Ye Dill Mera by Rafia

Heart Touching story | Social Romantic Novel | Complete Novel

Novel code: Novel20513

سردی سے ٹھٹھرتی کچن میں موجود وہ یخ باستہ پانی سے برتن دھو رہی تھی۔۔۔۔۔رات 2بجے عباد خان زادہ گھر والوں کو سرپرائز دینے کی غرض سےدبے قدموں حویلی داخل ہوا تو کچن کی لائٹ آن دیکھ کر زرا حیران سا ادھر آ گیا جہاں حوریہ ٹھنڈے پانی سے برتن دھوتے ٹھٹھر رہی تھی۔ وہ ایک لمحے کو پتھر ہوا پردیس میں رہتے وہ باقاعدگی سے اس کا خرچہ اپنی ماں کو بھیجتا تھا لیکن حوریہ کی حالت کچھ اور بتا رہی تھی۔ زبردستی سہی مگر وہ اس کے نکاح میں تھی۔ اس سے پہلے حوریہ کے قریب جاتا وہ ٹھنڈ سے بے ہوش ہوتی فرش پر گرتیاسکے ہاتھوں میں جھول گئی۔۔۔احتیاط سے بانہوں میں بھر تے وہ اپنے بیڈ روم لایاتھا ،مگر اس کا لرزرتا،کانپتا سراپا دیکھ لب دبا گیا اور پھر کچھ سوچ کر اس نے ڈریسنگ روم سے كپڑے اٹھا کر۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسے پردیس گئے چار سال کا لمبا عرصہ ہو گیا تھا۔۔ اس نے آنے کی ایک بار بھی کوشش نہ کی تھی وجہ اس کے گھر میں موجود وہ لڑکی تھی ۔۔ جس کے ساتھ زبردستی کا اس کا رشتہ جوڑا گیا تھا۔۔ چار سال بعد مجبور ہو کر وہ اس گھر میں واپس آیا تھا ائیرپورٹ پر قدم رکھتے اس نے گہری سانس بھری اور اپنے قدم ٹیکسی کی جانب بڑھا دئیے ٹیکسی لے کر وہ رات کے بارہ بجے گھر پہنچا تھا ۔۔ گارڈ نے دروازہ کھول کر اسے سلام کیا وہ سر ہلا کر مسکراتے ہوئے اندر چلا آیا تھا۔۔ ہاتھ میں سوٹ کیس کا ہینڈل تھاما ہوا تھا کف کو کہنیوں تک موڑے ہوئے بال ماتھے پر بکھرے سے تھے۔۔ وہ اندر کی جانب آیا تو اندازہ ہوا گھر والے سو چکے ہیں ۔۔ پورے گھر میں اندھیرا چھایا ہوا تھا۔۔ رات بارہ بجے عباد خان زادہ سرپرائز دینے دبے قدموں حویلی داخل ہوا تو کچن کی لائٹ آن دیکھ کر ادھر آ گیا جہاں حوریہ ٹھنڈے پانی سے برتن دھوتے ہوئے ٹھٹھر رہی تھی۔ وہ ایک لمحے کو پتھر ہوا پردیس میں رہتے وہ باقاعدگی سے اس کا خرچہ اپنی ماں کو بھیجتا تھا لیکن حوریہ کی حالت کچھ اور بتا رہی تھی۔ زبردستی سہی مگر وہ اس کے نکاح میں تھی۔ اس سے پہلے حوریہ کے قریب جاتا اور اسے دور کرتے کچھ بات کرتا وہ ٹھنڈ سے بے ہوش ہوتی فرش پر گری عباد خان زادہ حیرت سے اسے گرے ہوئے دیکھتے ساکت ہوا اس کے کپڑے پانی سے اچھے خاصے بھیگ چکے تھے۔۔ وہ اس کے پاس زمین پر بیٹھ کر اس کا چہرہ تھپکنے لگا۔۔ پھر اس کے نا اٹھنے پر وہ اسے بانہوں میں بھرتے اپنے بیڈ روم میں لایا اور گیلے کپڑے دیکھ کر لب بھنچ گیا اس نے ماتھے پر ہاتھ رکھا اور سوچنے لگا وہ کیا کرے گھر میں۔ سب سو گئے ہوں گے اور وہ ابھی اپنا حق جتانے کے موڈ میں بالکل نہ تھا۔۔ اسے نا کوئی حق چاہئیے تھا نا کوئی فرض نبھانا تھا اور پھر کچھ سوچ کر اس نے قدم باہر کی جانب بڑھا دئیے۔۔ وہ باہر نکلا اور اپنی اکلوتی بہن کے دروازے پر پہنچ کر اس کا دروازہ بجانے لگا۔۔ “کون ہے اتنی رات میں۔۔؟ یہ سونے کا وقت ہے۔۔” اس کی بہن تو دروازے کے پار سے ہی سناتی ہوئی ادھر آئی تھی عباد خانزادہ نے لب بھنچ لئے۔۔ “کوئی ایمرجنسی میں ہی رات میں دروازے پر آتا ہے۔۔” اس کی آنکھیں پل میں حیرت سے پھیلی تھیں اور وہ عباد کو سامنے دیکھ کر اچھل پڑی اور اس کے سینے سے لگ گئی۔۔ “بھائی آپ ۔۔؟” وہ مسکرا کر پوچھ رہی تھی۔۔ “ہاں پہلے میرے ساتھ چلو خوش بعد میں ہو لینا۔۔” اس نے اپنی بہن لائبہ کی کلائی تھامی اور اسے لئے اپنے کمرے میں چلا آیا ۔۔ “یہ کچن میں سردی سے ٹھٹھر رہی تھی ماما نے کام والی کا مجھ سے کہا تھا میں اس کے لئے الگ سے خرچہ بھیج رہا تھا پھر یہ پاگلوں کی طرح کام میں کس خوشی میں لگی ہوئی تھی۔۔؟” عباد خانزادہ نے تیزی سے سرخ ہوتی آنکھوں سے پوچھا تو لائبہ گڑبڑا سی گئی اور اس نے سر دوسری جانب موڑ کر اسے دیکھا وہ سچ کہتی تو ماں کے ہاتھوں ماری جاتی اور اگر جھوٹ کہتی بھائی کے ہاتھوں سمجھ نہیں آیا وہ کرے تو کیا کرے۔۔ “ارے عباد۔۔؟” اسی وقت اس کی ماں کمرے میں داخل ہوئیں ان کے چہرے پر خوشی جھلک رہی تھی لیکن پھر بیڈ پر نگاہ گئی تو پہلے آنکھیں حیرت سے کھلیں اور پھر لب بھنچ کر لائبہ کو دیکھا جیسے اس کی وجہ سے وہ وہاں آئی ہو۔۔ “ماما یہ سب کیا ہے۔۔؟ میں نے آپ کے کہنے پر ملازمہ کے لئے الگ سے پیسے بھیجے تھے تو یہ ملازم کیوں بنی ہوئی ہے۔؟” اس نے خوشی غمی کو سائڈ پر رکھ کر سختی سے پوچھا وہ سرد نظروں سے اس کے بے ہوش وجود کو دیکھنے لگیں۔۔ “حوریہ نے کہا تھا میں گھر کے سارے کام کر لوں گی مجھے پیسے دے دئیے گا عباد جو پیسے بھیجتے ہیں ان میں میرا گزارا نہیں ہوتا۔۔” انہوں نے ایک نئی کہانی بناتے ہوئے کہا تو عباد کا سر گھوم گیا ۔۔ “یہ لڑکی کتنی لالچی ہے۔۔” عباد نے حیرت سے استفسار کیا لائبہ خاموش رہی۔۔ اس کی ماں نے لائبہ کو اشارہ کیا۔ “اسے اٹھا کر کمرے میں لے آؤ ۔۔” اس کی ماں نے عباد کو صوفے پر بیٹھاتے لائبہ کو حکم دیتے کہا وہ اسے پانی کے چھینٹیں مار کر جگانے لگی۔۔ وہ حیرت سے اٹھی تھی کہ لائبہ نے اسے بازو سے سختی سے تھاما اور بنا اسے عباد کی بھنک پڑے باہر لے آئی اس نے بس ایک جھلک ہی حوریہ کی دیکھی ہو گی۔۔ عباد اپنی ماں سے باتوں میں مصروف ہو گیا۔۔ “ایسی ہی کرتی ہے اس کے رنگ ڈھنگ اب آئے ہو تو خود دیکھنا۔۔ تمہارے بابا نے مرنے سے پہلے تم پر بڑا ظلم کیا ہے عباد۔۔ اپنی بھتیجی کے پلو سے باندھ کر چلے گئے۔۔ اس میں لالچ کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔۔” اس کی تائی نے اس کے خلاف عباد کے آتے ہی محاذ کھڑا کر دیا تھا۔۔ عباد لب بھنچے اس کی باتیں سن کر حیران اور پریشان ہوتا رہا۔۔ وہ لڑکی شکل سے کتنی معصوم لگتی تھی اور اندر سے وہ کتنی زیادہ چلاک تھی۔۔ عباد نے سر جھٹکا اور ادھر ادھر کی بات کرنے لگا۔۔ وہ اسے بتانے لگیں کہ لائبہ کے لئے رشتے آ رہے ہیں اور اب اس کے بارے میں کچھ سوچنا چاہئیے وغیرہ وغیرہ وہ سر ہلاتے ہوئے انہیں سنے گیا۔۔ اور پھر فریش ہو کر سونے کے لئے لیٹ گیا ان سب کو سوتے ہوئے دو بج گئے تھے ۔۔ وہ لائبہ کے ساتھ کمرے میں آئی اور سر اونچا کئے اسے دیکھنے لگی۔۔ “لائبہ میں ان کے کمرے میں کیا کر رہی تھی۔۔؟” اس نے حیرت سے پوچھا۔۔ “کچھ نہیں تم گر گئی تھی ۔۔ ڈریس چینج کر کے آرام کرو۔۔” اس نے سختی سے کہہ کر باہر کی راہ لی۔۔ ماں نے منع کیا تھا اسے عباد کے قریب نہ ہونے دینا۔ وہ اپنی ماں کے کہنے پر چل رہی تھی۔۔ وہ کندھے اچکا کر ڈریس چینج کئے سونے کے لئے لیٹ گئی۔۔ صبح سے اسے کام جو کرنا تھا۔۔

Download Link

Support Novelistan ❤️

Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.

EasyPaisa / JazzCash

0309 1256788

Account name: Safia Bano

Bank Transfer (UBL)

United Bank Limited

Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131

Name: Sadia Hassan

IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131

Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *