Yaar E Bewafa By Wahiba Fatima Novel20567
Yaar E Bewafa By Wahiba Fatima
Genre: Forced Marriage | Rude Hero | Innocent Heroine | Romantic Novel
“اپنی پارسائی ثابت کرو لڑکی۔” نورکزئی خاندان کے بزرگ نے بارعب لہجے میں کہا تھا۔ لیکن وہ خاموش تھی سمندر کی اوپری سطح کی طرف خاموش۔لیکن اس کے زیرِ سطح جانے کیا کیا طوفان اٹھ رہے تھے۔ کوئی کیا جانے۔
“یہ گستاخ بے حیا لڑکی اپنی پارسائی ثابت نہیں کر سکی ہے، اب کیا انصاف کیا جائے، وہ بزرگ پر جلال سے طیش و اشتعال انگیز لہجے میں بولے تھے۔ جب احرار مبشر نورزئی آگے بڑھا تھا۔
“ٹھیک ہے مجھے کوئی انصاف نہیں چاہیے، کیونکہ یہ میری بیوی ہے اور نورزئی کبھی اپنی بیوی نہیں چھوڑتے تو یہ جیسی بھی ہے مجھے قبول ہے، میں اسے اپنا لوں گا، بس یہ اور اس کا خاندان سر جھکا کر بھرے جرگے میں مجھ سے معافی؟”
“میں نبیہ احرار مبشر اپنا جرم قبول کرتی ہوں، اس کا سرد ترین لہجے میں کہا گیا جملہ جرگے میں موجود سب کو سن کر گیا تھا حتی کے احرار مبشر کو بھی جو بے یقینی سے پھٹی پھٹی نظروں سے اس کی جانب دیکھ رہا تھا۔
“یہ کیا کہہ رہی ہو نبیہ۔” اس کا بھائی شامیر خانزادہ حلق کے بل چلایا تھا۔ مگر اسے تو جیسے متعلق پرواہ نہیں تھی جو سر اٹھائے جرگے کے بزرگوں کے سامنے سرد و سپاٹ لہجے میں اپنا جرم قبول کر بیٹھی تھی۔ شاہ میر خانزادہ اس کی جانب لپکا اور اسے تھپڑوں ، مکوں اور ٹھوکروں کی زد میں رکھ لیا۔ عجیب ڈھیٹ تھی جو زمین پر گھٹنوں کے بل بیٹھی مار کھا رہی تھی۔ روتی یا بلکتی نہیں تھی۔
“شاہ میر خانزادہ اپنے ہاتھوں پیروں کو لگام ڈالو، اگر اسے کچھ ہو گیا تو میں اپنی بیوی کے قتل کے بدلے میں تم سے ونی لوں گا تمھاری بیٹی کی صورت۔”
احرار مبشر کی دھاڑ نے پورے مردان خانے کو ہلا ڈالا تھا۔ شاہ میر خانزادہ کے ہاتھ بھی دس سالہ بیٹی کا نام سن کر وہیں تھم گئے تھے۔
جبکہ ادھر احرار کے سرخ و سفید رنگت پر غضب کا قہر تھا۔ سینے میں آگ کے بھانبھڑ جلے اٹھے دل کیا اس بے وقوف کو جا کر جھنجھوڑ ڈالے جو اپنی ضد اور اپنے پلٹ وار کے چکر میں اپنی اور اس کے بچے کی جان داؤ پر لگا رہی تھی۔ ( اس نے کہا تھا وہ ایسا وار کرے گی کہ احرار مبشر کی روح تک کانپ اٹھے گی اس نے سہی کہا تھا۔ کانپ اٹھی تھی)
“میں نے اپنے شوہر سے بے وفائی کی ہے، میری کوکھ میں حرام اور ناجائز بچہ ہے، اس نے لرزتے کانپتے کھڑے ہوتے پھر سے کہا۔ شاید جان چکی تھی کہ جرگے میں جرم قبول کرنا اپنے لئے موت مانگنا ہوتا ہے۔
“یہ کیا کہہ رہی ہے بے حیا لڑکی، اگر یہ تیرے شوہر کا نہیں تو کس کا حرام خون ہے، نام بتا اس کا؟ پھر تیرے ساتھ اس کو بھی سنگسار کیا جائے گا۔”
“اس کا نام حارث عبداللہ ہے، میرے ساتھ پڑھتا تھا، مر گیا ہے وہ، آپ لوگوں کو اپنے ہاتھ اس کے خون میں رنگنے کی ضرورت نہیں، صرف میں اور یہ حرام بچا ہے، میں شرمندہ ہوں، اور ساری عمر اس گناہ کا کفارہ ادا نہیں کر سکتی اسی لئے اپنے شوہر سے بے وفائی کے بدلے اس جرگے سے اپنے اور اس بچے کے لیے موت کی سزا مانگتی ہوں،(جس بچے کا باپ اسے زمانے بھر کے سامنے ناجائز اور حرام ثابت کر دے اس کا مر جانا بہتر) آئندہ آنے والی نسلوں کے لیے عبرت کا نشان بنا دی جاؤں، تاکہ پھر کوئی بیوی اپنے شوہر سے بے وفائی نا کرے۔” ( تاکہ پھر کوئی شوہر اپنی بیوی کی عزت اچھالنے کی حماقت نا کرے)
وہ یہ کیا کہہ رہی تھی؟ بھرے مجمعے میں احرار مبشر نورزئی کو جیتے جی درگور کر رہی تھی۔ وہ جانتی تھی جرگے کا اصول تھا جو مجرم اپنا جرم قبول کرتے اپنے لیے جو سزا مانگتا تھا اسے ہر صورت وہی سزا دی جاتی تھی۔ احرار مبشر جانتا تھا وہ کہہ رہی تھی کہ اسے یوں عبرت کا نشان بنایا جائے کہ آئندہ کوئی بھی شوہر اپنی بیوی پر تہمت لگانے سے پہلے ہزار بار سوچے۔

Download Link
Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕