Shiddat by Meerab Hayat Novel20555
Shiddat by Meerab Hayat
Genre: Gaddi Nasheen | Kidnapping Based |Abuse | exploitation | video scandal | harassment Social issues | family conflict | revenge | injustice | love | emotional damage | secrets | brutality | suspense | romantic struggle | crime | sensitivity | esteemed family |
وسیع آسمان پر ٹمٹماتے ستارے رات کی سیاہی میں چمک بھر رہے تھے۔ چاند کے چہرے پر لہراتے اکا دکا بادل کبھی اسے ڈھانپ دیتے تو
کبھی اسکے چہرے سے لہراتی زلفوں کی طرح ہلتے اسکے گرد پھیلی چاندنی کو کھلکھلانے پر مجبور کر رہے تھے۔ اس چاندنی رات کی خوبصورتی کو شدتوں سے محسوس کرتی
اس بیالیس سالہ عورت نے اپنے پھیلے ہوئے لبوں پر سرخ لپ سٹک لگا کر انہیں مزید دو آتشہ کر لیا۔ اپنا شعلہ جوالہ بنا روپ آئینے میں ایک بار دیکھ کر وہ مسکرائی
پھر کندھے سے ڈھلکتا ساڑھی کا پلو درست کرتی اپنے کمرے سے نکل آئی محتاط انداز میں چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی وہ مخصوص کمرے کے دروازے تک آئی تھی ۔
کمرے کا دروازہ کھولنے سے پہلے اسنے ایک بار گردن گھما کر اطراف میں دیکھا تھا لیکن رات کے تیسرے پہر چہار سُو سناٹا پھیلا ہوا تھا۔ اسکے لب آپ ہی آپ مسکرائے۔
بازی اسکے ہاتھ میں تھی ۔ اپنے اقدام پر سرشار ہوتی وہ کمرے کے اندر آ گئی۔ اندر آتے ہی اسکی نگاہ را ئٹلنگ ٹیبل پر سر رکھے چیر پر بیٹھے اس سولہ سالہ لڑکے کی پشت پر گئی۔
وہ جانتی تھی کہ وہ پڑھائی کی دھن میں کتابی کیڑا بنے ساری ساری رات جاگا کرتا ہے۔
خاموشی سے دروازہ بند کر کے وہ اسکی طرف گھومی جو دروازہ بند ہونے کی آواز پر اپنا سر اٹھا چکا تھا۔
یوں جیسے کچی نیند سے جاگا تھا۔ اس نے پلٹ کر نیند کے خمار سے گلابی ہوتی اپنی سحر انگیز معصوم آنکھوں سے اس عورت کی جانب دیکھا۔ ” آپ ۔۔۔؟؟؟”
اپنی پیشانی پر بکھرے بالوں میں ہاتھ چلاتا وہ پوچھتے ہوئے کھڑا ہوا تھا۔ گو وہ صحت میں پتلا د بلا سا تھا لیکن اسکالمبا قد کھڑے ہو جانے سے واضح ہوا تھا۔
آنکھوں میں واضح الجھن تھی۔ “ہاں میں ۔۔۔ ! دلفریب انداز میں کہتی وہ قدم قدم اسکی جانب بڑھی۔
اس عورت کی آنکھوں سے پھوٹتی عجب چمک کی شعاعیں اس لڑکے کو کراہیت آمیز احساسات سے دو چار کر رہی تھیں۔ آپ یہاں کیوں آئی ہیں۔ ۔ ؟؟؟؟”
اس عورت کو اپنے مقابل رکتے دیکھ اسنے کچھ گڑ بڑا کر پوچھا۔ تمہیں نہیں پتہ ۔ ۔ ؟؟
اسکے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے اس عورت نے حظ اٹھانے والے انداز میں پوچھا۔ وہ ہنوز ناسمجھی سے اسکی جانب دیکھ رہا تھا۔
“میاں بیوی ایک ساتھ ہی رہتے ہیں۔ ۔ اس لیے یہاں آئی ہوں ۔۔ ” اسکے مزید قریب ہوتی وہ سر گوشیانہ بولی تو مقابل کے گلے میں گلٹی ابھر کر معدوم ہوئی۔
ل۔۔ لیکن آپ تو ۔۔۔ بھ۔۔۔ بھائی ۔۔۔!” وہ کچھ کہنا چاہتا تھالیکن اس عورت کے وجود سے پھوٹتی مسحور کن خوشبو ا سکے حواسوں پر طاری ہوتی اسے ہوش گنوانے پر مجبور کر رہی تھی ۔
لیکن ویکن کچھ نہیں ۔۔ جو گزر چکا ہے اسکے بارے میں مت سوچو۔۔۔ مجھے دیکھو۔۔۔ مجھے محسوس کرو ۔۔ اب میں صرف تمہاری بیوی ہوں۔۔!”
وہ اس کے قریب سے قریب تر ہوتی اسکے کان میں سرگوشیاں کر رہی تھی۔ مقابل کو اپنا حلق خشک سے خشک تر ہوتا محسوس ہو رہا تھا۔
اسکے ماہر ہاتھ بڑی تیزی سے اس نو عمرلڑ کے کے نقوش کو چھوتے اسے حواس باختہ کر رہے تھے۔
اس قربت سے مقابل کا جی متلانے لگا لیکن وہ اپنی تمام تر حدود پھلانگتی اس کے قریب تر ہو چکی تھی۔ یہاں ۔۔ سے چل ۔۔ چلی جائیں پلیز ۔۔۔
یہ۔ ۔ ۔ یہ کیا کر رہی ہیں آپ ۔۔۔ ! لڑکے کی گھٹی گھٹی سے آواز نکلی تھی لیکن وہ اپنے نفس کی دلدل میں اتری ہر حقیقت سے بے بہرہ ہو چکی تھی۔
گہری رات دھیرے دھیرے سرکنے لگی ۔۔ گھڑی کی سوئیاں ایک دوسرے کے پیچھے دوڑتی وقت کو بھگا لے گئیں ۔۔
اور ایک معصوم ذہن شیطانیت کی پراگندگی سے آشنا ہوتا اذیتوں کا شکار ہو گیا۔
Download Link
Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕