔ان کے چہرے پر ایک سایہ سا لہرایا۔
وہ کچھ بولیں نہیں۔بس چپ چاپ پلٹیں، اور دروازے کی طرف بڑھ گئیں۔
دروازہ بند ہوا تو کمرے میں پھر خاموشی رہ گئی— اور صرف الساء کی بھری ہوئی سانسیں باقی تھیں۔
@@@@

Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕