Yeh Laal Ishq by Sehar Ali Qureshi Novel20553
Yeh Laal Ishq by Sehar Ali Qureshi
Age Difference Base | Haveli Base | Revenge Base | Wani Base | Rude Hero | Sardar Base| Murder Base | Tawaif Base | Social Romantic Novel
آبان کے دماغ نے چیخ چیخ کر کہا تھا ۔۔۔ کہ وہ زندہ رہنے کی حقدار نہیں ھے اسے موت ہی نصیب ہونی چاہئیے ۔وہ گہرے سانس لیتا ۔۔۔ اسے دیکھتا رہا اور مدد کیلئے سینے پر پرے اس کے ہاتھ کو مکمل فراموش کر گیا ۔۔ پھر ڈبڈبای آنکھوں کے ساتھ اس نے اپنی جیب سے ایک سفید رومال نکالا اور اس کے چہرے پر سے خون صاف کرنے لگا ماہ رو کی سنہری آنکھوں میں صرف درد نہیں تھا بہت سارے سوال بھی تھے جنہیں پوچھنے کی سکت اس کے جان کھو رہے وجود میں نہ تھی وہ پوچھنا چاہتی تھی اس سے کہ اخر تم نے ایسا کیوں کیا “آبان علی شاہ “؟ مگر ہائے یہ کمبخت دہلیز پر کھڑی موت کہاں اسے اس چیز کی اجازت دے رہی تھی ۔۔۔۔کتنے سفاک شخص سے محبت کی تھی اس نے اس بات کا اندازہ اسے اج ہوا تھا جو اس کا خون بہانے کے بعد اب خود اسی خون کو بڑی عقیدت کے ساتھ اپنے ہاتھوں سے پونچھ رہا تھا یہ اس کے دل کے سنگ(پتھر) ہونے کا شاید اخری مقام تھا۔
ہاہاہا وہ چاہتی تھی اس سمے وہ قہقے لگا کر ہسے اور ماتم کرے اپنے اس عشق پر جو اس نے سامنے موجود شخص سے کیا تھا ۔۔۔اس نے ہار مان لی تھی وہ چاہتا تھا کہ وہ مر جائے اور وہ چاہتی تھی کہ وہ اس کی خواہش پوری کردے ۔۔۔ ماہ رو نے اس کی قمیض چھوڑ دی ۔۔۔۔۔ اس کی آنکھوں کے سامنے ان کی محبت کے گزرے لمحات اور مناظر چلنے لگے تھے جو وقت اس نے اس کے ساتھ بتایا تھا ۔۔۔پھر صحرا کی مانند خشک ہورہے ہلق سے اس نے سرگوشی کی “پانی” آبان نے فورا پیچھے میز پر پڑا پانی کا گلاس اٹھایا تھا ۔۔۔ اس کے اس عمل پر وہ تلخ سا مسکائ تھی محض یہ دیکھنے کیلئے ایا کہ وہ اسے اخری وقت میں پانی پلانے کا بھی روادار ھے یا نہیں یا تشنہ موت دینے کی خواہش رکھتا ھے ۔۔۔دوسری جانب اس کی مسکان کے پیچھے کا پس منظر وہ بھی خوب سمجھ گیا تھا مگر نظر انداز کرتا اس کے لبوں سے پانی لگا گیا چند گھونٹ اس نے اس سنگ دل کے ہاتھوں اپنے اندر اتارے تھے ۔۔۔پانی پلانے کے بعد آبان نے وہی ہاتھ اس کے رخسار پر رکھ لیا ۔۔۔۔۔
اور اس لمس پر ماہ رو نے سکون سے آنکھیں بند کر کے کھولیں تھیں کیونکہ اس نے تو ہمیشہ سے یہی چاہا تھا کہ جب بھی اس پر قضاء ائے آبان علی شاہ کا چہرہ اس کی سنہری نظروں کے سامنے ہو اور اس کے صبیح چہرے کو ان آنکھوں میں بسائے وہ اس جگ سے کوچ کر جائے ۔۔۔۔۔ دوسری جانب ماہ ِرو کی آنکھوں میں اپنے لئیے رقص کرتی محبت دیکھتے ایک لمحے کیلئے آبان کو لگا تھا کہ کہیں اس نے کوئ غلطی تو نہیں کردی ۔۔۔۔ یہ محبت گر وہ دھوکے باز اور مکار ھے تو اس کی آنکھوں میں اس کیلئے یہ محبت کیوں ھے ؟ مگر نہیں ۔۔۔یہ سوچ بھی محض ایک چھلاوا ثابت ہوئ تھی اور بدگمانی واپس غالب ائ تھی یعنی اج تو موت تہہ تھی اس کی ۔۔ اس نے فورا خود کی تصیح کی کہ جو کچھ بھی اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ھے وہ جھوٹ یا اس کی آنکھوں کا دھوکہ قطعی نہیں ہوسکتا ماہ ِرو کے منہ سے مزید خون نکلا تھا ۔۔۔۔ ہاتھ پہلو میں جا گرے تھے ۔۔۔۔۔ یہ منظر دیکھتے آبآن نے ساری سوچوں کو جھٹکتے تڑپ کر اسے مکمل اپنی بانہوں میں سمیٹا تھا ۔۔۔۔ اس کا چہرہ سینے میں چھپاتے ۔۔۔۔ کئ آنسو ٹوٹ کر ۔۔۔ اس کے سنہری بالوں میں جزب ہوئے تھے ۔۔۔ آ آ آ با ن اور پھر ایک اخری پکار ٹوٹ کر اس کے نام کی لگاتے اس نے ایرھیاں زمین پر رگڑیں اور دیکھتے ہی دیکھنے وہی اس کی بانہوں میں دم توڑ گئ ۔۔۔۔۔

Download Link
Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕