Mukhra By Bint E Aslam Novel20451


Mukhra By Bint E Aslam

Forced Marriage | Rude Hero Based | Social Issues | Complete Romantic Novel

زری ۔۔۔زری تیری بارات نہی آئے گی بلاول نے کسی سے شادی کرلی ۔۔۔۔” قدم لڑکھڑائے اور زمین بوس ہوگئی ” زری ! بختو اسکی طرف بڑھی اسے اٹھایا پانی کے چھینٹے مارے مگر ہوش نہیں آرہا تھا ۔”
” چاچا زری بے ہوش ہوگئی ہے ہوش میں نہیں آرہی !” عرفو اور زیبو جو دوہایاں دے رہے تھے اور رونے لگے تھے ۔
“اسکے ہاتھ پیر رگڑو کچھ نہیں ہوگا اسے !” دلبند نے تحمل سے کہا تھا ۔
” لڑکی میں کوئی کھوٹ ہوگا زبردستی کر رہے ہونگے لڑکے ساتھ اسلیے بھاگ گیا !” برادری نے قیاس آریاں شروع کردی تھیں ۔
” ہمیشہ تو گھونگھٹ میں رہتی ہوسکتا ہے کوئی نقص ہو اس لیے لڑکا نہیں مانا !” ایک طرف سے آواز آئی ۔
” کون کرے گا اس سے شادی جس کے ہاتھوں میں کسی اور کے نام کی مہندی لگی ہو نا بابا نا میں تو نہ بیاہوں ایسی لڑکی جس کا دولہا بیاہ کے دن بھاگ گیا ۔”
” اسکا دولہا بھاگ گیا اس میں اسکا کیا قصور ؟” آخر دلبند سنتا چیخ پڑا تھا ۔
” چھوٹے سائیں یہی سماج ہے گناہ چاہے جس کا بھی ہو عزت اور گناہ لڑکی کا ہی نکلتا ہے ہوسکتا لڑکی کے بارے میں اسے کچھ پتا چل گیا ہو یا پھر کوئی اور بات ہو مگر اب اس لڑکی سے کوئی نکاح نہیں کرے گا ۔”
” کیوں نہیں کرے گا وہ تو اسکی کچھ نہیں بنی تھی ابھی پھر اسے کیوں بے عزت کیا جارہا ہے ۔” دلبند گاوں اور برادری کی چھوٹی سوچ سے حیران تھا ۔
” آپ وڈے پڑھے لکھے لوگ ہو مگر غریب ایسا ہی سوچتا ہے اسکی عزت ہی سب سے پیاری ہوتی ہے اب ایک ایسی لڑکی جس کا دولہا اسے بیاہ والے دن چھوڑ گیا لاکر عزت پر انگلیاں اٹھوانی ہیں کے چھوڑی ہوئی لڑکی لے آئے ۔”
چھوڑی ہوئی لفظ پر عرفو گر ہی تو گیا تھا کتنی آسانی سے لوگوں نے اسکی زری کو چھوڑی ہوئی کہہ دیا تھا ۔
زری کو ہوش آگیا تھا زیبو کے سینے سے لگی آنسوں بہانے میں مگن تھی باہر کی آوازیں اب اندر بھی سنائے دینے لگی تھیں ۔
دلبند شناور کے پاس آیا ” شناور تو زری سے نکاح کرے گا ؟” شناور کے پیروں کے نیچے سے تو زمین نکل گئی تھی ۔” چچ۔۔چھوٹے سائیں میں زری سے نکاح نہیں میں زری ہو ہمیشہ سے بہن مانتا آیا ہوں اور میری تو منگنی بختو سے ہوچکی ہے اگر میں نے یہ نکاح کیا تو میں بھی بلاول جیسا بن جاوں گا ۔” وہ صاف منع کرگیا تھا ایسا کرکے دو بہنوں جیسی سہلیاں دشمن کرنی تھی کیا ۔
” دیکھا چھوٹے سائیں سب پلہ جھاڑ رہے ہیں کوئی اس لڑکی سے شادی نہیں کرے گا ہیں نہ ہم سچے!” برادری میں سے کسی غیر رسیدہ بوڑھے نے کہا تھا اسنے ایک نظر عرفو کو دیکھا جو سر پکڑ کر رو رہا تھا پھر پوری برادری سے جو طنزیہ ہنس رہی تھی ” میں کروں گا زری سے نکاح کیونکہ میرے ابا سائیں نے کہا تھا ایک عورت کی عزت سارے مردوں کی عزت اور آج سوال کسی عورت کی عزت کا ہے تو اسکی کی حفاظت کروں گا کیونکہ مجھے لگتا ہے کہ ان سب میں مرد ایک میں ہی ہوں باقی سارے سماج کے کھلونے ہیں ۔” عرفو حیرت کے مارے کھڑا ہوگیا تھا زیبو بھی سن کر باہر آگئی تھی بختو چہک اٹھی تھی مگر زری ” نہیں یہ نہیں ہوسکتا میں بھوٹے سائیں سے شادی نہیں کروں گی نہیں پلیزززز اللہ جی نہ کرو یہ ۔۔۔”
تمام برادری کا منہ کھلا رہ گیا تھا اسنے نکاح خواہ کو بلایا ” میرا نام لکھو دلبند رضا شاہ ولد رضا شاہ !” اسنے نام لکھ دیا حق مہر؟نکاح خواہ نے سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھا ” لکھو دلبند رضا کی جان !”
چھوٹے سائیں یہ کیسا حق مہر ہے ؟” شناور نے حیرت سے اسے دیکھا ” ضمانت دے رہا ہوں کہ اگر میں نے زری کے ساتھ کچھ غلط کیا تو میری جان اپنے مہر میں لے جاو۔نکاح شروع کرو !” حکم دیتا خود وہ ایک کرسی پر بیٹھ گیا تھا حویلی کے آدمی سر اٹھائے اسکے پیچھے کھڑے تھے ” دلبند رضا ولد رضا کیا آپ کو یہ نکاح زری عارف ولد عارف کے ساتھ بعوض حق مہر دلبند رضا کی جان قبول ہے ؟”
قبول ہے
قبول ہے
قبول ہے ۔۔
اسنے دستخط کردیے تھے عرفو زیبو نکاح خواہ کے ساتھ اندر آئے تھے بختو نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا ” تیار ہوجا زری تو چھوٹے سائیں کی ہونے جارہی ہے !”
” میں یہ نکاح نہیں کروں گی ابا !” اسنے گھونگھٹ کے پیچھے سے کہا ” کیوں زری ؟ بختو نے چیخ کر پوچھا تھا ۔” کیونکہ بختو وہ مجھ پر رحم کھا رہے ہیں ترس کھا رہے ہیں انکے دل میں میرے لیے کچھ نہیں ہے !” وہ اٹھ کھڑی تھی جب عرفو نے اپنا صافا اسکے پیروں میں رکھ دیا ” روند دے میرا صافا اور کردے انکار تیری عزت میرے ہاتھ میں ہے !” وہ حیرت سے منہ کھولے اپنے مجبور باپ کو دیکھ رہی تھی تڑپ کر صافا ہاتھوں سے اٹھایا “لے ابا تیری گائے ہوں ایک کھونٹھے سے کھول کر دوسرے سے باندھ دے !” خاموشی بیٹھ گئی ” زری عارف ولد عارف آپ کو یہ نکاح دلبند رضا ولد رضا شاہ سے بعوض حق مہر دلبند رضا کی جان قبول ہے۔
اسنے لہنگے کو مضبوطی سے پکڑ لیا تھا ” بول زری!” زیبو نے اسکے سر پر ہاتھ رکھا ۔
قبول ہے
قبول ہے
قبول۔ہے ۔۔
دستخط کے بعد نکاح خواہ باہر آیا ” نکاح مبارک ہو !”
علی مولا علی مولا علی دم دم۔۔
علی مولا علی مولا علی دم دم۔۔۔۔
برادری کا منہ بند ہو چکا تھا زری کی شادی گاوں کے مالک کے ساتھ ہوگئی تھی زری حویلی والی بن گئی تھی عرفو نے نیچے بیٹھ کر دلبند کے پیروں پر ہاتھ رکھ کر رو رہا تھا ” چھوٹے سائیں آج آپ نے عزت رکھ لی ورنہ میری زری تباہ ہوجاتی !” اسنے کندھوں سے پکڑ کر اسے اٹھایا ” وہ اب میری عزت ہے رخصتی کی تیاری کریں ۔” زیبو نے وہی گاڑی کی چابی جو اسنے کل انھیں دی تھی واپس کردی تھی ” آپکی کی امانت آپ ہی کے پاس واپس آگئی چھوٹے سائیں !” سچ ہی تو تھا کہ وہ اسی کی امانت تھی زیبو عرفو کے پاس اور جب خدا نے اس سے کہہ دیا تھا مجھے پکارو میں تمہاری دعا قبول کرتا ہوں تو زمین آسمان ٹل سکتا ہے اسکی کہی بات نہیں کرلی تھی قبول دعا مگر ابھی اسے کتنا اور تڑپنا تھا یہ وہ دونوں ہی نہیں جانتے تھے ۔

Download Link


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *